Baaghi TV

Tag: نعمان علی ہاشم

  • پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — نعمان علی ہاشم

    پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — نعمان علی ہاشم

    پاکستان بمقابلہ انگلینڈ سات ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز مکمل ہوئی. آئندہ ہونے والے ورلڈ کپ مقابلوں کے لیے یہ میچز ہماری تیاری کو ظاہر کرتے ہیں. پاکستان نے پچھلے چند برسوں سے مختصر طرز کی اس کرکٹ میں بہت سے گراں قدر ریکارڈ قائم کیے. فتوحات کا تناسب بھی زیادہ رہا. مگر اس سیریز کے بعد ایک سوال زبان ذد عام ہے. کیا یہ ٹیم ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے.؟ یوں تو مشہور معقولہ ہے کہ "cricket is by chance” مگر آجکل کے دور میں چانس اسی کے لیے ہے جو بہترین ٹیم اور زبردست مائنڈ سیٹ کے ساتھ میدان میں اترتا ہے. سوال کی طرف آتے ہیں کہ کیا پاکستان کی موجودہ ٹیم میں ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت موجود ہے؟ تو اس کا سادہ سا جواب ہے نہیں.

    ٹی ٹونٹی کرکٹ ہائی رسک گیم ہے. بلے باز کو اسکور کرنے کے لیے خراب گیند کا انتظار کیے بغیر شارٹ بنانے پڑتے ہیں. اور باؤلر کو وکٹ کے حصول کے لیے ان جگہوں پر بال کرنی پڑتی ہے جہاں آؤٹ کے ساتھ ساتھ باؤنڈریز لگنے کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں.

    پاکستانی ٹیم کی موجودہ صورتحال پر بات کریں تو اس وقت پاکستان کے پاس دو ایسے بلے باز ہیں جو وائٹ بال کرکٹ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے. دونوں نے اپنے بلے سے اتنے رنز اگل دیے ہیں کہ آنے والی کئی دہائیوں میں انہیں یاد رکھا جائے گا. یہ دونوں بلے باز اس وقت گیم کے اس فارمیٹ میں اوپنر کی حیثیت سے کھیل رہے ہیں. جی ہاں پاکستانی کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان دونوں ہی رنز مشین کے طور پر جانے جاتے ہیں. لمبی پارٹنر شپس کی وجہ سے دونوں بلے بازوں نے اس طرز کی کرکٹ میں اپنا لوہا منوایا ہے. پاکستان کے زیادہ تر ریکارڈ جو پچھلے تین سالوں میں بنے انہی دو کی بدولت بنے.

    مگر کرکٹ میں ہر روز کسی کھلاڑی کا چل جانا عجائبات میں سے ہے. کھلاڑیوں کا اچھا برا دن بھی آتا ہے. ہم نے پچھلے تین سالوں سے یہ محسوس کیا ہے کہ جب بھی پاکستانی اوپنرز نے پرفارم نہ کیا پوری ٹیم دھڑم تختہ ہو گئی. پچھلے کئی سالوں سے ہماری مڈل آڈر اور لوور مڈل آرڈر کی خامیاں رضوان اور باہر کی پرفارمنس کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں. بابر اور رضوان کی پرفارمنس کے بغیر ہماری ٹیم کی فتوحات کا تناسب 7 فیصد سے بھی کم ہو جاتا ہے.

    اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟

    پاکستان کے مڈل آرڈر میں کھیلنے والے جو بلے باز پچھلے دو تین سال سے آزمائے جا چکے ان کا متبادل کیا ہے؟

    ابھی بھی پاکستان جن کھلاڑیوں کو مڈل آڈر میں مواقع فراہم کر رہا ہے ان کی گیم نیچر اوپنرز والی ہے. فخر زمان، شان مسعود اور حیدر علی کی کلاس اور گیم سینس مڈل آرڈر بیٹنگ والی نہیں ہے.
    .
    حال میں مڈل آرڈر میں کھیلنے والے بلے باز افتخار احمد، خوشدل شاہ، حیدر علی، شان مسعود، آصف علی نے بہت لمبا چانس ملنے کے باوجود پرفارم نہیں کیا.

    پاکستان کے ڈومیسٹک اور لیگ سیٹ اپ میں کوئی بھی ایسا نیا بلے باز نظر نہیں آتا جس میں مڈل آرڈر کو سنبھالے کی صلاحیت موجود ہو. جتنے بھی نئے ٹیلنٹڈ کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں تقریباً سبھی اوپنرز ہیں. البتہ سسٹم میں دو تین پرانے کھلاڑی ایسے موجود ہیں جو ٹیم کے مڈل آرڈر کو سنبھال سکتے ہیں. شعیب ملک جو ابھی تک اپنی فارم اور فٹنس سے سب کو حیران رکھے ہوئے ہیں بدقسمتی سے بورڈ کی آنکھ کے تارے نہیں بن پا رہے. بورڈ محض نئے ٹیلنٹ کو کھلانے کی خاطر ان کی خدمات لینے سے انکاری ہے. اور نیا ٹیلنٹ ہمارے ساتھ جو کر رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں.

    دوسرا نام بائیں ہاتھ کے بلے باز حارث سہیل کا ہے. جن کی فارم اور کلاس میں کسی قسم کا شبہ نہیں. مگر انہیں ہمیشہ سے فٹنس مسائل کا سامنا رہا ہے. یہی وجہ ہے کہ پی سی بی اب انہیں کنسیڈر کرنے سے اعراض برت رہی ہے.

    تیسرا نام ڈومیسٹک میں بے شمار رنز کرنے والے کامران غلام کا ہے. جنہیں ٹیم کے ساتھ تو رکھا گیا مگر انہیں کھلانے سے جانے کس چیز نے روکے رکھا.

    یہ تینوں نام مڈل آرڈر کے لیے بہترین ہیں. اگر ورلڈ کپ کے لیے وننگ کمبینیشن بنانا ہے تو بیٹنگ آڈر میں ان تینوں تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے.
    .
    پاکستانی باؤلنگ لائن اپ کی کلی بھی شاہین شاہ کی انجری کے بعد مکمل طور پر کھل چکی ہے. نسیم شاہ ینگ ہونے کے باوجود فٹنس اور ہیلتھ کے مسائل کا شکار ہیں. حارث روف نئے بال کے ساتھ ناکام ہیں. اور محمد حسنین پیس کے علاوہ اپنی باؤلنگ میں کوئی مہارت نہیں رکھتے. اگر شاہین شاہ فٹ نہیں ہوتے تو پاکستان کے لیے یہ ورلڈ کپ جیتنے کی پوزیشن انتہائی مشکل ہو جائے گی.

    سپن باؤلنگ کی بات کریں تو محمد نواز اور شاداب نے اس شعبے کو مکمل طور پر سنبھالا ہوا ہے. اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت کو محسوس نہیں کیا جاتا.

    البتہ ان دونوں کے متبادل کے طور پر جو کھلاڑی لائے جا رہے ہیں ان کی بابت کوئی رائے دینا مشکل ہے.

    پاکستان کی ٹیم دو شعبوں میں مکمل اور دو شعبوں میں ادھوری ہے. مڈل آرڈر اور لوور مڈل آرڈر کے مسائل کے حل کے بغیر ورلڈ کپ کی جیت کا خواب محض دیوانے کا خواب ہے. اوپر سے فاسٹ باؤلرز کے فٹنس مسائل کی تلوار الگ سے لٹک رہی ہے.

  • آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    فضائل اور مناقب بیان کرنا بہت اچھی بات ہے. مگر کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کے بیان پر ہی اکتفا کر جانا ہرگز کافی نہیں.
    کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کا بیان کار ثواب بھی ہو سکتا ہے. مگر آپ اس ہستی کی سیرت سے کچھ سیکھنے سے عاری ہیں تو یقیناً آپ اچھے کردار کے حامل نہیں ہو سکتے.

    ہمارے ہاں سیرت النبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا بیان تو ہوتا ہے مگر عمومی رویوں سے اس کا اظہار کرنے سے ہم بطور معاشرہ قاصر ہیں.
    وہ تمام شخصیات جن کو اللہ تعالی نے دنیا میں کوئی نہ کوئی مقام عطا کیا، جن کے فضائل ومناقب آج ہم بیان کرتے ہیں، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ مقام و مرتبہ کیسے عطا کیا؟
    .
    یکم محرم الحرام قریب ہے اور ہر طرف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل و مناقب کا تذکرہ ہے. بلاشبہ ان کا ذکر کرنا اور اچھی نیت کے ساتھ اچھے انداز کے ساتھ ان کا ذکر کرنا باعث اجر و تسکین ہے.

    مگر سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عمر کیسے بنتے ہیں؟

    آج ہم اخلاق و کردار یا اوصاف کے اندر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے مگر ان کی تقلید ضرور کر سکتے.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف و کردار میں جو سب سے بنیادی چیز ہے وہ ڈٹ جانا ہے. آپ کے کردار کے اندر جھول یا نرمی کا کوئی عنصر نہیں. اسلام سے قبل اپنے قبیلے اور علاقے کے تمام تر مفادات کا تحفظ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے علم، حکمت کے ساتھ ساتھ اپنی تلوار کے ذریعے کیا.
    .
    دین اسلام کی حقانیت آشکار ہونے کے بعد سیدنا عمر فاروق نے اسی جاہ و جلال، بہادری و استقلال کے ساتھ اسلام اور اہل اسلام کے تمام تر حقوق کا تحفظ کیا.

    اسلام تو دنیا میں غالب ہونے کے لیے آیا ہے مگر کردار عمر سے یہ بات عیاں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام کو غالب کرنے کے لیے آئے تھے.
    .
    آپ اسلام کے آنے سے پہلے بھی اپنے قول و اقرار پر پہرہ دیتے تھے. اور اسلام لانے کے بعد بھی آپ کبھی اپنی بات سے منحرف نہیں ہوئے. دنیا کا مفاد لالچ اور خوف آپ کو کبھی زیر نہیں کر سکا.
    .
    آپ نے اللہ کی عطا کردہ فطرت سلیم کی حفاظت اس قدر عمدہ انداز سے کی کہ آپ کے دماغ کے اندر پیدا ہونے والے خیالات اللہ تعالی نے قرآن بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے.
    .
    جدید فلسفہ میں اقبال جس خودی کی بات کرتے ہیں سیدناعمرفاروق میں وہ خودی بدرجہ اتم موجود تھی.
    .
    تاریخ کا مطالعہ کرنے والے احباب یہ بات جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے سے قبل اور اقتدار میں آنے کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے طرز زندگی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ کی برکت ہے کہ آج عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو انصاف کا معیار مقرر کیا گیا ہے.
    .
    تاریخ انسانی میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قبل کوئی ایسا حکمران نہیں تھا جس کی سلطنت کے اندر تعلیم، صحت تعمیرات، افوج اور انصاف کے باقاعدہ فعال شعبے موجود ہوں.
    .
    یہ آپ کے کردار کا ہی خاصہ تھا کہ نئے آنے والے مذہب اور تہذیب کو 22 سے 25 سال کے اندر 22 لاکھ مربع میل سے بھی زائد رقبے پر متعارف کروایا.
    .
    سچائی، دیانت، جرات، انصاف، تقویٰ، دردانسانیت اور محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم و دین محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت جیسے اوصاف کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا.

    ہمیں مناقب بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان تمام چیزوں پر غور کرنا چاہیے جو عمر ابن خطاب کو عظیم مصلح و حکمران عمر فاروق اعظم بناتی ہیں.

    محض قصے بیان کرنے سے بات نہیں بنے گی. وہ تمام اوصاف جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت میں موجود تھے ان کی تقلید سے ہی بات بنے گی.

    محض غلبے کی باتیں اسلام کو دنیا میں غالب نہیں کریں گی. اسے غالب کرنے کے لیے عمر فاروق کے نقش قدم پر چلنا ہوگا.

    اگر سیرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو عملی شکل دینے کے بجائے محض ثواب کی نیت سے بیان کرتے رہیں گے تو یقین کیجئے حالات نہیں بدلیں گے.