بھٹو شہیداور نوازشریف نے ملکی دفاع ناقابل تسخیر بنا یا
دونوں شخصیات نے ملک سنوار دیا،آج کی سیاست میں صرف منافقت رہ گئی
مریم نواز نے نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دیکر دل جیت لئے ،مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں
ایٹمی صلاحیت سے دشمن کی ہر چال ناکام،افواج پاکستان نے ناقابل تسخیر نعرے کو امر کردیا
تجزیہ ،شہزاد قریشی
دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا بھر کے ملکوں کے درمیان جنگی ماحول رہا، بڑی طاقتوں نے ذاتی مفادات کے لئے ایسے حالات پیدا کردئیے کہ دنیا کو جنگ میں دھکیل دیا گیا، کئی ایسی جنگیں لڑی گئیں جن کی ضرورت نہیں تھی ،عالمی طاقتوں نے کمزور بہانے تراش کر چھوٹے ملکوں پر دانستہ جنگیں تھوپیں، چھوٹے ممالک کے وسائل پر قبضے کئے، تیل کی قیمتوں کو گرنے سے بچانے کے لئے بھی جنگوں کا سہارا لیا گیا، دنیا کے کئی چھوٹے ممالک نے اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لئے دفاع کو مضبوط کرنا شروع کیا، دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا ، جدید ٹیکنالوجی حاصل کی تاکہ عالمی طاقتوں کے شکنجے سے محفوظ رہ سکیں، اس میں دنیا کی سیاسی لیڈر شپ کا بڑا کردار رہا ،پاکستان نے بھی دنیا کی بدلتی صورتحال کو دیکھا اور ایک سیاسی قد آور شخصیت ذوالفقار بھٹو شہیدنے ملک و قوم کو محفوظ کرنے کے لئے جوہری قوت کو سمجھا اور ایٹمی پاور بننے کا منصوبہ بنایا اور اسکی بنیاد رکھی اور پھر ایک قد آور سیاسی شخصیت نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرکے اقوام عالم اور پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو بتا دیا کہ پاکستان آج ایٹمی قوت کا حامل ملک بن چکا ہے، اسے کہتے ہیں سیاسی لیڈر شپ اور قومی ہیرو، عالمی غنڈہ گردی سے ملک وملت کو بچانے پر قوم ان دو سیاسی کرداروں کوہمیشہ یاد رکھے گی ،موجودہ سیاست دانوں کو بھٹو شہید کی سیاسی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہیے جبکہ دوسرا کردار نواز شریف ہیں ،اللہ پاک نواز شریف کو زندگی دے وہ لاہور اپنے گھر جاتی امراء میں موجود ہیں، اگر ان دونوں سیاسی شخصیات کا کردار نہ ہوتا تو آج پاکستان بھارتی فسطائی عزائم کا شکار ہو چکا ہوتا، دوسرا ہماری پاک فوج جو جذبہ جہاد کے تحت ملک کی سلامتی کی حفاظت پر مامور ہے، سرحدوں پر موجود پاک فوج کے نوجوان اور افسران شہید کا رتبہ حاصل کرنے کے لئے کھڑے ہیں، اگر جمہوریت کی بات کی جائے توآج کے دور میں سیاسی گلیاروں میں کوئی نظریاتی سیاست کو تلاش کر رہا ہے تو یہ بہت بڑا جھوٹ ہے، نظریاتی سیاست کا جنازہ کب کا اٹھ چکا ہے، آج کل سیاست کی صرف باتیں رہ گئی ہیں ،سیاسی صلاح کار اور جوڑ توڑ کے ماہر ملکی سیاست کے بڑے نام اپنی اپنی اننگز کھیل گئے ہیں، ملک میں صرف ایک نام باقی رہ گیا ہے وہ نواز شریف ہیں، آمدہ قومی انتخابات میں ن لیگ کے وزراء مشیر اور دیگر نواز شریف اور انکی بیٹی مریم نواز جو عوام میں مقبول ہیں وہ جلسے جلوسوں میں عوام کے سامنے لاکر ووٹ لیں گے مریم نواز نے آج کے پنجاب کو کالجوں یونیورسٹیز میں جاکر نوجوان طبقہ جن کو گمراہ کیا گیا تھا ان کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ اور کتاب دی ہے جن سیاسی شخصیات نے نوجوانوں کے ہاتھوں میں غلیل دی تھی ان کو جدید تعلیم حاصل کرنے کی طرف لگا دیا ہے-
Tag: نوازشریف

بھٹو شہیداور نوازشریف نے ملکی دفاع ناقابل تسخیر بنا یا،تجزیہ ،شہزاد قریشی

نوازشریف کوشش کرتے ہیں کہ چیزیں ساری صلح صفائی کے ساتھ ہوں،خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاک بھارت کشیدہ صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت دانستہ طور پر کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے اور پچھلے تین دنوں سے مسلسل ٹمپریچر بڑھا رہا ہے۔
باغی ٹی وی کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ "اللہ نہ کرے کہ معاملہ نیوکلیئر سطح تک چلا جائے۔” نواز شریف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وہ تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں، وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ایٹمی دھماکے بھی انہی کے دور میں ہوئے۔ نواز شریف صلح جو شخصیت ہیں اور ہمیشہ امن و مفاہمت کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دونمبری کر رہا ہے اور پاکستان کے خلاف مسلسل اشتعال انگیزی میں مصروف ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ہمارے مشترکہ دوست ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں دونوں ممالک بند گلی میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جارحانہ حکمت عملی کے باعث پاکستان کے پاس جوابی آپشنز محدود ہو چکے ہیں، تاہم پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
خواجہ آصف نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ "آج ڈرونز آئے، کل جہاز آئے تھے، ہم اپنا دفاع کریں گے۔ جو بھی انیشیٹو لیں گے، وہ دفاعی نوعیت کا ہوگا۔ ہم مزید اس طرح کی صورتحال برداشت نہیں کریں گے۔” بھارت بیک آف نہیں کر رہا، اور اگر یہی صورتحال رہی تو پاکستان جواب دے گا۔ "ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کی غیر جانب دار تحقیقات کرائے۔ بھارت دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی کارروائیاں کر رہا ہے۔ وہ چاہے تو کسی بھی ملک سے تحقیقات کروالے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔”
وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کو جواب کب دینا ہے، یہ فیصلہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کرے گی۔ "اگر میں ابھی جواب دے دوں تو یہ دو منٹ میں ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔” ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی ایڈوائزری سطح پر روابط ممکن ہیں، لیکن مجھے اس کی تفصیلات کا علم نہیں۔بھارت میں سکھ کمیونٹی خوش نہیں، اور جو کچھ پلوامہ میں کیا گیا، ویسا ہی کچھ پنجاب میں ہو رہا ہے۔ "مودی صرف بھارت ہی نہیں، پوری دنیا کے امن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس نے کینیڈا اور امریکا کے امن کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کی۔”خواجہ آصف نے زور دیا کہ آبی ذخائر کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان نے اپنی توجہ مکمل طور پر دفاعی تیاریوں پر مرکوز کر رکھی ہے اور ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
بھارت کے ڈرون حملوں کی شدیدمذمت کرتے ہیں، ایم پی پی
مودی حکومت کی سچ بولنے والے ہزاروں "ایکس” اکاؤنٹس بلاک کرنے کی درخواست
پاک بھارت کشیدگی، سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ کل پاکستان کا دورہ کریں گے

بھارت سے کشیدگی،نواز شریف کا فوری پاکستان واپسی کا فیصلہ
مسلم لیگ ن کے صدر نوازشریف نے بھارت سے کشیدگی کے باعث لندن سے فوری طور پر پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔
باغی ٹی وی کو پاکستان مسلم لیگ ن کے ذرائع نے بتایا کہ میاں محمد نوازشریف کل پاکستان پہنچیں گے۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے ہنگامی طورپر شہبازشریف کو 25 اپریل کو اہم معاملے پر بریفنگ کےلئے جاتی عمرہ بھی بلا لیا۔اس سلسلے میں مزید بتایا گیا کہ نوازشریف جمعہ ہفتہ اور اتوار کو مسلم لیگ ن کے سینئر رہنمائوں سے اہم ملاقاتیں بھی کریں گے۔
واضح رہے کہ کل قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہوگا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی اقدامات کے خاطر خواہ جواب کا فیصلہ کیا جائے گا۔اس سے قبل بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو فوری معطل اور اٹاری واہگہ بارڈر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔بھارت نے پاکستانیوں کو سارک کے تحت ویزے بند کردیے ہیں اور تمام پاکستانیوں کے ویزے کینسل کر دیے گئے ہیں۔ 48 گھنٹوں میں بھارت میں موجود تمام پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب ، اہم فیصلے متوقع
