Baaghi TV

Tag: نغمہ نگار

  • تیرے میرے بیچ میں کیسا ہے یہ بندھن انجانا۔۔۔۔۔۔

    تیرے میرے بیچ میں کیسا ہے یہ بندھن انجانا۔۔۔۔۔۔

    پردسیوں سے نہ اکھیاں ملانا
    پردیسیوں کو ہے اک دن جانا

    آنند بخشی

    یوم پیدائش : 21 جولائی 1930

    بالي وڈ کے مشہور نغمہ نگار آنند پرکاش بخشی المعروف آنند بخشی نے تقریبا ًچار دہائیوں تک سامعین کواپنا دیوانہ بنائے رکھا۔ وہ پاکستان کے راولپنڈی شہر میں 21 جولائی 1930 کو پیدا ہوئےآنند بخشی نے 90ء کے عشرے کےاختتام تک اچھے اور مقبول گیت لکھے ہیں۔ صنائع بدائع کی جتنی مثالیں آنند بخشی کے کلام میں نظر آتی ہیں، وہ کسی دوسرے شاعر کے ہاں نہیں ملتیں۔ فطرت اور کائنات کے مشاہدے سے بھرپور ایک صاف اور رواں گیت آنند بخشی کی پہچان ہے آنند بخشی کا انتقال 30 مارچ 2002 کو ممبئی کے ناناوتی ہسپتال میں ہوا انتقال کے وقت ان کی عمر 72 سال تھی۔

    🍁چند مشہور گیت🍁

    پردیسیوں سے نہ انكھياں ملانا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    یہ سماں سماں ہے یہ پیار کا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    چاند سی محبوبہ ہو میری کب ایسا میں نے سوچا تھا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    ساون کا مہینہ پون کرے شور
    ۞۔۔۞۔۔۞
    میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو
    ۞۔۔۞۔۔۞
    یہ جو محبت ہے، یہ ان کا ہے کام ارے محبوب کا جو بس لیتے ہوئے نام مر جائیں، مٹ جائیں، ہوجائیں بدنام
    ۞۔۔۞۔۔۞
    کورا کاغذ تھا یہ من میرالکھ لیا نام اس پہ تیرا
    سونا آنگن تھا جیون میرا بس گیا پیار اس میں تیرا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    تیرے میرے بیچ میں کیسا ہے یہ بندھن انجانا۔۔۔۔۔۔
    ۞۔۔۞۔۔۞
    چنگاری کوئی بھڑکے تو ساون اسے بجھائے
    ساون جو اگن لگائے اسے کون بجھائے
    ۞۔۔۞۔۔۞
    یہ شام مستانی مدہوش کئے جائے
    مجھے ڈور کوئی کھینچے تیری اَور لئے جائے
    ۞۔۔۞۔۔۞
    تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم
    پیار ہوتا ہیں دیوانا صنم
    ۞۔۔۞۔۔۞
    عشق بنا کیا جینا یارا
    ۞۔۔۞۔۔۞

    🍁منتخب کلام🍁

    اگر دلبر کی رسوائی ہمیں منظور ہو جائے
    صنم تُو بے وفا کے نام سے مشہور ہو جائے

    ہمیں فرصت نہیں ملتی کبھی آنسو بہانے سے
    کئی غم پاس آ بیٹھے تِرے اک دُور جانے سے
    اگر تُو پاس آ بیٹھے تو سب غم دُور ہو جائے

    وفا کا واسطہ دے کر محبت آج روتی ہے
    نہ ایسے کھیل اِس دل سے یہ نازک چیز ہوتی ہے
    ذرا سی ٹھیس لگ جائے تو شیشہ چُور ہو جائے

    تِرے رنگین ہونٹوں کو کنول کہنے سے ڈرتے ہیں
    تِری اِس بے رخی پہ ہم غزل کہنے سے ڈرتے ہیں
    کہیں ایسا نہ ہو تُو اور بھی مغرور ہو جائے

  • بالي وڈ کے مشہور نغمہ نگار آنند پرکاش بخشی

    بالي وڈ کے مشہور نغمہ نگار آنند پرکاش بخشی

    پردسیوں سے نہ اکھیاں نہ ملانا
    پردیسیوں کو ہے اک دن جانا

    آنند بخشی

    بالي وڈ کے مشہور نغمہ نگار آنند پرکاش بخشی المعروف آنند بخشی نے تقریبا ًچار دہائیوں تک سامعین کواپنا دیوانہ بنائے رکھا۔ وہ پاکستان کے راولپنڈی شہر میں 21 جولائی 1930 کو پیدا ہوئے۔

    آنند بخشی نے 90ء کے عشرے کے اختتام تک اچھے اور مقبول گیت لکھے ہیں۔ صنائع بدائع کی جتنی مثالیں آنند بخشی کے کلام میں نظر آتی ہیں، وہ کسی دوسرے شاعر کے ہاں نہیں ملتیں۔ فطرت اور کائنات کے مشاہدے سے بھرپور ایک صاف اور رواں گیت آنند بخشی کی پہچان ہےآنند بخشی کا انتقال 30 مارچ 2002 کو ممبئی کے ناناوتی ہسپتال میں ہوا۔انتقال کے وقت ان کی عمر 72 سال تھی۔

    🍁چند مشہور گیت🍁

    پردیسیوں سے نہ انكھياں ملانا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    یہ سماں سماں ہے یہ پیار کا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    چاند سی محبوبہ ہو میری کب ایسا میں نے سوچا تھا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    ساون کا مہینہ پون کرے شور
    ۞۔۔۞۔۔۞
    میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو
    ۞۔۔۞۔۔۞
    یہ جو محبت ہے، یہ ان کا ہے کام ارے محبوب کا جو بس لیتے ہوئے نام مر جائیں، مٹ جائیں، ہوجائیں بدنام
    ۞۔۔۞۔۔۞
    کورا کاغذ تھا یہ من میرالکھ لیا نام اس پہ تیرا
    سونا آنگن تھا جیون میرا بس گیا پیار اس میں تیرا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    تیرے میرے بیچ میں کیسا ہے یہ بندھن انجانا۔۔۔۔۔۔
    ۞۔۔۞۔۔۞
    چنگاری کوئی بھڑکے تو ساون اسے بجھائے
    ساون جو اگن لگائے اسے کون بجھائے
    ۞۔۔۞۔۔۞
    یہ شام مستانی مدہوش کئے جائے
    مجھے ڈور کوئی کھینچے تیری اَور لئے جائے
    ۞۔۔۞۔۔۞
    تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم
    پیار ہوتا ہیں دیوانا صنم
    ۞۔۔۞۔۔۞
    عشق بنا کیا جینا یارا
    ۞۔۔۞۔۔۞

    🍁منتخب کلام🍁

    اگر دلبر کی رسوائی ہمیں منظور ہو جائے
    صنم تُو بے وفا کے نام سے مشہور ہو جائے

    ہمیں فرصت نہیں ملتی کبھی آنسو بہانے سے
    کئی غم پاس آ بیٹھے تِرے اک دُور جانے سے
    اگر تُو پاس آ بیٹھے تو سب غم دُور ہو جائے

    وفا کا واسطہ دے کر محبت آج روتی ہے
    نہ ایسے کھیل اِس دل سے یہ نازک چیز ہوتی ہے
    ذرا سی ٹھیس لگ جائے تو شیشہ چُور ہو جائے

    تِرے رنگین ہونٹوں کو کنول کہنے سے ڈرتے ہیں
    تِری اِس بے رخی پہ ہم غزل کہنے سے ڈرتے ہیں
    کہیں ایسا نہ ہو تُو اور بھی مغرور ہو جائے

  • برطانوی عدالت نے پاکستانی گلوکار کو دھوکا دہی پرساڑھے 8 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا

    برطانوی عدالت نے پاکستانی گلوکار کو دھوکا دہی پرساڑھے 8 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا

    برطانوی عدالت نے پاکستانی گلوکار اکرم راہی کو دھوکا دہی کا جرم ثابت ہونے پر ساڑھے 8 کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : نامور نغمہ نگار ایس ایم صادق نے اپنے وکیل چوہدری شفقات محمود اور اپنے صاحبزادے وسیم صادق کے ہمراہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی عدالت نے پاکستانی گلوکار اکرم راہی کو 2 میوزک کمپنیوں مووی باکس اور اورینٹیل اسٹار کے ساتھ دھوکہ دہی پر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    قتل کی دھمکیاں،سلمان خان نے مقدمہ درج کراد دیا

    پاکستانی گلوکار کو 3 اپریل تک ایک لاکھ 50 ہزار پونڈ ادا کرنے کا حکم جاری کیا جبکہ مجموعی طور پر ساڑھے 8 کروڑ روپے جرمانہ دینا ہو گا۔

    ایس ایم صادق نے کہا کہ اکرم راہی نے اپنی کتاب میں نہ صرف جگا اور سیف الملوک لکھنے کا دعویٰ کیا ہے بلکہ میرے بھی 250 سے زیادہ مشہور گانے اپنی کتاب میں شامل کیے ہیں اکرم راہی نے اپنے سیکورٹی گارڈ کے نام پر جعلی پیپر بنائے اور عدالت میں جعلی کاغذات پیش کیے دھوکہ دہی ثابت ہونے پر برطانیہ کی عدالت نے گلوکار کو ایک لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ کا جرمانہ 3 اپریل تک جمع کرانے کا حکم دیا۔

    ایس ایم صادق کے مطابق انہوں نے بھی پاکستان کی عدالت میں اکرم راہی کے خلاف مقدمہ کر رکھا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ مجھے بھی عدالت سے انصاف ملے گا، اکرم راہی نے جعل سازی سے مختلف گانوں پر مبنی کتاب اپنے نام سے رجسٹرڈ کروائی ہے۔

    قتل کرنے کی دھمکیاں،ممبئی پولیس نے سلمان خان کی سیکیورٹی بڑھا دی

  • ممتاز شاعر ، ملی و فلمی نغمہ نگار کلیم ثانی

    ممتاز شاعر ، ملی و فلمی نغمہ نگار کلیم ثانی

    ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت
    پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساس تنہائی بہت

    کلیم عثمانی

    کلیم عثمانی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر اور ملی و فلمی نغمہ نگار ہیں، جو اپنے گیت تیرا سایا جہاں بھی ہو سجنا، پلکیں بچھا دوں، ملی نغمہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں اور یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کلیم عثمانی 28 فروری، 1928ء کو دیوبند، سہارنپور، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نا م احتشام الہٰی تھا۔ ان کے خاندان کا تعلق مولانا شبیر احمد عثمانی سے جا ملتا ہے۔ کلیم عثمانی کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ والد فضل الہٰی بیکل بھی اپنے زمانے کے اچھے شاعر تھے۔ شروع میں والد سے شاعری میں اصلاح لی۔1947ء میں ان کا خاندان ہجرت کر کے لاہور منتقل ہو گیا۔ کلیم عثمانی نے یہاں احسان دانش کی شاگردی اختیار کی۔

    ان کی آواز میں ترنم تھا اس لیے مشاعروں میں انہیں خوب داد ملتی تھی۔ پھر انہوں نے فلمی نغمہ نگاری کے میدان میں قدم رکھا۔ سب سے پہلے انہوں نے 1955ء میں فلم انتخاب کے گیت تحریر کیے اس فلم کی موسیقی فیروز نظامی نے مرتب کی تھی۔اس کے بعد انہوں نے ہمایوں مرزا کی فلموں بڑا آدمی، راز، دھوپ چھاؤں کے نغمے لکھے۔ فلم راز کے لیے تحریر کردہ ان کا نغمہ میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا بے مقبول ہوا۔ یہ نغمہ زبیدہ خانم نے گایاتھا اور اس کی موسیقی فیروز نظامی نے ترتیب دی تھی۔

    1966ء میں فلم ہم دونوں میں ان کی غزل ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا نے ان کی شہرت کو بام عروج پر پہنچادیا۔ یہ گیت رونا لیلیٰ نے گایا تھا اور اس کی موسیقار نوشاد نے ترتیب دی تھی۔ بعد ازاں کلیم عثمانی لاہور منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے متعدد فلموں میں مقبول گیت تحریر کیے جن میں ان کی اس زمانے کی فلموں میں عصمت، جوش انتقام، ایک مسافر ایک حسینہ، عندلیب، نازنین، دوستی، بندگی، نیند ہماری خواب تمہارے اور چراغ کہاں روشنی کے نام شامل ہیں۔

    1973ء میں انہوں نے فلم گھرانہ کے گیت تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا اور 1978ء میں فلم زندگی کے گیت تیرے سنگ دوستی ہم نہ چھوڑیں کبھی پر نگار ایوارڈ حاصل کیے۔ فلم فرض اور مامتا میں انہوں نے ایک ملی گیت اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں تحریر کیا۔ روبن گھوش کی موسیقی اور نیرہ نور اور ساتھیوں کی آواز میں گایا ہوا یہ گیت آج بھی بے حد مقبول ہے۔ اس کے علاوہ ان کا تحریر کردہ ایک اور ملی نغمہ یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے کا شمار بھی پاکستان کے مقبول ملی نغمات میں ہوتا ہے اور اسے مہدی حسن نے گایا۔

    کلیم عثمانی کی غزلیات کا مجموعہ دیوار حرف اور نعتیہ مجموعہ ماہ حرا کی نام سے شائع ہوا۔

    مشہور نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں (فرض اور مامتا)
    تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا (گھرانہ)
    یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
    ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا (ہم دونوں)
    میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا (راز)
    پیار کر کے ہم بہت پچھتائے (عندلیب)
    تیرے سنگ دوستی ہم نہ توڑیں کبھی (زندگی)
    مستی میں جھومے فضا(نازنین)

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    دیوار حرف (غزلیات)
    ماہ حرا (نعتیہ مجموعہ)

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کلیم عثمانی نے 1973ء میں انہوں نے فلم گھرانہ کے گیت تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا اور 1978ء میں فلم زندگی کے گیت تیرے سنگ دوستی ہم نہ چھوڑیں کبھی پر نگار ایوارڈ حاصل کیے۔

    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت
    پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساسِ تنہائی بہت
    اب یہ سوچا ہے کہ اپنی ذات میں سمٹے رہیں
    ہم نے کرکے دیکھ لی سب سے شناسائی بہت
    منہ چھپا کر آستین میں دیر تک روتے رہے
    رات ڈھلتی چاندنی میں اس کی یاد آئی بہت
    اپنا سایہ بھی جدا لگتا ہے اپنی ذات سے
    ہم نے اس سے دل لگانے کی سزا پائی بہت
    آئینہ بن کے وہ صورت سامنے جب آئی
    عکس اپنا دیکھ کر مجھ کو ہنسی آئی بہت
    میں تو جھونکا تھا اسیرِ دام کیا ہوتا کلیم
    اس نے زلفوں کی مجھے زنجیر پہنائی بہت

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    رات پھیلی ہے تیرے ، سرمئی آنچل کی طرح
    چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے ، پاگل کی طرح
    خشک پتوں کی طرح ، لوگ اُڑے جاتے ہیں
    شہر بھی اب تو نظر آتا ہے ، جنگل کی طرح
    پھر خیالوں میں ترے قُرب کی خوشبو جاگی
    پھر برسنے لگی آنکھیں مری ، بادل کی طرح
    بے وفاؤں سے وفا کرکے ، گزاری ہے حیات
    میں برستا رہا ویرانوں میں ، بادل کی طرح

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    کلیم عثمانی 28 اگست، 2000ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے اور لاہور میں علامہ اقبال ٹاؤن میں کریم بلاک کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

  • ابراہیم اشک معروف شاعر اور نغمہ نگار

    ابراہیم اشک معروف شاعر اور نغمہ نگار

    تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
    ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

    ابراہیم اشک کا اصل نام ابراہیم خاں غوری تھا (20 جولائی 1951ء اجین ہندوستان، 16 جنوری 2022ء) ان کا شمار معروف شاعروں اور نغمہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے کئی مقبول فلموں اور سیریلوں کے لیے نغمے اور اسکرپٹ لکھیں۔ نغمہ نگاری کا آغاز فلم ”کہو نہ پیار ہے“ سے کیا۔ اس فلم کے نغمے آج بھی اسی دلچسپی کے ساتھ سنے جاتے ہیں۔ نغموں کے علاوہ ان کی غزلوں کے متعدد البم ریلیز ہوئے۔

    اشک کی پیدائش 20 جولائی 1951ء کو اجین، مدھیہ پردیش میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اجین میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد ہندی ادبیات میں ایم اے کیا۔

    اشک بہت زرخیز تخلیقی طبیعت کے مالک تھے۔ انھوں نے متعدد شعری اصناف میں بہت کثرت سے شاعری کی۔ غزلیں کہیں، نظمیں کہیں، دوہے کہے۔ ان کی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ’الہام‘ اور ’ آگہی‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اشک نے شاعری کے ساتھ تنقید بھی لکھی ۔ اقبال اور غالب پر ان کی کتابیں ان کی ثروت مند تنقیدی فکر کی اعلامیہ ہیں۔

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
    ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

    خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے
    میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا

    زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے
    اتنی ویران مری راہگزر ہے کیوں ہے

    دنیا بہت قریب سے اٹھ کر چلی گئی
    بیٹھا میں اپنے گھر میں اکیلا ہی رہ گیا

    نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہے
    ہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دے

    کریں سلام اسے تو کوئی جواب نہ دے
    الٰہی اتنا بھی اس شخص کو حجاب نہ دے

    بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہد وفا
    کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں

    چلے گئے تو پکارے گی ہر صدا ہم کو
    نہ جانے کتنی زبانوں سے ہم بیاں ہوں گے

    زندگی اپنی مسلسل چاہتوں کا اک سفر
    اس سفر میں بارہا مل کر بچھڑ جاتا ہے وہ

    کوئی بھروسہ نہیں ابر کے برسنے کا
    بڑھے گی پیاس کی شدت نہ آسماں دیکھو

    کوئی تو ہوگا جس کو مرا انتظار ہے
    کہتا ہے دل کہ شہر تمنا میں لے کے چل

    کس لیے کترا کے جاتا ہے مسافر دم تو لے
    آج سوکھا پیڑ ہوں کل تیرا سایا میں ہی تھا

    نام کو بھی نہ کسی آنکھ سے آنسو نکلا
    شمع محفل میں جلاتی رہی پروانے کو

    مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو
    جلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھو

    تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی
    قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا

    نہیں ہے تم میں سلیقہ جو گھر بنانے کا
    تو اشکؔ جاؤ پرندوں کے آشیاں دیکھو

    بکھرے ہوئے تھے لوگ خود اپنے وجود میں
    انساں کی زندگی کا عجب بندوبست تھا

    یہ اور بات ہے کہ برہنہ تھی زندگی
    موجود پھر بھی میرے بدن پر لباس تھا

  • برصغیرکےنامور فلمی نغمہ نگارشنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر

    برصغیرکےنامور فلمی نغمہ نگارشنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    برصغیر کے نامور فلمی نغمہ نگار شنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر۔ 30؍اگست 1923ء کو پنجاب کے شہر راولپنڈی (پاکستان) میں پیدا ہوئے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی میں انڈین ریلویز میں نوکری سے کیا تھا ملازمت کے سلسلے میں وہ اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔

    اس کے باوجو وہ اپنا زیادہ تر وقت نظمیں لکھنے میں ہی گزارتے تھے جس کی وجہ سے ان کے افسران ان سے ناراض رہتے تھے۔ انہوں نے بالی وڈ میں دو دہائی تک تقریباً 170 فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہررنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں ان کے نغموں کی کشش، دھیما پن اور لوچ ایسا تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں انہوں نے اپنے نغموں کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے 14؍دسمبر 1966ء کو بمبئی میں انتقال کر گئے۔

    شیلیندر صاحب کے نغمے اورر اشعار

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    آندھی میں اِک دیپ جلایا
    اور پانی میں آگ لگائی

    ہے درد ایسا کہ سہنا ہے مشکل
    دنیا والوں سے کہنا ہے مشکل
    گِھر کے آیا ہے طوفان ایسا
    بچ کے ساحل پہ رہنا ہے مشکل

    دل کو سمبھالا نہ دامن بچایا
    پھیلی جب آگ تب ہوش آیا
    غم کے مارے پکاریں کسے ہم
    ہم سے بچھڑا ہمارا ہی سایہ

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    کھویا کھویا چاند
    کھلا آسمان
    آنکھوں میں ساری رات جائے گی
    تم کو بھی کیسے نیند آئے گی

    کھویا کھویا چاند……

    مستی بھری ہوا جو چلی
    کھل کھل گئی یہ دل کی کلی
    من کی گلی میں ہے کھلبلی
    کہ ان کو تو بلاؤ

    کھویا کھویا چاند……

    تارے چلے نظارے چلے
    سنگ سنگ مرے وہ سارے چلے
    چاروں طرف اشارے چلے
    کسی کے تو ہوجاؤ

    کھویا کھویا چاند…….

    ایسے میں کس کو
    کون منائے ؟

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

    پیار میں جن کے
    سب جگ چھوڑا
    اور ہُوئے بدنام
    اُن کے ہی ھاتھوں
    حال ہوا یہ
    بیٹھے ہیں دل کو تھام
    اپنے کبھی تھے
    اب ہیں پرائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    ایسی ہی رِم جِھم
    ایسی پُھواریں
    ایسی ہی تھی برسات۔۔۔۔
    خود سے جُدا اور
    جگ سے پرائے
    ہم دونوں تھے ساتھ۔۔۔۔
    پھر سو وہ ساون
    اب کیوں نہ آئے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دِل کے میرے
    پاس ہو اتنے
    پِھر بھی ہو کتنی دور
    تم مجھ سے
    میں
    دِل سے پریشاں
    دونوں ہیں مجبور۔۔۔۔
    ایسے میں کس کو
    کون منائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے