Baaghi TV

Tag: نصیرالدین شاہ

  • ’کیرالا اسٹوری‘ اور ’غدر 2‘ جیسی فلمیں میں نے نہیں دیکھیں،نصیرالدین شاہ

    ’کیرالا اسٹوری‘ اور ’غدر 2‘ جیسی فلمیں میں نے نہیں دیکھیں،نصیرالدین شاہ

    ممبئی: بھارت کے لیجنڈری اداکار نصیرالدین شاہ کا کہنا ہے کہ ’غدر 2‘ جیسی فلموں کی کامیابی پریشان کن بات ہے۔

    باغی ٹی وی: بالی ووڈ کے سینئر اداکار نصیر الدین شاہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کشمیر فائلز اور غدر 2 جیسی فلموں کی مقبولیت ’پریشان کن‘ ہے فلموں کی مقبولیت کا انحصار جنونیت پر ہوگیا ہے جو نقصان دہ ہے، جتنے زیادہ آپ جنونی قسم کےمحب وطن ہوں گے، اتنے ہی مقبول ہوجائیں گے کیونکہ یہی عنصر ہے جو بھارت پر غالب ہے۔

    نصرالدین شاہ نے کہا اب صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ آپ اپنے وطن سے محبت کریں بلکہ اسے ثابت کرنے کیلئے آپ کو ڈھول پیٹنا پڑتا ہے اور فرضی دشمن بنانا پڑتے ہیں،’کیرالا اسٹوری‘ اور ’غدر 2‘ جیسی فلمیں میں نے نہیں دیکھیں لیکن مجھے معلوم ہے کہ یہ کس متعلق ہیں۔کشمیر فائلز جیسی فلمیں کامیاب ہوجاتی ہیں لیکن سدھیر مشرا ، انوبھو سنہا ، ہنسل مہتا کی بنائی گئی فلموں میں کوئی بھی وہ سچائی نہیں دیکھتا جو وہ دکھانےکی کوشش کرتےہیں-

    لگتا ہے آج کل الیکٹریشنز بھی ڈراموں کے ناقد بنے ہوئے ہیں بشری انصاری

    واضح رہے کہ نصیر الدین شاہ فلم ’ مین وومن مین وومن کے ذریعے17 سال بعد ہدایتکاری کی دنیا میں واپسی قدم رکھنے والے ہیں یہ ان کی دوسری فلم ہوگی اس سے قبل انہوں نے عرفان کی فلم یوں ہوتا تو کیا ہوتا کی ہدایتکاری کی تھی ۔

    جب ماں کا انتقال ہوا میں‌امریکہ میں‌تھی فلائٹ نہ مل سکی فرح ندیم رو پڑیں

  • بھارت میں مسلمانوں کو برا اورغلط سمجھنا فیشن بن چکا ہے،نصیر الدین شاہ

    بھارت میں مسلمانوں کو برا اورغلط سمجھنا فیشن بن چکا ہے،نصیر الدین شاہ

    ممبئی: بالی ووڈ کے ممتاز اداکار نصیر الدین شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو برا اورغلط سمجھنا فیشن بن چکا ہے اور اسلام سے نفرت انتہا کو پہنچ چکی ہے۔

    باغی ٹی وی: اداکار نصیر الدین شاہ نے انڈین ایکسپریس کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا آج کل بھارت میں پڑھے لکھے اور سیکیولر افراد کی جانب سے مسلمانوں سے نفرت کرنا اور انہیں غلط سمجھنا حیران کن ہے، اداکار نے بھارت میں مسلم کمیونٹی کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چاہے فلمیں ہوں یا حقیقت مسلمانوں سے نفرت آج کل فیشن بن چکا ہے۔

    برے وقت کو اپنی کمزوری نہ بنائیں ثناء نواز

    بالی ووڈ لے لیجنڈ اداکار نے کہا کہ بھارت کی حکمران جماعت (بی جے پی) باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مذہب کارڈ استعمال کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہی ہے، ابھی تک حکومت کی سازش کامیاب دکھائی دیتی ہے البتہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ سازش کب تک اور کہاں تک کامیاب ہوتی ہے۔

    تاہم انہوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ مستقبل میں بھارت اپنا پرانا سیکیولرتشخص بحال کرنے کی کوشش ضرور کرے گا بھارت کے الیکشن کمیشن کاملک کے سیکیولر ازم والےتشخص میں مرکزی کردارہے اور وہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہےلیکن اس وقت وہ بھی وزیراعظم سمیت بی جے پی کے دیگر اراکین کو کچھ نہیں کہہ رہا ہے۔

    فوج کےخلاف کوئی بیان نہیں دیا نہ سوچ سکتا ہوں بہروز سبزواری

    نصیرالدین شاہ نےکہا وزیراعظم نریندر مودی بدستورشکست سے دوچار ہیں حالانکہ تسلسل کےساتھ مذہب کوسیاست اور سماج میں استعمال کر رہے ہیں، ان کی پروپگنڈہ مشینری بھی پورے طریقے سے متحرک ہے جس کا نتیجہ ہے کہ بھارت میں اسلام سے نفرت اور دشمنی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔

    نصیر الدین شاہ نے استفسار کیا کہ جس طرح نریندر مودی اور دیگر ہندو سیاستدان مذہب کا استعمال کر رہے ہیں، بالکل اسی طرح اگر کوئی مسلمان سیاست دان اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرے تو کیا ہو گا؟ اگر بھارت سیکولر ملک ہے یہاں جمہوری نظام ہے تو یہ لوگ ہر چیز میں مذہب کو کیوں داخل کر دیتے ہیں؟ افسوسناک امر ہے کہ بھارت میں پڑھے لکھے اور سیکیولر ذہنیت کے مالک لوگ بھی حکومتی پروپگنڈے کا شکار ہو کر مسلمانوں سے بطور فیشن نفرت کرتے ہیں اور ان کو اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    کبری خان نے کونسی ہالی وڈ فلم کی ؟‌ اداکارہ نے بتا دیا

    واضح رہے کہ نصیر الدین شاہ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ بھارتی مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے حکومتی رویے پر سخت تنقید کرتے آئے ہیں جس کی وجہ سے انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے شدید ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

  • مودی خود نفرت پھیلانے والوں کو سوشل میڈیا پرفالو کرتے ہیں،انہیں کچھ کرنا ہوگا،اداکار نصیرالدین شاہ

    مودی خود نفرت پھیلانے والوں کو سوشل میڈیا پرفالو کرتے ہیں،انہیں کچھ کرنا ہوگا،اداکار نصیرالدین شاہ

    ممبئی: بھارتی لیجنڈری اداکار نصیرالدین شاہ کا کہنا ہے کہ توہین آمیز بیان پر صورتحال کا ذمہ دار چینلز اور سوشل میڈیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی لیجنڈری اداکار نصیرالدین شاہ نے مودی حکومت سے اپیل کی ہےکہ مودی آگے بڑھیں اور اس زہر کو روکیں،اداکار نے کہا کہ مودی خود نفرت پھیلانے والوں کو سوشل میڈیا پرفالو کرتے ہیں،انہیں کچھ کرنا ہوگا ،زہر کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مودی کو قدم اٹھانے کی ضرورت ہے-

    نوپورشرما اور نوین کمار جندل پردہلی میں بھی مقدمہ درج،گرفتاری کا مطالبہ

    اداکار نصیرالدین شاہ نے کہا کہ توہین آمیز بیان پر صورتحال کا ذمہ دار چینلز اور سوشل میڈیا ہیں ،توہین آمیز بیانات انتہا پسندانہ خیالات کی عکاسی کرتے ہیں،توہین آمیز بیانات دینے والی ملزمہ قومی ترجمان ہیں، کوئی ایسی مثال یاد نہیں جب کسی مسلمان نے ہندو دیوتا پر ایسا اشتعال انگیز بیان دیا ہو-

    اداکار نے کہا کہ امن اور اتحاد کی بات کرنے پر جیل بھیجا جاتا ہے اور نسل کشی کی بات پر تھپڑ رسید کیا جاتا ہے،بھارت میں دہرا معیار ہے، زہر کو بڑھنے سے روکنے کی ضرورت ہے-

    خیال رہے کہ بی جے پی کی مرکزی ترجمان نوپور شرما کی جانب سے اسلام اور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ بیانات سامنے آنے کے بعد بھارت سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

    سعودی عرب، قطر، یو اے ای، ایران اور پاکستان سمیت مختلف ممالک نے بھارتی سفیروں کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جبکہ اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی نے بھی بی جے پی رہنماؤں کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے اشتعال انگیز بیانات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    دوسری جانب حکمران جماعت بی جے پی نے اپنے رہنماؤں کے بیانات کے حوالہ سے پالیسی جاری کی ہے اور کہا ہے کہ متنازعہ بیان نہ دیئے جائیں، آئی ٹی ماہرین کی مدد سے گزشتہ آٹھ برسون ستمبر 2014 سے مئی 2023 تک بی جے پی کے رہنماؤں کے بیانات کی تحقیقات کی گئی تومعلوم ہوا کہ بی جے پی کے رہنماؤں کے تقریبا 5200 بیانات غیرضروری ہیں، ان میں سے 2700 بیانات میں حساس الفاظ استعمال ہوئے جو نہیں ہونے چاہئے تھے، بی جے پی کے 38 رہنماؤن نےمذہبی عقائد کو آٹھ برسوں میں ٹھیس پہنچائی، اس کے بعد بی جے پی نے رہنماؤں کو نفرت انگیز بیان دینے سے روک دیا، نفرت انگیز اور مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانے والے بی جے پی رہنماوں میں اننت کمار ہیگڑے، شوبھا کرندلاجے، گری راج سنگھ، تتھاگتا رائے، پرتاپ سنہا، ونے کٹیار، مہیش شرما، ٹی راجہ سنگھ، وکرم سنگھ سینی، ساکشی مہاراج، سنگیت سوم وغیرہ شامل ہیں-

    فیصل قریشی بھڑک گئے لیکن کس بات پہ؟

  • اللہ نے چاہا توجلد پاکستان میں موجود دوستوں سے ملاقات ہوگی،نصیرالدین شاہ

    اللہ نے چاہا توجلد پاکستان میں موجود دوستوں سے ملاقات ہوگی،نصیرالدین شاہ

    ممبئی: بالی وڈ کے مشہوراداکار نصیرالدین شاہ نے کہا ہے کہ پاکستانی دوستوں اور مداحوں سے جلد ملاقات کی امید ہے۔

    باغی ٹی وی : کراچی کے ساحل کنارے سجی ادیبوں، قلمکاروں اور دانشوروں کی محفل، کراچی لٹریچر فیسٹول کے آخری روز آئینِ پاکستان، خبر کے سفر، ٹی وی ڈرامے کے بدلتے نقوش کے حوالے سے بات کی گئی سرپرائز سیشن کے دوران بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ نے آن لائن شرکت کی۔

    سوناکشی سنہا کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    نصیرالدین شاہ کا کراچی لٹریچرفیسٹیول میں آن لائن گفتگوکرتے ہوئے کہنا تھا کہ اللہ نے چاہا توجلد پاکستان میں موجود دوستوں اورمداحوں سے ملاقات ہوگی۔

    نصیرالدین شاہ کا مزید کہنا تھا کہ اداکار ہی نہیں بلکہ ہرشخص ہیرو بننا چاہتا ہے لیکن دنیا کوصرف اچھا کام یاد رہتا ہے اداکاری کے شعبے اورادب کا ایک دوسرے سے رابطہ ضروری ہے میں سمجھتا تھا کہ ناچ گانا میرے بس کی بات نہیں-

    بالی ووڈ اداکار کا کہنا تھا کہ مرزا غالب اورفیض احمد فیض جیسے شاعروں نے میرے تخلیقی سفرمیں اہم کردار ادا کیا اوران شخصیات کی وجہ سےہی ادبی میلوں میں دلچپسی پیدا ہوئی۔

    اداکار محب مرزا اور صنم سعید کی فلم "عشرت میڈ ان چائنا” ریلیز

    واضح رہے کہ حال ہی میں نصیر الدین شاہ نے انکشاف کیا تھا کہ وہ اونوماٹومانیا (Onomatomania) نامی بیماری میں مبتلا ہیں جوکہ ایک نفسیاتی مرض ہے انہوں نے ایک انٹرویو میں اس بارے میں کھل کر بتایا کہ وہ کس طرح اونوماٹومانیا نامی بیماری میں مبتلا ہیں۔

    نصیرالدین شاہ نے کہا تھا کہ میں اونوماٹومانیا نامی بیماری میں مبتلا ہوں، میں مذاق نہیں کر رہا، یہ ایک طبی حالت ہے آپ اسے ڈکشنری میں دیکھ سکتے ہیں یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں آپ بغیر کسی وجہ کے ایک لفظ یا ایک جملہ، ایک آیت یا تقریر کو دہراتے رہتے ہیں، میں اس طرح ہر وقت کرتا ہوں اس لیے میں کبھی بھی بالکل آرام نہیں کرتا، ہاں تک کہ جب میں سو رہا ہوں تب بھی وہ جملہ دہراتا رہتا ہوں-

    اونوماٹومانیا (Onomatomania) کیا ہے؟

    Onomatomania بعض الفاظ اور ان کی سمجھی جانے والی اہمیت کا تعین ہے۔ Onomatomania والے لوگ ان مخصوص الفاظ پر جنون رکھتے ہیں جو وہ بار بار استعمال کرتے ہیں۔

    طبی ماہرین نفسیات کے مطابق اونوماٹومانیا (Onomatomania) ایک ایسی حالت ہے جہاں شخص کسی خاص لفظ، فقرے یا سطر کو بار بار دہرانے میں مصروف رہتا ہے اور بات چیت میں اسے بار بار استعمال کرنے کا رجحان رکھتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ ایک نفسیاتی بیماری نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ اونوماٹومانیا کو بیماری یا نفسیاتی حالت نہ کہیں، یہ کچھ لوگوں کو صرف اس صورت میں پریشان کر سکتی ہے جب یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کو متاثر کرتی ہے جس میں ہماری ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی شامل ہے۔

    منشیات کیس : آریان خان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل سکا

  • بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی بند نہیں کی تو خانہ جنگی کا خطرہ ہے،نصیر الدین شاہ

    بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی بند نہیں کی تو خانہ جنگی کا خطرہ ہے،نصیر الدین شاہ

    ممبئی: بالی ووڈ اداکار نصیرالدین شاہ نے بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلم مخالف مہم جاری رہنے کی صورت میں مودی سرکار پر برستے ہوئے بھارت میں خانہ جنگی کی دھمکی دے دی-

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق نصیرالدین شاہ نے حال ہی میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کی کوششیں فوری طور بند نہیں ہوئی تو مسلمان جوابی جنگ لڑیں گے اورملک میں خانہ جنگی شروع ہوجائے گی۔

    بھارت:پولیس نے پادری سمیت تین افراد گرفتارکرلیے: عیسائیوں پرقاتلانہ حملے،تشدد جاری

    نصیرالدین شاہ نے وائر سروس ان انڈیا کے ساتھ دھرم سنسد کے ارکان جنہوں نے 10 روز پہلے ہریدوار میں مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ کیا تھا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا میں حیران ہوں کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کس کے بارے میں بات کررہے ہیں؟ ہم یہاں پیدا ہوئے، ہم یہیں سے تعلق رکھتے ہیں، اور یہیں رہیں گے یہ خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے۔

    انٹرویو لینے والے شخص کا نصیرالدین شاہ سے مرکزی سوال یہ تھا کہ نریندر مودی کے بھارت میں مسلم ہونا کیسا لگتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں نصیرالدین شاہ نے کہا مسلمانوں کو پسماندہ اور بے کار بنایا جارہا ہے انہیں دوسرے درجے کا شہری بنایا جارہا ہے اور یہ تقریباً ہر شعبے میں ہورہا ہے۔

    بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کے نفرت انگیز اقدامات جاری،مدر ٹریسا چیریٹی کے لیے غیر…

    بھارتی اداکار نے کہا مسلمانوں میں ایک فوبیا پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے یہ ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوششیں کررہے ہیں مجھے یہاں خوف محسوس نہیں ہوتا کیونکہ یہ میرا گھر ہے لیکن میں اپنے بچوں کے لیے فکر مند ہوں کہ ان کا کیا ہوگا۔

    مسلمانوں کی نسل کشی کے مطالبے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی مکمل خاموشی پر نصیرالدین شاہ نے کہا ’’انہیں کوئی پرواہ نہیں‘‘کم از کم آپ ان پر منافق ہونے کا الزام نہیں لگاسکتے۔

    اداکار نے کہا کہ مغل ہندوستان کو اپنا وطن بنانے کے لیے آئے تھے مغلوں کے نام نہاد مظالم کو ہر وقت اجاگر کیا جاتا ہے، بھارتی بھول جاتے ہیں کہ مغل وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک کے لیے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک میں لازوال یادگاریں چھوڑی ہیں، جنہوں نے رقص، موسیقی، مصوری، ادب کی روایت چھوڑی ہے۔ مغل یہاں کو اپنا وطن بنانے آئے تھے، آپ چاہیں تو انہیں مہاجر کہہ سکتے ہیں۔”

    تاہماس بیان کے برد سے اداکار کوانتہا پسند بھارتیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور ٹرولنگ کا سامنا ہے-

    سنی لیون کا نیا گانا ان کے گلے کی ہڈی بن گیا

    واضح رہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے لئے ہندو انتہاپسندوں کے نفرت انگیز اقدامات جاری ہیں ،انتہا پسند بھارتی حکومت نے مدر ٹریسا کی طرف سے قائم کردہ خیراتی ادارے کے لیے غیر ملکی فنڈنگ ​​لائسنس کی تجدید کرنے سے انکار کر دیا ہے مدر ٹریسا مشنری آف چیریٹی کے تحت ہزاروں ورکرز(ننز) کام کر رہی ہیں جو لاوارث بچوں کے لیے گھر، اسکول، کلینک اور ہاسپیس جیسے منصوبوں کی نگرانی کرتی ہیں کرسمس کے دن، ہندوستان کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ غلط معلومات کی وجہ سے دوبارہ رجسٹریشن نہیں کی جا رہی –

    آئندہ حکومت بنی تو شراب کی بوتل 50 روپے میں دیں گے،سیاسی جماعت کا اعلان

    علاوہ ازیں بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے کیتھولک چرچ کے ایک پادری سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ان پر قبائلیوں کو عیسائیت اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے انہیں جھابوا ضلع کے ایک گاؤں سے گرفتار کیا گیا پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائی جھابوا ضلع کے ایک تھانے میں درج ایک شکایت کی بنیاد پر کی گئی۔پولیس نے بتایا کہ ان تینوں پر مدھیہ پردیش فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2021 کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے جسے مذہب کی تبدیلی کے مخالف قانون کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    دریں اثنا جھابوا ضلع میں عیسائی مشنریوں نے الزام لگایا ہے کہ مدھیہ پردیش کے قبائلی اکثریتی علاقوں میں ان کے خلاف ایک مہم چلائی جا رہی ہے اور ان پر مذہب تبدیل کرانے کا بے بنیاد الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

    بھاری معاوضہ مانگنے والے اداکاروں کو کرن جوہر کا چیلنج