Baaghi TV

Tag: نمازِ تراویح

  • رمضان کی27 ویں شب،مسجدالحرام کےاطراف کی سڑکیں نمازیوں سے بھر گئیں،ویڈیو

    رمضان کی27 ویں شب،مسجدالحرام کےاطراف کی سڑکیں نمازیوں سے بھر گئیں،ویڈیو

    مکہ : رمضان کی27 ویں شب کو سعودی عرب میں نمازِ تراویح کے دوران مسجدالحرام کے اطراف کی سڑکیں نمازیوں سے بھر گئیں خوبصورت منظر کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں-

    باغی ٹی وی : رمضان المبارک کی 27 ویں شب کو لیلتہ القدر کی تلاش میں بڑی تعداد میں زائرین نماز عشا اور تراویح ادا کرنے کے لیے مسجد الحرام پہنچے۔

    نوازشریف نے مسجد نبوی ﷺ میں رمضان المبارک کی 27 ویں شب گزاری


    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نمازِ تراویح کے دوران مسجدالحرام کے اطراف کی سڑکیں نمازیوں سے بھر گئیں اور ہر طرف نمازی ہی نمازی نظر آ رہے ہیں۔

    دوسری جانب شب قدر کے موقع پرملک بھر کی مساجد میں نماز تراویح میں ختم قرآ ن کے اجتماعات منعقد ہوئے مساجد کو برقی قمقوں سے سجا دیا گیا، خواتین گھروں میں مرد حضرات نے مساجد میں رات عبادت میں گزاری علما،آئمہ خطباء شب قدر کے فضائل بیان کئے بخشش و مغفر ت، عالم اسلام اور پاکستان کی سلامتی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں-

    سرگودھا میں احمدیوں کی 118 سال پرانی عبادت گاہ پر مشتعل ہجوم کا حملہ

    لیلۃ القدر رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک نہایت ہی بابرکت رات ہے جسے شب قدر اور برکت والی رات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیلۃ القدر میں عبادت کا ثواب ہزار مہنیوں سے بہتر ہے اس رات میں عبادت کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ طاق راتوں کی تعداد 5 ہے جن میں سے کوئی بھی رات لیلة القدر ہوسکتی ہے اور اس شب کو تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہےرمضان المبارک کے آخری عشرے میں عبادت کے ذوق و شوق کو بام کمال تک پہنچانے کے لئے لیلتہ القدر کو مخفی رکھا گیا۔ اگرچہ یہ رات عوام الناس کی نظروں سے پوشیدہ ہے تاہم خواص اس رات سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔

    روز مرہ اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ،91 فیصد پاکستانیوں کا گھریلو بجٹ میں …

  • امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹائمز اسکوائر پر نمازِ تراویح ادا ئیگی

    امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹائمز اسکوائر پر نمازِ تراویح ادا ئیگی

    نیویارک: امریکا کی تاریخ میں پہلی بار سینکڑوں مسلمانوں نے نیویارک کے معروف علاقے ٹائمز اسکوائر پر نمازِ تراویح ادا کی۔

    باغی ٹی وی : مسلمانوں کے مقدس ترین مہینے رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے تراویح کے بڑے بڑے اجتماعات نہ صرف مساجد بلکہ عوامی مقامات پر بھی منعقد کیے جاتے ہیں اس حوالے سے امریکی تاریخ میں پہلی بار نیویارک کے قلب اور معروف تجارتی مقام ’ٹائمز اسکوائر‘ پر باجماعت نماز تراویح ادا کی گئی جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔

    آیا صوفیہ مسجد میں 88 برس بعد نمازِ تراویح کی ادائیگی

    منتظمیں نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نماز تراویح کے اجتماع کے انعقاد کا مقصد اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کے غلط تاثر کو زائل کرکے یہ بتانا تھا کہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے۔

    نماز تراویح میں شرکت کرنے والے مسلمان شہریوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تراویح میں قرآن سننا، رمضان کی خاص عبادت ہے اور آج یہ سعادت حاصل کرکے خوشی ہورہی ہے۔

    عمرہ زائرین کو مختلف مقامات پر تقسیم کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ ٹائمز اسکوائر پر افطار اور نماز مغرب کی ادائیگی کی جاتی رہی ہے تاہم پہلی بار باجماعت تراویح کا انعقاد کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ترکی کی مشہور تاریخی مسجد “آیا صوفیہ” میں 88 برس بعد نمازِ تراویح کی ادائیگی کی جا رہی ہے استنبول میں واقع اس مسجد میں رمضان المبارک کے لیے متعدد تقاریب بھی منعقد کی جائیں گی تاریخی مسجد آیاصوفیہ کو24جولائی 2020 کو 86 سال بعدعبادت کے لیے کھولا گیا تھا مسجد کو 1934 میں ایک میوزیم میں تبدیل کیا گیا تھا اور 2020 میں اسے دوبارہ مسجد کی حیثیت دی گئی تھی۔-

    طالبان کا یکم رمضان کو ملک میں عام تعطیل کا اعلان

  • آیا صوفیہ مسجد میں 88 برس بعد نمازِ تراویح کی ادائیگی

    آیا صوفیہ مسجد میں 88 برس بعد نمازِ تراویح کی ادائیگی

    ترکی کی مشہور تاریخی مسجد “آیا صوفیہ” میں 88 برس بعد نمازِ تراویح کی ادائیگی کی گئی ۔

    باغی ٹی وی : استنبول میں واقع اس مسجد میں رمضان المبارک کے لیے متعدد تقاریب بھی منعقد کی جائیں گی تاریخی مسجد آیاصوفیہ کو24جولائی 2020 کو 86 سال بعدعبادت کے لیے کھولا گیا تھا مسجد کو 1934 میں ایک میوزیم میں تبدیل کیا گیا تھا اور 2020 میں اسے دوبارہ مسجد کی حیثیت دی گئی تھی۔


    مسجد کو کورونا وبا کے پھیلاو کے خطرے کے باعث استعمال نہیں کیا گیا تاہم ویکسینیشن اور کوویڈ کے کیسز میں کمی کو دیکھتے ہوئے ترک حکام نے رمضان المبارک کے لیے مسجد کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    45 سال یا اس سےزائد عمر کی خواتین کو محرم کے بغیرعمرہ ادا کرنے کی اجازت

    ترکی کے مذہبی عبادات کی نگرانی کے ذمے دار سرکاری ادارے دیانت کے سربراہ علی عرباس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہاللہ کا شکر ہے کہ ہم 88 سال کے بعد پہلی مرتبہ مسجد میں اس رمضان میں نماز تراویح کے لیے اہلِ ایمان کا خیرمقدم کریں گے‘‘۔

    آیا صوفیہ کو 1500 سال پہلے بازنطینی عہد میں گرجا گھر کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ 900 سال بعد سلطنت عثمانیہ کی فوج نے استنبول پر قبضہ کیا اور اسے مسجد میں بدل دیا گیا۔ 80 سال قبل خلافت عثمانیہ ختم ہوئی تو اسے عجائب گھر بنادیا گیا تھا۔

    یہ معروف عمارت استنبول کے فیتھ ڈسٹرکٹ میں سمندر کے کنارے واقع ہے۔ بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول نے اس کی تعمیر کا حکم 532 میں دیا تھا جب اس شہر کا نام قسطنطنیہ تھا۔ یہ بیزنٹائن سلطنت (جسے مشرقی رومی سلطنت بھی کہا جاتا ہے) کا دارالحکومت بھی تھا1453 میں سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان محمد دوئم نے قسطنطنیہ پر قبضہ کرکے شہر کا نام تبدیل کر کے استنبول رکھا اور بازنطینی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔

    عمرہ زائرین کو مختلف مقامات پر تقسیم کرنے کا فیصلہ

    تقریباً نو سو سال تک آورتھوڈوکس چرچ کا گھر رہنے والی عمارت آیا صوفیہ میں داخل ہوتے وقت سلطان محمد دوئم کا اصرار تھا کہ اس کی تعمیرِ نو کی جائے اور اسے ایک مسجد بنایا جائے انہوں نے اس میں جمعے کی نماز بھی پڑھی۔

    جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال پاشا اتاترک نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد 1934ء میں آیا صوفیہ کو ایک عجائب گھر میں تبدیل کردیا تھا لیکن ترکی کی عدالت عالیہ نے جون 2020ء میں اس کی عجائب گھر کی حیثیت کالعدم قرار دے دی تھی۔اس کے بعد صدر رجب طیب ایردوآن نے اس کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھااور24 جولائی 2020ء کو 86 سال کے بعد پہلی مرتبہ وہاں جمعہ کی نماز ادا کی گئی تھی۔نمازیوں میں خود ترک صدر بھی شامل تھے۔

    آیا صوفیہ کا بڑا گنبد استنبول کے منظر کا لازمی حصہ ہے جہاں ہر سال 30 لاکھ سیاح آتے ہیں یہ 2019 میں 38 لاکھ سیاحوں کے ساتھ ترکی کا معروف ترین مقام تھا آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے پرترکی کو بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا مگراس نے اس تمام تنقید کو یکسر مسترد کردیا –

    رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج

  • ‏شبِ قدر کی فضیلت  تحریر: محمد اسعد لعل

    ‏شبِ قدر کی فضیلت تحریر: محمد اسعد لعل

    شبِ قدر کے بارے میں فرمایا جاتا ہے کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ قرآنِ مجید کی سورۃ القدر میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ قرآن ایک غیر معمولی اور فیصلوں کی رات میں نازل کیا گیا۔ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔)
    اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، وہ کتاب جس نے قیامت تک لوگوں کو خبردار کرنا ہے, جب نازل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ اس کے لیے میں نے رمضان کے مہینے کا انتخاب کیا۔ اور یہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں وہ رات آئی، جس کو قرآنِ مجید نے "لیلۃالقدر”سے تعبیر کیا، ایک اور جگہ سورۃ الدخان میں” لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ”(برکت والی رات) سے تعبیر کیا۔ اور بتایا کہ تم اس کی عظمت کا اندازہ نہیں کرسکتے۔
    وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ۔ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
    یہ ہزار مہینے سے اللہ کے ہاں بہتر رات ہے، بلکہ مزید اللہ تعالیٰ نے اس کی تشریح کی ہے کہ اس میں ملائکہ اور روح الامین اترتے ہیں۔ اور جب یہ رات آتی ہے تو صبح تک سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے۔ یہ اس رات کی فضیلت ہے۔
    جس طریقے سے اس دنیا کے ساتھ معاملے کے لیے اللہ نے فرشتوں کو ذمہ داریاں دے رکھی ہیں بالکل اسی طرح کائنات کے بعض معاملات کے لیےخاص خاص دن بھی مقرر کر رکھے ہیں۔
    قرآنِ مجید کے نزول کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ بھی اسی طرح کی ایک رات میں نازل ہو گا، یعنی وہ رات جو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے فیصلوں کے لیے مقرر کر رکھی ہے جس میں فرشتے اور روح الامین وہ فیصلے لے کر زمین پر آتے ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ سلامتی کی رات بنا دیتے ہیں۔
    حضرت محمدﷺ کو بعد میں یہ بتایا گیا کہ قرآن مجید رمضان میں نازل کیا گیا تھا۔ سورۃ القدر قرآن کی پہلی سورت نہیں ہے، یہ کافی بعد میں نازل ہوئی تھی۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ "ہم نے اس کو اُس فیصلوں والی رات میں نازل کیا تھا جو بڑی عظیم رات ہے۔”
    ظاہر ہے یہ جو اس رات کی غیر معمولی حیثیت بتائی گئی ہے تو آپﷺ کے دل میں بھی یہ چیز پیدا ہوئی کہ ایک بندہ مومن کی حیثیت سے میں یہ تلاش کروں کہ وہ رحمت، برکت اور فیصلوں کی رات کب آتی ہے۔ اللہ نے بتا دیا کہ وہ رات رمضان میں آئی تھی، یہ بھی بتا دیا کہ اس میں قرآن نازل ہوا تھا۔ چنانچہ آپﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا، ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تو یاد رہ جاتا ہے۔ ایک وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کو متنبہ کر دیا جائے تو وہ چیز ہمیشہ کے لیے یاد رہتی ہے لیکن کچھ عرصے بعد کسی بات کے بارے میں بتایا جائے تو آدمی پلٹ کے پیچھے دیکھتا ہے اور یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ کب کی بات ہے، تو اس کے بارے میں آپ ﷺ کو یہ خیال ہوا کہ غالباً رمضان کے آخری عشرے کی کوئی طاق رات تھی۔
    اگر آپ کو معلوم ہو کہ ایسی رات جس میں کائنات کے پروردگار کی عنایت ہو گی، جس میں فیصلے ہوتے ہیں، جس کی اتنی بڑی عظمت ہے تو ایک بندہ مومن کی حیثیت سے آپ اس رات کو تلاش کریں گے۔ تلاش کرنے کا مطلب ہے کہ آپ یہ کوشش کریں گے کہ جب وہ رات آئے، جب وہ رحمت کی گھڑی آئے تو آپ جاگ رہے ہوں، آپ خدا کو یاد کر رہے ہوں، آپ خدا کی عنایتوں کے طلب گار ہوں اور آپ اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہوں۔ یہ فطری خواہش ہے، چنانچہ آپﷺ کے دل میں بھی یہ پیدا ہوئی اور آپﷺ عام طور پر اس کا اہتمام کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے رمضان کے اس عشرے کو اپنے لیے اعتکاف کے لیے مقرر کیا۔
    یہ رات دعا کی قبولیت کی رات ہے، اپنے لئے، دوست و احباب کے لئے اور والدین کے لئے دعا مغفرت کرنی چاہیے، اس رات میں دعا میں مشغول ہونا سب سے بہتر ہے اور دعاؤں میں سب سے بہتر وہ دعا ہے جو حضرت عائشہؓ سے منقول ہے۔
    اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ
    اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا، کرم کرنے والا ہے، تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے تو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔
    https://t.co/mBQmJwgVeU‎
    ‎@iamAsadLal