Baaghi TV

Tag: نصیر الدین شاہ

  • نصیر الدین شاہ کی بھارتی فلم انڈسٹری  پر کڑی تنقید

    نصیر الدین شاہ کی بھارتی فلم انڈسٹری پر کڑی تنقید

    بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ نے کہا ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں بار بار مختلف مذاہب کا مذاق اڑایا گیا ہے، جسے ایک مستقل رجحان کے طور پر فروغ دیا جاتا رہا ہے۔

    ایک حالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نصیر الدین شاہ نے کہا کہ بالی ووڈ نے اپنی کہانیوں میں سنسنی پیدا کرنے اور تفریح کے نام پر مختلف مذہبی برادریوں کو اکثر نشانہ بنایا ہے یہ ایک ایسا طرزِ عمل ہے جس میں مختلف شناختوں کو سطحی اور مزاحیہ انداز میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔

    اداکار نے کہا کہ آخر کون سا مذہب ہے جس کا بالی ووڈ میں مذاق نہیں اڑایا گیا سکھ، پارسی اور عیسائی برادریوں کو اکثر فلموں میں مزاحیہ یا دقیانوسی انداز میں دکھایا گیا، جبکہ مسلمانوں کو زیادہ تر ایک مخصوص کردار میں محدود کر دیا گیا، جو کہ اکثر فلم کے آغاز میں ہیرو کا دوست ہوتا ہے اور آخر میں اس کی جان بچاتے ہوئے اپنی قربانی دے دیتا ہے۔

    نصیر الدین شاہ نے بھارتی سنیما کو ’’دقیانوسی تصورات کا ماسٹر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلموں میں ایک ہی طرز کی کہانیاں بار بار دہرائی جاتی ہیں، جس سے تخلیقی تنوع متاثر ہوتا ہے دوسروں کے دکھ اور شناخت پر ہنسنا ایک ایسا رویہ بن چکا ہے جسے معاشرے نے معمول سمجھ لیا ہے بھارتی معاشرے میں خود پر ہنسنے کا رجحان کم ہے، لیکن دوسروں پر طنز یا مذاق کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی جاتی لیکن اگر کوئی ان پر تنقید کرے تو ناراضی پیدا ہو جاتی ہے، لیکن خود دوسروں کو نشانہ بنانے سے پہلے سوچا بھی نہیں جاتا، اور سنیما نے اس رویے کو مزید مضبوط کیا ہے۔

    اداکار نے بھارتی سنیما کے 100 سال مکمل ہونے کے جشن پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگرچہ فلم انڈسٹری کو ایک صدی مکمل ہو چکی ہے، لیکن اس کے باوجود زیادہ تر کہانیاں اب بھی پرانے اور محدود موضوعات کے گرد گھومتی ہیں یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ ایک صدی پرانی روایت ہے کہ فلموں میں بار بار مختلف مذاہب اور شناختوں کو طنزیہ انداز میں پیش کیا جاتا رہا ہے، جس پر اب سنجیدہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

  • بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ 72 برس کے ہو گئے

    بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ 72 برس کے ہو گئے

    بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ 72 برس کے ہو گئے ہیں. ان کا کیرئیر پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے اس دوران انہوں نے لازوال کردار ادا کئے. انہوں نے مشکل کردار بھی اس خوبصورتی سے ادا کئے کہ ناقدین ان کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے. نصیر الدین شاہ کا شمار بالی وڈ کے ان اداکاروں میں ہوتا ہے جن کی ذات خود میں ہی اداکاری کا انسٹیٹیوٹ ہے. ان کی فنی خدمات کے عوض انہیں پدما بھوشن، پدم شری جیسے باوقار ایوارڈز کے ساتھ 3 نیشنل ایوارڈز اور 3 فلم فیئر ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے .نصیرالدین شاہ نے کمرشل اور آرٹ ہر قسم میں کام کیا اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا . انہوں نے بالی وڈ کے ساتھ ساتھ ہالی ود کی فلمیں بھی کیں. اداکار نصیرالدین شاہ نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ مجھے پڑھائی میں زیادہ دلچپسی نہیں تھی،

    میرے سکول کے استاد بھی مجھ سے خوش نہیں تھے، ہر روز ان سے مار کھاتا تھا میں نے سوچا کہ کس طرح‌سے پڑھائی سے جان چھڑوائی جائے تو آئیڈیا آیا کہ اداکاری کے شعبے میں چلا جاتا ہوں اس سے پڑھائی سے جان چھٹ جائیگی. جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اداکاری کرنی ہے ان کی عمر محض باراں برس تھی، اور اپنے والد کو اس ارادے کے بارے میں بالکل آگاہی نہیں دی.جب کالج ختم کیا تو والد نے پوچھا اب آگے کیا کرنا ہے تو انہوں نے کہا کہ اداکاری کرنی ہے.یوں بس جب وہ اداکاری کی طرف آئے تو اپنی صلاحیتوں کے ایسے جھنڈے گاڑھے کے بالی وڈ کے بڑے اور نامور فنکار ان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش رکھنے لگے.

  • گستاخانہ بیان پراداکار نصیر الدین شاہ بھی برس پڑے

    گستاخانہ بیان پراداکار نصیر الدین شاہ بھی برس پڑے

    بی جے پی کے رہنما کی جانب سے گستاخانہ بیان دینے پر بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ بھی برس پڑے انہوں نے اپنے ملک کے حکمران نریندر مودی سے کہہ دیا کہ آپ ان کو کچھ عقل دیں جس خاتون نے گستاخانہ بیان دیا ہے وہ کوئی عام خاتون نہیں ہیں بلکہ قومی ترجمان ہیں ۔اپنے حالیہ انٹرویو میں نصیر الدین شاہ نے کہا کہ جو لوگ نفرت پھیلا رہے ہیں ان کو نریندر مودی ٹویٹر پر خود بھی فالو کرتے ہیں ان کو نفرت پھیلانے سے روکا جائے ۔یہی نہیں نصیر الدین شاہ نے بھارتی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کو اس اس قسم کے معاملات کو ہوا دینے کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔

    یاد رہے کہ الجزیرہ نیوزکی رپورٹ کے مطابق بی جے پی کی ترجمان کی جانب سے دین اسلام اورحضرت محمد سے متعلق گستا خانہ ریمارکس پرمسلمانوں اورمسلم ممالک کے احتجاج کے بعد پارٹی رہنماﺅں کو ہدایات جاری کی گئی ہے کہ مذہبی معاملات پربات کرنے سے محتاط رہیں۔ بی جے پی کے ایک سینیئر رہنما کا کہنا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ پارٹی رہنما کسی بھی طریقے سے کوئی ایسی بات کریں جو کسی کمیونٹی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے۔