Baaghi TV

Tag: نعمان سلطان

  • 1965 کی جنگ چونڈہ کا محاذ اور یوم دفاع منانے کا مقصد — نعمان سلطان

    1965 کی جنگ چونڈہ کا محاذ اور یوم دفاع منانے کا مقصد — نعمان سلطان

    "چونڈہ” پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کا ایک قصبہ ہے، اس قصبے میں سن 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سب سے ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی۔ اس جنگ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ تعداد میں ٹینک لڑائی میں استعمال ہوئے ہیں، یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان میں راوی اور پنجاب کے درمیانی علاقے میں لڑی گئی۔

    8 ستمبر کو صبح چھ بجے بھارتی فوج نے کنڑول لائن عبور کرتے ہوئے اور تین کالم بناتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر حملہ کر دیا ۔ باجرہ گڑھی، نخنال اور چاروہ کے مقامات سے بھارتی فوج نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویژنز کی مدد سے حملہ شروع کیا اور 12 کلو میٹر تک بغیر کسی مذاحمت کا سامنا کیے آگے بڑھتی رھی۔

    اس دوران پاک فضائیہ نے ان پر ایک حملہ کیا لیکن ان کا کوئی خاص نقصان نہ کر سکی۔ پاکستان کی فوج نے گڈگور کے پاس بھارتی فوج کا راستہ روکا اور 25 کیلوری کے 15 ٹینک پورے بھارتی ڈویژن کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔پہلی ہی مڈ بھیڑ میں بھارتی اپنے 3 ٹینک تباہ کروا کے دفاعی پوزیشن پر چلے گئے تھے۔

    چونڈہ کنٹرول لائن سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 14 ستمبر کو بھارت نےچونڈہ پر حملہ کیا لیکن آٹھ دن کی شدید جنگ کے باوجود چونڈہ فتح نہ کر سکی اور جنگ بندی تک اپنے 150 ٹینک تباہ کروا کر واپس بھارت لوٹ گئی۔ اس جنگ میں پاک فوج کے جوانوں نے عظیم قربانیاں پیش کیں۔

    چونڈہ کے محاذ پر جنرل ٹکا خان نے بھارتی فوج کے مقابلے میں اپنی عسکری قابلیت کے جوہر دکھائے اگر جنگی ساز و سامان کی بنیاد پر فاتح کا فیصلہ ہوتا تو یقیناً یہ جنگ بھارتی فوج با آسانی جیت جاتی، لیکن یہاں پر پاکستانی فوجیوں نے علامہ اقبال کے شعر کی عملی تفسیر پیش کر دی.

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

    اس محاذ پر جنرل ٹکا خان نے عسکری لحاظ سے وہ حکمت عملی اختیار کی جس کی کامیابی کا دارومدار ان کے جوانوں کے جذبہ ایمانی اور حوصلے پر تھا آپ نے کہا کہ دشمن کے ٹینکوں کو ناکارہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر ٹینکوں کے سامنے لیٹ جائیں ۔

    اس حکمتِ عملی کا مقصد یہ تھا کہ جب دشمن کے ٹینک اس جوان کے اوپر سے گزرتے تو بم پھٹنے کی وجہ سے وہ وقتی طور پر ناکارہ ہو جاتے، ایک اچھے کمانڈر کی طرح اس مقصد کے لئے جنرل ٹکا خان نے سب سے پہلے اپنی ذات کو پیش کیا۔

    لیکن جذبہ ایمانی سے سرشار آپ کے ماتحتوں نے آپ کو اس عمل سے روک دیا اور خود کو اس مقصد کے لئے پیش کر دیا چنانچہ آپ نے ان میں سے ضرورت کے مطابق جوان منتخب کر کے انہیں اس مشن کی ذمہ داری سونپ دی اور ان جوانوں نے اللہ کے نام پر وطن عزیز کے دفاع کے لئے اپنی جانوں کو قربان کر دیا ۔

    بھارتی فوج جو اس خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ کثرت عسکری ساز و سامان اور ٹینکوں کی بنیاد پر وہ بآسانی چونڈہ کے محاذ پر فتح حاصل کر لے گی جنرل ٹکا خان کی اس عسکری حکمت عملی کے سامنے بےبس ہو گئی اس کے لاتعداد ٹینک محاذ جنگ پر ناکارہ یا تباہ ہو گئے اور وہ جنگ بندی تک فتح کے خواب ہی دیکھتے رہے۔

    بزدل دشمن نے پاکستانی فوج اور قوم کو سرپرائز دینے کے لئے رات کے اندھیرے میں اچانک اور بلااشتعال جو حملہ کیا اس کا جواب افواج پاکستان نے دن کی روشنی میں ہمت اور بہادری کے ساتھ دے کر دشمن کو دن میں تارے دیکھا دئیے اور ثابت کر دیا کہ جنگیں جذبوں سے لڑی جاتیں ہیں ۔

    1965 کی جنگ میں جہاں ہمیں عسکری طور پر فتح حاصل ہوئی وہیں دنیا کو بھارت کی عسکری طاقت کا بھی معلوم ہو گیا کہ بھارتی صرف گفتار کے غازی ہیں اور میدان جنگ میں یہ بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور ان کی سرشت میں صرف اور صرف دھوکہ فریب ہے۔
    6 ستمبر کا دن ہم یوم دفاع پاکستان کے طور پر مناتے ہیں تا کہ نئی نسل کو معلوم ہو سکے کہ امن کا راگ الاپنے والا یہ بنیا دھوکے باز ہے اور موقع ملتے ہی یہ پیٹھ پر وار کرتا ہے اور اس کے قول و فعل میں تضاد ہے اس لئے ان کی لچھے دار باتوں میں آنے کی ضرورت نہیں ۔

    یوم دفاع پاکستان منانے کا مقصد ان لوگوں کے سوالات کا جواب دینا ہے جو پوچھتے ہیں کہ فوج نے ہمارے لئے کیا کیا ہے، یوم دفاع پاکستان منا کر ہم ان لوگوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں کہ آج ہم اس لئے آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں کیونکہ بوقت ضرورت ہماری فوج نے قوم کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا ۔

    6 ستمبر کے دن ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ جب بھی وطن عزیز کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم اس کے خلاف ہر حد تک جائیں گے، اور ہمارے درمیان چاہے جتنے بھی اختلافات ہوں لیکن وطن عزیز کی حفاظت کے لئے ہم اپنے ذاتی اختلافات پس پشت ڈال کر یک جان ہو کر دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے جس سے ٹکرا کر دشمن پاش پاش ہو جائے گا ۔

    نوٹ:– اس مضمون کے لئے معلومات وکی پیڈیا سے حاصل کی گئیں ہیں ۔ پہلے چار پیراگراف وکی پیڈیا کے ہیں ۔

  • نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    ناگہانی آفات اور مسائل سے نبٹنے کے لئے حکومت نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا قیام کیا، جس کا سربراہ کوئی بھی سول یا فوجی افسر ہو سکتا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا بنیادی مقصد ناگہانی آفات کی صورت میں اداروں میں رابطے کے فقدان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی شرح کو کم کرنا، ختم کرنا اور تمام اداروں کا انفرادی کے بجائے اجتماعی کام کرنا تاکہ اداروں کے وسائل تقسیم یا ضائع ہونے کے بجائے مرکزیت کی وجہ سے تمام متاثرین میں برابر تقسیم ہوں۔

    ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہونے اور ان کی وجہ سے سیلاب آنے کی پیش گوئی پہلے سے ہی محکمہ موسمیات نے کر دی تھی، ظاہری بات ہے ملک میں مناسب مقامات پر ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ان سیلابی ریلوں کو مینج نہیں کر سکتے تھے ۔

    اس صورت حال میں این ڈی ایم کی پہلی ترجیح تمام متعلقہ محکموں کی میٹنگ بلا کر انہیں ہنگامی صورتحال کے لئے تیار رہنے اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں انہیں پیشگی آگاہ کرنا اور انہیں ان ذمہ داریوں کے لئے ضروری وسائل پیشگی اکٹھے کرنے کی ہدایات دینا تھی۔

    اس کے بعد این ڈی ایم اے کو متعلقہ محکموں کو ہدایت کرنا تھی کہ وہ سروے کریں کہ سیلاب آنے کی صورت میں کن علاقوں میں کٹ لگا کر سیلابی علاقوں کا رخ وہاں موڑا جائے تا کہ مالی نقصان یا انفراسٹرکچر کا نقصان کم سے کم ہو۔

    پھر این ڈی ایم اے کا کام سیلاب سے متوقع متاثرہ علاقوں کے رہائشی تمام لوگوں (جن کے شناختی کارڈ پر اس علاقے کا پتا "ایڈریس ” ہو) کو قریب ترین محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے، متاثرین کو رہائش ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری اور نجی اسکولز میں، اس کے بعد سرکاری عمارتوں میں اور سب سے آخر میں کھلے میدانوں میں خیمہ بستیاں لگا کر فراہم کرنا ہے ۔

    اس کے بعد متاثرین کو جن علاقوں میں منتقل کیا گیا ہو وہاں موجود بنکوں کو پابند کیا جائے کہ متاثرین کے اکاؤنٹ بائیو میٹرک کھولے جائیں اور انہیں بنک لاکر فراہم کئے جائیں اور اے ٹی ایم کارڈ فراہم کئے جائیں تا کہ امدادی کیمپوں سے جو نقدی اور قیمتی سامان چوری ہونے کا خدشہ یا شکایات ہوتی ہیں، وہ نہ ہوں اور متاثرین حسب ضرورت اے ٹی ایم کارڈ سے پیسے نکلوا سکیں ۔

    اس کے بعد متاثرین کو ان کے کوائف کے مطابق روزانہ راشن فراہم کیا جائے جبکہ نجی تنظیموں کو پابند کیا جائے کہ وہ متاثرین کو راشن حکومت کے تعاون سے فراہم کرے تا کہ راشن ضائع نہ ہو، امدادی کیمپوں میں میڈیکل کیمپ لگائے جائیں اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

    متاثرین کو امدادی کیمپوں میں منتقل کرنے اور ان کی خوراک و ادویات کا انتظام کرنے کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری تھی کہ وہ سیلابی پانی اترنے کے بعد کوائف کے مطابق اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق (بین الاقوامی اور حکومتی امداد) لوگوں کے ملکیتی مکانات کم از کم اسٹرکچر بنا کر دے اور لوگوں کی فصلوں کا جو نقصان ہوا اس کے انہیں نقد پیسے دے تاکہ وہ بحالی کے بعد دوبارہ حالات سازگار ہونے پر اپنی فصلیں دوبارہ کاشت کر سکیں ۔

    مکانات کی ملکیت اور فصلوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کے ذریعے پہلے سے ہی لگوا سکتا تھا، متاثرین کی بحالی کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری حکومت کو تمام متاثرین کا ڈیٹا فراہم کرنا ہے تاکہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر حکومت متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب امداد دے۔

    این ڈی ایم اے کے ان قبل از وقت اقدامات کی وجہ سے سیلاب آنے کی وجہ سے جانی نقصان بالکل بھی نہیں ہونا تھا جبکہ مالی نقصان کم سے کم ہونا تھا، اکثر لوگ نقدی اور قیمتی اشیاء گھروں میں رکھتے ہیں امدادی کیمپوں میں ان کی چوری یا گمشدگی کا خدشہ ہوتا ہے جو کہ بنک میں رکھنے کی وجہ سے محفوظ ہو جاتیں ہیں ۔

    سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو امداد پہنچانا مشکل ہوتی ہے جبکہ تمام لوگوں کی امدادی کیمپوں میں منتقلی کی وجہ سے تمام متاثرین کو ان کے خاندان کی تعداد کے مطابق امدادی راشن بغیر کسی دشواری کے باعزت طریقے سے ملتا ہے ۔

    انفرادی حیثیت میں امداد جمع کرنے سے اس میں خردبرد کا امکان ہوتا ہے جبکہ حکومتی تعاون کی وجہ سے اس امداد کا بھی ریکارڈ ہوتا ہے اور امدادی کیمپوں میں کوائف کی بنیاد پر متاثرین کی منتقلی کی وجہ سے پیشہ ور اور جعلی متاثرین کا معلوم ہو جاتا ہے۔

    امدادی کیمپوں میں خوراک اور ادویات کی فراہمی تک تمام کام این ڈی ایم اے اپنے وسائل اور مخیر حضرات کے تعاون سے بآسانی کر سکتی تھی جبکہ متاثرین کی بحالی اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے وسائل بین الاقوامی برادری سے ملنے والی امداد اور حکومتی اور مخیر حضرات کے تعاون سے فراہم کر سکتی تھی۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا مقصد اور تمام متعلقہ اداروں کو اس کے ماتحت کرنے کا مقصد اور وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر کیا اقدامات کر سکتی تھی اور ان کے فوائد کیا تھے وہ سب آپ کو بتا دئیے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا این ڈی ایم اے نے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے پوری کیں یا وہ بھی ہماری قوم کے لئے ایک سفید ہاتھی ہے؟

    اس سوال کا جواب آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں ۔

  • مسائل کا حل صرف مناسب حکمتِ عملی — نعمان سلطان

    مسائل کا حل صرف مناسب حکمتِ عملی — نعمان سلطان

    دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آفات آتی ہیں ترقی یافتہ اقوام کی پہلی ترجیح آفت سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کرنا اور متاثرین کی آفت ختم ہونے کے بعد بحالی ہوتی ہے اور دوسری ترجیح آئندہ کے لئے اس موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنے والی آفت کا سدباب کرنا یا اس کا زور توڑنا ہوتی ہے ۔

    لیکن پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آفت آنے کی صورت میں حکومت اس آفت کی بنیاد پر بین الاقوامی برادری سے فنڈز اکٹھے کرتی ہے اور مقامی تنظیمیں یا افراد انفرادی طور پر مقامی لوگوں سے فنڈز اکٹھے کر کے اپنی کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں جو رفاہی اور مذہبی تنظیمیں یا افراد خوف خدا کے تحت دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں ان پر الزام تراشی میں قطعاً نہیں کر رہا اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

    چین کے بارے میں بچپن میں ایک واقعہ سنا تھا (اگر یہ واقعہ چین یا دنیا میں کہیں پیش نہیں آیا تو اسے میری تجویز سمجھ لینا) کہ وہاں پر سیلاب یا ناگہانی آفت آ گئی تو حکومت نے ملک میں اعلان کرا دیا کہ مخیر حضرات ہمیں بتائیں کہ وہ ایک یا دو مہینے کے لئے کتنے افراد پر مشتمل کنبے کی مہمان نوازی کر سکتے ہیں۔

    مخیر حضرات نے حکومت کے پاس اپنی رجسٹریشن کروا لی اس کے بعد حکومت نے متاثرین کو عارضی ریلیف کیمپ میں ریل کے ٹکٹ اور جس جگہ انہوں نے عارضی طور پر رہنا تھا وہاں کا ایڈریس دیا اور انہیں کہا کہ جب تک ہم یہاں آپ کی بحالی کے انتظامات نہیں کر لیتے آپ اس ایڈریس پر مہمان کے طور پر رہیں ۔

    اس عمل کے حکومت اور متاثرین کو مندرجہ ذیل فائدے ہوئے ۔

    1۔متاثرین کو ان کی عارضی قیام گاہوں پر بھیج کر حکومت نے سیلاب (ناگہانی آفت) کے بعد اس علاقے میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا اور جو پیسہ حکومت نے متاثرین پر لگانا تھا اس سے انفراسٹرکچر کی بحالی کر کے لوگوں کو دوبارہ ان کے علاقوں میں آباد کر دیا۔

    2۔ اس کے علاوہ عارضی ریلیف کیمپوں میں ہر شخص کو تمام سہولیات زندگی میسر نہیں ہوتی لیکن ایک کنبے کی ذمہ داری ایک مخیر شخص کے اٹھانے کی وجہ سے ان کو مطلوبہ سہولیات بغیر کسی پریشانی کے حاصل ہونے لگیں۔

    3۔کسی جماعت یا فرد کے انفرادی طور پر فنڈ جمع کرنے پر اس فنڈ کے استعمال میں شفافیت پر سوال اٹھ سکتا تھا جو کہ ہر شخص نے اپنی مرضی اور استطاعت کے مطابق خود خرچ کیا اس وجہ سے فنڈز کے غلط استعمال کی شکایات پیدا نہیں ہوئیں۔

    4۔ متاثرین کے آفت زدہ علاقوں میں رہنے کی وجہ سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ تھا انہیں آفت زدہ علاقوں سے محفوظ علاقوں میں منتقل کر کے اس خدشے کا سدباب ہو گیا۔

    5۔ لوگوں کی ہمدردی متاثرین کے ساتھ عموماً آفت کے وقت تک ہوتی ہے اور آفت کا زور ٹوٹنے کے بعد وہ متاثرین کو بھول جاتے ہیں جبکہ متاثرین کو اصل توجہ کی ضرورت آفت کے بعد ہوتی ہے تو اس طریقہ کار کو استعمال کر کے حکومت نے لوگوں کو خدمت خلق کا موقع بھی دیا جبکہ اصل ضرورت کے وقت متاثرین کی مدد کر کے ان کی دعائیں بھی لیں۔

    6۔ کئی لوگ متاثرہ علاقوں سے اس لئے نقل مکانی نہیں کرتے کہ ان کے پاس متبادل رہائش نہیں ہوتی اور اسی وجہ سے ان کا جانی و مالی نقصان زیادہ ہوتا ہے جبکہ اس طریقہ کار میں لوگوں کو بروقت متبادل رہائش اور کھانے کا بندوبست کر کے انکے جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکتا ہے ۔

    7۔ ناگہانی آفت کے دوران لوگوں کی جمع پونجی گم، چوری یا ضائع ہو جاتی ہے اور بحالی کے بعد ان کے پاس دوبارہ نظام زندگی چلانے کے لئے کوئی ذریعہ یا رقم نہیں ہوتی جب کہ اس طریقہ کار میں ان کی جمع پونجی محفوظ رہتی ہے جسے وہ بحالی کے بعد استعمال میں لا کر دوبارہ سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی جدوجہد کر سکتے ہیں۔

    8۔متاثرین کی امداد ان کی عزت نفس متاثر کئے بغیر ہوتی ہے جبکہ حکومت اور رفاہی تنظیمیں اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے متاثرین کی امداد کرتے ہوئے تصاویر میڈیا کو فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے ۔

    ملک کا ایک بڑا حصہ سیلاب سے متاثر ہے اور شاید حکومت چین والی پالیسی نہ اپنا سکے لیکن حکومت پھر بھی مندرجہ ذیل اقدامات کر سکتی تھی۔

    1۔جدید ٹیکنالوجی کی بدولت حکومت کو یہ معلوم تھا کہ کن کن علاقوں کا سیلاب سے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے اگر حکومت بروقت اقدامات اٹھاتی اور متاثرہ علاقوں کے قریب ترین علاقوں میں موجود سرکاری سکولوں، ہوٹلوں اور جو کھلے میدان ہیں ان میں خیمہ بستیاں لگا کر متاثرین کی رہائش کا انتظام کر دیتی۔

    2۔متاثرین کی محفوظ علاقوں میں منتقلی کا یہ فائدہ ہوتا کہ ابھی امدادی سامان صرف وہاں تک متاثرین کو پہنچ رہا ہے جہاں تک گاڑیاں جا سکتی ہیں جبکہ جو لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں ان تک امدادی سامان نہیں پہنچ پا رہا جبکہ اس صورت میں تمام لوگوں تک امدادی سامان پہنچ سکتا ہے ۔

    3۔ ریلوے کی سفری سہولیات مفت فراہم کر کے یا پبلک ٹرانسپورٹ کو سیلاب ڈیوٹی کے لئے پابند کر کے متاثرین کو ان جگہوں پر بروقت منتقل کرتی۔

    4۔علاقے کے مخیر حضرات اور فلاحی تنظیموں کو پابند کرتی کہ وہ صرف اپنے اپنے علاقوں میں حکومت کے مقرر کردہ نمائندے کے ساتھ مل کر ان متاثرین کے کھانے پینے اور ادویات کے انتظامات کریں۔

    5۔ یہاں سے مطمئین ہو کر حکومت اپنے پاس موجود امدادی رقم اور بین الاقوامی برادری کی امداد سے سیلاب کے بعد انفراسٹرکچر تعمیر کرے۔

    6۔ اگر کوئی تنظیم یا افراد انفرادی طور پر اس کام میں حکومت کی معاونت کرنا چاہیں تو انہیں ان کی استطاعت کے مطابق مخصوص علاقے میں انفراسٹرکچر کی تعمیرات کی اجازت دے دی جائے تو یقیناً متاثرین موجودہ صورتحال سے کہیں زیادہ بہتر حالت میں ہوتے۔

    ہر بات یا تجویز میں مزید بہتری کی گنجائش ہوتی ہے، لازمی بات ہے کہ میں عقل کل نہیں لیکن عرض صرف یہ کرنی تھی کہ اگر ایک عام آدمی ان مسائل کے حل کے لئے تجاویز دے سکتا ہے تو حکومت کیوں نہیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی اور آفت آنے کے بعد آئندہ وہ آفت دوبارہ نہ آئے یا اس شدت سے نہ آئے ایسے اقدامات کیوں نہیں کرتی۔

  • پاکستانی طیب اردگان بننے کی کوششیں — نعمان سلطان

    پاکستانی طیب اردگان بننے کی کوششیں — نعمان سلطان

    ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے ایسے عالم میں انہوں نے اپنی مرحومہ والدہ محترمہ شوکت خانم( جن کی کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے موت ہوئی تھی) کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کے لئے صدقہ جاریہ کی نیت سے ان کے نام پر کینسر کے علاج کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ ایک ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا، ظاہری بات ہے کہ ان کے پاس صرف نیک نیتی، جذبہ اور محدود وسائل تھے چنانچہ انہوں نے اس نیک کام کے لئے حکومت وقت اور عوام سے چندے کی درخواست کی اور حکومت اور عوام نے ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جسکی وجہ سے وہ عوام کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ "شوکت خانم کینسر ہسپتال ” بنانے میں کامیاب ہو گئے اور اس کاوش پر عوام آج تک انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتی ہے ۔

    اپنے فلاحی منصوبے میں کامیابی کے بعد عمران خان کو یہ محسوس ہوا کہ اگر وہ فرد واحد ہو کر اتنا بڑا اور مہنگا ہسپتال بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو اگر انہیں اقتدار مل جائے تو وہ زیادہ آسانی اور سہولت سے عوام کی خدمت کر سکتے ہیں چنانچہ عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اس وقت کی سیاسی جماعتوں نے انہیں اپنے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کرنے کی پیشکش کی لیکن اپنی خود اعتمادی اور عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر انہوں نے کسی جماعت کے پلیٹ فارم کے بجائے اپنی ذاتی سیاسی جماعت بنا کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ۔

    لیکن جیسے دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں ایسے ہی سیاست میں آ کر عمران خان کو معلوم ہوا کہ ذاتی مقبولیت کی بنا پر وہ انتخابات میں اپنی نشست تو جیت سکتے ہیں لیکن اپنی شخصیت کی بنیاد پر وہ اپنے ٹکٹ ہولڈر کو الیکشن میں کامیاب نہیں کرا سکتے وقت گزرنے کے ساتھ اپنے مشیروں کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے وہ 2013 کے الیکشن میں معقول تعداد میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اس کے علاوہ ایک صوبے(خیبر پختون خواہ) میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر انہیں وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ (پرویز خٹک) کی صورت میں وہ مشیر مل گیا جس نے انہیں اقتدار کی راہداریوں میں جانے کا اصل راستہ اور کن لوگوں کی خوشنودی حاصل کر کے اس راستے پر چلتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ سکتے ہیں بتا دیا، اور ان کے مشوروں پر عمل پیرا ہو کر آخر کار عمران خان 2018 کے الیکشن میں مرکز، پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں اپنی حکومت بنانے میں اور بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے ۔

    حکومت میں آتے ساتھ ہی عمران خان کو وہ عزت اور توجہ دوبارہ ملنا شروع ہو گئی جو انہیں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ملی تھی اس کے علاوہ خوشامدی لوگ بھی، جن کی کل قابلیت برسرِ اقتدار ہر راہنما کی خوشامد کر کے فوائد حاصل کرنا تھا چنانچہ خوشامدی لوگ جوں جوں ان کے قریب آتے گئے مخلص دوستوں سے عمران خان کا فاصلہ بڑھتا چلا گیا اور اگر کسی نے ان کے کسی غلط فیصلے کی نشاندہی کر بھی دی تو عمران خان نے اس ساتھی سے مشورہ لینا چھوڑ دیا اور رفتہ رفتہ اپنی خوشامد سن کر وہ اس نہج پر پہنچ گئے کہ اپنی ذات کی نرگسیت کا شکار ہو گئے اور خود کو عقل کل سمجھنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ان سے کئی سیاسی طور پر غلط فیصلے ہوئے اور ان کے اعلیٰ حلقوں کے درمیان غلط فہمیاں اور پھر فاصلے پیدا ہونے لگے۔

    ترکی (ترکیہ) میں جناب طیب اردگان کے خلاف بغاوت، عوام اور محب وطن فوجی افسران کی مدد سے اس بغاوت کے خاتمے کی وجہ سے عمران خان کے ذہن میں یہ راسخ تھا کہ اگر حکمران عوام میں مقبول ہو تو کوئی دنیاوی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور ان کے اردگرد موجود خوشامدی لوگوں نے انہیں یہ باور کرا دیا کہ اس وقت آپ اپنی عوامی مقبولیت کی معراج پر پہنچے ہوئے ہیں چنانچہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو کر عمران خان نے دیگر طاقتوں سے الجھنا شروع کر دیا، ان کے مخلص ساتھیوں نے انکو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی اور دیگر طاقتوں اور ان کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن معاملات جیسے ہی بہتری کی طرف جاتے خوشامدی لوگ کوئی ایسی حرکت کر دیتے کہ معاملات دوبارہ خراب ہو جاتے اور آخرکار مقتدر طاقتوں اور عمران خان کے درمیان خلیج بڑھنے کا فائدہ پرانی سیاسی جماعتوں نے اٹھایا اور تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔

    عمران خان نے ہار ماننے کے بجائے میدان عمل میں اترنے کا فیصلہ کیا اور رجیم چینج کے نام پر عوام میں اپنا بیانیہ پیش کیا جس کو بھرپور عوامی پذیرائی ملی اور اس کے نتیجے میں ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کو کامیابی حاصل ہوئی اور اکثریت حاصل کرنے کے باوجود وہ وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہار گئے اور پھر عدالتی حکم سے پی ٹی آئی کا امیدوار وزیر اعلیٰ بنا، بھرپور عوامی مقبولیت اور اپوزیشن کے بارے میں عوامی غم و غصے کے باوجود ابھی تک عمران خان اپنے مطالبات (دوبارہ الیکشن) نہیں منوا سکے۔

    اس کی وجوہات کا تعین کرنے کے لئے جب انہوں نے اپنے مخلص ساتھیوں(پرویز خٹک، ذلفی بخاری اور دیگر ) کے ساتھ مشورہ کیا تو انہوں نے یہی مشورہ دیا کہ پاکستان میں فرد واحد صرف "اکائی ” ہے جو کہ اپنا یا کسی کا انفرادی طور پر تو فائدہ کر سکتا ہے لیکن مجموعی ملکی فائدے کے لئے تمام طاقت کے مراکز کو مل کے چلنا چاہیے تا کہ ہم اکائی سے” وحدت” بن سکیں، پانی کی منہ زور لہروں کے مخالف تیرنے سے آپ منزل پر نہیں پہنچتے بلکہ تھک کر راستے میں ہی ڈوب جاتے ہیں اس لئے عقلمندی کا تقاضہ پانی کی منہ زور لہروں کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنانا ہے ۔

    اور سننے میں یہی آ رہا ہے کہ یہ بات عمران خان کی سمجھ میں آ گئی ہے اور انہوں نے پرویز خٹک اور ذلفی بخاری کو پی ٹی آئی اور دیگر طاقت کے مراکز کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے کی ذمہ داری دی ہے تاکہ تمام اداروں کے درمیان غلط فہمیاں دور کر کے عوامی لحاظ سے مقبول جماعت کے اقتدار میں آنے کا راستہ ہموار کیا جا سکے اور دوبارہ سے عوامی خدمت کا سفر وہیں سے شروع کیا جا سکے جہاں پر ختم ہوا تھا، امید ہے عمران خان بھی غلط فہمیاں دور ہونے کے بعد دوبارہ سے اپنی سیاسی غلطیوں کا اعادہ اور طیب اردگان بننے کی کوشش نہیں کریں گے کیونکہ طیب اردگان بننے کے لئے معیشت کو مضبوط کر کے اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ حکمران کے اخلاص کے قائل ہو کر ملکی ترقی کے لئے خطرہ بننے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سینہ سپر ہوجاتے ہیں.

  • نئی سیاسی جماعت کیا ملکی مسائل کا حل — نعمان سلطان

    نئی سیاسی جماعت کیا ملکی مسائل کا حل — نعمان سلطان

    ہم دوست آپس میں ملکی سیاسی صورتحال کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے دوران گفتگو نئی سیاسی جماعت کے قیام اور اس کی انتخابات میں کامیابی کا ذکر چھڑ گیا بظاہر دیکھا جائے تو پاکستان میں مخصوص سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری ہے، پاکستان تحریک انصاف نے بھی تقریباً پینتیس سال کی جدوجہد کے بعد اپنا سیاسی مقام حاصل کیا، (کس طرح حاصل کیا یہ تحریر کا موضوع نہیں لیکن میرے خیال میں سیاست میں تمام سیاسی جماعتوں کو کشادہ دل اور حالات کے مطابق دفاعی یا جارحانہ حکمت عملی سے آگاہ ہونا چاہئے تاکہ وہ جمہوریت کے زیادہ سے زیادہ ثمرات حاصل کر سکیں) ۔

    پھر انہیں میں نے پڑوسی ملک( بھارت) کی مثال دی وہاں بھی سیاست میں پاکستان کی طرح ہر قسم کی خرافات رائج تھیں اور دردِ دل رکھنے والے لوگ وہاں بھی پریشان تھے ایسے میں وہاں سماجی خدمات کے حوالے سے انتہائی مشہور شخصیت "انا ہزارے” نے اصلاحات کے لئے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھوک ہڑتال کر دی اور ان کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے سیاست دان کافی حد تک ان کے مطالبات ماننے پر مجبور ہو گئے ۔

    بھوک ہڑتال میں ان کے ساتھ شریک ان کے شاگرد یا بھگت "ارویند کیجری وال” نے یہ محسوس کیا کہ ہمارے مطالبات جائز اور لوگوں کے دل کی آواز ہیں اسی وجہ سے ہمیں بھرپور عوامی پذیرائی حاصل ہوئی ہے لیکن ان مطالبات کی منظوری کے لئے ہم سیاست دانوں کے محتاج ہیں یعنی ایک اچھے کام کے لئے بھی ہمیں برے لوگوں سے منظوری لینی پڑے گی چنانچہ اس کا حل یہ ہے کہ ہم خود سیاسی طاقت حاصل کریں اور لوگوں کو ڈائریکٹ فائدہ دیں۔

    انا ہزارے نے ان کے خیالات کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم سماجی کارکن ہیں اگر سیاست میں آ گئے تو ہمارے اخلاص پر سوالیہ نشان آ جائے گا لیکن ارویند کیجری وال اپنی دھن کے پکے تھے انہوں نے "عام آدمی پارٹی ” کے نام سے سیاسی جماعت بنائی جھاڑو کا انتخابی نشان حاصل کیا کہ ہم ملکی سیاست کا گند صاف کریں گے، پہلی مرتبہ دہلی میں مخلوط حکومت بنائی اتحادیوں کے بلیک میل کرنے پر اسمبلی توڑ دی عوام کی عدالت میں گئے اور اکثریت حاصل کر کے دوبارہ حکومت بنائی ۔

    انہوں نے اپنے دور حکومت میں بے شمار عوامی خدمات کے منصوبے شروع اور مکمل کئے، سرکاری ملازمین کو صحیح معنوں میں عوام کا خدمت گزار بنایا، عوامی شکایات کے ازالے کی فوری کوشش کی جس کی وجہ سے وہ پنجاب میں ہونے والے حالیہ الیکشن میں بھی واضح برتری حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئے اور اب پنجاب کے عوام کو بھی امید ہے کہ دہلی کی طرح پنجاب میں بھی اصلاحات ہوں گی۔

    ارویند کیجری وال نے نظریاتی اختلافات پر احترام کے ساتھ انا ہزارے سے اپنے راستے جدا کر لئے، انا ہزارے نے انہیں کہا کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کہیں بھی انا ہزارے کا نام اور تصویر استعمال نہیں کرنی انہوں نے ایسا ہی کیا، چند ہم خیال لوگوں کے ساتھ مل کر سیاسی جدوجہد شروع کی جو کہ ان کے اخلاص اور انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے پورے کرنے کی وجہ سے دن بدن کامیاب ہو رہی ہے، اور امید ہے اگر وہ اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو ایک دن پورے بھارت میں عام آدمی پارٹی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے اپنی حکومت بھی بنا لے گی۔

    تو دوستوں نظریات کی بنیاد پر اخلاص کے ساتھ سفر شروع کرنا شرط ہے، اگر آپ الیکٹیبلز کو ناگزیر سمجھتے رہے تو جو پاکستان میں عمران خان کے ساتھ ہوا وہی آپ کے ساتھ ہو گا، ہم لوگ اصل میں زینے کے بجائے لفٹ سے اوپر جانے کے قائل ہیں جبکہ سال کا سفر مہینے میں نہیں البتہ کچھ مہینوں میں طے ہو سکتا ہے ابتدا ہمیشہ تھوڑے سے ہی کی جاتی ہے پھر اپنی محنت، کام سے لگن اور اخلاص کی وجہ سے اس تھوڑے کو زیادہ میں تبدیل کیا جاتا ہے، جیتنے کے لئے سب سے پہلے دل سے ہار کا خوف ختم کرنا چاہیے کیونکہ مقابلہ ہمیشہ بہادر کرتے ہیں ۔

    تو اگر آپ میں بھی اخلاص ہے اور خدمت خلق کی وجہ سے آپ کی اپنے علاقے میں اچھی ساکھ ہے تو آپ اپنی سیاسی جماعت نہیں بنا سکتے تو انفرادی طور پر اپنے علاقے سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں لوگوں کو اپنی انتخابی مہم میں قائل کریں کہ "آزمائے ہوئے کو آزمانہ بے وقوفی ہے "اس طرح اگر چند اچھے لوگ بھی الیکشن جیت کر قومی یا صوبائی اسمبلی میں چلے گئے تو وہ وہاں مل کر اپنا نظریاتی گروپ بنا لیں۔

    اور جہاں تک ممکن ہو اپنے حلقے کی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن کوشش کریں یہ ان کا اخلاص ہی ہو گا جو اگلے الیکشن میں ان کی کامیابی کے لئے مددگار ہو گا منزل پر پہنچنے کے لئے ابتدا پہلا قدم اٹھانے سے ہوتی ہے تو آنے والے انتخابات میں یا انفرادی حیثیت میں انتخاب میں حصہ لیں یا کسی مخلص امیدوار کی کامیابی کے لئے جان توڑ کوشش کریں تا کہ وہ کامیاب ہو کر کسی مخصوص طبقے کو نہ نوازے بلکہ تمام اہل علاقہ کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے۔

  • ہم بھکاری نہیں ایٹمی طاقت ہیں — نعمان سلطان

    ہم بھکاری نہیں ایٹمی طاقت ہیں — نعمان سلطان

    ملک میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے اکثر علاقوں میں سیلاب آیا ہوا ہے، درد دل رکھنے والے احباب محکمہ موسمیات کی بروقت پیش گوئی کے باوجود نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہ کرنے یا جن علاقوں میں حکومت کو حالات قابو سے باہر ہونے کا خدشہ ہو وہاں سے لوگوں کے بروقت انخلاء نہ کرانے کی وجہ سے تنقید کر رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کے بروقت مناسب اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کا بہت زیادہ جانی یا مالی نقصان ہوا ہے ۔

    آپ نے اکثر بازار میں بھکاری دیکھے ہیں جو ہٹے کٹے بھکاری ہوں انہیں لوگ امداد دینے سے زیادہ غیرت دلاتے ہیں کہ اللہ پاک نے تمھیں صحت کی نعمت سے نوازا ہے تو محنت مزدوری کر کے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کیوں نہیں کرتے اس کے برعکس جو بھکاری جسمانی طور پر معذور ہو یا اس کی بظاہر حالت قابل رحم ہو وہ اگر دست سوال دراز نہ بھی کرے تو لوگ اسے روک کر خود امداد دیتے ہیں، اسی لئے اگر کوئی جسمانی طور پر صحت مند بھکاری ہو تو وہ کوشش کرتا ہے کہ کسی معذور بچے یا فرد کو اپنے ساتھ نتھی کر کے اس کی قابل رحم حالت کی بنیاد پر بھیک مانگے اور لوگ بھی بغیر کوئی سوال جواب کرے ایسے شخص کو امداد دے دیتے ہیں ۔

    ہم ملک پاکستان کے شہری اللہ کے فضل سے ایک ایٹمی قوت ہیں اور ہمارا پاس اسلامی بم ہے ہم امت مسلمہ کے خودساختہ ٹھیکیدار اور محافظ ہیں لیکن حالات یہ ہیں کہ اگر ہمیں امداد نہ ملے تو ہمارے پاس ایک یا دو مہینے کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں اور اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ جن کے ہم خودساختہ محافظ اور ٹھیکیدار ہیں وہ بھی ہمیں آنکھیں دکھانے لگ گئے ہیں اور ہمیں امداد یا بھیک انتہائی ذلیل کر کے اپنی من پسند شرائط پر دیتے ہیں اور ساتھ طعنہ دیتے ہیں کہ ایٹمی طاقت تو بن گئے ہو اور معاملات میں کیوں نہیں خود کفیل ہوتے ہو۔

    ہٹے کٹے بھکاری کی طرح ہمیں بھی ہماری ظاہری حالت کی وجہ سے امداد نہیں ملتی جبکہ ہڈحرامی کی وجہ سے ہم خود محنت مزدوری کر نہیں سکتے اس لئے ہم بھی صحت مند بھکاری کی طرح کوئی معذور، جسمانی طور پر لاغر اور قابل رحم جسمانی حالت والا بچہ دھونڈتے ہیں اور ہمارا وہ بچہ یا ساتھی قدرتی آفات ہوتا ہے اس لئے اگر کوئی قدرتی آفت آنے کا ہمیں بروقت معلوم ہو بھی جائے تو ہم وہ وقت اس آفت کا سدباب کرنے کے بجائے اس آفت کی بنیاد پر اقوام عالم سے زیادہ سے زیادہ امداد حاصل کرنے اور اس امداد سے اپنے اکاؤنٹ بھرنے میں صرف کرتے ہیں ۔

    اسی لئے سیلاب آنے کی بروقت اطلاعات کے باوجود ہم نے اس کے تدارک کے لئے رسمی انتظامات کئے اور ملک میں سیلاب آیا ہوا تھا جبکہ ہم اپنی سیاست بچا رہے تھے سیلاب میں گھرے متاثرین سے زیادہ اہمیت ایک اکیلے شہباز گل کو دی جا رہی تھی کیوں کہ اس نے رہا ہو کر ملک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچانا اور معاشی طور پر خودمختار کرنا تھا اس سارے عمل کے دوران لوگوں کی توجہ متاثرین سیلاب سے ہٹا کر متاثرین سیاست کی طرف لگا دی گئی ۔

    اپنی ذمہ داریوں کا ملبہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر ڈالتی رہیں جبکہ اس دوران بین الاقوامی برادری کو سیلاب متاثرین کی حالت زار سے بھی آگاہ کیا جاتا رہا اور امریکہ نے ایک لاکھ ڈالر کی امداد سیلاب متاثرین کے لئے دے دی اور شاید بعد میں دس لاکھ ڈالر کی مزید امداد دی یا دس لاکھ ڈالر کی امداد قدرتی آفات سے نبٹنے کے لئے پہلے سے مختص تھی اور اس کے علاوہ ایک لاکھ ڈالر مزید امداد دی لیکن اصل بات یہ ہے کہ اب ہمیں امداد مل گئی ہے اور سیلاب کا زور بھی ٹوٹ گیا ہے۔

    تو اس امداد کے ذریعے حکومت اب پورے دل سے متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے کوشش کرے گی اور ان کے نقصانات کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کرے گی اور بچنے والے پیسوں سے اپنے اردگرد موجود مستحق لوگوں کی امداد کرے گی جو ہر اچھے وقت میں ان کے ساتھی ہیں اس اب کے باوجود ہم ایٹمی قوت ہیں بھکاری نہیں لیکن اگر قدرت کسی کے دل میں رحم ڈال اور وہ ہمیں ہدیہ دے تو ہم ہدیہ قبول کر لیتے ہیں کیونکہ ہدیہ قبول نہ کرنا کفران نعمت ہے ۔

  • اندھا اعتقاد — نعمان سلطان

    اندھا اعتقاد — نعمان سلطان

    دنیا میں بےشمار افراد توہم پرستی کے شکار ہیں لیکن پاکستان میں تو آخیر ہی ہے گزشتہ دنوں فیصل آباد میں ایک پیر صاحب کی خوشنودی کے لئے ایک محفل کا انعقاد کیا گیا اس میں پیر صاحب کو لاثانی کہا گیا جس پر فیصل آباد بار کے وائس پریذیڈنٹ صاحب نے محفل میں سرعام پیر صاحب کے مریدوں کو اس عمل سے روکا جس کے ردعمل میں پیر صاحب کے مریدوں نے ان پر شدید تشدد کیا۔

    کون حق پر ہے یہ آنے والے دنوں میں معلوم ہو جائے گا بظاہر رائے عامہ پیر صاحب کے خلاف ہے، پیر صاحب کا واقعہ سن کر ایک پرانے وقتوں میں سنا واقعہ یاد آگیا جس میں مرید نے ہر حال میں اپنے پیر کا ہی شملہ اونچا رکھنا تھا اور اتنے عرصے بعد بھی مریدوں کا وہی حال ہے بہرحال پرانا واقعہ بیان کرتا ہوں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ ہماری نفسیات بالکل نہیں بدلی ۔

    ایک پیر کے مرید صاحب سعودی عرب بسلسلہ روز گار جانا چاہتے تھے لیکن وہاں جانے کے اسباب نہیں بن رہے تھے، ایک دن اپنے مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ حضرت میں سعودی عرب جانا چاہتا ہوں لیکن کوئی نہ کوئی رکاوٹ آ جاتی ہے براہ مہربانی مجھ پر نظر کرم کریں مرشد نے حسب عادت ایک تعویز مرید کو دیا اور کہا کہ یہ تعویز پاک چمڑے میں سلائی کرا کے گلے میں پہن لو انشاءاللہ عنقریب تمھارا سعودی عرب جانے کا خواب پورا ہو جائے گا ۔

    مرید نے حسب ہدایت تعویز پاک چمڑے میں سلائی کرا کے پہن لیا اللہ کی کرنی ایسے ہوئی کہ تھوڑے عرصے میں اس کا سعودی عرب جانے کا سبب بھی بن گیا اور وہ سعودی عرب پہنچ کر کام پر بھی لگ گیا کچھ عرصہ گزرا تو اس نے سوچا کہ سعودی عرب میں ہوں اور ابھی تک عمرہ نہیں کیا لوگ اتنے پیسے لگا کر حج. عمرہ کے لئے آتے ہیں مجھے تو اللہ نے موقع دیا ہے میں موقع سے فائدہ کیوں نہ اٹھاؤں ۔

    اپنی خواہش کا ذکر اس نے جب اپنے دوستوں سے کیا تو انہوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے ساتھ عمرے پر جانے کے لئے تیار ہو گئے وہ تمام لوگ حالت احرام میں خانہ کعبہ میں آئے، سعودی لوگ توحید کے معاملے میں انتہائی سخت ہوتے ہیں اور حرم کی حدود میں حکومتی اہلکار مقرر ہیں جو لوگوں کو غیر شرعی افعال سے روکتے ہیں ان میں سے جو نرم دل ہوں وہ زبان سے منع کرتے ہیں اور جو طبیعت کے سخت ہوں وہ ایک آدھا طمانچہ بھی رسید کر دیتے ہیں ۔

    حرم میں ایک اہلکار کی نظر اس مرید پر پڑ گئی کہ حالت احرام میں اس نے تعویز پہنا ہوا ہے اس نے فوراً اسے عربی میں کہا کہ” یہ شرک ہے” اور ایک ہاتھ سے اس کے گلے سے تعویز کھینچ کے اتارا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اسے ایک طمانچہ رسید کیا، عمرے کی ادائیگی سے فراغت کے بعد ج وہ دوست اکٹھے ہوئے تو انہوں نے اس مرید سے حرم میں ہونے والے واقعے پر اظہار افسوس کیا اور شرمندگی کا اظہار کیا کہ ہم آپ کو بتانا بھول گئے کہ تعویز پہننے کی ممانعت ہے ۔

    مرید نے بےفکری سے جواب دیا آپ ساری باتیں چھوڑو میرے پیر کی کرامت دیکھو یہ تعویز میں نے سعودیہ آنے کے لئے ان سے لیا تھا اصولاً کام ہونے کے بعد مجھے اسے صاف(پاک) پانی میں بہا دینا چاہیے تھا لیکن میں بھول گیا مگر میرے پیروں کی مجھ پر نظر تھی انہوں نے اس وجہ سے کہ کہیں تعویز اب مجھے پر الٹا اثر نہ کر دے پاکستان میں بیٹھے بیٹھے میرا تعویز بھی اتروا دیا اور طمانچے کی صورت میں میری لاپروائی کی مجھے سزا بھی دے دی۔

    تو دوستوں ہم کل بھی اندھی تقلید کر رہے تھے ہم آج بھی اندھی تقلید کر رہے ہیں خدارا کچھ تو اپنے ذہن سے کام لو اس پیر کے کارنامے سنو تو اس وقت روئے زمین پر اس سے زیادہ خدا کا برگزیدہ اور پسندیدہ بندہ کوئی نہیں، اس کی نظر سے کوئی بات پوشیدہ نہیں جبکہ اس کی حالت یہ ہے کہ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ آج کی محفل میں جو وکیل صاحب مدعو ہیں وہ اس کی جھوٹی عظمت کا پول بھری محفل میں کھولیں گے۔

  • سیاسی ڈائری — نعمان سلطان

    سیاسی ڈائری — نعمان سلطان

    عمران خان نے شہباز گل پر جنسی تشدد کا الزام لگا دیا، جنسی تشدد کا لفظ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے ہمارے ملک میں اسے مخصوص تناظر میں دیکھا جاتا ہے جبکہ نازک اعضاء کو اذیت پہنچانا بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اور ایک بہت بڑی سیاسی جماعت کے راہنما کی طرف سے ایسا الزام یہ بتاتا ہے کہ اب مفاہمتی سیاست ختم کر کے جارحانہ سیاست شروع کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے اور پاکستانی سیاست آنے والے دنوں میں مزید غلیظ ہو گی_

    یہ ایسا الزام ہے جو مسلم لیگ کی جلدی جلدی جان نہیں چھوڑے گا شہباز گل کی گرفتاری اور ان پر تشدد کو اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں فتح کے بعد انہوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ انہیں پنجاب کا صوبائی وزیر داخلہ بنا دیا جائے تاکہ پی ٹی آئی کے اسلام آباد لانگ مارچ کے دوران جو لوگ بھی پی ٹی آئی کے کارکنان پر تشدد میں ملوث رہے ان کے خلاف کارروائی کر سکیں _

    لیکن ان پر ہی تشدد کر کے انہیں عبرت کا نشان بنا دیا گیا عمران خان نے رجیم چینج کے بیانیے پر جس طرح عوام میں جوش اور ولولہ پیدا کیا تھا شہباز گل والے واقعے سے اس میں مزید شدت پیدا ہو گئی ہے اور پی ٹی آئی کے کارکنان مزید متحرک ہو گئے ہیں اور اس سارے معاملے میں حکومتی وزراء کے بوکھلاہٹ والے بیانات سن کر لگتا ہے کہ شہباز گل والے معاملے میں ان کا ہوم ورک مکمل نہیں تھا_

    وہ میڈیا پر بیٹھ کر خود تسلیم کر رہے ہیں کہ "شہباز گل وہ طوطا ہے جس میں عمران خان کی جان ہے”، ان بیانات کو لے کر عوام میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت عمران خان کو جھکانے یا بلیک میل کرنے کے لئے اب انتقامی کاروائیاں کر رہی ہے اور حکومت اپنے اقدامات سے خود پی ٹی آئی کو مظلوم اور خود کو ظالم ثابت کر رہی ہے _

    انتظامی معاملات میں پرویز الٰہی ملنے والے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد گجرات کے پہلے دورے پر انہوں نے کنجاہ اور جلال پور جٹاں کو تحصیل بنانے کا اعلان کر کے وہاں کے لوگوں کو اپنے حق میں کر لیا اس کے علاوہ متعدد سکول، کالج اور ہسپتال اپ گریڈ کرنے کا حکم دیا جبکہ تمام ڈویژن میں سیف سٹی نظام لانے کا اعلان کیاان اقدامات کی وجہ سے ان کی اپنے علاقے میں سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی جبکہ ایجوکیٹرز کی 16000 خالی سیٹوں پر بھرتی کے اعلان کی وجہ سے انہیں سرکاری ملازمین کی مزید حمایت حاصل ہو گئی_

    مسلم لیگ کی موجودہ معاملات میں نالائقی کھل کر سامنے آ رہی ہے سیاسی معاملات میں وہ عمران خان کے بیانیے کا مقابلہ نہیں کر پا رہے جبکہ انتظامی معاملات میں پرویز الٰہی کے انقلابی اقدامات ان کے لئے سردرد بنے ہوئے ہیں مسلم لیگ میں موجود ایک گروپ نے بڑی محنت سے عوام کو یہ باور کرایا تھا کہ شہباز شریف اپنے بھائی سے زیادہ قابل ہیں بس انہیں موقع نہیں مل رہا اور اب موقع ملنے پر وہ اپنی قابلیت کے ایسے جوہر دکھا رہے ہیں کہ مسلم لیگ میں موجود ان کے حمایتی ملک اور جماعت کی بہتری کے لئے اب نواز شریف کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔

    اصل میں شہباز شریف صاحب ون مین آرمی مشہور ہیں وہ دوسروں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں جبکہ نواز شریف صاحب اپنے اردگرد موجود لوگوں سے ان کی قابلیت کے مطابق کام لیتے تھے اس وجہ سے ان کے اردگرد موجود لوگ سمجھتے تھے کہ ہم نواز شریف کے لئے اہم ہیں جبکہ شہباز شریف صاحب سے انہیں شکایت ہے کہ وہ انہیں ان کی قابلیت کے مطابق مقام نہیں دے رہے_

    وہ سوچتے ہیں جب سب اچھے کاموں کا کریڈٹ شہباز شریف کو ملنا ہے اور بعد میں انکوائریاں ہم نے بھگتنی ہیں تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم اپنی جان کو عذاب دیں سیاسی جب تک اقتدار میں ہیں عیاشی کرتے ہیں اپوزیشن میں ہوں تو انکوائری ہونے کی صورت میں بیرون ملک چلے جاتے ہیں جبکہ دوبارہ حکومت میں آ کر اپنے خلاف بنے کیس ختم کر لیتے ہیں جبکہ ہمیں حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا الٹا باقی نوکری بھی کھڈے لائن اور انکوائریاں بھگتنے میں گزرتی ہے_

    اگر شہباز شریف صاحب محکموں سے کام لینا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ سرکاری ملازمین کو اعتماد اور تحفظ دیں کہ ان کے احکامات اور منظوری پر سرکاری جو بھی کام کریں گے ان کی ذمہ داری وزیراعظم اٹھائیں گے اور وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو ان کی قابلیت کے مطابق اہمیت دیں نہیں تو وہ ساری عمر پچھتائیں گے کہ پی ڈی ایم کی حکومت میں وزیر اعظم بن کے انہوں نے ایک گناہ بےلذت کیا _

  • ایک داماد کی آپ بیتی — نعمان سلطان

    ایک داماد کی آپ بیتی — نعمان سلطان

    راقم کے ایک دوست نے راقم کی تحریر "چلتے ہو تو سسرائیل چلئے ” پڑھی، اپنے اعمال بد کی وجہ سے روز آخرت حصول جنت کے بارے میں پر امید نہ تھا اس لئے اس نے دنیا میں ہی جنت کے حصول کی کوشش کرنے کے بارے میں ٹھان لی، اور خدا کی رحمت سے ناامیدی گناہ کبیرہ ہے کہ طعنوں کا یہ جواب دیا کہ ہو سکتا ہے میں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوں جنہیں دنیا اور آخرت دونوں میں خدا کی رحمت سے مستفید ہونے کا موقع ملے، تو میں دنیاوی جنت کو ٹھکرا کے کفران نعمت کیوں کروں؟

    جب حاسدین نے انہیں طعنے دئیے کہ "یہ منہ اور مسور کی دال” ہم بھی یہیں ہیں دیکھتے ہیں کہ آپ کیسے دنیا میں جنت حاصل کرتے ہو، تو عزیزی نے اسے انا کا مسئلہ بنا لیا، مناسب تعلیم، ذہانت، شخصیت، فٹنس اور مضبوط فوجی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے فوج میں کمیشن ملنے کا قوی امکان تھا لیکن عزیزی کو ملک میں جاری شرپسندوں کے خلاف آپریشن کی وجہ سے قوی امید تھی کہ ٹریننگ مکمل کرتے ساتھ ہی انہیں آپریشن ایریا میں بھیج دیا جائے گا جہاں سے ان کی واپسی تابوت میں ہو گی، اس وجہ سے وہ فوج میں نہیں گئے اور انہوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا،تحریر میں لکھی گئی بات ان کے پیش نظر تھی کہ جنت کی نعمتوں سے اگر زیادہ لطف اندوز ہوناہے تو سسرائیل میں قیام کم سے کم وقت کے لئے کرنا ہے ۔

    یہاں بھی انہوں نے اپنی طرف سے ذہانت کا مظاہرہ کیا اور جنت کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونے کے لئے عزیزی نے اپنے رہائشی شہر میں ہی شادی کا فیصلہ کیا، تاکہ گھڑے کی مچھلی کی طرح نعمتیں ہر وقت دسترس میں رہیں اور جب دل کرے ان سے لطف اندوز ہو سکے، قصہ مختصر عزیزی نے ملازمت کر لی اور اس کی خواہش کے مطابق اسی شہر میں اس کی شادی بھی ہو گئی اور عزیزی ہمیں شہر کے شہر میں شادی کے فوائد بتا کر للچاتا رہا پھر ہم بھی غم روزگار میں مبتلا ہو کر کافی عرصہ عزیزی سے ملاقات نہ کر سکے ۔

    کافی عرصے بعد جب عزیزی سے ملاقات ہوئی تو اس کا بجھا ہو چہرہ دیکھ کر ہم سمجھ گئے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے، بعد از تشفی عزیزی نے ہمیں بتایا کہ جو عقلمندی میں نے شہر میں شادی کر کے کی تھی وہ اب میرے گلے پڑ گئی ہے، بیگم کا جب دل کرتا ہے وہ اپنے میکے چلی جاتی ہے اور گھر والے ان حالات میں ہم دونوں سے سخت خفا ہیں اس وجہ سے جب میں کام سے تھکا ہارا گھر آتا ہوں تو اگر بیگم اپنے میکے گئی ہو تو وہ مجھے روٹی پانی کا بھی نہیں پوچھتے کہتے ہیں کہ شادی کے بعد تمھارے کام تمھاری بیوی کی ذمہ داری ہے، میں نے شہر کے شہر جنت کے مزے لینے کے لئے اپنے گھر کو ہی جہنم بنا لیا خدارا میری پریشانی کا کچھ مداوا کرو۔

    ہم نے سابقہ تعلقات دیکھتے ہوئے عزیزی کی مدد کا فیصلہ کیا اور اسے ایسا مشورہ دیا کہ اس کا گھر بھی خراب نہ ہو اور بیگم کا بار بار میکے جانا بھی کم ہو جائے عزیزی نے ہمارا مشورہ سن کر صدق دل سے اس پر عمل کرنے کا وعدہ کیا اور اپنی بیگم سے کہا کہ آپ کا میکہ میرے لئے مثل جنت ہے جس کی آپ حور ہو اور حور سے دور رہنا کفران نعمت ہے اس وجہ سے جب آپ کا دل کرے آپ اپنے میکے جاؤ، بس مجھے بتا دیا کرو تاکہ میں بھی اپنی نوکری سے فارغ ہو کر آپ کے پاس وہیں آ جاؤں اور سسرائیل میں عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔

    عزیزی کی بیگم نے خوشی خوشی کہا کہ کل میں میکے جاؤں گی آپ بھی نوکری سے چھٹی کر کے وہیں آ جانا، چھٹی کے بعد عزیزی جب اپنے سسرائیل گیا تو وہاں فرمائشی کھانوں سے لطف اندوز ہوا، نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وقتاً فوقتاً اپنی حور کے ساتھ بےتکلف ہوتے ہوئے افراد خانہ کے ہاتھوں پکڑا بھی گیا اور دیگر افراد خانہ کی خلوت کو متاثر بھی کرتا رہا، جب اہل خانہ نے شکایات کا انبار سسرائیل کی وزیر اعظم (ساس صاحبہ) کے سامنے رکھا تو انہوں نے فوراً اس مسئلے کا سدباب کرنے کے لئے مشاورتی اجلاس (بیٹیوں اور بہنوں) کا طلب کیا۔

    جس میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ عزیزی کے سسرائیل میں قیام کی وجہ سے سسرائیل کا بجٹ انتہائی متاثر ہو رہا ہے اور عزیزی کی خواہش نفسانی سے مجبور ہو کر حرکات کی وجہ سے مملکت خداداد سسرائیل کی مکین دیگر خواتین پر نامناسب اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس وجہ سے عزیزی کی سسرائیل میں قیام کرنے کی وجہ (عزیزی کی بیگم) کے ہمراہ اسے سسرائیل سے بے دخل کیا جائے اور عزیزی کی بیگم کو پابند کیا جائے کہ آئندہ وہ ایک مخصوص عرصے کے بعد میکے آئے تا کہ عزیزی ان کے لئے بلائے جان نہ بنے یوں عزیزی کی” نہ ہینگ لگی نہ پھٹکری اور رنگ بھی آیا چوکھا”، لیکن اس واقعے کے بعد عزیزی تمام احباب کو مشورہ دیتا رہا کہ شادی ہمیشہ دوسرے شہر میں کرو کیونکہ "دور کے ڈھول سہانے ” ۔

  • مولانا اسعد محمود، مشرف دور اور ایم ایم اے — نعمان سلطان

    مولانا اسعد محمود، مشرف دور اور ایم ایم اے — نعمان سلطان

    14 اگست کی مناسبت سے منعقد کی گئی ایک تقریب جس میں رنگا رنگ موسیقی کے پروگرام پیش کئے گئے، اس تقریب میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود کی شمولیت اور ناچ گانے کے دوران تقریب کا بائیکاٹ نہ کرنے کی وجہ سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، پاکستان میں "مفتی قوی” جیسے بھی افراد موجود ہیں لیکن ان کے قول و فعل میں تضاد نہیں وہ جیسے اندر سے ہیں ویسا ہی خود کو بیان کرتے ہیں، لیکن ایسی جماعت جو ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا دعویٰ کر رہی ہو اور تحریک انصاف کے جلسے جلوسوں کے دوران موسیقی کے استعمال اور عورتوں کی بے پردگی پر شدید تنقید کرتی ہو، اس کے مولانا فضل الرحمن کے بعد متوقع سربراہ کی طرف ایسی حرکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے پیش نظر اسلام نہیں اسلام آباد ہے اور اس منزل تک پہنچنے کے لئے وہ ہر حد سے گزر سکتے ہیں۔

    ویسے مذہبی جماعتوں کے اکابرین کی طرف سے ہونے والی یہ پہلی منافقت نہیں ہے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ان کے قول و فعل کا تضاد سامنے آیا لیکن افسوس ہماری کمزور یاداشت یا اندھی عقیدت کہ ہم پھر دوبارہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ان نام نہاد مذہبی اکابرین سے دھوکہ کھاتے ہیں، حالانکہ پرویز مشرف کے دور میں تمام مذہبی سیاسی جماعتیں لوگوں کے سامنے بے نقاب ہو چکی تھی، لگے ہاتھوں آپ کو تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کے اکابرین کا وہ واقعہ بھی بتا دیتے ہیں تا کہ نوجوان نسل کو معلوم ہو کہ کیسے یہ لوگ ہمیں اسلام کے نام پر لوٹ رہے ہیں ۔

    پاکستان میں مسلکی بنیاد پر تنازعات اپنے عروج پر تھے، ہر شخص کی نظر میں اس کا مسلک ٹھیک اور ان کے مسلکی عالم حق تھے، اہلحدیث، سنی(بریلوی) اور دیگر چھوٹے مسالک کے علماء ایک حدسے زیادہ اختلافات کو بڑھاوا نہیں دیتے تھے، جبکہ شیعہ اور دیوبندی مسالک میں نظریاتی اختلاف عروج پر پہنچا ہوا تھا اور بات منبر و محراب سے بڑھ کر لڑائی جھگڑوں اور مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے تک پہنچ گئی تھی، البتہ ایک شرعی مسئلے میں تمام مسالک کا اتفاق تھا کہ "مخالف فرقے کے امام کی اقتدا میں نماز نہیں ہوتی ” ۔

    علماء کی بات لوگوں کی نظروں میں حرف آخر تھی اور علماء کی منبر پر کئی گئی تقریروں کی بنیاد پر لوگوں کے ایمان کے فیصلے ہوتے تھے، ان حالات میں اہل دانش کا خیال تھا کہ لوگوں کو اس اندھی تقلید سے نجات دلانا ناممکن ہے، ایسے عالم میں مسند اقتدار پرویز مشرف صاحب نے سنبھالی اور ملک میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا، انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں دینی جماعتوں نے مل کر متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے نام سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ۔

    علماء کرام نے خطبات میں عوام سے درخواست کرنا شروع کر دی کہ ووٹ ایک امانت ہے اور امانت کو اس کے اہل (حق دار) کے حوالے کرنا آپ کا شرعی فرض ہے چنانچہ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کو ووٹ دے کر کامیاب کریں تا کہ وہ کامیاب ہو کر ملک میں اسلامی نظام نافذ کریں، اس سارے عمل کے دوران تمام علماء کرام نے متفقہ طور پر منبر و محراب کو سیاسی جماعتوں کی ترویج کے لئے استعمال کیا اور انتخابات کو حق اور باطل کا معرکہ بنا دیا۔

    جب انتخابی نتائج کا اعلان ہوا تو متحدہ مجلس عمل کو بھی معقول تعداد میں قومی اسمبلی میں نمائندگی ملی جبکہ صوبہ سرحد (خیبر پختون خواہ) میں ان کی حکومت بنی، حکومت میں آنے کے بعد متحدہ مجلس عمل کے بارے میں اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہونے لگی کہ "متحدہ مجلس عمل کے اجلاس کے دوران نماز کا وقت ہونے پر تمام اکابرین نے فلاں(ہر نماز میں امام بدلتا تھا) کی امامت نماز ادا کی "، میں نے جب اپنے مقامی عالم دین (مفتی صاحب) سے دریافت کیا کہ آپ لوگ کچھ عرصہ پہلے تک کہتے تھے کہ دوسرے فرقے کے امام کی اقتدا میں نماز نہیں ہوتی تو اب یہ جو تمام فرقوں کے اکابرین ایک دوسرے کی امامت میں نمازیں پڑھ رہے ہیں اور اخبارات میں خود کہہ کر یہ خبریں لگوا رہے ہیں کیا یہ منافقت نہیں۔

    تو انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا یہ مفاد پرست ہوتے ہیں، تو میں نے انہیں کہا کہ جب آپ کو معلوم تھا کہ یہ سیاسی لوگ مفاد پرست ہوتے ہیں تو آپ نے انتخابات سے پہلے نماز جمعہ کے اجتماعات میں دین بیان کرنے کے بجائے ان لوگوں کی حمایت میں تقریریں کیوں کیں اور لوگوں کو کیوں کہا کہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے انہیں ووٹ دو، وہ دن اور آج کا دن مفتی صاحب مجھ سے ناراض ہو گئے اور دوبارہ کلام ہی نہیں کیا ۔

    حاصل کلام یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمیں احکامات دین پر عمل کرنا چاہیے لیکن ان نام نہاد علماء کے بہکاوے میں آ کر لوگوں کے ایمان کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے ہم دنیا میں اللہ کی بندگی کے لئے آئے ہیں اللہ کی مخلوق کا ایمان چیک کرنے کے لئے نہیں، اس لئے آج کے دور میں بہترین شخص وہ ہے جس نے اس دور فتن میں اپنے ایمان کو سلامت رکھا، باقی یہ نام نہاد علماء اس یقین پر گناہ کرتے رہتے ہیں کہ اللہ سے توبہ کرو تو اللہ معاف کر دیتا ہے پر وہ یہ نہیں سوچتے کہ کیا انہیں آخری وقت میں توبہ کرنے کی مہلت ملے گی بھی یا نہیں ۔