Baaghi TV

Tag: نصیر الدین شاہ

  • بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ 72 برس کے ہو گئے

    بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ 72 برس کے ہو گئے

    بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ 72 برس کے ہو گئے ہیں. ان کا کیرئیر پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے اس دوران انہوں نے لازوال کردار ادا کئے. انہوں نے مشکل کردار بھی اس خوبصورتی سے ادا کئے کہ ناقدین ان کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے. نصیر الدین شاہ کا شمار بالی وڈ کے ان اداکاروں میں ہوتا ہے جن کی ذات خود میں ہی اداکاری کا انسٹیٹیوٹ ہے. ان کی فنی خدمات کے عوض انہیں پدما بھوشن، پدم شری جیسے باوقار ایوارڈز کے ساتھ 3 نیشنل ایوارڈز اور 3 فلم فیئر ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے .نصیرالدین شاہ نے کمرشل اور آرٹ ہر قسم میں کام کیا اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا . انہوں نے بالی وڈ کے ساتھ ساتھ ہالی ود کی فلمیں بھی کیں. اداکار نصیرالدین شاہ نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ مجھے پڑھائی میں زیادہ دلچپسی نہیں تھی،

    میرے سکول کے استاد بھی مجھ سے خوش نہیں تھے، ہر روز ان سے مار کھاتا تھا میں نے سوچا کہ کس طرح‌سے پڑھائی سے جان چھڑوائی جائے تو آئیڈیا آیا کہ اداکاری کے شعبے میں چلا جاتا ہوں اس سے پڑھائی سے جان چھٹ جائیگی. جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اداکاری کرنی ہے ان کی عمر محض باراں برس تھی، اور اپنے والد کو اس ارادے کے بارے میں بالکل آگاہی نہیں دی.جب کالج ختم کیا تو والد نے پوچھا اب آگے کیا کرنا ہے تو انہوں نے کہا کہ اداکاری کرنی ہے.یوں بس جب وہ اداکاری کی طرف آئے تو اپنی صلاحیتوں کے ایسے جھنڈے گاڑھے کے بالی وڈ کے بڑے اور نامور فنکار ان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش رکھنے لگے.

  • گستاخانہ بیان پراداکار نصیر الدین شاہ بھی برس پڑے

    گستاخانہ بیان پراداکار نصیر الدین شاہ بھی برس پڑے

    بی جے پی کے رہنما کی جانب سے گستاخانہ بیان دینے پر بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ بھی برس پڑے انہوں نے اپنے ملک کے حکمران نریندر مودی سے کہہ دیا کہ آپ ان کو کچھ عقل دیں جس خاتون نے گستاخانہ بیان دیا ہے وہ کوئی عام خاتون نہیں ہیں بلکہ قومی ترجمان ہیں ۔اپنے حالیہ انٹرویو میں نصیر الدین شاہ نے کہا کہ جو لوگ نفرت پھیلا رہے ہیں ان کو نریندر مودی ٹویٹر پر خود بھی فالو کرتے ہیں ان کو نفرت پھیلانے سے روکا جائے ۔یہی نہیں نصیر الدین شاہ نے بھارتی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کو اس اس قسم کے معاملات کو ہوا دینے کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔

    یاد رہے کہ الجزیرہ نیوزکی رپورٹ کے مطابق بی جے پی کی ترجمان کی جانب سے دین اسلام اورحضرت محمد سے متعلق گستا خانہ ریمارکس پرمسلمانوں اورمسلم ممالک کے احتجاج کے بعد پارٹی رہنماﺅں کو ہدایات جاری کی گئی ہے کہ مذہبی معاملات پربات کرنے سے محتاط رہیں۔ بی جے پی کے ایک سینیئر رہنما کا کہنا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ پارٹی رہنما کسی بھی طریقے سے کوئی ایسی بات کریں جو کسی کمیونٹی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے۔