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل،اٹاری چیک پوسٹ بند،سفارتی عملہ کم کرنے کا اعلان

مولانا فضل الرحمان کا شہباز شریف کے بعد نواز شریف سے رابطہ
مولانا فضل الرحمان کا وزیر اعظم شہباز شریف کے بعد نوازشریف سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا نوازشریف سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس دوران نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کی خیریت دریافت کی۔ دونوں رہنماؤں نے گفتگو کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فون کیا اور صوبوں میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے قانون سازی کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔سربراہ جمیعت علمائے اسلام نے وزیراعظم شہباز شریف سے مدارس رجسٹریشن کے حوالے سے صوبوں میں قانون سازی کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کو قانون سازی کے لیے اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ صوبوں میں قانون سازی کے لیے وزرائے اعلیٰ سے رابطہ کروں گا۔
چین : کورونا جیسا وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ پھیلنے کی اطلاعات
صائم ایوب جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر

سیالکوٹ:پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا چور عمران خان ہے.خواجہ آصف
سیالکوٹ،باغی ٹی وی (شاہدریاض کی رپورٹ)خواجہ محمد آصف کا ن لیگ کے یوتھ ورکرزکنونشن سے مسلم لیگ ن کے مرکزی دفتر میں خطاب
،این اے 71میں دو لاکھ ووٹرز کا تعلق یوتھ سے ہے،آئندہ دنوں میں یوتھ اپنی قوت گلی محلوں میں دکھائے۔یونین کونسل کی سطح پر ووٹرز کو نوازشریف کو ووٹ دینے کا کہیںخواجہ محمدآصف نے کہاکہ اس شہر میں چارسالہ پی ٹی آئی دور میں ایک اینٹ نہیں لگی۔ن لیگ کے دور میں موٹروے تعلیمی ادارے میڈیکل کالج یونیورسٹی بنی .
عمران خان نے صرف نعرے لگائے کوئی کام نہیں کیا،پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا چور عمران خان ہے،اس نے مجھ پر دعوی کیا جو کئی سال ایسے ہی پڑا رہا،عدالت میں جرح ہوئی اس دوران اس فراڈیے کی ٹانگ پر پلستر تھا،جرح میں یہ مان گیا کہ میرادفاع کاکیس بن گیاہے
۔اسکے سارے وکلاء کی موجودگی میں انہوں نے مجھ پر جرح کی تاریخ لی جو دوبارہ نہ آئی.عمران خان نے سوا دو ارب روپیہ شوکت خانم کا دوستوں کے کاروبار میں لگایا،گیارہ سال قبل میں نے کہا عمران خان چور ہے زکوٰاۃ کھاتا رہا
اس شہر میں پورا ٹبر سرکاری کرسیوں پر بیٹھتا رہا ،کام کوئی بھی نہ کروایا،میرے خلاف انہوں نے درخواستیں دیں،مجھے انکی درخواستوں پر چھ ماہ قید کاٹنا پڑی میں بری ہواانہوں نے مجھ پر آرٹیکل سکس کی کارروائی کی میں اس میں بھی بری ہوا ۔انہوں نے تھوڑی سی قید کاٹنے کےبعد جو کیاوہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے،انکی مقبولیت میں تیزی سے کمی آرہی ہے
اس شہر کے چھبیس فیصد لوگوں نے ووٹ کس کودینا ہے یہ فیصلہ نہیں کیا۔یوتھ کے نمائندے ایسے لوگوں کے پاس جائیں۔پاکستان مسلم لیگ کا ووٹ نوازشریف کا ووٹ ہے،آپ نےووٹ نوازشریف کے نام پر مانگنا ہے کسی اور کے نام پر نہیں
نوازشریف نے عمران خان کے جبر کامقابلہ کیا ہے۔تین بار نوازشریف وزیراعظم بنا،چوتھی بار بھی نوازشریف وزیراعظم بنے گا۔یوتھ اپنی صفوں میں اتحاد رکھے۔اللہ پاک ہمیں ہمت دے کہ آنیوالے وقت میں نوجوان نسل کو آگے لائیں

ن لیگ کے اتحادی تھے، آ ئندہ بھی ساتھ مل کر چلیں گے۔ بلوچستان عوامی پارٹی
ترجمان بلوچستان عوامی پارٹی سینیٹر کہدہ بابر کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ ہم ن لیگ کے اتحادی تھے.آنے والے وقت میں بھی ساتھ مل کر چلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی وطن واپسی کا خیرمقدم کرتے ہیں، ان کی واپسی ملک کے لیے خوش آئند ہے. اب ملک سیاسی و معاشی استحکام کی طرف بڑھے گا۔
دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور جاتی امرا پہنچے جہاں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اداروں نے نوازشریف کا ساتھ دیا تو نوازشریف ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن وقت پر ہونے چاہییں آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ساتھ بات چیت ہوگی۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
انگلش ٹیم کے اہم بولر کرکٹ ورلڈکپ سے باہر
عون چودھری کی نواز شریف کے استقبال کرنے پر وضاحت
ایوارڈ شوز میںریما ریشم نرگس سے گانوں پر پرفارم کروانا چاہیے یاسر حسین
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں ملک میں بہتری ہو اور معیشت بھی بہتر ہو لہذا اسی لیئے میاں صاحب واپس آگئے ہیں اور امید ہے کہ وہ ملک کو بہتری کی طرف لے جائیں گے اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر چلیں گے
پاکستان واپسی کے لئے نواز شریف لندن سے سعودی عرب کیلئے روانہ
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سعودی عرب جانے کیلئے ایون فیلڈ سے ائیر پورٹ روانہ ہوگئے
لیگی کارکنوں نے وزیر اعظم نواز شریف کے نعروں سے اپنے قائد کو رخصت کیا،اس موقع پر ن لیگی رہنماؤں نے وزیراعظم نواز شریف کے نعرے لگائے،دوسری جانب پی ٹی آئی کارکنان بھی موجود تھے جنہوں نے نواز شریف کے خلاف احتجاج کیا،
نواز شریف، سعودی عرب جانے کیلئے ایون فیلڈ سے ائیر پورٹ روانہ#baaghitv #pakistan #pakistani #BreakingNews @pmln_org pic.twitter.com/HyNBS6bw3R
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) October 11, 2023
سعودی عرب میں ایک ہفتہ قیام کے بعد نواز شریف دبئی پہنچیں گے, دبئی سے اسپیشل طیارے کے زریعے وطن واپسی کے لیے روانہ ہونگے, نواز شریف کے ہمراہ لیگی کارکنان اور صحافی بھی دبئی سے پاکستان کے لیے روانہ ہونگے, خصوصی پرواز دبئی سے اسلام آباد پہنچے گی وہاں سے لاہور کے لیے اڑان بھرے گی,
دوسری جانب نوازشریف کے استقبال کے حوالے سے جڑانوالہ میں ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں عہدیداران و کارکنان کی کثیر تعداد نےشرکت کی , رہنما مسلم لیگ ن طلال چوہدری نےکارکنوں سے خطاب کیا،
مرکزی رہنماء پاکستان مسلم لیگ ن، سابق وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف سے سابقہ اراکین اسمبلی، ورکرز اور پارٹی عہدیداروں کی ملاقاتیں ہوئیَ اس موقع پر اکیس اکتوبر کے استقبالیہ کے حوالے سے مشاورت اور ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ لاہور محسن کُشوں کا شہر نہیں ہے میاں نوازشریف نے اس شہر کی بے پناہ خدمت کی ہے مجھے فخر ہے کہ جس جس طرح 21 اکتوبر قریب آرہا ہے ہر جگہ لوگوں کا جوش و جذبہ بڑھتا نظر آرہا ہے۔
شائستہ پرویز ملک کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف صاحب کا استقبال نہ صرف لاہور بلکہ پورے پاکستان سے آئے ان کے چاہنے والے لوگ کرینگے انشاءاللہ 21 اکتوبر کو لاہور یہ ثابت کرے گا کہ لاہور میاں نوازشریف کا قلعہ تھا قلعہ ہے اور رہے گا۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عوام میاں نوازشریف صاحب کی شکل میں اپنے حالات کی بہتری , اپنی خوشحالی اور ملک کے حالات کو بہتر ہونے کی نوید دیکھتے ہیں اسی لیے عوام میاں نوازشریف کا استقبال کرنے آرہے ہیں۔
شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی
مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس
نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا
سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے
غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی
نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،
نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی
پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام آباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

انتخابات:پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی,نگراں وزیرِ اعظم
پاکستان کے نگراں وزیرِ اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی ممکنہ گرفتاری اور جیل بھیجنے کے بارے میں حکومت نے وزارت قانون سے رائے طلب کی ہے۔
اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد پاکستان واپسی سے قبل لندن میں قیام کے دوران برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اُردو کو دیے گئے انٹرویو میں انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ چاہتےہیں نوازشریف کی واپسی پرقانون اپناراستہ اختیار کر ے، وطن واپسی پرممکنہ گرفتاری یا جیل بھیجنے کے معاملے پر وزارت قانون سے رائے مانگی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی, موجودہ صورتحال میں لگ رہا ہے کہ عمران خان کا مقابلہ فوج سے نہیں بلکہ ریاست سے ہے۔
بی بی سی اردو سے گفتگو میں نگران وزیراعظم نے نوازشریف کی پاکستان واپسی اوراڈیالہ جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی کو درپیش قانونی مشکلات پربات کی,نگران وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے نوازشریف کی پاکستان واپسی سے متعلق وزارت قانون سے رائے لی ہے کہ جب وہ واپس آئیں گے تو قانون کے مطابق نگراں حکومت کا انتظامی رویہ کیا ہوناچاہیے۔ انہوں نےبتایا کہ اس ضمن میں ایک اجلاس بھی طلب کیا جائے گا۔
آئندہ عام انتخابات جیتنےکیلیے مودی حکومت کا
ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے عمران خان کی سزا کے بارے میں جو اشارتاً بات کی اس کا مقصد تھا کہ عدالتی نظام میں جتنے بھی مواقع ہیں اگرانہیں استعمال کرنے کے بعد بھی قوانین کے تحت عمران خان کو الیکشن سے روکا گیا، تو یہ ہمارے مینڈیٹ سے باہر ہو گا کہ ہم کوئی ریلیف دے سکیں۔ قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا اگرعدالتوں سے ریلیف نہ ملاتو پھر بدقسمتی سے عمران خان کو ان نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے معاملے کے دو پہلو ہیں، ایک سیاسی ہے تاہم اس بحث میں جائے بغیر مروجہ قوانین کے تحت دیکھا جائے تو فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔ ایک سزا یافتہ شخص کو عدالتوں نے اجازت دی تھی، ایگزکٹیو نے نہیں دی تھی وازشریف کے خلاف جو فیصلہ آیا تھا وہ فردِ واحد کیخلاف فیصلہ تھا جس پرکچھ نے شادیانے بجائے لیکن اسی سیاسی شخص کی جماعت نے اگلے انتخابات میں 90 کے قریب نشستیں بھی حاصل کی تھیں-
ورلڈ کپ 2023: قومی ٹیم کی سپورٹ کے بیان پر
پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی
انتخابات میں غیرجانبداری یقینی بنانے سے متعلق سوال پرانوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی ہاں اُن لوگوں کے ساتھ قانون کے مطابق ضرور نمٹا جائے گا جو منفی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے اور وہ مخصوص افراد ہیں جو پچیس کروڑ کی آبادی میں پندرہ سو، دو ہزار بنتے ہوں گے، اُنہیں پی ٹی آئی سے جوڑنا منصفانہ تجزیہ نہیں ہو گا تحریک انصاف کیخلاف کارروائی کا جنرل ضیاء کے زمانے میں پیپلز پارٹی کیخلاف یاجنرل مشرف کے زمانے میں مسلم لیگ کیخلاف ہونے والی کارروائی سے موازنہ کرنا ’بیہودہ تجزیہ اورغلط بات‘ ہو گی۔
کرپشن نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا,نگران وزیرداخلہ
بحران روکنا نگراں حکومت کا مسئلہ نہیں
نگراں وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگرکوئی سیاسی رہنما انتخابات میں حصہ نہیں لے پاتا تو اس سے بحران پیدا ہو یا نہ ہو، یہ نگراں حکومت کا مسئلہ نہیں کیونکہ ہمارا مقصد بحران روکنا یا پیدا کرنا نہیں، قانون کے تحت ہمارا کردار الیکشن کروانا ہے۔الیکشن کے نتیجے میں بحران پیدا ہونا پورے معاشرے اور ریاست کا معاملہ ہے، نگراں حکومت کا نہیں-
عام انتخابات کی 90 روزہ آئینی مدت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بنیادی طور پرالیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، جہاں آئین میں 90 دن کی مدت ہے وہیں 254 آرٹیکل میں یہ بھی درج ہے کہ کوئی چیز وقت کے اندرنہیں ہوتی تو وہ محض تاخیر کے باعث غیرآئینی اور غیرقانونی نہیں ہوجاتی-
نگران حکومت نے چین اور سعودی عرب سےمد

ن لیگ خیبرپختونخوا کے عہدیداروں کا نوازشریف کی واپسی اعلان کا خیرمقدم
پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے عہدیداروں نے نوازشریف کی واپسی کے اعلان کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے خیبرپختون خوا میں پارٹی ونگز کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کیا ہے، مریم نواز شریف کے خطاب پر کارکنوں نے "نواز شریف خوش آمدید، مایوسی کے اندھیرو الوداع”، کے زبردست نعرے لگائے، مریم نواز کا کہنا تھا کہ "معمار پاکستان ویلکم بیک، سازشیو "گڈ بائے”، نواز شریف واپس نہیں آرہا، پاکستان کی خوش حالی کا دور واپس آ رہا ہے ، نواز شریف کو "مائنس” کرنے والے خود "مائنس” ہو چکے ہیں ،نواز شریف کو مائنس کرتے کرتے پاکستان کی ترقی مائنس ہوگئی ، نواز شریف کا پیغام پاکستان کی ترقی، مہنگائی سے عوام کو نجات دلانا ہے،نوازشریف نے بہادری، ثابت قدمی سے سیاسی انتقام کا مقابلہ کیا اور سرخرو ہوئے، الحمدللہ ، عوام کو مہنگائی سے بچایا تھا، اس خدمت کی اُنہیں سزا ملی، 2016 میں عوام سے ترقی ، مہنگائی میں کمی چھین لی گئی ،نوازشریف کے خلاف سازش کے نتیجے میں عوام کو مہنگائی ملی،
مریم نواز کا کہنا تھا کہ سازشی نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان معاشی طورپر مضبوط ہو، عوام مہنگائی کی غلامی سے آزاد ہوں ، 21 اکتوبر اعلان ہے کہ عوام کی تکلیف کے دِن ختم ہونے والے ہیں،21 اکتوبر اعلان ہے کہ غریبوں کے دُکھ درد کا احساس کرنے والا نوازشریف واپس آرہا ہے، نوازشریف وہ ہے جس کے دور میں پانچ سال آٹے، گھی، چینی کی قیمت نہ بدلی، نوازشریف وہ ہے جس کے دور میں 47 سال میں مہنگائی کم ترین سطح پر آئی تھی ،نوازشریف وہ ہے جس نے پاکستان کی معاشی ترقی 6.1 فیصد پر پہنچائی تھی ،نوازشریف وہ ہے جس نے پاکستان کا واحد آئی ایم ایف پروگرام کامیابی سے مکمل کیا ،نوازشریف نے 2017 میں آئی ایم ایف کو خداحافظ کہہ دیا تھا ،نوازشریف کا دیا ترقی کا سفر جاری رہتا تو پاکستان آج بحرانوں کا شکار نہ ہوتا ،نوازشریف کا دیا ترقی کا سفر جاری رہتا تو آج بجلی گیس پٹرول مہنگے نہ کرنے پڑتے ، وعدہ ہے کہ خیبرپختون خوا کی محرومیوں کو دور کرکے ترقی کا تاریخی سفر شروع کریں گے ، دہشت گردی کے علاوہ معاشی دہشت گردی سے بھی قوم کو نجات دلانی ہے،
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نوازنے آزادجموں وکشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کی تنظیموں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چار سال میں پاکستان کی معیشت، معاشرت اور مفادات کی بنیادیں ہلا دی گئیں نوازشریف نے قوم سے کئے ہر وعدے کو پورا کیا،پاکستان کے اتحاد، مفاداور ترقی کا نام نوازشریف ہے ،نوازشریف نے سیاسی انتقام کا سامنا کیا لیکن سیاسی انتقام کبھی نہیں لیا ،وفاق پاکستان کے مفادات کا تحفظ صرف نوازشریف کرسکتا ہے ،نوازشریف ہی وہ واحد قائد ہے جس پر وفاق اور تما م اکائیوں کو اعتماد ہے ،وزیراعظم نوازشریف ملک کے اندر ہی نہیں خطے اور دنیا میں بھی پاکستان کی نیک نامی اورترقی کی ضمانت ہے ،21 اکتوبر کو پاکستان اپنے قائد کا تاریخی استقبال کرے گی ، ان شاءاللہ ،عوام پورا مینڈیٹ نوازشریف کو دیں ، نوازشریف عوام کو ہمیشہ کی طرح پورا ریلیف دیں گے ، ان شاءاللہ ،عوام مینڈیٹ سے سیاسی منظر نامہ بدل دیں، نوازشریف عوام کی تقدیر بدل دیں گے، ان شاءاللہ ،الحمدللہ، ہمارے پاس قیادت بھی ہے، ایجنڈا بھی ہے، ٹیم بھی ہے اور اخلاص وعزم بھی
پارٹی راہنماﺅں اور کارکنوں نے نوازشریف کے حق میں بھرپور جذباتی تقاریر کیں، شرکا کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی واپسی دہشت گردی، معاشی بدحالی اور مہنگائی کے خلاف اعلان جنگ ہے نوازشریف پاکستان کی عوام کے محسن ہیں ،نوازشریف نے بہادری، ثابت قدمی سے سیاسی انتقام کا مقابلہ کیا،نوازشریف نے عوام کو مہنگائی سے بچایا تھا، اس خدمت کی اُنہیں سزا ملی، سیاسی انتقام کی آگ کے دریا عبور کرکے نوازشریف اپنے لوگوں میں واپس آرہے ہیں، 2016 میں عوام سے ترقی چھین لی گئی ، نوازشریف کے خلاف سازش کے نتیجے میں عوام کو مہنگائی ملی،نوازشریف کے خلاف سازش پاکستان کی ترقی کے خلاف سازش تھی،دس سال کٹھ پتلی کی خیبرپختونخوا میں مسلط حکومت نے صرف لوٹ مار کی،نوازشریف نے خیبرپختون خوا کو تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی منصوبے دئیے،
شرکاء نے خطاب میں کہا کہ نوازشریف ہی ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکال سکتا ہے، نوازشریف نے وفاق پاکستان کو مضبوط کیا، عوام کو بلاامتیاز ترقی کے سفر میں شامل کیا،2013 سے 2018 میں نوازشریف نے پاکستان کو معاشی طور پر پیروں پر کھڑا کردیا تھا، اُن کرداروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے جن کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ کو پہنچا، مہنگائی آج اس انتہاپر ہے،آج پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے ذمہ دار وہ ہیں جنہوں نے نوازشریف کو اقتدار سے الگ کیا، نوازشریف پاکستان اور قوم کی بہتری کے لئے واپس آرہے ہیں، آج پاکستان اور عوام کو نوازشریف کی ضرورت ہے، قوم کے ساتھ مل کر معمار پاکستان کا تاریخی استقبال کریں گے، ہم نواز شریف کے مشکور ہیں، مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخواہ کا ورکر نوازشریف کی طاقت بن کر دکھائے گا،
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف آج لاہور سے اسلام آباد پہنچ گئیں ،مریم نواز، نواز شریف کی وطن واپسی اوراستقبال کے لئے مشاورتی اجلاس میں شریک ہوں گی،مریم نواز شریف آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کی مرکزی اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداروں سے ملاقات اور مشاورت کریں گی ،نواز شریف کے استقبال کی تیاریوں کے سلسلے میں گزشتہ روز لاہور میں سابق ارکان اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کا اجلاس ہوا تھا ،مریم نواز شریف اسلام آباد، راولپنڈی ریجن کے سابق ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کے اجلاس کی صدارت کریں گی ،مریم نواز شریف اسلام آباد، راولپنڈی ریجن کے مرکزی عہدے داروں سے ملاقات بھی کریں گی
عام آدمی کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے
بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار
جو لوگ غلط فیصلے میں ملوث تھے ان کا احتساب ہونا چاہیئے،بلاول
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کوئی چاہے یا نہ چاہے، کوئی نہیں روک سکتا، الیکشن ہوں گے۔
پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن نوے دن کے اندر ہوں
مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ
نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا
سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے
غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی
نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،
نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی
پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام اباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، اور ان کی وطن واپسی عام پرواز سے ہوگی،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

بین الاقوامی قوتیں لاڈلے کو نئے آر ٹی ایس سےاقتدارپرلانا چاہتی ہیں،جاوید لطیف
وفاقی وزیر جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر طرف سیاسی عدلیہ معاشی و اخلاقی بحران نظر آ رہا ہے،جب ڈی چوک میں سپریم کورٹ فیصلے کی چھتری تلے فتنے کو آنے کی اجازت ملی اور حکم عدولی کو نوٹس ہوا تو کہا اسد عمر کو پتہ معلوم تھا مجھے نہیں حکم عدولی کا پتہ چلا ،لاڈلا کہتا نوے روز میں الیکشن ہونے چاہئیں جب آرٹیکل 63اے کا سہارا لے کر پنجاب حکومت کو گرانے کےلئے استعمال ہوا، وقار دینے والا نااہل ہوگیا لیکن ووٹ شمار نہیں ہوگا تو آئین دوبارہ لکھا گیا ، لاڈلے کو آئین میں ترمیم سے خواہش پوری کرنے کا موقع دیا گیا،نظریہ ضرورت 58میں جسٹس منیر نے مارشل لاء کو تحفظ دینے کےلئے بے دریغ استعمال کیاگیا ،عمرانی فتنہ کو موقع دینے کے لئے عمرانی نظریہ دیا گیا کوئی بتائے کہ از خود نوٹس اس وقت کیاجاتاہے جب قومی ضرورت ہوتی ہے،قومی مفاد میں ازخود نوٹس لیتے جاتے تو عتیقہ اوڑھو شراب پر ازخود نوٹس ہوتا ،گلی میں پانی پر از خود نوٹس ہوتا ہے لیکن آنکھوں سے کبھی نہیں دیکھا ذؤالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے والے اعتراف جرم کر لیں، وہ ججز بھی اعتراف جرم کر لیں جنہوں نے نوازشریف کو نااہل کیا تمام جرم کے باوجود کبھی نہیں سنا فل کورٹ بناکر سپریم کورٹ پر دھبہ لگا کوئی پھانسی تو کوئی تاحیات نااہل بن گیا،
جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ کیسا انصاف کا ترازو کا پلڑا ہے 2002,2008میں نوازشریف نااہل ہو اور الیکشن ہوا ، کیا 2023کا الیکشن بھی قبول کرلیں ؟ لیکن قبول نہیں کریں گے،نوازشریف کو غدار سیلسلین مافیا کہا گیا کیا اس پر ازخود نوٹس ہوا ، عمران خان بدکردار ہونے اور کرپٹ ، آئین سے کھلواڑ کرنے کے باوجود وہ رجسٹرڈ صادق و امین ہے الیکشن کی جلدی اس لئے ہے کہ کہیں عمران خان کا صادق و امین کا نقاب اتر جائے،کیا انصاف و آئین و مذہب اس بات کی اجازت دیتا بے گناہ کو گنہگار قرار دیدیں ،ثبوتوں کے باوجود ایک بدکردار ملک دشمن للکارتا پھرے اور اسے نوٹس نہیں ہوتا۔ جب اداروں پر پیٹرول بم پھینکا گیا تو کیا اسوقت از خود نوٹس نہیں ہونا چاہئے تھا ،جب سائفر لہرایا گیا اور جب اداروں کو سہولت کاروں کو پکارا جا رہا ہے اس وقت از خود نوٹس کیوں نہیں لیا گیا ،جب ایک بے گناہ کو سزا دی تو کسی کو خط نہیں لکھا ججز کو دھمکیوں کا نہیں کہا نہ ہی عدالتوں پرحملے کا کہا، نوازشریف نے تکلیفوں کے لئے لب نہیں کھولے دس سال جبرا پاکستان سے باہر رکھا گیا یہ پاکستان کے قیمتی سال ضائع ہوئے،اس وقت از خود نوٹس لینا چاہئے تھا جب پینتیس کلو والا آٹا سو سے تجاوز کر رہاتھا اور معیشت تباہی کی طرف جا رہی تھی،اس وقت از خود نوٹس ہونا چاہئیے تھا جب دو ہزار اٹھارہ میں آر ٹی ایس بند کرکے عمران خان کو جتوایا گیا
جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ پنکی پیرنی کے لئے تڑپنے والے سن لیں جب باپ کے سامنے بیٹی کو گرفتار کیا جارہا تھا تو اسوقت از خود نوٹس کو خواہش نہیں کی کہ میرے لئے ہو،جب ملک میں قرارداد منظور ہو رہی ہیں تو اس کے پیچھے نوازشریف کھڑا ہے وہ کسی وقت بھی تحریک کا اعلان کرے گا،نوازشریف پارلیمنٹ کی بالادستی کےلئے کسی بھی حد تک چلا جائے گا،-بات اگر ججز کے فیصلوں یا اسٹیبلشمنٹ تک جاتی تو خاموش رہتا لیکن بات آگے نکل گئی ہے وہ قوتیں جو پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں وہ حرکت میں ہیں، پاکستان ہر حال سے معاشی سیاسی و عدالتی بحران سے کمزور نظر آ رہا ہے بین الاقوامی قوتیں ملکی اداروں کو دبا کر ملکی مفاد کے خلاف فیصلہ کرنا چاہتی ہیں، مالیاتی ادارے ایک کے بعد دوسری ڈیمانڈ رکھ رہے اس لئے ہو رہا کیونکہ خطے کا نقشہ تبدیل ہو رہا ہے،بین الاقوامی قوتیں چاہتی ہیں پاکستان چین کے سامنے کھڑے ہوجائیں عالمی قوتیں عمران خان سے وہ باتیں منوا رہی جس سے اداروں پر پریشر بڑھ رہا ہے،بین الاقوامی قوتیں عمران خان جیسے لاڈلے کو نئے آر ٹی ایس سے اقتدار پر لانا چاہتی ہیں ،تین چار کا فیصلہ میں کوئی کہے گا تین کا فیصلہ مانوں چار کا نہ مانوں،آج کیوں خواہش کی جا رہی ہی اکثریت کے بجائے اقلیت کے فیصلے کو مانوں نوازشریف کے جرم میں ایک ایک کردار ثبوت دے چکے کہ انصافی ہوئی،کھلے دل سے کہہ رہے تین سے ایک جج کہہ دے نوازشریف کو سزا درست ہے یا پھر کہہ دیں فل کورٹ بناکر قوم سے انصافی کا ازالہ کردیں،کچھ آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں اسلام آباد استعفی لینے کےلئے آئیں گے ،جو فیصلہ مانیٹری 2017 میں بنا تو کم از کم دو ججوں کو استعفی دے دینا چاہئیے تاکہ ادارے کا بھرم رہ جائے،
آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے
ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی
عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری
عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،









