Baaghi TV

Tag: نوائے وقت

  • راولپنڈی و اسلام آباد روزنامہ نوائےوقت قارئین تک نہ پہنچ سکا ،وجہ سامنے آگئی.

    راولپنڈی و اسلام آباد روزنامہ نوائےوقت قارئین تک نہ پہنچ سکا ،وجہ سامنے آگئی.

    اسلام آباد:پاکستان کا سب سے مقبول ترین اخبار روزنامہ نوائے وقت کا آج کا ایڈیشن راولپنڈی و اسلام آباد کے قارئین تک نہ پہنچ سکا.باغی ٹی وی کوموصول اطلاعات کے مطابق آج 17 ستمبر کا روزنامہ نوائے وقت شائع ہوالیکن قارئین تک نا پہنچ سکا کیونکہ نوائے وقت آفس اسلام آباد کے باہر نوائے وقت ورکرز کو تنخواہیں نا ملنے پر صحافتی تنظیموں کا صدرپریس کلب شکیل قرار کی قیادت میں احتجاج جاری تھا ،جس کے نتیجہ میں ورکرز اور احتجاج کرنے والے ورکرز نے نوائے وقت اخبار کو دفتر سے باہر نا نکلنے نا دیا .تفصیلات کے مطابق ایڈیٹر رمیزہ مجید نظامی نے اسلام آباد پولیس سے اس سلسلہ میں رابطہ کیا لیکن صحافیوں کے آگے وہ بھی کچھ نا کرسکی .اسلام آباد پریس کلب کے ممبر نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ جہاں تک مجھے نظر آرہاہے نوائے وقت کے ان ورکرز کو اگر اب بھی تنخواہ نا دی گئی تو یہ اخبار یہاں سے مستقل نکلنا بندہوجائے گا .اس حوالے سے سینئر صحافی جبار مرزا نے کہاکہ اسلام آباد میں آج روزنامہ نوائے وقت شائع نا ہوسکا ،یہ آزادی کشمیر کا علمبردار ،پاکستان کا نظریاتی اخبار ،قائد اعظم کے ہمدم دیرینہ جناب حمیدنظامی صاحب کی شبانہ روز محنت کا ثمر ،سازش کے تحت دیوار سے لگادیا گیاانہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ نوائے وقت سے رہنمائی لی.یادرہے نوائے وقت کا آغاز 23 مارچ 1940 کو ہوا۔ پہلے یہ ہفت روزہ تھا بعد میں روزنامہ میں تبدیل ہو گیا۔ اخبار کی بنیاد حمید نظامی نے رکھی ،ان کی وفات کےبعد ان کےبھائی مجید نظامی مرحوم اس کو سنبھالتے رہے . 26 جولائی، 2014 کو ان کی وفات کے بعد نوائے وقت ان کی لے پالک بیٹی رمیزہ مجید نظامی کے ہاتھوں میں منتقل ہوگیا اور ان کے آنے کے بعد نوائے وقت کے حقیقی ورثاء کو نوائے وقت سے نکال دیا گیا .اس دن سے نوائے وقت زوال کا شکار ہورہا ہے

  • ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ملاحظہ کیجئے
    پاکستان کے سب سے
    پہلے نظریاتی اخبار "نوائے وقت” میں انگریزی غلامی میں لتھڑی ہوئی یہ تحریر! ” اس قوم پر رحم کریں”
    فاضل کالم نگار اکرم چوہدری یا تو انتہائی جاہل مطلق ہے’ جنہیں نہ نفسیات کا علم ہے ‘ نہ اقوام متحدہ کے منشور کا علم ہے جو چیخ چیخ کر اعلان کرتا ہے کہ بچے کو ابتدائی تعلیم اس کی مادری اور رابطے کی زبان میں دو۔ پرائمری تعلیم کا مقصد صرف اور صرف طلباء کو اپنی مقامی آبادی سے رابطے کے قابل بنانا ہے بعد میں جس کے ارتقاء میں وہ پورے ملک اور پوری دنیا سے رابطہ کرنے کی اہلیت حاصل کرسکتا ہے ۔
    خود موصوف کالم نگار کے دوغلے پن اور غلامانہ روئیے کا اندازہ یہاں سے لگائیے کہ وہ انگریزی کے حق اور اردو کے خلاف اپنے دلی جذبات کا ظہار خود اردو میں کررہے ہیں۔ یا تو وہ انگریزی کا مقدمہ انگریزی میں لڑنے کی اہلیت سے محروم ہیں یا پھر انہیں پتا ہے کہ ” سودا پاکستان میں صرف اردو ہی میں بکتا ہے”
    حیرت ہے کہ موصوف نہ تو سائنسدان ہیں ‘ نہ ماہر تعلیم ہیں’ نہ ہی فطرت اور تعلیمی نفسیات سے واقف ہیں لیکن انگریزی زریعہ تعلیم کء حق میں سر کھپائی یوں کر رہے ہیں۔ جیسے علم و دانش کا سمندر ہو!
    معزز کالم نگار ! اپ پرائمری تعلیم کو انگریزی میں کرنے کا یہ مشورہ چین ‘ فرانس ‘ ایران’ ترکی’ کوریا’ جرمنی کے سر براہوں کو بھی بھیجیں ۔ اور وہاں سے جو جواب موصول ہو اس سے قوم کو بھی اگاہ کریں ۔
    قوم کو بہتر سال سے پاکستان میں انگریزی دن رات مسلط ہے
    مقابلے کے امتحان ‘ عسکری امتحان’ عدالت کی زبان ‘ سرکار کی زبان ‘ زریعہ تعلیم سب ” بین الاقوامی” زبان میں!
    یہ بتائیے کہ پاکستان نے اج تک کتنی ترقی کی ہے؟
    ویسے افسوس تونوائے وقت پر ہے جس نے مجید نظامی مرحوم کے انکھیں بند کرتے ہی ان کے نظرئیے سے نوے ڈگری کا انحراف کرلیا۔ کاش مجید نظامی مرحوم اپنا جانشین اپنی ہی طرح کا کسی نظریاتی پاکستانی کو بنا کر جاتے ! اے کاش !
    اے کاش!
    لارڈ میکالے کے اصلی اور کھرے غلاموں! تم اس قوم پر رحم کرو!
    انگریزی کی مالا جپنے کے لئے تم پاکستان سے نکل جاؤ! وہاں جاکر اس کی رطب اللسانی اور اہمیت کے گن گاو جن ملکوں کی یہ زبان ہے!
    انگریزی کی غلامی کا پرچار کرنا توہین عدالت
    توہین ائین
    توہین پاکستان
    توہین عوام ہے!