Baaghi TV

Tag: نظام

  • بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں  زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی

    بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی

    نئی دہلی : بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے ریاست تلنگانہ میں اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان سے خطاب میں مغلوں، نظاموں اور مسلم سیاسی رہنماؤں کے خلاف خوب زہر اُگلا۔

     

    بی جے پی رہنما ہمنتا بسوا شرما کا کہنا تھا کہ جیسے کشمیر کی دفعہ 370 کا خاتمہ ہوا، جیسے رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہوا، اسی طرح یہاں نظام اور اویسی کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا، اس میں اب زیادہ وقت نہیں۔ بھارتی تاریخ بتاتی ہے کہ بابر، اورنگزیب اور نظام بہت دنوں تک زندہ نہیں رہ سکتے۔

    ہمنتا بسوا شرما کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ایک ایسے نئے بھارت کی تعمیر کرنی ہے جس میں کوئی بھی نظام کی تاریخ نہیں پڑھے گا بلکہ ہمارے اپنے رہنماؤں کی تاریخ پڑھائی جائے گی۔

     

    تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد پر تقسیم ہند سے قبل تک نظام نے برسوں حکمرانی کی تھی اور ان کا اشارہ اُنہی کی طرف تھا۔ سوشل میڈیا پر اس متنازع بیان پر کافی بحث ہوئی اور بہت سے افراد نے اسے اشعال انگیز قرار دیا۔آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے بھارت کو نئی سمت دینے کے لیے وزیراعظم مودی کی تعریف اور تلنگانہ میں بے روزگاری کے مسائل پر بھی بات کی لیکن وہ اِس حقیقت سے صاف منہ موڑ گئے کہ جب سے مودی بھارت کے وزیراعظم بنے ہیں تب سے ملک میں بے روزگاری کا سنگین مسئلہ شروع ہوا اور اس وقت ملک ایک بحران سے گزر رہا ہے۔

    چند روز قبل ہی بھارت کے معروف ادارے انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کے طلبا اور اساتذہ نے وزیراعظم نریندر مودی کے نام خط لکھ کر ملک میں نفرت انگیز تقریروں اور اقلیتوں پر حملوں کے خلاف اُن کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں جو اِنہیں مزید تقویت اور حوصلہ دے رہی ہے۔

     

    وزیراعظم کے دفتر کو بھیجے گئے اس خط پر 183 افراد نے دستخط کیے جن میں طلبا کے ساتھ ساتھ آئی آئی ایم بنگلور کے 13 اور آئی آئی ایم احمد آباد کے تین فیکلٹی ارکان بھی شامل ہیں۔

    خط میں مزید تحریر تھا کہ ملک میں ایک خوف کا ماحول ہے۔ بھارت میں گرجا گھروں سمیت بہت سی عبادت گاہوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں اور ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے خلاف تو ہتھیار اٹھانے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ یہ سب کسی قانونی کارروائی کے ڈر کے بغیر کیا جا رہا ہے۔

     

    2014ء میں اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ملک میں مسلم اور دیگر اقلیتوں پر مظالم کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔

    گزشتہ ماہ ہی ہری دوار میں انتہاپسند ہندوؤں کے ایک مذہبی اجلاس کے موقع پر متعدد ہندو مذہبی رہنماؤں نے عام ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور ان کے قتل عام اور نسل کشی کے لیے کہا تھا۔

    اس واقعے کی کئی وڈیوز بھی وائرل ہوچکی ہیں اور تمام مقررین واضح طور پر پہچانے جا سکتے ہیں تاہم ابھی تک ان کے خلاف پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ مسلمانوں نے اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

  • اوکاڑہ میں بارش کے بعد نکاسی آب کا نظام بری طرح فیل۔ شہری پریشان

    اوکاڑہ میں بارش کے بعد نکاسی آب کا نظام بری طرح فیل۔ شہری پریشان

    اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ میں کئی گھنٹوں کی بارش کے بعد شہر تالاب کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔ اوکاڑہ اور گرد و نواح میں تسلسل کیساتھ بارش برسی جس کے بعد شہر اور مضافاتی علاقوں میں سیوریج کا نظام مجموعی طور پر ناکام نظر آیا۔ جگہ جگہ تالاب بن گئے اور کیچڑ نے گزرگاہوں میں ڈیرے جمالیے۔ اوکاڑہ شہر میں صرف ایک انڈرپاس ہے جو کافی عرصہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے وہاں بھی پانی کا ایک بڑا تالاب بن چکا ہے۔ راوی روڈ، ایم اے جناح روڈ، کچہری بازار سمیت اوکاڑہ فلائی اوور کے نیچے کا علاقہ بری طرح متاثر ہوا جس کی وجہ سے آمدورفت بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ نکاسی آب کا نظام بری طرح فیل ہوچکا ہے۔ پانی شہریوں کے گھروں میں داخل ہورہا ہے جسکی وجہ سے شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نکاسی آب کا نظام بہتر بنایا جائے۔

  • ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر

    ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر

    ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدالتی نظام انصاف اور پولیس میں بہت زیادہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ۔ جہاں پر ایک ملزم ۔! جی ہاں ایک ملزم جس پر صرف کوئی الزام ہوتا ہے جبکہ وہ الزام ابھی ثابت نہیں ہوا ہوتا ہے مگر اس انسان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ انسان اور انسانیت کی تذلیل کی انتہا ہوتی ہے ۔ جس کو ذلیل رسوا خوار کر کر کے 1 سال سے 20 سال کے بعد بے گناہ لکھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے مگر اس کی وہ جو تذلیل ہوتی ہے جو اس کی عزت کا جنازہ اٹھتا ہے اس کے بعد تو جیسے وہ مر ہی جاتا ہے اور ایک زندہ لاش بن جاتا ہے ۔ پہلے پہل تو پولیس کسی بھی سچے یا جھوٹے الزام میں کسی کو بھی ایک سادہ سی درخواست پر دھر لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی تو درخواست کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے بس کسی کی فرمائش یا پولیس کی اپنی مرضی پر بھی منحصر ہوجاتا ہے اور اس انسان کو حوالات میں بند کردیا جاتا ہے ۔

    حوالاتوں میں جو ماحول ہے وہاں جانور بھی رہنا گوارہ نا کریں کوئی سہولت نہیں ہوتی ہے ہر طرف بدبو کا راج کہیں بجلی نہیں ہوتی تو کہیں مچھر جو بھی شریف النفس انسان صرف کسی الزام میں ہی حوالات میں چلا جائے تو ساری زندگی اس حوالات کے گندے ماحول کا خیال اس کے ذہن سے نہیں جاتا ہے۔ پھر اس کے اس کی جو چھترول اور گندی گندی گالیوں سے خدمت کی جاتی ہے وہ بھی اس کے اندر کے انسان اور انسانیت کو مار دیتی ہیں جبکہ قیدیوں کی تربیت پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے شائد کاغذوں میں ایسے منصوبے چلتے ہوں مگر عملی طور پر نظر نہیں آتے ہیں۔ تاکہ وہ اس جیل سے باہر نکلنے کے بعد اپنی اصلاح کرتے ہوئے اچھے شہری بن سکیں بلکہ وہاں پر ان کی شناسائی ایسے عادی مجرموں سے ہوجاتی ہے کہ پہلے مجرم نا ہونے یا چھوٹے موٹے ہونے کے بعد بڑے بڑے گروہوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

    اس کے بعد پولیس کا اس کو بے گناہ لکھنے کرنے کے لیے ( بے گناہ ہونے کے باوجود ) اس کو قرضے لے کر یا اپنی جمع پونجی لٹا کر ہی وہ عدالتی لمبے سسٹم سے گزر کر بے گناہ ہو پاتا ہے ۔ پھر اس کو جیل میں بھیج دیا جاتا ہے وہاں پر بھی اس کو ہر سہولت یا ضروریات زندگی کی چیزیں حاصل کرنے کے لیے جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے ۔

    پھر وکیلوں کی باری آتی ہے تو وہ بھی اس کے مال و دولت پر اپنے دونوں ہاتھ اچھے سے صاف کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں کئی مہینے سال بلکہ زندگی لگ جاتی ہے اپنے آپ کو بے گناہ ہونے کے باوجود بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ۔

    ہم نے اپنے نظام انصاف کو چھوڑ کر انگریزوں کے کالے قانون کو اپنے لیے نجات کا راستہ سمجھ لیا اور اپنے اسلامی نظام انصاف کو چھوڑ دیا اور آج ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اب اس نظام کو ختم کیوں نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے پولیس سے عدالت وکیل اور ان کے ساتھ وابستہ افراد کا روزگار چل رہا ہے اور سیاستدانوں کی سیاست بھی کامیابی کے ساتھ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

    جو حقیقت حال احوال خود ملزم یا الزام علیہ خود جواب دے سکتا ہے وہ کوئی بھی نہیں دے سکتا ہے مگر ہزاروں لاکھوں کی فیس ادا کرکے وکیل رکھنا ضروری ہے کیوں کیونکہ یہ ہمارا فرسودہ قانون ہے ۔؟

    بے گناہ ہونے کے باوجود پولیس کا اس کو پکڑنا پھر کیس بنا کر عدالتوں میں اس مظلوم کا اتنا ذلیل و خوار ہونا کیوں ۔؟

    دوسری طرف جس کے ساتھ واقعی کوئی ظلم زیادتی ہوتی ہے اس کو حصول انصاف کے لیے پہلے ایف آئی آر کروانا بہت مشکل ہے جب آیف آئی آر کے موجودہ کیس کی نوعیت کے مطابق وہ تفتیشی افسر کو رشوت نا دے یا کسی سیاسی بااثر شخصیت کا حکم یا اجازت نامہ لے کر نا آئے اس کی شنوائی نہیں ہوتی ہے ۔ پھر وکیل جج عدالتیں پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں مگر انصاف حاصل کرنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے

    بلکہ یہ کہنا بھی غلط نا ہوگا کہ انصاف خریدنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے کیونکہ جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے تو ایسے گھٹیا نظام انصاف کو آخر کیوں تبدیل نہیں کیا جاتا ہے ۔؟

    آخر کب تک اس ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عوام کو فوری اور سستا انصاف مل پائے گا آخر ستر سالوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس نظام کو بہتر کرنے میں کون رکاوٹ ہے ۔آخر انسانوں کو کب تک ذلیل و خوار کیا جاتا رہے گا ۔؟
    آخر وہ کون ہوگا جو عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کی مخلصانہ کوشش و عمل کرے گا اس قوم کو اب بھی کسی مسیحا کی تلاش ہے ۔ موجودہ سیاستدان تو صرف اپنے پروٹوکول اور ذاتی مفادات کے لیے گرداں نظر آتے ہیں چھوٹے چھوٹے کام کرکے بس عوام کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں مگر اس ملک اور قوم کو آج تک شائد کوئی مسیحا نہیں مل سکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • سندھ میں ٹیکس نئے نظام کے تحت اکٹھا ہو گا !

    سندھ میں ٹیکس نئے نظام کے تحت اکٹھا ہو گا !

    کراچی: سندھ حکومت ورلڈ بینک کی مدد سے آئندہ سال سے 33.6 ارب روپے کا مسابقتی اور پائدار کراچی شہر کا منسوبہ شروع کرنے جا رہی ہے جو پانچ سال میں مکمل ہوگا،
    وزیراعلیٰ سندھ نے ورلڈ بینک کے قائم مقام کنٹری ڈائریکٹر مس میلنڈا گوڈس کی قیادت میں دو رکنی وفد کیساتھ اجلاس کے موقع پر کہا ہے کہ سندھ حکومت کراچی شہر کا منصوبہ شروع کر جو پانچ سال میں مکمل ہوگا، منصوبے کا مقصد کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن ، 6 ضلعی میونسپل کارپوریشن، ڈسٹرکٹ کونسل کراچی اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ساتھ شہر میں تفصیلی پراپرٹی سروے کے حوالے سے تعاون کرنا ہے
    انہوں نے بتایا کہ کاروباراور ٹیکس کے نظام کو سہل بنانے کیلئے اس منصوبے کو کامیاب بنایا جائے گا اور سندھ حکومت کیساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا