Baaghi TV

Tag: نظر بندی

  • سمی دین بلوچ نے نظر بندی کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    سمی دین بلوچ نے نظر بندی کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی)کی رہنما سمی دین بلوچ نے نظر بندی سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردی۔

    اطلاعات کے مطابق وکیل درخواست گزارنے کہا کہ سمی دین بلوچ کی نظر بندی کے خلاف درخواست کی سماعت کل دو رکنی بینچ کرے گا، سمی دیں بلوچ کو پیر کے روز احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔وکیل نے کہا کہ عدالت نے گزشتہ روز سمی دین بلوچ کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
    خیال رہے کہ گزشتہ روز پولیس نے سمی دین بلوچ کو ایم پی او تھری کے تحت گرفتار کرلیا تھا، محکمہ داخلہ سندھ کے احکامات پر سمی دین بلوچ کو 30 دن کے لیے نظر بند کر دیا گیا تھا۔

    محکمہ داخلہ سندھ کے نوٹیفکیشن کے مطابق آئی جی سندھ کی سفارش پر سمی دین بلوچ سمیت 5 افراد کونظر نظر بند کیا گیا ہے، سمی دین بلوچ، عبدالوہاب بلوچ، رضا علی اور دیگر سڑکیں بلاک اور دھرنے دینے کیلئے اکسا رہے تھے۔محکمہ داخلہ نے کہاتھا کہ نظر بند کیے گئے افراد سے شہر میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ تھا، ان افراد کی موجودگی عوامی مقامات پر امن و امان کیلئے خطرہ بن سکتی تھی۔

    شہباز شریف کے مشیر بننے کے بعد پرویز خٹک کیخلاف کرپشن کیس بند

    کراچی میں ایک خوفناک ٹریفک حادثہ، ڈرائیور گرفتار

    جھوٹا نکاح، ملزم کی دوستوں سمیت کئی ماہ 13 سالہ لڑکی کی عصمت دری

    سندھ ، بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کا امکان

  • نومئی کے 8 ملزمان کی نظربندی کے احکامات واپس

    نومئی کے 8 ملزمان کی نظربندی کے احکامات واپس

    لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ ، 9 مئی کے 8 ملزمان کی رہائی کے بعد نظر بندی کے معاملے کی سماعت ہوئی،

    دوران سماعت ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے 9 مئی کے ملزمان،تحریک انصاف کے 8 کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات واپس لے لیے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے اس اقدام سے عدالت کو آگاہ کر دیا،جس کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے درخواست گزار سیمابیہ طاہر نے اپنی درخواست واپس لے لی، درخواست واپس لیے جانے کی بنیاد پر عدالت نے درخواست نمٹا دی،

    تحریک انصاف کے کارکنوں کی اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد ڈی سی راولپنڈی کے احکامات پرانہیں دوبارہ گرفتار کر کے نظر بند کر دیا گیا تھا،جس پر تحریک انصاف نے نہ صرف احتجاج کیا تھا بلکہ عدالت میں درخواست بھی دائر کی تھی

    9مئی مقدمات: پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے وارنٹ گرفتاری جاری

    9مئی کے مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی بریت کی درخواست دائر

    عمران ،قریشی کو نومئی کے مقدمات میں چالان کی نقول تقسیم

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    نو مئی جلاؤ گھیراؤ، پہلا فیصلہ آ گیا، 51 ملزمان کو ملی سزا

    واضح رہے کہ نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، عسکری تنصیات پر حملے کئے تھے، منظم منصوبہ بندی کے تحت شہدا کی یادگاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، نو مئی کے بعد تحریک انصاف کے کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے، کئی جیلوں میں تو کئی مفرور ہیں، عام انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت بن گئی، علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ بن گئے ہیں تا ہم پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں نو مئی میں ملوث پی ٹی آئی کارکنان مشکل میں ہیں.

  • شیر افضل مروت کی نظربندی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    شیر افضل مروت کی نظربندی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ: تحریک انصاف کے معروف وکیل شیر افضل مروت کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر حکومت پنجاب سمیت فریقین کو 18 دسمبر کیلئے نوٹس جاری کر دیئے،جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی،نظر بندی کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی نائب صدر ربیعہ باجوہ کی جانب سے دائر کی گئی ہے،درخواست لطیف کھوسہ اور عرفان کلار ایڈووکیٹس کی وساطت سے دائر کی گئی ہے، درخواست میں پنجاب حکومت،ضلعی انتظامیہ کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈی سی لاہور نے شیر افضل مروت کے خلاف غیر قانونی نظر بندی کا حکم جاری کیا،شیر افضل مروت کو سیاسی بنیادوں پر نظر بند کیا گیا،عدالت نظر بندی کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دے،

    تحریک انصاف کے وکیل لطیف کھوسہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کل لاہور ہائیکورٹ میں افسوسناک واقعہ ہوا، کل پولیس نے شیر افضل مروت کو بری طرح گرفتار کیا،عام آدمی کے پاس حق ہے کہ پوچھا جائے کیا آپ کے پاس وارنٹ ہیں ،یہ پوچنھے پر وکلاء کے ساتھ بدتمیزی کی گئی، کل پولیس گردی کی گئی ایسے ہی اسلام آباد عمران خان کے ساتھ کی گئی تھی،پاکستان میں شہریوں کے بنیادی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے،پہلے ایف آئی آر دی جاتی پھر گرفتار کیا جاتا ہے، لیکن یہاں بغیر ایف آئی آر درج کئے گرفتاریاں ہو رہی ہیں،ہم تھانے گئے پھر سی سی پی او افس گئے کسی نے نہیں بتایا کہ گرفتار کیوں کیا ، ہمیں میڈیا سے پتہ چلا کہ نظر بند کردیا گیا ، یہ جو بھی کھیل رہا ہے وہ بہت خوف ناک کھیل رہا ہے، یہ دو صوبوں کے وکلاء اور عوام کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، یہ وفاق کے خلاف شازش ہے جو ہوا ہے ، ہماری روایات سے ہٹ کر حالاتِ بنا دیئے گئے ہیں،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور پولیس نے شیرافضل مروت کو لاہور ہائیکورٹ کے باہر سے گرفتار کر کے کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا،شیر افضل مروت کو تھری ایم پی او کے تحت جیل بھجوایا گیا،شیر افضل مروت کو 30 روز کےلئے نظر بندکیا گیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

     مروت کی گرفتاری کے بعد الیکشن کمیشن کس منہ سے کہتا ہے لیول پلینگ فیلڈ تحریک انصاف کو دی 

  • خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا حکم واپس، کوئٹہ پولیس نے گرفتار کر لیا

    خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا حکم واپس، کوئٹہ پولیس نے گرفتار کر لیا

    لاہور ہائیکورٹ،خدیجہ شاہ کی نظر بندی کے خلاف کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

    پنجاب حکومت نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا حکم واپس لے لیا ، خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا حکومتی تحریری آرڈر سرکاری وکیل نے عدالت میں پیش کر دیا، جسٹس علی باقر نجفی خدیجہ شاہ کو کوئٹہ منتقل کرنے پر برہم ہوگئے ،سرکاری افسران کو فوری ہدایت لیکر پیش ہونے کا حکم دے دیا ،

    آئی جی پنجاب عدالت کے روبرو پیش ہوگئے ، اور کہا کہ کوئٹہ پولیس خدیجہ شاہ کو آج صبح ساڑھے دس بجے لیکر چلی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لکھ کر کہ دیں کہ خدیجہ شاہ کو کب اور کتنے بجے حوالے کیا گیا،وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ ہم نے خدیجہ شاہ کے راہدری ریمانڈ کو ہائیکورٹ میں چیلنج کردیاہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کی درخواست سماعت کےلیے مقرر ہوگئی ہے ؟ خدیجہ شاہ کو کون سی گاڑی پر لے جایا گیا ہے،آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمیں اس بات کا معلوم نہیں ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا خدیجہ شاہ ابھی پنجاب کی حدود میں ہیں؟آئی جی پنجاب نے کہا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں ہے ، آپ نے بلایا اور میں آگیا ،وکیل نے کہا کہ ہماری درخواست یہ ہے کہ کہ خدیجہ شاہ کو فوری واپس بلایا جائے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خدیجہ شاہ کو واپس بلانے کےلیے راہدری ریمانڈ کو کینسل کرنا ہوگا ،جب تک راہدری ریمانڈ موجود ہے عدالت کیسے بلا سکتی ہے؟وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ جب تک راہدری ریمانڈ کے حوالے سے ہماری درخواست مقرر نہیں ہوتی خدیجہ شاہ کو یہاں ہی رکھا جائے سوال یہ کہ نظر بندی کے کینسل ہونے کے بعد جیل سے کیسے گرفتار کرلیا گیا،اگر نظر بندی کا آرڈر کل کینسل ہوا تو پھر ایک روز خدیجہ شاہ کو غیر قانونی حراست میں رکھا ،سرکاری وکیل نے کہا کہ امکان ہے کہ خدیجہ شاہ کو بذریعہ جہاز لے جایا گیا ہے ،وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ کوئٹہ حکام نے اے ٹی سی کو بتایا تھا کہ خدیجہ شاہ کو بائی روڈ لے جایا جائے گا،جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس درخواست صرف خدیجہ شاہ کی نظر بندی کی حد تک تھی،نظر بندی کا معاملہ ختم ہوگیا ہے ،اگر خدیجہ شاہ پنجاب کی حدود میں نہیں ہے کیسے بلا سکتے ہیں ،ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے ،وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ عدالت نے درخواست گزار کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے

    دوسری جانب کوئٹہ پولیس نے خدیجہ شاہ کو نو مئی کے مقدمے میں گرفتار کرلیا،انسداد دہشتگری عدالت کی جج عبہر گل نے خدیجہ شاہ کو کوئٹہ منتقل کرنے کےلیے دو روز راہدری ریمانڈ بھی دےدیا ہے

    خدیجہ شاہ کے شوہر جہانزیب امین نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کو چیلنج کر رکھا ہے ،درخواست میں ڈی سی لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 15 نومبر کو ڈی سی لاہور نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا،خدیجہ شاہ کی نظر بندی بدنیتی پر مبنی ہے، عدالت خدیجہ شاہ کی فوری رہائی کا حکم دے،خدیجہ شاہ کو نظر بند کرنے والے حکام کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے،خدیجہ شاہ کو لاہور کی حدود سے باہر لیجانے سے روکا جائے،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • خدیجہ شاہ کو دوسرے صوبہ منتقلی سے روکنے کی درخواست،جواب طلب

    خدیجہ شاہ کو دوسرے صوبہ منتقلی سے روکنے کی درخواست،جواب طلب

    خدیجہ شاہ کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی ،عدالت نے خدیجہ شاہ کو دوسرے صوبہ منتقل کرنے سے روکنے کی متفرق درخواست پر حکومت پنجاب سے جواب طلب کر لیا ،عدالت نے درخواست گزار کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کے روبرو نظر بندی کے خلاف نظر ٹانی کی درخواست دینے کی ہدایت کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ جمعہ کے روز ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم درخواست گزار کو سن کر فیصلہ کرے ،عدالت نے خدیجہ شاہ کو دوسرے صوبہ منتقل کرنے سے روکنے کی استدعا سے اتفاق نہ کیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب ہے؟ کہ اگر خدیجہ شاہ کو اسکے گھر پر نظر بند کر دیا جائے، سرکاری وکیل نے کہا کہ مجھے ہدایات لینے کی مہلت دی جائے،عدالت نے خدیجہ شاہ کے وکیل سے کہا کہ اگر اپ مجاز اتھارٹی سے مطمن نہیں ہوتے تو دوبارہ عدالت آجائیں، درخواست گزار کے وکیل نے اس سے اتفاق نہ کیا .

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ڈی سی لاہور نے قانون کے مطابق نظر بندی کا فیصلہ نہیں کیا ،سرکاری وکلا نے کہا کہ درخواست گزار پہلے ڈی سی لاہور کو نظر بندی پر نظر ثانی کی درخواست دیں ۔عدالت نے خدیجہ شاہ کے پروڈکش آرڈرجاری کرنے سے اتفاق نہ کیا ،وکیل نے استدعا کی کہ عدالت خدیجہ شاہ کے پروڈکش آرڈرجاری کرئے،عدالت اسکے بیان کی روشنی میں رہا کرے، خدیجہ شاہ ضمانتوں کے باوجود چھ ماہ سے جیل میں ہے، خدیجہ شاہ کریمنل نہ ہے ۔نہ وہ کسی گینگ سے تعلق رکھتی ہے ۔

    عدالت میں ڈی سی لاہور نے جواب جمع کروا دیا،جواب میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف تین مقدمات ہیں، سیکورٹی اداروں اور ایس پی کینٹ کی رپورٹ کی روشنی میں نظر بند کیا ،درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی جائے،حکومت پنجاب کی طرف سے ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ملک سرود اور غلام سرور پیش ہوئے ،درخواست گزار کی طرف سے سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے،

    جسٹس علی باقر نجفی نے خدیجہ شاہ کے شوہر جہانزیب امین کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں وفاقی حکومت ،ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خدیجہ شاہ کی نظر بندی بدنیتی پر مبنی ہے۔خدیجہ شاہ کو قانون کے منافی نظر بند کیا گیا ۔پولیس نے مختلف مقدمات میں نامزد تاخیر سے کیا ۔مقدمات میں تفتیش بھی میرٹ پر نہیں ہوئی ۔ عدالت خدیجہ شاہ کو لاہور کی حدود سے باہر لیکر جانے سے روکنے کا حکم دے ۔ عدالت نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دے

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،پرویز الٰہی کو فوری رہا کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ،پرویز الٰہی کو فوری رہا کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کا تھری ایم پی او معطل کرکے رہا کرنے کا حکم دے دیا

    پرویز الہی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی سی اسلام آباد کو منگل کے لیے نوٹس جاری کر دیا ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے پرویز الٰہی کو آئندہ سماعت پر عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ پرویز الٰہی آئندہ سماعت تک کسی قسم کا کوئی بیان نہیں دیں گے ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے 3 ایم پی او آرڈر کالعدم قرار دیتے ہوئے پرویز الہیی کی فوری رہائی کا حکم دیا،

    لاہور ہائیکورٹ نے یکم ستمبر کو پرویز الہی کی رہائی کا حکم دیا ،لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہی کو کسی بھی اور کیس میں گرفتار کرنے سے روکا ،اسلام آباد پولیس نے لاہور ہائیکورٹ کے آرڈر کو فرسٹریٹ کرنے کیلئے پرویز الہی کو گرفتار کیا،وکیل پرویز الہی نے عدالت میں کہا کہ معلوم پڑا ہے کہ اب پرویز الہی کو اٹک جیل سے نکال کر پولیس لائنز لایا گیا ہے،جسٹس طارق جہانگیری نے استفسار کیا کہ پرویز الہی کو پہلی بار کب گرفتار کیا گیا تھا؟ وکیل پرویز الہی نے کہا کہ پرویز الہی کو ابتدائی طور پر یکم جون کو گرفتار کیا گیا تھا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو پرویز الہی تین ماہ سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں، کیا پرویز الہی اسلام آباد کے رہائشی ہیں؟ وکیل پرویز الہی نے کہا کہ پرویز الہی لاہور کے رہائشی ہیں، اسلام آباد میں بھی انکا گھر ہے، ایم پی او آرڈر میں لکھا گیا کہ پرویز الہی نے کارکنوں کو اشتعال دلایا

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ کیا پرویز الہی کے خلاف اسلام آباد میں کوئی مقدمہ درج ہے؟ وکیل نے کہا کہ نہیں، پرویز الہی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہے ،اسلام آباد پولیس نے پرویز الہی کو لاہور پولیس سے چھین کر دوسری گاڑی میں ڈالا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ایم پی او آرڈرز کو کالعدم قرار دے چکی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی،ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے پھر اسی طرح کا ایم پی او آرڈر جاری کر دیا، کیا وہ اتنا طاقتور ہو گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرویز الہی کی ایم پی او کے تحت نظربندی کا آرڈر معطل کر دیا

    پرویز الہیٰ کو تین روز قبل لاہور ہائیکورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا پرویز الہیٰ عدالت سے گھر جا رہے تھے کہ انہیں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا اور اٹک جیل منتقل کر دیا، پرویز الہیٰ کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک جیل سے پرویز الہی کو لیکر کل عدالت میں پیش ہوں

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک جیل سے پرویز الہی کو لیکر کل عدالت میں پیش ہوں

    لاہور ہائیکورٹ: پرویز الٰہی کو بحفاظت گھر نہ پہچانے پر قیصرہ الہی کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس امجد رفیق نے درخواست پر سماعت کی،وکیل طاہر نصر اللہ وڑائچ نے عدالت میں کہا کہ میں پرویز الٰہی کے ساتھ پچھلی نشست پر تھا،مال روڈ پر پولیس نے ایک بار گرفتاری کوشش کی،کینال روڈ پر تین سو نقاب پوش بندوں نے ہمیں روکا،جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ کیا روٹ کو زیرو نہیں کرایا گیا تھا،وکیل نے کہا کہ چالیس سے پچاس گاڑیاں ہمارے آگے اور پیچھے تھیں ،تین گاڑیوں نے ہمیں روکا ہمارے گاڑی کے آگے بریک لگا دی گئی،جیسے ہی گاڑی رکی ڈی آئی جی آپریشن اترے،ڈی آئی جی عمران کشور نے خود دروازہ کھولا اور لوگوں کو اشارہ کیا گیا ۔جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ کیا وہاں کوئی بحث بھی ہوئی ۔ وکیل نے کہا کہ میں نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

    جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ کیا ان لوگوں کے پاس کوئی آرڈر تھا ۔ کیا وہ لوگ پولیس وردی میں تھے ۔وکیل نے کہا کہ سارے لوگ سول کپڑوں میں تھے۔ جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ انہوں نے کوئی اسلحہ استعمال نہیں کیا ان سے پوچھا نہیں کہ تمھاری جرات کیسے ہوئی کورٹ کا آرڈر موجود ہے ۔ وکیل نے کہا کہ لطیف کھوسہ بوڑھے آدمی ہیں وہ کیا مزاحمت کرتے ۔ جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے اپکو جوان سمجھ رہے ہیں ۔ جسٹس امجد رفیق کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہ گونج اٹھا،وکیل نے کہا کہ یہ سارا کام ایک منٹ میں ہوا ۔

    لاہور ہائیکورٹ نے دس بجے ڈی آئی جی آپریشنز علی ناصر رضوی اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن سمیت دیگر ذمے داران افسران کو طلب کر لیا ،آفس ہائی کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض لگا دیا تھا.۔آفس ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ پرویز الٰہی کو اسلام آباد پولیس نے پکڑا ،بہتر ہے درخواست گزار اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔

    کل پیش ہونے پر پولیس افسران کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کروں گا ،جسٹس امجد رفیق
    عدالتی حکم کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری کا معاملہ ،ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اور ڈی آئی جی آپریشن اور ایس ایس پی آپریشنز کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی تو عدالت نے درخواست پر سماعت گیارہ بجے تک ملتوی کردی ،عدالت کے حکم پر ڈی آئی جی آپریشنز، ڈی ائی جی انوسٹی گیشن اورایس ایس پی آپریشنز پیش نہ ہوئے، انکی طرف سے ڈی ایس پی شاہد نے پیش ہو کر مہلت مانگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس ایس پی آپریشنز کی طرف سے مہلت مانگی گئی ،ڈی ایس پی نے عدالت میں کہا کہ دونوں پولیس افسراں صوبہ سے باہر ہیں ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں افسران سے پوچھ لیں کہ وہ آج پیش ہوں گے یا کل ؟کل پیش ہونے پر پولیس افسران کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کروں گا آپ نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ اسی وقت میرے پاس آجاتے

    عدالت نے توہین عدالت کے مرتکب پولیس افسران کو پیش ہونے کیلئے دوبجے تک کی مہلت دے دی،،عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو پولیس افسران کے دفاع سے بھی روک دیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ کو پراسیکیوٹر مقرر کیا جائے گا تب آپ بتائیے گا کہ توہین کا جرم بنتا ہے یا نہیں،آئی جی پنجاب سمیت دیگر سے بھی 2 بجے جواب طلب کر لیا گیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی پیش نہیں ہوتا تو عدم پیشی کی جو بھی جوہات ہیں لکھ کر آگاہ کیا جائے، عدالت جواب آنے کے بعد مناسب فیصلہ کرے گی،پراسیکیوٹر کا کام وکالت کرنا نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی تک معاونت کرنا ہے عدالت نے سماعت دو بجے تک ملتو ی کر دی

    پرویز الہی گرفتاری توہین عدالت کا کیس،تیسری بار سماعت ہوئی، آئی جی پنجاب لاہور ہائیکورٹ پیش ہوئے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ بھی عدالت پیش ہوئے ،ایس پی عمارہ بھی عدالت پیش ہوگئیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ دونوں ڈی آئی جیز کہاں ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ دونوں افسران کراچی میں ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیاں ان افسران کو عدالت کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا؟ عدالت نے آئی جی پنجاب کو محکمانہ کارروائی کرنے کی ہدایت کردی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت توہین عدالت کی کارروائی کرے گی۔جو لوگ لے کے گئے ہیں وہ کون سے تھے۔جو کچھ ہورہا ہے اس پر عدالت کوبڑا دکھ ہے

    آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ میں ایک اہم میٹینگ چھوڑ کر آیا ہوں، میرا بندہ اگر زمہ دار ہوا تو میں خود آپ کے پاس لیکر آؤں گا،پرویز الٰہی کے ساتھ جو کچھ ہوا میں اسکی ذمہ داری لیتا ہوں، پرویز الہی کے ساتھ کچھ غیر قانونی نہیں ہوا میرے ڈی آئی جی اور ایس پی کا کوئی معاملہ نہیں، پرویز الہٰی کو اسلام آباد پولیس کو لے کر گئی، میں اسلام آباد پولیس کا ذمے دار نہیں ہوں۔میں پرویز الٰہی کے معاملہ کی از سر نو تحقیقات کرواؤں گا، پنجاب پولیس کے آفیسرز توہین عدالت کا سوچ بھی نہیں سکتے۔مجھے تحریری جواب جمع کروانے کے لیے مہلت دی جائے

    جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ پرویز الٰہی اس وقت کہاں ہیں ؟ آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ ہمیں بلکل نہیں پتہ پرویز الٰہی کہاں ہیں، جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ آپ کو واقعی ہی پتہ نہیں،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ہمیں بالکل نہیں پتہ پرویز الہی کہاں ہیں؟ آئی جی اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے جواب پر عدالت میں قہقہ لگ گیا آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ پرویز الہی کے حوالے سے اس وقت اسلام آباد پولیس ہی بتا سکتی ہے ،جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ پرویز الہی کو اٹک جیل میں رکھا گیا تھا اس لیے عدالت یہ کیس سن رہی ہے

    آئی جی پنجاب نے چوہدری پرویز الہی کی عدالتی حکم کے باوجود گرفتاری کرنے اور توہین عدالت کے معاملہ پر لاہور ہائیکورٹ کے جج امجد رفیق پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ آپ پرسنل ہوچکے ہیں ، لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ
    آئی جی پنجاب کا یہ کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتا کہ پرویز الہی کہاں ہیں یہ ایک صاف جھوٹ ہے،آئی جی پنجاب نے کہا کہ آئی جی پنجاب کھوسہ صاحب کی اس بات پر افسوس ہے ،عدالت نے کہا کہ آئی جی صاحب یہ غیر پارلیمانی لفظ نہیں ، جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کسی کو جانور کہہ دیں تو ناراض ہوجاتا ہے شیر کہیں توخوش ہوجاتا ہے

    عدالت نے درخواست پر سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی ،عدالت نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن اٹک کو بیلف مقرر کر تے ہوے اٹک جیل سے پرویز الٰہی کو بازیاب کرا کر پیش کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو توہیں عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں پولیس افسران نے کریمنل اور سول توہین عدالت کی ،عدالت نے آئی جی کے بیان کی روشنی میں معاملہ کی جوڈیشل اور محکمانہ تحقیقات کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ کسی مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر پرویز الٰہی کو اٹھوایا گیا۔

    عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق پیش ہونے اور جواب کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت مانگی ،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پرویز الٰہی نے بیک وقت دو مختلف عدالتوں سے رجوع کیا ۔قانون میں بیک وقت دو عدالتوں سے رجوع کرنے کی گنجائش نہین ہے ۔حبس بجا کی درخواست پر مجھے رپورٹ فائل کرنے کے لیے مہلت دی جائے ،پرویز الٰہی پنجاب حکومت کی تحویل میں نہیں ہیں

    پرویز الٰہی کی رہائی،نیب نے انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی
    دوسری جانب نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی رہائی اور کسی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائرکردی ہے، نیب کی جانب سے دائر انٹراکورٹ اپیل میں پرویز الٰہی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، نیب اپیل میں کہا گیا ہے کہ سنگل بنچ نے نیب کا پورا موقف سنے بغیر پرویز الٰہی کی رہائی کا حکم دیا پرویز الٰہی کی گرفتاری قانونی تھی پرویز الٰہی ریمانڈ پر تھے سنگل بنچ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا اور رہائی کا حکم جاری کیا پرویز الٰہی کو کسی کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم بھی قانونی طور پر درست نہیں ،

    جسٹس امجد رفیق نے پرویزالہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کی حبس بجا کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں نگران حکومت پنجاب ، چیف سیکرٹری .آٸی جی پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ چوہدری پرویز الہی کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہاٸی کورٹ نے چوہدری پرویز الہی کو نظر بند کرنے سے روکا تھا ۔ عدالتی حکم کے باوجود نظر بندی غیر قانونی ہے ،عدالت پرویز الہی کو پولیس کی غیر قانونی حراست سے بازیاب کرنے کا حکم دے ،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    جبکہ تحریک انصاف کے صدر پرویزالہیٰ کو  لاہور ہائی کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا، اور واضح کیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ کو اب کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے، تاہم اسلام آباد پولیس نے انہیں تھری ایم پی او کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا، پرویز الٰہی کو لاہور سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • نظر بندی کیخلاف پیشگی عدالتی اجازت کی پابندی کا سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

    نظر بندی کیخلاف پیشگی عدالتی اجازت کی پابندی کا سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

    لاہور ہائیکورٹ نے 3 ایم پی او نظر بندی کے خلاف پیشگی عدالتی اجازت کی پابندی کا سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کردیا

    سنگل بنچ کے اس فیصلہ کی معطلی سے نظر بند 57 پی ٹی آئی کارکنان کی رہائی بھی لٹک گئی ،ڈپٹی کمشنر کا کسی بھی شخصیت اور کارکن کو کسی بھی وقت بغیر اجازت نظربند کرنیکا اختیار بحال ہوگیا ،جسٹس جواد حسن اور جسٹس مرزا وقاص رؤف پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ڈپٹی کمشنر کی اپیل پر سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کیا ،ڈویژن بنچ نے فریقین کو نوٹس 2 ہفتوں میں جواب طلب کر لیا

    سرکاری وکیل نے کہا کہ بغیر وجہ بتائے نظر بندی آئین اور قانون اختیار دیتا ہے جسے ختم یا معطل نہیں کیا جا سکتا ،نظر بندی کا ڈپٹی کمشنر کا صوابدیدی اختیار ختم ہو تو اس کی افادیت اور اہمیت بھی ختم ہوجاتی ہے۔تھری ایم پی او تحت نظر بندی اقدام مشروط کرنے کا سنگل بنچ فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ اس قانون کے تحت بغیر کسی وجہ سے حکومت گرفتاریاں کر رہی ہے،960 کا آرڈیننس آئین سے متصادم ہے،یہ آرڈیننس 1960 میں مارشل لاء دور میں بنایا گیا، آرڈیننس آئین کے آرٹیکل دس اے،اور چودہ کی خلاف ورزی ہے،سیاسی عدم استحکام میں اسے استعمال کیا جاتا ہے،اس آرڈیننس کے تحت کسی بھی شخص کو تین ماہ تک قید میں رکھا جا سکتا ہے بلاوجہ وجہ گھروں پر چھاپے مار کر توڑ پھوڑ کی جارہی ہے ، لوگوں کو غیر قانونی طور پر جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے عدالت اس قانون کو کالعدم قرار دے ، عدالت ریکارڈ منگوائے کہ اب تک اس قانون کے تحت کتنے دہشتگرد گرفتار کیے گئے ہیںاگر قانون رکھنا بھی ہو تو اس کے باقاعدہ آئین کے ڈھانچے میں لایا جائے،

    رہنماوں نے پارٹی قیادت سے ٹکٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے استعفیٰ کی دھمکی دے دی،

    زمان پارک کے باہر مختلف رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اجتجاج

    اگر ٹکٹ کا میرٹ میرا نہیں بنتا تو پھر کس کا بنتا ہے؟ عائلہ ملک پھٹ پڑی

    تحریک انصاف کے دو ٹکٹس ہولڈرز بھی کرپشن میں ملوث

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

     ثاقب نثار کے بیٹے نے بھی پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کی لوٹ سیل لگا دی ،آڈیو لیک

  • پرویز الہیٰ کی درخواست ضمانت سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر

    پرویز الہیٰ کی درخواست ضمانت سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر

    سپریم کورٹ،سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی درخواست ضمانت سماعت کے مقررکر دی گئی

    چیف جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ 16 اگست کو سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس شاید وحید شامل ہیں،پرویز الہٰی نے لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کا سترہ جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی

    پرویز الہیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو نگران حکومت آتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، درخواست گزار کو مختلف مقدمات اور انکوائریوں میں جعلی طریقے سے ملوث کیا جا رہا ہے،لاہور ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ نے درخواست گزار کی دس روز کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی،لاہور ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ نے درخواست گزار کو کسی بھی نامعلوم مقدمے میں گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم دیا، ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ نے درخواست گزار کو کسی بھی زیر التوا انکوائری میں سنے بغیر گرفتار کرنے سے روکا،درخواست گزار تمام درج مقدمات میں ضمانت بعد از گرفتاری حاصل کر چکا ہے،درخواست گزار کے خلاف بدنیتی پر مبنی مقدمات بنائے جا رہے ہیں، درخواست گزار کے زندہ رہنے اور آزادی کے بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے،

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    پرویز الہیٰ کو سیکورٹی خدشات کی وجہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے ، پرویز الہیٰ کو عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا تا ہم ڈی سی لاہور کے حکم پر پرویز الہیٰ کو نظر بند کر دیا گیا، پرویز الٰہی کو ہائی پروفائل کیس کی وجہ سے حکومت کی منظوری سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے

  • جسٹس ارباب محمد طاہرنے شہریارآفریدی کا کیس سننے سے کی معذرت

    جسٹس ارباب محمد طاہرنے شہریارآفریدی کا کیس سننے سے کی معذرت

    تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت سے معذرت کر لی ،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی فائل چیف جسٹس کو بھیجوا دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کیس کسی اور بینچ کو مارک کریں گے,شہریار آفریدی ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے آرڈر پر تھری ایم پی او کے تحت گرفتار ہیں ،پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی اس وقت اڈیالہ جیل میں زیرحراست ہیں

    پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

    واضح رہے کہ چار اگست کوشہر یار آفریدی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رہائی کے بعد فوری گرفتار کیا گیا ہے، شہر یار آفریدی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت نے انہین رہا کرنے کا حکم دیا تھا

    نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے کارکنان نے فوجی تنصیبات پر حملے کئے تھے، شہریار آفریدی کی بھی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ کارکنان کو جی ایچ کیو کی طرف جانے کا کہہ رہے ہیں، شہریار آفریدی کو پولیس نے گرفتار کیا تھا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں، گزشتہ سماعت پر جیل حکام نے تصدیق کی تھی کہ آفریدی اڈیالہ جیل میں ہی ہیں.