Baaghi TV

Tag: ننگرہار

  • آپریشن غضب للحق:پاک فوج کی کارروائی میں ننگرہار خوگانی بیس تباہ

    آپریشن غضب للحق:پاک فوج کی کارروائی میں ننگرہار خوگانی بیس تباہ

    آپریشن غضب للحق جاری/ننگرہار خوگانی بیس تباہ

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف افواج پاکستان کی زمینی اور فضائی موثرکارروائیاں جاری ہیں،پاک افواج نے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں کامیاب فضائی کارروائی کرتے ہوئے خوگانی بیس تباہ کردی ،فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بلا اشتعال جارحیت کے بعد ہر محاذ پر بھرپور پسپائی کا سامنا ہے،آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا-

    خیبر پختونخوا حکومت کا کریک ڈاؤن:1000سے زائد غیر قانونی مقیم افغان باشندے گرفتار

    خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ،پاکستان میں بھی پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان

    امریکا کی اپنے شہریوں کو سعودی عرب سمیت مشرقِ وسطیٰ کے 14ممالک فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت

  • طالبان دھڑوں میں ٹی ٹی پی پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

    طالبان دھڑوں میں ٹی ٹی پی پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

    افغانستان میں طالبان کے قندھار گروپ، کابل حکومت اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے معاملے پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ قندھار شوریٰ ٹی ٹی پی پر سخت کنٹرول کی حامی ہے جبکہ حقانی گروپ اور کابل حکومت اس مؤقف سے متفق نہیں۔

    ذرائع کے مطابق حقانی نیٹ ورک پاکستان کے قبائلی علاقوں کو اپنی اسٹریٹجک گہرائی کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ مستقبل کی کسی داخلی جنگ میں دیگر طالبان دھڑوں کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے۔شیخ ہیبت اللہ کے فتویٰ کے باوجود، جس میں افغان شہریوں کو ٹی ٹی پی کے ساتھ پاکستان میں لڑنے سے منع کیا گیا تھا، ٹی ٹی پی کے زیرِ اثر علاقوں میں اس پر عمل نہیں ہوا۔ کنڑ، ننگرہار، پکتیا، پکتیکا اور خوست میں ٹی ٹی پی کا عملی کنٹرول ہے جہاں وہ ٹیکس وصولی اور عدالتی نظام چلا رہی ہے۔

    ٹی ٹی پی نے ازبک، افغانی اور شام سے آئے جنگجوؤں کو بھی اپنی صفوں میں شامل کر رکھا ہے اور مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف جہاد پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ کابل حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر اس نے ٹی ٹی پی کے کنٹرول کو چیلنج کیا تو ملک دوبارہ کھلی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے

    ایمل ولی خان کے بطور سینیٹر انتخاب کے خلاف درخواست مسترد

    جنگ بندی معاہدے کے تحت 15 فلسطینی شہدا کی لاشیں منتقل

    لاہور ہائی کورٹ نے شوکت خانم ٹرسٹ کا مؤقف مسترد کر دیا

    چین نے امریکہ پر اضافی محصولات ایک سال کے لیے معطل کردیے

  • افغانستان،سیلاب سے 40 ہلاکتیں،1500 بچے بے گھر

    افغانستان،سیلاب سے 40 ہلاکتیں،1500 بچے بے گھر

    افغانستان کے مشرقی صوبوں میں مون سون بارشوں اور طوفان کی وجہ سے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، ننگرہار صوبے میں سیلاب اور طوفان سے 40 افراد ہلاک 450 شدید زخمی ہیں،سیو دی چلڈرن کے مطابق، مشرقی افغانستان میں حالیہ سیلاب سے کم از کم 1500 بچے بے گھر ہو گئے ہیں۔

    افغانستان کے صوبے ننگرہار کے مختلف اضلاع میں اس وقت سیلابی صورتحال کا سامنا ہے،سیو دی چلڈرن نے کہا ہے کہ حالیہ طوفانوں اور شدید بارشوں سے متاثرہ ننگرہار، کنڑ اور لغمان صوبوں کے اضلاع میں کم از کم 850,000 بچے رہتے ہیں۔ایجنسی کے مطابق سیلاب کے بعد کم از کم 1500 بچے بے گھر ہوئے ہیں،صوبہ ننگرہار میں کم از کم 400 گھر تباہ ہوئے ہیںَ،حالیہ مہینوں میں افغانستان میں اس قسم کے واقعات سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

    افغان میڈیا کے مطابق سیلاب کے باعث لوگوں کے مال مویشی کو بھی نقصان پہنچا ہے جب کہ کچھ دیہات مکمل طور پر سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔

    طالبان حکام کا کہنا ہے کہ ننگرہار میں سیلاب سے ہونے والی اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔طالبان کی وزارت صحت کے ترجمان شرافت زمان نے کہا کہ سیلاب اور طوفان نے لوگوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے ننگرہار کا ضلع سورخرود سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔طوفان سے بجلی کی لائنیں اور ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک تباہ ہو رہے ہیں۔ایک واقعے میں ضلع سورخرود میں مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 11 افراد جاں بحق ہوگئے۔لغمان، کنڑ، پنجشیر اور بدخشاں صوبوں میں بھی سیلاب آیا۔ کنڑ میں سیلاب سے پانچ افراد جاں بحق ہو گئے۔موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی اور شدید بارشوں نے کئی صوبوں میں تباہ کن سیلابوں کو جنم دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے مئی میں کہا تھا کہ بغلان میں سیلاب سے کم از کم 60,000 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

  • افغانستان پھربم دھماکوں سے گونج اٹھا:4 خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی

    افغانستان پھربم دھماکوں سے گونج اٹھا:4 خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی

    کابل:افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں بم دھماکے سے 4 خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکام نے بتایا کہ بم منی بس کے فیول ٹینک سے جوڑ دیا گیا تھا اور دھماکے میں 9 افراد زخمی ہوگئے.

    ہرات کے صوبائی ہسپتال کے سربراہ عارف جلال نے بتایا کہ جاں بحق افراد میں 4 خواتین بھی شامل ہیں منی بس پر بم دھماکے کی ہرات کے انٹیلیجنس دفتر کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے انٹیلی جنس دفتر کے ترجمان ثابت ہاروی کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے یہ دستی بم تھا اور مسافر بس کی فیول ٹینک سے جوڑ دیا گیا تھا.

    ہرات کی صوبائی پولیس اور محکمہ ثقافت نے بھی بم دھماکے کی تصدیق کی بم دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے تسلیم نہیں کی خیال رہے کہ افغانستان میں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی امریکا کی سربراہی میں نیٹوفورسزکی جنگ کے بعد گزشتہ برس اگست میں طالبان کی واپسی کے بعد واضح کمی آئی ہے تاہم کابل اور دیگر شہروں میں اس طرح کے حملے ہوتے رہتے ہیں.

    ملک بھر میں ہونے والے اکثر دھماکوں کی ذمہ داری دہشت گرد گروپ داعش کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے داعش افغانستان میں 2014 سے موجود ہے اور کئی بدترین حملے کرچکی ہے، جس میں ہزارہ برادری پر ہونے والے بدترین دہشت گردی کے واقعات بھی شامل ہیں.

    داعش کی جانب سے مسلسل ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور آج ہونے والا دھماکا بھی ہزارہ برادری کے اکثریتی علاقے میں بس اسٹیشن کے قریب ہوا ہرات افغانستان کا تیسرا بڑا شہر ہے، جو ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے لیکن حالیہ مہینوں میں پرامن رہا ہے.

    قبل ازیں 11 جنوری کو افغانستان کے صوبے ننگرہار میں بم دھماکے سے 9 بچے جاں بحق اور دیگر 4 زخمی ہوگئے تھے ننگرہار میں طالبان کے گورنر نے بتایا تھا کہ پاکستان کی سرحد کے قریبی مشرقی صوبے کے علاقے میں ایک بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 9 بچے جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے. .

  • افغانستان: ننگرہارمیں پھل فروش کےٹھیلےمیں دھماکا،9 بچےجاں بحق اور 4 شدید زخمی

    افغانستان: ننگرہارمیں پھل فروش کےٹھیلےمیں دھماکا،9 بچےجاں بحق اور 4 شدید زخمی

    کابل: افغانستان کے مشرقی علاقے میں زور دار دھماکے میں 9 بچے جاں بحق اور 4 شدید زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کے صوبے ننگرہار میں پھل فروش کا ٹھیلا اچانک دھماکے سے تباہ ہوگیا۔ درجن سے زائد بچے ٹھیلے والے سے پھل خرید رہے تھےدھماکے میں 9 بچے جاں بحق اور 4 شدید زخمی ہوگئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں دو زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

    پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد اور ٹی ٹی پی ترجمان محمد خراسانی افغانستان میں…

    ننگرہار کے گورنر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکا ریڑھی کے زمین میں دبے مارٹر شیل سے ٹکرانے کی وجہ سے ہوا۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ آس پاس کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

    دو دہائیوں سے جاری جنگ کے دوران افغانستان میں مختلف گروپوں نے بارودی سرنگوں کا جال بچھا دیا ہے جب کہ تباہ ہونے سے بچ جانے والے کئی مارٹر شیلز جگہ جگہ زمین تلے دبے ہوئے ہیں ایسی بارودی سرنگوں اور مارٹر شیل کا زیادہ شکار بچے ہوتے ہیں جو انھیں کھلونا سمجھ کر کھیلنے لگتے ہیں اور حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں۔

    گھر کے قریب سےکیوں گزرے؟ ملزمان نے شخص کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    واضح رہے کہ پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد محمد خراسانی افغانستان کے صوبے ننگرہار میں مارا گیا ہے پاکستان کو انتہائی مطلوب کالعدم ٹی ٹی پی کا دہشتگرد محمد خراسانی آخر کار اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے دہشت گرد محمد خراسانی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا ترجمان تھا جس کا اصل نام خالد بلتی تھا دہشت گرد محمد خراسانی میران شاہ میں دہشت ردی کا مرکز چلا رہا تھا تاہم آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی کے بعد محمد خراسانی افغانستان بھاگ گیا محمد خراسانی شاہد اللہ شاہد کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کا ترجمان بنا۔

    ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی

    دہشت گردمحمد خراسانی پاکستان کے معصوم عوام اور سکیورٹی فورسز پر حملوں اور کارروائیوں میں ملوث تھا، کالعدم ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں کومتحد کرنے میں مصروف تھا اور وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا محمد خراسانی نے حال ہی میں پاکستان کے اندر مختلف کارروائیوں کا بھی اشارہ دیا تھا۔

    روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے