Baaghi TV

Tag: نواز

  • ‘بلاول اور نوازکی سیاسی مقبولیت کا کیا حال ہے؟فواد چوہدری نےبتادیا

    ‘بلاول اور نوازکی سیاسی مقبولیت کا کیا حال ہے؟فواد چوہدری نےبتادیا

    اسلام آباد:’بلاول اور نوازکی سیاسی مقبولیت کا کیا حال ہے؟فواد چوہدری نےبتادیا ،اطلاعات کے مطابق فواد چودھری نے بلاول اور نواز شریف کی ملاقات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کی سیاسی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ پاکستان تو بھول جائیں لندن میں بھی گارڈز کے بغیر باہر نہیں نکل سکتے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ریسٹورینٹس ٹیبلز پر گارڈ بٹھانے پڑتے ہیں کہ کوئی پاکستانی ہوا تو وہ جوتا نہ مار دے اور یہ لندن میں پاکستان کا اگلا سیٹ آپ ڈسکس کر رہے ہیں۔

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ چوں چوں کا مربع حکومت نے عمران خان پر سب سے بڑے دو الزام عائد کئے ہیں، انھوں نے گھڑی خریدی اسے بیچ کر بنی گالہ کی سڑک بنوائی اور دوسرا ہیلی کاپٹر سے روز دفتر آتے تھے، ان دو الزامات سے اندازہ لگا لیں عمران خان نے کس قدر شفاف اور جوابدہ حکومت کی بنیاد رکھی۔

    پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ الزام لگانے والوں میں ذرا سی بھی شرم ہوتی وہ ایسی باتیں نہ کرتے، بہرحال اب عمران آپ کے گٹے گوڈوں میں بیٹھ گیا ہے الیکش کراؤ اور گھر جاؤ۔

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی

  • بلاول بنو گے؟ نہ بھئی نہ !! پی ٹی آئی کے نئے ترانے نے دھوم مچادی:نوجوانوں نے انکارکردیا

    بلاول بنو گے؟ نہ بھئی نہ !! پی ٹی آئی کے نئے ترانے نے دھوم مچادی:نوجوانوں نے انکارکردیا

    لاہور : بلاول بنو گے؟ نہ بھئی نہ !! پی ٹی آئی کے نئے ترانے نے دھوم مچادی:نوجوانوں نے انکارکردیا،اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے زیر اہتمام مینار پاکستان کے اقبال پارک میں ہونے والے کامیاب جلسے نے نئی تاریخ رقم کردی، ایک پارٹی ترانے نے سب کو جھومنے پر مجبور کردیا۔

    لاہور جلسے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی آمد پر شرکاء سب سے زیادہ پرجوش دکھائی دیئے، مختلف ترانے اور ملی نغمے بھی ان کا لہو گرما رہے تھے۔

    ایسے میں اسٹیج پر ایک گلوکار کی جانب سے نیا پارٹی ترانہ گایا گیا جسے اس سے پہلے کسی جلسے میں نہیں سنایا گیا سن کو لوگوں میں اور بھی جوش اور ولولہ پیدا ہوا۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=UdlG6Ie6tHU

    جیسے ہی گلوکار نے "لیڈر ہو تو ہو ہمارے خان جیسا” گانا شروع کیا تو وہاں موجود شرکاء میں بجلی سی دوڑ گئی اور سننے والے اس ترانے کے بول دل لگا کر سنتے رہے۔

    جب گلوکار اس شعر پر پہنچا کہ "بلاول بنو گے نہ بھئی نہ، نواز بنو گے نہ بھئی نہ، لیکن جیسے ہی گلوکار نے کہا عمران بنو گے تو پنڈال میں موجود ہر شخص بولا ، ہاں بھئی ہاں، پی ٹی آئی کے جلسے میں اس منفرد گانے پر شرکاء جھومتے رہے۔

  • شہباز شریف وزیراعظم کی طرف سےامریکہ کا نام لینے پرناراض ہوگئے

    شہباز شریف وزیراعظم کی طرف سےامریکہ کا نام لینے پرناراض ہوگئے

    اسلام آباد:شہباز شریف وزیراعظم کی طرف سےامریکہ کا نام لینے پرناراض ہوگئے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان کو ملک کے لئے سکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران نیازی اقتدار بچانے کے لئے پاکستان کو نشانے پر لے آئے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خطاب ختم ہوگیا ہو تو 172 ارکان پورے کریں، آپ کی کرپشن، نالائقی اور نااہلی نے ملک کو معاشی، سماجی، خارجہ تباہی سے دوچار کیا، عمران نیازی کی تقاریر پر پابندی لگائی جائے، وہ ملک کے سفارتی تعلقات تباہ کرنے کے درپے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آج کے خطاب تک عوام اور پارلیمنٹ کو خط نہیں دکھایا گیا، صرف مندرجات بتائے جا رہے ہیں، خط نہ دکھانے کا مطلب ہے کہ کوئی خط نہیں، عمران نیازی ہمیشہ کی طرح اب ایک نیا جھوٹ بول رہے ہیں، کرپشن، ریاست مدینہ کے بیانیوں کے بعد اب سازشی خط کا بیانیہ لائے ہیں، عوام انہیں اور ان کے ہر جھوٹ کو مسترد کر چکے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر کا کہنا تھا کہ دوگھنٹے جلسے میں اور ایک گھنٹہ قوم سے خطاب میں جس خط کا ذکر کیا، وہ خط ہے ہی نہیں، ایک سفارتی کیبل کو سازش کا رنگ دے کر پیش کیا جارہا ہے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ن لیگ ، پی پی اور فضل الرحمن کے دور میں امریکی پاکستانیوں کوڈرون حملوں مارتے تھے اور یہ پاکستانیوں کے قتل عام پرخاموش رہتے تھے بلکہ ان کو کوئی پرواہ تک نہیں ہوتی تھی ، یہ بیان سُن کرشہبازشریف جزباتی ہوگئے اور پھراس قسم کے الزامات کا سلسلہ شروع کردیا

    اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب پر ردعمل دیا اور لکھا کہ یہ ہر روز ثابت کرتا ہے کہ یہ اس کرسی کے قابل نہیں تھا۔

  • منی لانڈرنگ کرنےوالوں کوچھپنےکی جگہ نہیں ملےگی:برطانوی وزیراعظم کااعلان نوازشریف پریشان

    منی لانڈرنگ کرنےوالوں کوچھپنےکی جگہ نہیں ملےگی:برطانوی وزیراعظم کااعلان نوازشریف پریشان

    لندن:منی لانڈرنگ کرنے والوں کو برطانیہ میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی:برطانوی وزیراعظم کااعلان نوازشریف پریشان ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے منی لانڈرنگ کے خلاف بڑا اعلان کر دیا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے اکنامک کرائمز بل میں ترمیم کا فیصلہ کر لیا ہے۔ فیصلہ روسی امیر طبقے پر پابندیوں میں سست روی کے الزامات کے بعد کیا گیا ہے۔ ترمیمی بل یورپی یونین اور امریکا کی طے سزاؤں کے تحت تیار کیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کو برطانیہ میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، یہ اقدامات برطانیہ کی سرزمین پر منی لانڈرنگ کرنے کی کوشش کرنے والے مجرم اشرافیہ پر دباؤ بڑھائے گا۔

    سینیئر کنزرویٹو ٹام ٹوگن ہاٹ نے کہا کہ انھیں ’بہت تشویش’ ہے کہ پابندیاں عائد کرنے میں تاخیر ان لوگوں کو اس دولت کو کہیں اور چھپانے کا موقع دے سکتی ہے جو انھوں نے گزشتہ 20 سال سے روسی عوام سے چوری کر کے یہاں چھپائی تھی۔انھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام میں کہا کہ یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہو گا۔

    امید کی جا رہی ہے کہ اس بل کو جسے تمام جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، پیر کو پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔اپنی ترامیم کا خاکہ پیش کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ ’مناسبت کے ٹیسٹ‘ کو ہٹا دیا جائے گا جو اس طرح کے افراد پر پابندیاں عائد کرتے وقت پورا کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔

    یہ غیر ملکی کمپنیوں کے لیے اپنے حقیقی مالکان کا اعلان کرنے کی آخری مہلت کو بھی 18 ماہ سے چھ ماہ تک کم کر رہا ہے۔ اس اصول کی تعمیل نہ کرنے پر جرمانہ 500 پاؤنڈ یومیہ سے ڈھائی ہزار پاؤنڈ یومیہ کر رہا ہے۔توقع ہے کہ اس ماہ کے وسط تک یہ بل قانون بن جائے گا۔

    اس کے ساتھ ساتھ بورس جانسن نے کہا کہ برطانیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر زبردست دباؤ مسلط کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا، جب تک یہ جارحیت بند نہیں ہو جاتی ہم پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور مزید پابندیاں عاید کریں گے۔

  • "تدبیراں دےچارےنئہیں چلدے؛جدوں تیروجےتقدیراں دا”  مریم نےجس ٹرک کی تصویرشیئرکی وہ بھی چوری کانکلا

    "تدبیراں دےچارےنئہیں چلدے؛جدوں تیروجےتقدیراں دا” مریم نےجس ٹرک کی تصویرشیئرکی وہ بھی چوری کانکلا

    لاہور:”تدبیراں دے چارے نئہیں چلدے؛جدوں تیروجے تقدیراں دا”مریم نوازنےجس ٹرک کی تصویرشیئرکی وہ بھی چوری کانکلا‘ اطلاعات کے مطابق مریم نواز نے جس ٹرک کی تصویر اپ لوڈ کی تھی وہ ٹرک VGR 306 بھی چوری کا نکلا.

    وزیراعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا اظہر مشوانی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مریم نواز کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لو! چوراں دا ٹبر..اظہر مشوانی نے ساتھ ہی وہیکل ویری فیکیشن کی تصویر بھی شیئر کی.

     

     

    واضح رہے کہ مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے گزشتہ روز والد میاں محمد نواز شریف کے ٹرک آرٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے دلچسپ کیپشن لکھا۔ مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر والد کے ٹرک آرٹ کی تصویر شیئر کی اور ساتھ سرائیکی گانے کی مشہور لائن بھی لکھی۔

     

     

     

    مریم نواز کی جانب سے شیئر کیے جانے والے ایک ٹرک آرٹ میں نواز شریف زندہ باد کے ساتھ سرائیکی گانے’پِچھاں مُڑ وے ڈھولا تیری لوڑ پے گئی‘ لکھا دکھائی دے رہا ہے۔مریم نواز نے سرائیکی کے مشہور گانے کی یہ لائن ہی اپنے ٹوئٹ میں تحریر کی جس کا مطلب ہے ’واپس آجائیں اب آپ کی ضرورت پیش آگئی ہے۔‘

    خیال رہے کہ طاہر نیر کی آواز میں گایا گیا یہ گانا آج کل تیزی سے مشہور ہورہا ہے، اس گانے کے کمپوزر اکرم راہی ہیں جب کہ لیرکس قیصر تارڑ نے لکھے ہیں۔خیال رہے کہ مریم نواز ٹوئٹر پر اکثر و بیشتر والد سے محبت کا اظہار کرتی رہتی ہیں اور پاکستان میں لیگی کارکنان کی جانب سے محبتوں کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر بھی کرتی رہتی ہیں۔

    یہ بھی یاد رہےکہ مریم نوازحقیقت ، سچ اورفطرت کے خلاف مسلسل سازشوں کا جال پھیلانے میں مصروف ہیں ، پیڈ میڈیا اورپاکستان مخالف قوتوں کی مدد سے رائے عامہ کوگمراہ کرنے کی سرتوڑ کوششیں کررہی ہیں لیکن "خدا کی کرنی”مریم نواز اور اس سوچ کے ہم نواوں کی تمام تدبیران بُری طرح‌ ناکام اور نامراد ہوجاتی ہیں

    مریم نوازسچ ، حقیقت اور فطرت کوچپھانے اوران کے مقابلے میں جعلی سازی ،فیک اور خود ساختہ افسانوں کے مقدر میں رسوائی ہے اور یہ جعل سازی کی ساری کوششیں ناکام ہوتی ہیں ، اس سوچ،منفی کردار اور غلط طرزمعاشرت کے بارے میں‌ ایک حقیقی اور عقیدہ توحید پر مبنی یہ اصول ہے کہ "تدبیراں دے چارے نئہیں چلدے؛جدوں تیروجے تقدیراں دا”

  • شریف فیملی چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے:شہباز گل کا دعویٰ

    شریف فیملی چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے:شہباز گل کا دعویٰ

    فیصل آباد :شریف فیملی حکومت سے چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے:شہباز گل کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق جن چارافراد کی ڈیل مانگی گئی ہے، ان میں شہبازشریف، ان کا بیٹا، نوازشریف اوران کی بیٹی شامل ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل نے دعویٰ کیا ہے کہ شریف فیملی حکومت سے چار لوگوں کی ڈیل مانگ رہی ہے تاکہ یہ لوگ ملک سے باہر جا سکیں۔

    فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو میں شہباز گل کا کہنا تھاکہ ڈیل مانگی جارہی ہے کہ شہبازشریف،مریم کوبھی باہرجانے دیا جائے، شاہد خاقان یہاں رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ جن چارافراد کی ڈیل مانگی گئی ہے، ان میں شہبازشریف، ان کا بیٹا، نوازشریف اوران کی بیٹی شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ آپ کو ڈیل اور ڈھیل جتنی میسرآنی تھی آگئی، شریف فیملی کو ڈیل نہیں ملے گی، آپ کے سامنے عمران خان کھڑا ہے، ہم آپ کوابلا ہوا آلونہیں دیں گے، آپ چکن برگرمانگ رہے ہیں، آپ کوڈیل ملنے والی نہیں آپ کے مقدر میں گالیاں دینا اورکھانا لکھا ہوا ہے۔

    معاون خصوصی کا کہنا تھاکہ احتساب ہوگا اور جلد ہی شہباز شریف سلاخوں کے پیچھے ہوں گے، چپراسیوں کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے کہاں سے آئے اس کا جواب دینا پڑے گا۔

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ چاروں شریف سیاست سے مائنس ہیں، اپوزیشن شکست کھائے گی، عمران خان 5 سال پورے کریں گے۔

    راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں چلے گی، پہلے شاید ڈھیل کی بات تھی اب ڈھیل بھی نہیں ہو گی۔ اپوزیشن اندھی وہیل مچھلیوں کی طرح ان ہاؤس تبدیلی کے خواب دیکھ رہی ہے، ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا، عدم اعتماد لائے تو اپوزیشن کے 12 کے بجائے 25 ارکان کم ہوں گے۔ جو لوگ بیمار ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں، حقیقت میں بیمار ہو جاتے ہیں۔ شہبازشریف عمران خان کیلئے ڈراونا نہیں سہانا خواب ہیں۔

    شیخ رشید نے کہا کہ دنیا کورونا کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے ، کم وسائل کے باوجود الحمد للہ بہتر انداز سے کورونا اور دیگر وائرسوں سے نبرد آزما ہیں ،

    شیخ رشید نے کہا کہ یہ عمران خان کے دشمن بھی کہتے ہیں کہ عمران خان اپنی ذات کےلیے نہیں بلکہ ملک وقوم کے لیے سارے طعنے ، بغض اور مخالفتیں برداشت کررہا ہے ، یہ بھی سب جانتے ہیں کہ وہ ایک مخلص لیڈر ہے اس لیے امید ہے کہ وہ یہ پانچ آرام سے پورے کریں گے اور پھر انشااللہ آگے ایک نئے انداز سے حکومت کےلیے میدان میں اتریں‌ گے

  • ضمنی ترامیمی بل پراپوزیشن کوشکست پرشکست:لندن میں زلزلہ:چھوٹےمیاں‌ کی ڈیل پربڑے میاں بیمار

    ضمنی ترامیمی بل پراپوزیشن کوشکست پرشکست:لندن میں زلزلہ:چھوٹےمیاں‌ کی ڈیل پربڑے میاں بیمار

    اسلام آباد:سابق اسپیکرکی بولتی بند:ضمنی ترامیمی بل پراپوزیش کو شکست پرشکست:لندن میں زلزلہ ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کی گیڈربھبکیاں اس وقت دم توڑ گئیں جب قومی اسمبلی میں کپتان کے وفادار کھلاڑیوں نے لندن والوں کی خواہشات پرپانی پھیردیا،

    ادھر اطلاعات کے مطابق آج جب قومی اسمبلی میں کپتان کے کھلاڑیوں نے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپوزیشن کی تمام سازشوں کو مسل دیا تو سُنا ہے کہ لندن میں سیاسی شکست نے زلزلہ برپا کردیا ہے ، جس پر میاں نوازشریف کی طبعیت خراب ہوگئی ہے

    دوسری طرف مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ میاں شہبازشریف کی طرف سے حکومت کودرپردہ حمایت حاصل تھی جو کہ ہراہم موقع پر پہلے بھی ملتی رہی ہے ،

    اسلام آباد سے اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن راستہ روکنے میں ناکام ہو گئی، ضمنی مالیاتی بل پر اپوزیشن کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

    قومی اسمبلی ایوان اس وقت 342 ارکان پر مشتمل ہے، حکومت کے پاس 182 ارکان جبکہ اپوزیشن کے پاس 160ارکان ہیں، اپوزیشن کے 12 اور حکومت کے 12 ارکان ایوان سے غیر حاضر ہیں۔ حکومت کو اس وقت ایوان پر 18 ارکان کی برتری حاصل ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔ ان کی آمد پر ارکان اسمبلی نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا جبکہ اپوزیشن نے وزیراعظم کیخلاف نعرے لگائے۔

    اجلاس کے دوران ضمنی بجٹ پر پیپلز پارٹی نے ترمیم پیش کی جبکہ سپیکر نے ترمیم پر زبانی رائے شماری دی جسے اپوزیشن نے چیلنج کیا، سپیکر کی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کو کھڑے ہونے کی ہدایت کی، سپیکر کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کی ترمیم پر گنتی کی گئی ہے۔ ترمیم کےحق میں 150 جبکہ مخالفت میں 168 ووٹ پڑے۔

    اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ شوکت ترین بتائیں منی بجٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی،

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ شاہد خان عباسی اور دیگر اراکین نے پوچھا کہ یہ بل کیوں لے کر آ رہے ہیں تو میں انہیں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں جب آئی ایم ایف سے مذاکرات کررہا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ ان پٹ اور آؤٹ پُٹ کو میں توازن لائیں، اگر آپ نہیں کرے گیں تو جی ایس ٹی پورا نہیں ہو گا، ہم اس کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری 18 سے 20 ٹریلین کی ریٹیل سیلز ہیں، اس میں سے صرف ساڑھے تین ٹریلین کو دستاویزی شکل دی جاتی ہے، جب بھی دستاویزی شکل دینے کی بات کی جاتی ہے تو شدید واویلا مچ جاتی ہے کیونکہ سب نے بندر بانٹ کی ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 343ارب میں سے 280ارب ری فنڈ ہوجانا ہے اور بقیہ صرف 71 ارب رہ جاتا ہے تو یہ ٹیکس کا طوفان نہیں بلکہ اس کو دستاویزی شکل دینا ہے لیکن اس سے سب بھاگتے ہیں کیونکہ ان کی آمدن کو دستاویزی شک دی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں آمدن اور کھپت پر ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن یہاں انکم پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا اور وہ اس لیے نہیں ہورہا کیونکہ یہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آ رہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ انہوں نے کیا طوفان مچایا ہوا ہے کہ غریب کو کیا ہو جائے گا، یہ دودھ اور ڈبل کی بات کررہے ہیں لیکن ہم نے ان پر سے ٹیکس ختم کردیا ہے، ہماری حکومت تو صرف تین سال سے ہے، پچھلے 70سال سے کیا ہوا ہے، جی ڈی پی کی مناسبت سے ٹیکس کب 18 سے 19فیصد پر گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم ٹیکس کو 18 سے 19 فیصد نہیں کریں گے اس وقت تک چھ سے آٹھ شرح نمو نہیں دکھا سکتے، یہ سب جانتے ہیں لیکن شتر مرغ بنے ہوئے ہیں۔

    اجلاس میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کیوں جاری نہیں ہوئے، اپوزیشن نے مشترکہ طور پر پروڈکشن آرڈر کیلئے درخواست دی تھی، آپ نے وزیرستان کو ایوان میں حق سے محروم رکھا۔

    احسن اقبال اور اسپیکر اسد قیصر میں ایوان میں گنتی کے معاملے پر بحث ہوئی لیکن اسپیکر قومی اسمبلی نے دوبارہ گنتی کرانے سے انکار کردیا۔

    احسن اقبال دیگر اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو ووٹنگ کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا البتہ وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کردہ ترمیم منظور کر لی گئیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیرخزانہ کہتے ہیں کیوں اتنا شورہورہا ہے، شوکت ترین کو خود سمجھ نہیں آرہی کہ مہنگائی کیوں ہو رہی ہے، وہ خود کو کراچی کا نمائندہ کہتے ہیں، وزیرصاحب کراچی میں گھومیں اورعوام سے اس منی بجٹ بارے پوچھیں، عوام سے پوچھیں وہ کیوں شور مچا رہے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ ہم نے یہ ترمیم پاکستان میں کاروبار اور صنعتی ریل پیل کو بڑھانے کے لیے تجویز کی ہے، کسٹمز ایکٹ پہلے بینک گارنٹی دی جاتی تھی لیکن اب اس کی جگہ کارپویٹ گارنٹی مانگ رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ امپورٹر کے کیش فلو پر اثر پڑے گا۔

    اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا تنویر نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بنیاد ٹھیک کررہے ہیں لیکن یہ کیسی بنیاد ٹھیک کررہے ہیں جو اپوزیشن اور حکومت دونوں میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہی۔

    سابق سپیکر ایاز صادق نے بھی ووٹنگ نہ کرناے پر اعتراض کیا جس پر سپیکر نے جواب دیا کہ آپ کے دور کا ریکارڈ بھی نکال لیں گے تاہم وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ سپیکر تھے تو آپ نے کئی مرتبہ ووٹنگ کو بلڈوز کیا لہٰذا اسپیکر صاحب آپ رولنگ دیں، ان کا کام وقت ضائع کرنا ہے، جس پر سابق اسپیکر کی بولتی بند ہوگئی ہے

  • سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ سٹیٹمنٹ جاری کی جائے:عوام

    سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ سٹیٹمنٹ جاری کی جائے:عوام

    مری :سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ سٹیٹمنٹ جاری کی جائے:عوام نے حکومت وقت سے تحقیقات کا مطالنبہ کردیا ،اطلاعات ہیں کہ سانحہ مری کی ذمہ دارموجودہ مری انتظامیہ نوازشریف دورحکومت سے بڑی طاقتور اور خودمختارانتظامیہ ہے جس کے بڑے بڑے عہدوں پرتبادلے اور تقرریاں نوازشریف،مریم نواز اورشہبازشریف کی خواہش پر کئے گئے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ موجودہ حکومت نے اس انتظامیہ کی مری اور مضافات کے علاقوں میں گرفت کو کنٹرول کرنے کی بڑی کوششیں کی مگراس دوران بڑے بڑے لوگوں نے اس کوشش کو بریک لگائے رکھی یا پھرگھوم گھما کے وہی لوگ مختلف علاقوں میں تعینات کرواتے رہے اور اس میں پنجاب حکومت کی اپنی بھی غلطی اورسُستی ہے کہ وہ اس لابنگ کو سمجھ نہ سکی ،

    ادھر جب سے سانحہ مری رونما ہوا ہے اس وقت سے سوشل میڈیا پر ایک سوال بڑی تیزی سے گردش کررہا ہے ،جس میں عوام پوچھ رہےہیں کہ بار بار مری انتظامیہ کی بات ہورہی ہے ہے پہلے یہ تو بتایا جائے کہ یہ مری انتظامیہ کیا چیز ہے ، اس انتظآمیہ کے شعبے کون کون سے ہیں اور ان اداروں کے سربراہان کون ہیں اور ان کو کن کی خواہش پر وہاں تعینات کیا گیا

     

    اس حوالے سے عوام الناس خصوصا مری ، ہزارہ اورایبٹ آباد ، گلیات اور دیگرعلاقوں کے لوگ اپنے سوشل میڈیا پیجز پریہ رونا رو رہے ہیں کہ یہ وہی پرانی انتظآمیہ ہے سوائے چندنئے لوگوں کے جن کونوازشریف ، مریم نواز اور شہبازشریف کی خواہش پرتعینات کیا گیا تھا اور آج بھی وہی ان علاقوں میں بااختیار اور بااثرہیں

    بعض نے بڑے دعوے کے ساتھ لکھا ہے کہ مری انتظآمیہ میں 80 فیصد سے زائد موجودہ اور سابق ن لیگی وزرا ، ارکان اسمبلی اور دیگربااثرشخصیات کی خواہش پر تعینات ہیں اور وہ اپنے محسنوں کے وفادار بھی ہیں‌

    دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نااہلی کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے جس کو آج تک یہ اندازہ نہ ہوسکا کہ مری انتظامیہ ایک خاص فکراورایک خاص گروہ سے تعلق رکھتی ہے

    ادھر اسی حوالے سے ایک اہم شخصیت نے فیس بک پرایک اشارہ دیا ہے جوکہ بہت اہم ہے ،یہ ہیں ظفر حجازی جوکہ کہتےہیں کہ مری انتظامیہ میں وہی ہیں جو ایوان اقتدار میں بیٹھے ہیں اور ان کا ہی یہاں ہولڈ ہے اوراثر ہے ، مری انتظآمیہ میں شامل انہیں میں سے کسی کے بھتیجے ، بھانجے،بیٹے اوربہت قریبی وفادار ہیں جواس وقت مری پرقابض ہیں اور اپنی بے رحمانہ طرز زندگی سے لوگوں کو مار ررہے ہیں

    عوام الناس کا کہنا ہے کہ حکومت ساری مری انتظامیہ کی جاب ہسٹری اور سٹیٹس قوم کے سامنے لائے

  • صحافیوں کےخلاف نفرت،سازش اورکردارکشی ناقابل برداشت،قابل مذمت:پرویزرشیدمعافی مانگیں:رانا عظمیم

    صحافیوں کےخلاف نفرت،سازش اورکردارکشی ناقابل برداشت،قابل مذمت:پرویزرشیدمعافی مانگیں:رانا عظمیم

    لاہور:صحافیوں کےخلاف نفرت،سازش اوران کی کردارکشی ناقابل برداشت:پرویزرشید دیگرہمنواوں کی پُرزورمذمت کرتے ہیں:اطلاعات کے مطابق پی ایف یو جے کے صدر جی ایم جمالی اور سیکرٹری جنرل رانا محمد عظیم نے مسلم لیگ ن کے نائب صدر پرویز رشید کی جانب سے سینئر صحافیوں کے بارے تضحیک آمیز کلمات ادا کرنے کی شدید مزمت کی ہے

    راناعظیم کہتےہیں‌کہ پاکستان کی پوری صحافی برادری نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے اس غیر اخلاقی عمل پر پوری صحافی برادری سے معافی مانگیں۔

     

     

    رانا عظیم نے کہا کہ پرویز رشید اور مریم نواز کی آڈیوز لیک سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے سینئر صحافی مظہر عباس اورحسن نثار کو تضحیک آمیزالقابات سے نوازا اور کہا کہ وہ ایک نجی چینل کے پروگرام میں ان کی سیاسی جماعت اور قیادت بارے غلط تبصرے اورگالم گلوچ کرتے ہیں۔

    پی ایف یو جے لیڈرشپ نے کہا ہے کہ ان سینئر صحافیوں کی تحریر اور تبصرے سے اختلاف رکھنا آزادی اظہار ہے اور سیاسی جماعتوں کو حق ہے کہ صحافیوں کی رائے اور تبصرے کی نفی کریں یا اسے مسترد کریں مگر کسی جماعت, تنظیم یا حکومت وقت کو یہ حق نہیں کہ وہ صحافیوں کو گالیاں دینا شروع کردیں-

    رانا عظیم نے کہا کہ پاکستان کی تمام صحافی برادری خصوصا پی ایف یو جے نے سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوی طور پر اپنے اس غیر اخلاقی رویہ پر معافی مانگیں ورنہ ان کے خلاف باقاعدہ احتجاج کیا جائے گا۔

  • ضامن بھی چورکا اہم راز نکلا :نواز شریف وطن واپس نہ آئے، حکومت کا شہباز کیخلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ

    ضامن بھی چورکا اہم راز نکلا :نواز شریف وطن واپس نہ آئے، حکومت کا شہباز کیخلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ

    لاہور:ضامن بھی چورکا اہم راز نکلا :نواز شریف وطن واپس نہ آئے، حکومت کا شہباز کیخلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی لندن سے وطن واپس نہ آنے کے معاملے پر پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف علاج کی غرض سے نومبر 2019ء کو برطانیہ روانہ ہوئے تھے اور تاحال واپس نہ آ سکے، ان کی برطانیہ جانے سے متعلق پاکستان مسلم لیگ ن کےصدر میاں محمد شہباز شریف نے عدالت میں گارنٹی دی تھی۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف وطن واپسی کے معاملے پر وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کیخلاف عدالت سےرجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت شہباز شریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے سابق وزیراعظم کی وطن واپسی کی ضمانت دی تھی، نواز شریف کے واپس نہ آنے پر شہباز شریف کے خلاف کاروائی کی درخواست کی جائیگی۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی واپسی کے لیے عدالتوں کو خود نوٹس لینا چاہیے تھا، شہبازشریف نے نوازشریف کی وطن واپسی کی عدالت میں ضمانت دی تھی، نوازشریف کوکہا تھا کہ جرمانہ ادا کریں اورعلاج کے لیے باہرچلے جائیں، نوازشریف کوواپس لانے کے لیے 10 دن تک عدالت یاد دہانی کے لیے جارہے ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ چند روز سے مسلم لیگ ن کی طرف سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم جلد واپس آ جائیں گے، سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا تھا کہ آئندہ ماہ لندن جاؤں گا اور نواز شریف کو واپس لے کر آؤں گا۔

    آج میڈیا سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات نے اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ن لیگ والے نہیں بلکہ ہم مسلم لیگ ن کے قائد کو وطن واپس لائیں گے کیونکہ حکومت ملزمان کی حوالگی سے متعلق برطانیہ سےبات کر رہی ہے۔