Baaghi TV

Tag: نقصان

  • بھارتی ایئر لائن انڈیگو کو ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات کی وجہ سے نقصان

    بھارتی ایئر لائن انڈیگو کو ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات کی وجہ سے نقصان

    انڈیا کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو نے اپنے مالیاتی نتائج میں ایک حیران کن نقصان کی اطلاع دی ہے، جو کہ گزشتہ دو سالوں میں اس کا پہلا نقصان ہے۔ یہ نقصان زیادہ ایندھن کی قیمتوں اور دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے سبب ہوا ہے۔

    انڈیگو کی جانب سے چلائی جانے والی ایئرلائن نے 30 ستمبر کو ختم ہونے والے تین ماہ میں 9.9 بلین روپے (118 ملین ڈالر) کا نقصان ظاہر کیا۔ جبکہ ایک مالیاتی سروے کے مطابق اس سہ ماہی میں اوسطاً 1.34 بلین روپے کے منافع کی توقع کی جا رہی تھی، اس سہ ماہی کی آمدنی 14 فیصد بڑھ کر 169.7 بلین روپے تک پہنچ گئی، تاہم یہ تخمینوں سے کم رہی۔ مجموعی اخراجات 22 فیصد بڑھ کر 186.66 بلین روپے ہوگئے، جس میں ایندھن کے اخراجات پچھلے سال کے مقابلے میں 12.8 فیصد اور دیکھ بھال کے اخراجات میں 30 فیصد کا اضافہ شامل ہے۔ ایئرپورٹ فیس بھی تقریباً 40 فیصد بڑھ گئی۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر Pieter Elbers نے ایک بیان میں کہا کہ "روایتی طور پر کمزور دوسرے سہ ماہی میں، نتائج پر گراؤنڈنگ اور ایندھن کی قیمتوں سے متعلق چیلنجز نے اثر ڈالا۔ ایئرلائن کی گراؤنڈڈ طیاروں کی تعداد اور اس سے جڑے اخراجات میں کمی آ رہی ہے۔انڈیگوکا قرضہ پچھلے سال کے مقابلے میں 20 فیصد بڑھ کر 592.37 بلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس کی مسافر لوڈ فیکٹر 82.6 فیصد سے کم ہوکر پچھلے سال کے اسی سہ ماہی میں 83.3 فیصد ہوگئی ہے۔

    انڈیا کی ایئرلائنز عموماً ستمبر کی سہ ماہی میں کم طلب کا سامنا کرتی ہیں۔ انڈیگو کا مارکیٹ شیئر 62.5 فیصد ہے، جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 63.4 فیصد سے کم ہے، اور اس کی وجہ ایئر انڈیا اور وِسٹارا کے درمیان جاری بڑے انضمام کی وجہ سے بڑھتا ہوا مقابلہ ہے۔ ایئرلائن نے اس سہ ماہی میں 28 نئے طیارے شامل کیے، جس کے ساتھ اس کی سیٹ کی گنجائش میں 8.2 فیصد اضافہ ہوا۔انڈیگو نے اگلی سہ ماہی میں گنجائش میں "دو عددی” اضافہ دیکھنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ ایئرلائن نے اگست میں بھارت کے کچھ اہم راستوں پر اپنے بزنس کلاس پروڈکٹ کا اعلان کیا، جو کہ اسے ایک مکمل سروس ایئرلائن میں تبدیل کرنے کی سمت میں ایک قدم ہے۔ یہ پریمیم پیشکش اس سال کے آخر تک متعارف کرائی جانے کی توقع ہے۔انڈیگو نے مقامی مارکیٹس کے ریگولیٹر کی منظوری کے بعد IndiGo Ventures Fund میں 2.95 بلین روپے (35.1 ملین ڈالر) کی سرمایہ کاری کرنے کی بھی منظوری حاصل کی ہے۔ ایئرلائن کے حصص اس سال 47 فیصد بڑھ چکے ہیں، جو کہ بھارت کے نفع 50 انڈیکس کے 11.3 فیصد کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی "نازیبا ویڈیو”کی ہلچل تیسرے روز بھی جاری

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک کی عمران خان سے ملاقات کی تصویر وائرل

    مناہل ملک سے قبل کس کس پاکستانی کی ہوئی "نازیبا ویڈیو”لیک

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

  • بارکھان کوہلو سرحدی پہاڑ پر لگی آگ پر 25گھنٹے بعد قابو پالیا گیا

    بارکھان کوہلو سرحدی پہاڑ پر لگی آگ پر 25گھنٹے بعد قابو پالیا گیا

    کوہلو اور بارکھان کے وسط میں واقع کوہ سلیمان،کوہ جاندران جنگل شدید آگ کی لپیٹ میں آ گیا تھاآگ کے شعلے دور دارز علاقوں سے دکھائی دے رہے تھے تا ہم اب آگ پر قابو پا لیا گیا ہے،مختلف اداروں اور انتظامیہ نے آگ بجھانے میں حصہ لیا۔جنگل میں آگ لگنے سے سینکڑوں درخت اور قیمتی جڑی بوٹیاں جل کر راکھ ہوگئیں۔

    بارکھان کوہلو سرحدی پہاڑ پر لگی آگ پر 25گھنٹے بعد قابو پایا گیا۔  آگ لگنے کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان نے امدادی ٹیم کو جلد بارکھان پہنچنے کی ہدایت دی تھی جس پر ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ٹیمیں امدادی سامان کے ساتھ روانہ کر دی تھیں، اسی سانحے کے بارے میں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ آگ نے تقریباََ سو ایکڑ رقبے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔تاہم مختلف اداروں کی کاوشوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا،ڈی سی بارکھان بلال شبیر کا کہنا ہے کہ جندران کے پہاڑوں پر گزشتہ روز لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ، بارکھان ، پی ڈی ایم اے ،ضلعی انتظامیہ، ایف سی اورمحکمہ جنگلات نے آگ پر قابو پایا، کوئی انسانی جان و املاک اور جانوروں کا نقصان نہیں ہوا، تقریباً 100 ایکڑ سے زائد رقبے پر آگ پھیل چکی تھی،

    وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے بارکھان کے پہاڑی جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے پر پی ڈی ایم اے، ایف سی، ضلعی انتظامیہ محکمہ جنگلات اور لیویز فورس کے جوانوں کو شاباش دی گی، وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اظہار اطمینان کیا کہ مشترکہ کارروائی کی بدولت جنگلات میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا، تیز ہواؤں اور خشک جنگلی گھاس کی موجودگی کے پیش نظر ٹیموں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں اسٹینڈ بائی رکھا جائے، مشکل اور دشوار گزار پہاڑی جنگلات میں آگ بجھانے کی کارروائی میں حصہ لینے والے تمام جوانوں کی محنت اورکارکردگی کو سراہتے ہیں،

    آگ لگنے کی وجہ کا ابھی تک تعین نہیں ہو سکا ہے۔اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے آگ بجھانے کی کوششیں بہت تاخیر سے شروع ہوئیں جس کے نتیجے میں جنگل کے ایک بڑے علاقے کو نقصان پہنچا۔

    خیبرپختونخواہ حکومت کا کمال،تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، سوشل میڈیا انفلونسرز کیلئے 87 کروڑ مختص

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    سوشل میڈیا پر عمران خان کی کامیابی کا راز فاش

    سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دیرینہ دوست فرح گوگی کا ایک اور بڑا سکینڈل منظر عام پر آ

  • ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا،این ایف آر سی سی

    ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا،این ایف آر سی سی

    نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ نقصان سندھ اور خیبر پختونخوا میں ہوا۔این ایف آر سی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے بنیادی ڈھانچے اور نجی املاک کے نقصانات ہوئے ہیں، ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    قمبر شہداد کوٹ، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز،ٹھٹھہ،بدین اور جیکب آباد کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیںں .بلوچستان میں کوئٹہ،نصیرآباد،جعفرآباد،جھل مگسی بھی شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ بولان،صحبت پور، لسبیلہ بھی شدید متاثر ہوئے۔کے پی میں دیر،سوات،چارسدہ،کوہستان،ٹانک،ڈی آئی خان شدید متاثرہ علاقے ہیں، پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔

    این ایف آر سی سی نے بتایا کہ پاک فوج کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز محصور افراد کو نکالنے کیلئے485 پروازیں کرچکے ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں 22 پروازیں کی گئیں، 70 افراد کو بچایا گیا، جبکہ ہیلی کاپٹرز سے 29.9 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا۔

    این ایف آر سی سی کے مطابق اب تک ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 4424 پھنسے افراد کو نکالا جاچکا ہے، ریلیف کیمپس اور امدادی اشیا جمع کرنے کے پوائنٹس مکمل فعال ہیں، ملک بھر میں147 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

    284 کلیکشن پوائنٹس سندھ،جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں قائم ہیں، سیلاب متاثرین کیلئے امدادی اشیا کو جمع اور آگے تقسیم کیا جارہا ہے۔

    این ایف آر سی سی نے بتایا کہ اب تک6 ہزار855 ٹن خوراک متاثرین میں تقسیم کی جاچکی ہے، 1203 ضروری اشیا اور 45 لاکھ 97 ہزار569 ادویات متاثرین کو دی جاچکی ہیں ،متاثرہ علاقوں میں اب تک 250 طبی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، طبی کیمپوں میں 1 لاکھ 2721 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا۔

    اس کے علاوہ پاک فضائیہ اور بحریہ کی جانب سے بھی ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں، پاک بحریہ کے 2 ہیلی کاپٹروں نے سندھ کے علاقوں میں50 پروازیں کیں،این ایف آر سی سی کے مطابق پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز نے465 افراد کو بچایا،3505 کلو راشن اور 300 کلو ادویات تقسیم کیں،نیوی کی8 غوطہ خور ٹیموں نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں26 غوطہ خور آپریشن کیے۔

    علاوہ ازیں نیوی نے56 میڈیکل کیمپس میں 38 ہزار 496 مریضوں کا علاج کیا گیا، 4 فلڈ ریلیف کیمپس،6 کلیکشن پوائنٹس اور2 خیمہ بستیاں لگائی ہیں۔این ایف آرسی سی نے بتایا کہ پاک فضائیہ کی بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور 90 پروازوں سے 1521 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

    پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرین میں 4800 ٹینٹس، 2 لاکھ 16 ہزار4 کھانے کے پیکٹ، 2584 کلو راشن کے پیکٹ،1 لاکھ 96 ہزار677 لیٹر پانی، 19 ٹینٹ سٹی، 18ہزار441 لوگوں کو خوراک،خشک راشن اورطبی امداد دی۔این ایف آر سی سی کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ نے اب تک54 ریلیف کیمپ،44 میڈیکل کیمپس لگائے، میڈیکل کیمپس میں 46ہزار980 مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔پاک فضائیہ نے سندھ میں نوابشاہ، سکھر، میرپور خاص، تلہاڑ، جیکب آباد، سیہون میں کام جاری رکے ہوئے ہیں۔

    بلوچستان میں پاک فضائیہ سمگلی،قلعہ عبداللّٰہ اور قلعہ سیف اللّٰہ میں امداد پہنچا رہی ہے، راجن پور،ڈی جی خان،اسکردو، غذر، نلتر، گھانچے، نوشہرہ،چارسدہ،سیدو شریف، شانگلہ، لارام میں مصروف عمل ہے۔

  • نیشنل بینک کو2ہزارارب کا نقصان ذمہ دارکون؟سوالات شروع ہوگئے

    نیشنل بینک کو2ہزارارب کا نقصان ذمہ دارکون؟سوالات شروع ہوگئے

    لاہور:نیشنل بینک کو2012 سے 2020 تک 2ہزارارب کا نقصان ذمہ دارکون؟سوالات شروع ہوگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک سالہ دور حکومت اورپھرن لیگ کے 5 سالہ دور حکومت اورایسے ہی پی ٹی آئی کے شروع کا ڈیڑھ سال پاکستان کے قومی بینک جسے نیشنل بینک کہا جاتا ہے ، کو 2ہزارارب کا نقصان پہنچا ہے

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) میں 2012 سے 2020 تک بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا پردہ فاش کیا ہے، جس سے قومی خزانے کو 2000 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔

    S. NoSubject
    1.Irregular appointment, promotions, and deputation of SEVP/Group Chief (Logistic) – Rs.813.18 million
    2.Irregular appointment of SEVP/ Head (International Banking) – Rs. 33.980 million
    3.Irregular  appointment  of  Chief  Technology  Officer/Group  Chief  -Rs.33.252 million
    4.Irregular appointment of SEVP/Group Chief/ Head (HR) – Rs.33.980 million
    5.Irregular appointment & promotion of SVP/Head of Compensation & Benefits – Rs.13.806 million
    6.Irregular appointment of EVP / Senior HR Business Partner – Rs. 14.195 million
    7.Irregular appointment of EVP / Senior HR Business Partner – Rs. 8.500 million
    8.Irregular appointment of SVP/ Chief Security Officer – Rs.6.00 million
    9.Irregular appointment of  SEVP/Group  Chief  (Chief  Risk  Officer)  – Rs.24.208 million
    10.Un-authorized payment of salary to SEVP without joining the Bank -Rs.24.208 million
    11.Irregular appointment of employees without advertisement – Rs.267.635 million
    12.Irregular appointment & promotion of SVP/ Corporate Head – Rs.36.190 million
    13.Irregular appointment of Vice President (VP) / Executive Logistic Support- Rs.20.349 million
    14.Illegal/defective appointment of President/CEO (NBP) – Rs. 307.17 million
    15.Irregular appointment as Chairman, Board Specialized Committees – Rs. 3.278 million
    16.Irregular appointment of Chairman, Board of Directors
    17.Irregular appointment of Manager (E-Remittances) – Rs.14.502 million
    18.Irregular appointment of SVP/ Head of Organizational Effectiveness – Rs. 9.902 million
    19.Irregular appointment of EVP/ Divisional Head (International Business Strategy) – Rs. 16.380 million
    20.Irregular & unlawful appointment of SVP/Wing Head-Recruitment & Placement – Rs.17.728 million
    21.Irregular deployment of Senior Executive Vice President (SEVP) on deputation and payment of benefits – Rs.  million
    22.Irregular appointment of EVP/Divisional Head (Learning & Development)- Rs.7.200 million
    23.Irregular appointment of EVP/Head of HR Governance – Rs.9.500 million
    24.Irregular  appointment  of  employees  after  attaining  the  age  of superannuation – Rs.611.065 million
    25.Irregular appointment of VP/Research Associate for Chairman (BoD Secretariat) – Rs.4.200 million
    26.Irregular appointment, promotion & extension of contract beyond 60 years of EVP/Secretary Board – Rs.51.570 million
    27.Irregular payment in lieu of end service benefits – Rs. 29.396 million
    28.Irregular appointment of Vice President/HR Business Partner – Rs. 6.480 million
    29.Wasteful expenditure on employment of Special Assistance at Chairman Secretariat (BoD) on retainer ship basis – Rs. 4.500 million
    30.Irregular appointment of SVP/Wing Head (HR Operations) -Rs.18.92 million
    31.Irregular appointment of SVP/Head of Leadership Development – Rs.4.400 million
    32.Irregular appointment of Vice President /Wing Head (Engineering Wing) – Rs.6.300 million
    33.Irregular/unauthorized employment of staff at Chairman Secretariat (BoD) – Rs.18.840 million
    34.Irregular Appointment of Vice President/Wing Head (Corporate Investment Banking) – Rs.14.320 million
    35.Irregular appointment of HR Business Partners on favoritism basis – Rs.7.343 million
    36.Irregular appointment of  Vice  President  (VP)  –  Head of  Business Technology – Rs. 28.440 million
    37.Excess payment to  BoD members in violation of Finance Division directives – Rs. 6.556 million
    38.Irregular appointment of Vice President/Wing Head (AML-CFT) – Rs. 9.870 million
    39.Irregular appointment of Legal Advisory Associate through defective criteria – Rs. 1.750 million
    40.Irregular appointment of Executive Secretary on favoritism basis – Rs.1.050 million
    41.Irregular payment in lieu of un-availed privilege/annual leave – Rs.1.459 million
    42.Irregular appointment of executives/officers without the involvement of Head Hunters – Rs.72.462 million
    43.Loss due to defective club membership policy – Rs. 72.637 million
    44.Loss due to irrational dual club membership – Rs. 7.310 million
    45.Loss due to the inappropriate procedure adopted in hiring Consultancy Firms – Rs. 13.621 million
    46.Mis-procurement in awarding a contract for the hiring of Head hunters without tendering – Rs. 52.779 million
    47.Wasteful /irrational expenditure on hiring Head hunters – Rs. 103.086 million
    48.Undue favor by acquiring House Building Finance at the appointment – Rs. 287.028 million
    49.Irrational/defective buy-back policy of vehicles – Rs. 83.462 million
    50.Irregular payment to Head hunter/consultant in violation of consultancy agreement – Rs. 2.706 million
    51.Irregular promotion on defective/irrational policy
    52.Irregular promotion of 75 Officers/Executives in violation of Promotion Policy
    53.Non-verification of educational certificates and antecedents through Head hunters/ Consultants
    54.Loss due to delayed verification process initiated against fake degrees/certificates holders
    55.Unlawful retention of convicted officials in harassment case
    56.Overstay allowed to employees at foreign branches
    57.Delay in the verification of degrees and antecedents
    58.Non-production of auditable record
    59.Irregular disbursement of loan in Bangladesh branches – Rs. 25,842.86 million (USD 164.04 million)
    60.Loss on the penalty imposed by SBP/other Regulatory Bodies – Rs. 3,322.304 million
    61.Non-recovery of no-performing loans of NDFC (defunct) – Rs.3,592.901 million
    62.Loss on purchase of shares at higher rates – Rs. 2,331.546 million
    63.Non-transfer of ownership of PSO shares – Rs. 8,193.241 million
    64.Loss on sale of land at lesser rates – Rs.65.500 million
    65.Non-recovery from defaulters – Rs. 18,967.81 million (USD 120.400 million)
    66.Loss due to non-recovery of outstanding principal – Rs. 6,132.678 million
    67.Blockade of funds by investment in unquoted securities –Rs. 437.886 million
    68.Non-utilization/disposal of non-banking assets acquired in satisfaction of claims – Rs. 3,968.329 million
    69.Loss due to excess payment of interest on deposit accounts – Rs. 4.353 million
    70.Unrealized loss on forwarding foreign exchange contracts –Rs. 7,276.90 million
    71.Unrealized loss on put option – Rs. 306.339 million
    72.Loss on purchase of shares at higher rates –Rs. 2.414 million
    73.Loss due to non-recovery of outstanding interest – Rs. 11.973 million
    74.Non-recovery against Nostro Foreign Accounts – Rs. 4.794 million
    75.Loss due to poor performance of Groups/Department – Rs.70,087.67 million
    76.Wasteful expenditure on the investigation of Bangladesh Operations- Rs.10.00 million
    77.Violation of Accounting Standard IAS-8 (Change in Accounting Estimates and Errors) – Rs. 286.00 million
    78.Outstanding entries of Nostro Foreign Accounts – Rs. 8,097.709 million
    79.Non-recovery of outstanding advances -Rs. 52,882 million
    80.Irregular investment in companies by holding shares more than 30%
    81.Non- resolving of suspicious transaction alerts in violation of the Anti-Money Laundering (AML) Act
    82.Violation of SBP Regulations and Anti-Money Laundering (AML) Act
    83Non-obtaining of audited financial statements/Wealth Statement of borrowers in violations of Prudential Regulations
    84.Weak Internal Control Systems in NBP, Bangladesh branches
    85.Loss due to cash shortage in Vault and ATM at Nowshera Road Branch – Rs. 12.516 million
    86.Embezzlement/misappropriation in  FE-25 loans, FIM, and Bill of Exchange– Rs. 2,787 million
    87.Loss due to non-deposit of the amount into Federal Treasury at KDA Civic Centre Branch, Karachi – Rs. 307.436 million
    88.Fraud/forgery in SSP Officer Account at Kandhkot Branch, Larkana – Rs. 215.705 million
    89.Embezzlement of   Government   funds (DPO Account-Gujrat)– Rs. 630.800 million
    90.Misappropriation/embezzlement in Government pension payment at main branch, Kotri, Hyderabad – Rs. 70.723 million
    91.Loss due to fraudulent activities in Khuzdar Cantt Branch– Rs. 19.219 million
    92.Loss due to fraud/embezzlement in Government Treasury at Pano Akil City Branch – Rs. 309.452 million
    93.Loss due to misappropriation of funds / internal fraud engaging at Khanaspur Ayubia & Khairagali Branches, Abbottabad – Rs. 472.539 million
    94.Loss due to embezzlement of funds at Qamrooti Branch, Mirpur (A.K) – Rs. 44.899 million
    95.Loss due to dacoity during transportation from Taftan to Dalbadin (Chest), Regional Office, Quetta– Rs. 53.00 million
    96.Loss on disbursement of bogus Agriculture Finance – Rs.20.385 million
    97.Misappropriation/embezzlement through accounts of demand finance gold – Rs. 70.723 million
    98.Loss due to fraud at Timber Market Branch, Multan–
    Rs. 31.307 million
    99.Loss due to unauthorized debit to GL Heads ATM Cash at Loralai Branch, Sibi – Rs. 67.240 million
    100.Loss due to fraud by Manager, Serhota Branch District, Kotli Mirpur (AJK)– Rs. 21.018 million
    101.Loss due to fictitious/flying general entries at Jhang branch – Rs. 28.131 million
    102.Misappropriation/shortage in cash at Jutial Cantt Branch, Gilgit– Rs. 17.105 million
    103.Loss due to replacement of original gold ornaments with fake ones– Rs. 13.587 million
    104.Fraudulent withdrawal through IBT from the account at Anarkali Branch, Lahore– Rs. 11.237 million
    105.Misappropriation/shortage in cash vault at Remount Depot Branch, Sargodha – Rs. 13.155 million
    106.Loss due to cash shortage at Main Branch, Multan – Rs. 14.430 million
    107.Loss due to negligence of bank staff at Nazimabad Branch, Karachi – Rs. 32.00 million
    108.Loss due to theft of gold ornaments at Thandkoi Branch, Mardan – Rs. 51.00 million
    109.Loss due to fraudulent pension payment at Dera Allah Yar Branch, Sibi –Rs. 8.201 million
    110.Embezzlement/misappropriation at Model Branch Clifton, Karachi – Rs.5.900 million
    111.Loss due to fraudulent payment from an account at Durand Road Branch, Lahore – Rs. 8.700 million
    112.Embezzlement through payment of tampered/altered payment order –Rs. 7.051 million
    113.Loss due to embezzlement by staff members at AIB Gulistan-e-Johar Branch, Karachi – Rs. 3.378 million
    114.Loss due to fraud through fake property loan against Saibaan Scheme – Rs. 3.458 million
    115.Loss due to misappropriation/embezzlement in NBP Advance Salary Accounts at Abbaspur Branch, Muzaffarabad – Rs 2.487 million
    116.Loss due to penalty imposed by SBP on violation of Foreign Exchange Regulations Act, 1947 – Rs. 1,200.718 million
    117.Irregular disbursement of loan to M/s Hascol Petroleum Limited -Rs. 14,150 million
    Total: Rs. 235,823.9 million