Baaghi TV

Tag: نظام شمسی

  • 29 مئی کو نظام شمسی کے دو بڑے سیارے ایک ساتھ آسمان پر نمودار ہوں گے

    29 مئی کو نظام شمسی کے دو بڑے سیارے ایک ساتھ آسمان پر نمودار ہوں گے

    نظام شمسی کے دو بڑے سیارے مریخ اور مشتری 29 مئی کو آسمان پر نمودار ہوں گے-

    باغی ٹی وی : ارتھ سکائے کے مطابق فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس ماہ کے آخری دنوں میں شمالی نصف کرے(ناردن ہیمی اسفیئر) کےممالک صبح کے وقت نظام شمسی کے دو بڑے ،اہم اور خوبصورت سیاروں کو دیکھ سکیں گےان سیاروں میں نظامِ شمسی کا سب سے بڑی سیارہ ، مشتری (جوپیٹر) اور دوسرا سرخ سیارہ مریخ (مارس) شامل ہیں-

    سورج 28 مئی کوخانہ کعبہ کے عین اوپر ہو گا


    ماہرین فلکیات کے مطابق اس وقت فجر سے کچھ دیر پہلے سیارہ مریخ دکھائی دے رہا ہے لیکن یہ 29 مئی کی صبح گویا مشتری کے بالکل قریب جاپہنچے گا اگرچہ یہاں قربت کا مفہوم حقیقی معنوں میں نہ سمجھا جائے کیونکہ ان دونوں سیاروں کے درمیان اس وقت بھی 56 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ ہوگا۔ بس زمین سے وہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیں گے۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق اب 29 مئی کو مشتری اور مریخ اتنے قریب جاپہنچیں گے کہ ان کے درمیان ایک مکمل چودہویں کے چاند کی ٹکیہ کے برابر ہی فاصلہ رہے گا اپنی چمک کی بنا پر یہ دونوں آسانی سے دیکھے جاسکیں گے۔

    چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے


    ماہرین کا کہنا ہے کہ مہینے کے آخری دنوں میں چاند کی روشنی بھی کم ہو گی یوں دونوں سیارے اچھی طرح دیکھیں جاسکیں گے اگر آپ مشتری اور مریخ کے اوپر گراف کی طرح بلند ہوتی ہوئی ایک لکیر کھینچیں تو نظامِ شمسی کا ایک اور شاندار سیارہ سیارہ زحل (سیٹرن) بھی آپ کے سامنے ہوگا جو اپنے دائروں اوربہت سارے چاندوں کی وجہ سے بہت مشہور اور دلکش بھی ہے۔

    تصاویر بشکریہ :سکائی ارتھ
    واضح رہے کہ پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش شمالی نصف کرے میں شامل ہیں اور یوں ہم اس فلکیاتی نظارے سے محظوظ ہوسکتے ہیں۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

  • ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ناسا نے ایک اور کامیابی، ناسا کا خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا۔

    باغی ٹی وی :ناسا کے مطابق تاریخ میں پہلی بار کسی خلائی جہاز نے سورج کو چھوا ہے۔ ناسا کے پارکر سولر پروب نے اب سورج کے اوپری ماحول – کورونا اور وہاں کے ذرات اور مقناطیسی میدانوں کے نمونے لیے ہیں۔

    ناسا ماہرین کے مطابق جس طرح چاند پر اترنے سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ کیسے بنا ہے، اسی طرح سورج جس چیز سے بنا ہے اسے چھونے سے سائنسدانوں کو ہمارے قریب ترین ستارے اور نظام شمسی پر اس کے اثر و رسوخ کے بارے میں اہم معلومات سے پردہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    واشنگٹن میں ناسا کے ہیڈ کوارٹر میں سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس زربوچن نے کہا، "پارکر سولر پروب "سورج کو چھونا” شمسی سائنس کے لیے ایک یادگار لمحہ ہے اور واقعی ایک قابل ذکر کارنامہ ہے۔ "یہ سنگ میل نہ صرف ہمیں ہمارے سورج کے ارتقاء اور اس کے ہمارے نظام شمسی پر اثرات کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کرے گا، بلکہ ہم اپنے ستارے کے بارے میں جو کچھ بھی سیکھنا چاہتے ہیں وہ ہمیں باقی کائنات میں ستاروں کے بارے میں مزید سکھائے گا۔”

    جیسے جیسے یہ شمسی سطح کے قریب جا رہا ہے، پارکر نئی دریافتیں کر رہا ہے جنہیں دیکھنے کے لیے دوسرے خلائی جہاز بہت دور تھے، بشمول شمسی ہوا کے اندر سے – سورج سے ذرات کا بہاؤ جو زمین پر ہمیں متاثر کر سکتا ہے۔ 2019 میں، پارکر نے دریافت کیا کہ شمسی ہوا میں مقناطیسی زگ زیگ ڈھانچے، جنہیں سوئچ بیک کہتے ہیں، سورج کے قریب بہت زیادہ ہیں۔ لیکن وہ کیسے اور کہاں بنتے ہیں یہ ایک معمہ ہی رہا۔ اس کے بعد سے سورج تک کا فاصلہ آدھا کرنے کے بعد، پارکر سولر پروب اب ایک ایسی جگہ کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی قریب سے گزر چکا ہے جہاں سے وہ نکلتے ہیں-

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    ناسا ماہرین کا کہنا ہے کہ پارکر سولر پروب نے انتہائی گرمی اور الٹرا وائلٹ شعاعیں جھیلتے ہوئے ایلفویئن نامی لکیر کو عبور کیا جو سورج کی بیرونی فضا کورونا کی باہری حد ہے۔

    خلائی جہاز نے ایسا اپریل میں کیا تھا مگر ڈیٹا کے تجزیے سے اب جا کر اس کی تصدیق ہوئی ہے، ڈیٹا کے مطابق پروب پانچ گھنٹوں کے دوران تین مرتبہ اس لکیر کے اوپر اور نیچے سے ہو کر گزرا، اس تجربے سے سائنسدانوں کو سورج کے کام کرنے کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں پارکر سولر پروب خلائی ادارے کا اب تک کا بنایا گیا سب سے ‘جانباز’ مشن ہے۔


    برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق اس خلائی جہاز کی رفتار حیران کُن حد تک تیز ہے یہ پانچ لاکھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے اور حکمت عملی یہ ہے کہ سورج کی فضا میں فوراً داخل ہو کر فوراً باہر آئے اور اس دوران گرمی سے بچانے والی اپنی موٹی ہیٹ شیلڈ کے پیچھے چھپ کر اپنے مختلف آلات کے ذریعے اعدادو شمار اکٹھا کرے-

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    سورج کی سطح یعنی فوٹو سفئیر پر درجہ حرارت 6000 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہوتا ہے لیکن کورونا میں دتجہ حرارت 10 لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے-

    پارکرنے ایلفوئین نامی لکیر کو عبور کیا جو سورج کی بیرونی فضا کورونا کی باہری حد ہے یہ وہ مقام ہے جہاں عام طور پر سورج کی کشش ثقل سے بندھا رہنے والا مواد اور مقنا طیسی لہریں کشش ثقل سے خود کو چھڑا کر خلا میں باہر نکل جاتی ہیں-

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    سورج سے نکلنے والی بڑی مقناطیسی لہریں ہماری زمین کے مقناطیسی میدان کو ہلا کر رکھ سکتی ہیں۔ ایسا ہونے پر زمینی مواصلات معطل ہو سکتی ہیں، سیٹلائٹس آف لائن ہو سکتی ہیں اور بجلی کے گریڈز میں اچانک وولٹیج تیز ہو سکتا ہے۔

    سائنسدان سورج کے ان مقناطیسی ‘طوفانوں’ کی پیش گوئی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پارکر کے ذریعے اُنھیں ایسا کرنے کے لیے نئی اور گراں قدر معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

  • نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    ہوائی: سائنسدانوں نے نظام شمسی کا سب سے دور چھوٹا سیارہ دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اس چھوٹے سیارے (planetoid) کا قطر صرف 400 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے سورج سے اس کا موجودہ فاصلہ تقریباً 20 ارب کلومیٹر، یعنی زمین کے مقابلے میں 132 گنا زیادہ ہے اور اسی وجہ سے سائنسدانوں نے اسے ’’فار فار آؤٹ‘‘ یعنی ’’دور، بہت دُور‘‘ کا نام دیا ہے۔

    اسے 2018 میں یونیورسٹی آف ہوائی کی رصدگاہ سے دریافت کرنے کے بعد ماہرینِ فلکیات نے ’’2018 اے جی 37‘‘ کا عارضی نام دیا تھا، لیکن تب انہیں بھی معلوم نہیں تھا کہ سورج سے اس کا فاصلہ کتنا ہے کیونکہ آسمان میں اس کی جگہ بہت آہستگی سے تبدیل ہورہی ہے مختلف دوربینوں سے دو سال تک اس کا محتاط مطالعہ کرنے کے بعد سائنسدانوں پر انکشاف ہوا کہ سورج سے اس کا موجودہ فاصلہ 132 فلکیاتی اکائیوں جتنا (تقریباً 20 ارب کلومیٹر) ہے۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    اب تک کی تحقیق سے ’’فار فار آؤٹ‘‘ کے بارے میں مزید یہی معلوم ہوسکا ہے کہ سورج کے گرد اس کا مدار انتہائی بیضوی (کسی لمبوترے انڈے جیسا) ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا سورج سے زیادہ سے زیادہ فاصلہ 175 فلکیاتی اکائیوں جتنا، جبکہ کم سے کم فاصلہ صرف 27 فلکیاتی اکائیوں جتنا رہ جاتا ہے، جو سیارہ نیپچون اور سورج کے درمیانی فاصلے سے بھی کم ہے۔

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    اس وقت نظامِ شمسی میں دیگر دور ترین فلکی اجسام میں ’’فار آؤٹ‘‘ کا سورج سے فاصلہ 124 فلکیاتی اکائیوں جتنا اور ’’گوبلن‘‘ کا فاصلہ 80 فلکیاتی اکائیوں کے برابر ہے؛ لیکن سائنسدانوں نے حساب لگایا ہے کہ ان میں ’’گوبلن‘‘ کا مدار سب سے بڑا ہے اور سورج سے اس کا زیادہ سے زیادہ فاصلہ 2300 فلکیاتی اکائیوں تک پہنچ سکتا ہے۔

    فار فار آؤٹ کی خیالی تصویر : فوٹو بشکریہ یونیورسٹی آف ہوائی
    ماہرینِ فلکیات نے اندازہ لگایا ہے کہ ’’فار فار آؤٹ‘‘ اور نیپچون کے مدار ایک دوسرے سے قریب آتے رہتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ فار فار آؤٹ کا مدار اتنا زیادہ لمبوترا اور بیضوی ہوگیا ہے۔

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    فار فار آؤٹ پر مزید تحقیق ابھی جاری ہے، جس کے بعد اس کی مزید خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی جاسکے گی۔ تاہم اس میں مزید کچھ سال لگ جائیں گے اس کے بعد ہی اسے کوئی باقاعدہ نام دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ زمین اور سورج کے اوسط درمیانی فاصلے کو ’’ایک فلکیاتی اکائی‘‘ کہا جاتا ہے جو تقریباً 15 کروڑ کلومیٹر فاصلہ بنتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار