Baaghi TV

Tag: نوازشریف

  • نوازشریف کےبرطانیہ میں مہنگائی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی:ن لیگ کاپاکستان میں مہنگائی کیخلاف مارچ

    نوازشریف کےبرطانیہ میں مہنگائی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی:ن لیگ کاپاکستان میں مہنگائی کیخلاف مارچ

    برطاننیہ میں مہنگائی کی شرح گزشتہ ماہ توقع سے زیادہ تیزی سے بڑھتے ہوئے 30 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس سے گھریلو مالیاتی قرض کا توازن تاریخی دباؤ کے ساتھ مزید خراب ہو گیا جبکہ وزیر خزانہ رشی سنک پر سخت دباؤ ہے کہ وہ اس صورتحال کی بہتری کے لیے اقدامات کریں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق برطانوی قومی شماریات ( او این ایس) کے دفتر کا کہنا ہے کہ جنوری میں 5.5 فیصد اضافے کے بعد فروری میں صارفین کے لیے اشیا کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر ہونے والا اضافہ 6.2 فیصد ہوگیا ، یہ اضافے کی مارچ 1992 کے بعد سب سے زیادہ شرح ہے۔

    برطانیہ اب گروپ آف سیون (جی 7) ممالک میں سالانہ افراط زر کی شرح کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے، مہنگائی کی شرح میں برطانیہ صرف امریکا کے پیچھے ہے جبکہ عالمی اجناس اور توانائی کی قیمتیں یوکرین پر روس کے حملے بعد سے مزید بڑھ گئی ہیں۔

     

    اقتصادی ماہرین کے رائٹرز کے سروے میں زیادہ تر ماہرین نے 5.9 فیصد شرح رہنے کی پیش گوئی کی تھی، 39 جواب دہندگان میں سے صرف تین نے مہنگائی کی شرح میں اس تیزی سے اضافے کی جانب اشارہ کیا تھا۔

    او این ایس نے گھریلو توانائی کے بلوں میں اضافے کو نمایاں کیا جن میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریبا 25 فیصد زیادہ دیکھا گیا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فروری کے مہینے میں ہونے والے اضافے کا سب سے بڑا عنصر ہے۔

    او این ایس نے غریب گھرانوں کے لیے ایک دھچکا قرار دیتے ہوئے بتایا کہ عام حالات کے برعکس کھانے پینے کی تمام اشیا کی قیمتیں یکساں طور پر بڑھ رہی ہیں جبکہ عام حالات میں کچھ اشیا کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور اس کے ساتھ کچھ اشیا کی قیمتیں کم ہوجاتی ہیں۔

    وزیر خزانہ رشی سنک کئی دہائیوں میں زندگی گزارنے کے سب سے بدترین دباؤ کے دوران برطانوی شہریوں کی مدد کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔

    زیر غور تجاویز میں ایندھن پر عائد ٹیکس میں کمی، سماجی تحفظ کے نظام میں ادائیگی کی ابتدائی حد کو بڑھانا شامل ہے جو فلاحی ادائیگیوں کو مہنگائی کے ساتھ منسلک کرنے کو یقینی بناتے ہیں۔

    کے پی ایم جی یو کے میں تعینات ییل سیلفن کی چیف اکانومسٹ کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار بینک آف انگلینڈ پر شرح سود میں اضافہ جاری رکھنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے لیکن اب بھی امکان ہے کہ قیمتوں میں اضافہ بہت پہلے ہی عروج پر ہوگا۔

    بی آر آئی ویلتھ مینیجمنٹ کے چیف انویسٹمنٹ افسر ڈین بورڈ مین ویسٹن کا کہنا تھا کہ گھریلو بلوں اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے وقت شرح میں اضافہ معاشی بحالی کو روک سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ معیشت کو کساد بازاری سے بچاتے ہوئے بینک کو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بہت احتیاط کی ہوگی۔

    او ایس این کا کہنا ہے کہ صارفین کے لیے اشیا کی قیمتوں میں ماہانہ بنیادوں پر اضاافہ 0.8 فیصد کی شرح سے ہوا ہے جو 2009 کے بعد فروری میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    گزشتہ ہفتے بی او ای نے اپریل۔جون کی مدت کے دوران سالانہ افراط زر کے 8 فیصد سے اوپر ہونے کی توقع ظاہر کی ہے جو اس کے ہدف سے چار گنا زیادہ ہے جبکہ ریگولیٹڈ گھریلو توانائی کے بل اگلے مہینے نصف سے زیادہ بڑھنے والے ہیں۔

    بنیادی شرح منہگائی جس میں خوراک اور توانائی کی لاگت کا براہ راست اثر شامل نہیں ہے، 4.4 فیصد سے بڑھ کر 5.2 فیصد ہو گیا- یہ اضافہ مارچ 1992 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

     

    افراط زر کا دباؤ آگے بڑھتا رہا کیونکہ مینوفیکچررز نے اپنی قیمتوں میں 10.1 کا اضافہ کیا، جو ستمبر 2008 کے بعد سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔

     

     

    ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کا لانگ مارچ 26 مارچ کو لاہور سے روانہ ہوگا۔ 26 مارچ کو لانگ مارچ کے آغاز کا فیصلہ 25 مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے پر کیا گیا ہے۔

     

    یہ فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے زیر صدارت لانگ مارچ مینجمنٹ کمیٹی کے اہم اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں لانگ مارچ کے شیڈول میں معمولی ردوبدل کرتے ہوئے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔

  • عدم اعتمادکےبعدعمران خان کی حکومت ختم ہوتےہی نوازشریف کی بیماریاں بھی ختم ہوجائیں گی:بڑا اعلان

    عدم اعتمادکےبعدعمران خان کی حکومت ختم ہوتےہی نوازشریف کی بیماریاں بھی ختم ہوجائیں گی:بڑا اعلان

    لاہور:لندن :عدم اعتماد کےبعد عمران خان کی حکومت ختم ہوتے ہی نوازشریف کی بیماریاں بھی ختم ہوجائیں گی:بڑا اعلان ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں سابق وزیراعظم نواز شریف ملک واپس آجائیں گے۔

    ذرائع کے مطابق علاج کے لیے لندن جانے والے نوازشریف نے عدم اعتماد کامیاب ہونے پر وطن واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس حوالے سے نوازشریف نے تیاری شروع کر دی ہے عدم اعتماد کامیاب ہونے پر نوازشریف اپریل کےآخر میں سعودی عرب جائیں گے جہاں وہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ مدینہ منورہ میں گزاریں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے نوازشریف سعودی عرب سے براہ راست پاکستان آسکتے ہیں یا پھر دوبارہ کچھ روز کے لیے لندن قیام کر کے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان واپس آئیں گے۔

    نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی لندن پہنچ چکے ہیں جہاں وہ دیگر معالجین سے مشاورت کریں گے۔ سابق وزیراعظم نے اپنے فیصلے سے اہلِ خانہ کے قریبی افراد اور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

    نوازشریف کے ترجمان و سابق گورونر سندھ محمد زبیر کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونےکے بعد نوازشریف وطن آئیں گے اور اپنے خلاف عدالتی فیصلوں کا سامنا کریں گے۔

    محمد زبیر نے کہا کہ شہباز شریف وزیر اعظم بننے جارہے ہیں عمران خان اقلیتی حکومت چلارہے ہیں ان کے پاس اکثریت نہیں اخلاقی طورپرعمران خان چلے جائیں۔

    دوسری طرف اہل پاکستان نے ن لیگ کے سزا یافتہ سابق وزیراعظم کے اس اعلان پر کہا ہےکہ عجیب بات ہےکہ جب تک عمران خان کی حکومت تھی تو نوازشریف اس قدر بیمار تھے کہ وہ لندن سے 435 کلومیٹرتک سفرکرتے رہے ہیں اور جب پاکستان واپس آنے کی بات ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ میں سخت بیمار ہوں ، شہریوں کا کہنا تھاکہ عجیب اتفاق ہے کہ عمران خان کی حکومت عدم اعتماد کی صورت میں ختم ہوتے ہی نوازشریف صحت مند ہوجائیں گے اور پھرپاکستان بھی پہنچ جائیں گے

  • سندھ میں حالات خراب ہیں شیخ رشید نے گورنرراج لگانے کا مشورہ دیا ہے:جائزہ لیا جارہاہے:فواد چوہدری

    سندھ میں حالات خراب ہیں شیخ رشید نے گورنرراج لگانے کا مشورہ دیا ہے:جائزہ لیا جارہاہے:فواد چوہدری

    اسلام آباد:سندھ میں حالات خراب ہیں شیخ رشید نے گورنرراج لگانے کا مشورہ دیا ہے:جائزہ لیا جارہاہے:فواد چوہدری وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے ہم کسی کوکوئی پیسہ نہیں دیں گے ضمیرکےمطابق ہی چلیں گے۔

    اسلام آباد میں وفاقی وزرا اسدعمر اور حماداظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے کہا تھا ایکشن لیں گے لوٹےخود ہی آج سامنے آگئے حکومت بچانےکیلئےکسی بھی بلیک میلنگ، سودے بازی کو مسترد کرتے ہیں اپوزیشن کاماڈل ہے پیسہ لگاؤ حکومت میں آؤاورپیسہ کماؤ اب عوام پرفرض عائد ہوتا ہےکہ وہ اس قسم کی سیاست کو مسترد کردیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارےکارکنان مشتعل ہیں قانون ہاتھ میں نہ لیں احتجاج آپ کاحق افسوس کی بات ہےایک خاتون ایم این اے کو 7کروڑ روپے دیئےگئے سندھ میں لوگوں کےپاس پینےکاپانی نہیں اورجہازوں میں پیسہ لایا گیا سندھ ہاؤس اس وقت نیا چھانگا مانگا ہے، ضمیروں کی خریدوفروخت ہورہی ہے سندھ ہاؤس میں جو کہتا ہے ضمیر کی آواز پر ووٹ دے رہا ہوں انہیں کہنا چاہتا ہوں عمران خان کے نام پر ووٹ لیا اور اب ضمیر کی بات کر رہے ہیں رکنیت سے مستعفی ہوں، دوبارہ الیکشن لڑ کر پھر ضمیر پر ووٹ کی بات کریں ضمیر فروش ارکان کیخلاف آئین کےمطابق کارروائی کی جائےگی۔

    فوادچوہدری نے کہا کہ عوام کی طاقت سےتحریک عدم اعتمادکوناکام بنائیں گے ہم نےکسی کو پیسے دے کر لانےکی بات نہیں کی، ہم بھی خزانوں کےمنہ کھول دیں توہم میں اوراپوزیشن میں فرق کیارہ جائے گا ہم بھی پیسہ استعمال کریں تو عمران خان اورنوازشریف میں فرق کیا رہ جائے گا خاتون ایم این اےکو 7 کروڑ دیئے گئے ہم بھی 10 کروڑ دے سکتے ہیں عمران خان اصولوں پرکبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے وزیراعظم کو سندھ میں گورنرراج لگانےکی تجویز دی شیخ رشید نے کہا بطور اتحادی اور وزیرداخلہ گورنرراج کی تجویز دیتا ہوں شیخ رشیدنےکہاسندھ ہاؤس میں لوگوں کوخریدناآئین کی خلاف ورزی ہے۔

  • پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات:

    پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات:

    اسلام آباد :ایک طرف اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی ہورہی ہے تو دوسری طرف اس ہنگامہ کے پیچھے محرکات بھی سامنے آنے لگے ہیں ، اس حوالے سے ایک اہم رپورٹ اس وقت گردش کررہی ہے کہ پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات آگئے

    لاہورسے ذرائع کےمطابق اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کا فیصلہ آج اچانک اس وقت جب ن لیگ کے 6 ممران نے وزیراعظم عمران خان سے مل کرساتھ دینے کا عہد کیا ، یہ بات ن لیگ کی قیادت پربجلی بن کرگزری ، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہےکہ ن لیگ نے جن پی ٹی آئی اراکین سے رابطے کیئے تھے ان کو یہ باوربھی کرایا گیا تھا کہ ن لیگ میں مکمل اتفاق ہے اور کوئی فارورڈ بلاک نہیں سب ساتھ ہیں

    پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کی دوسری بڑی وجہ ہے کہ ن لیگ قیادت کو پی ٹی آئی کے 7 ممبران نے صاف جواب دیتے ہوئے اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کردیا ، یہ انکار تو فردا فردا کیا گیا لیکن یہ ایک بہت بڑا سانحہ بن کر اپوزیشن کےلیے آیا ،جس کےبعد اپوزیشن نے اس کھیل کو اپنے ہاتھوں سے جاتے ہوئے دیکھ کرفورا معاملہ فضل الرحمن تک پہنچایا ، جس پرفضل الرحمن اشتعال میں آگئے اور ن لیگی کارکنان کی وزیراعظم سے ملاقات اور پی ٹی آئی کے 7 ممبران کا وزیراعظم عمران خان سے ہم آہنگی کو حکومتی جبرسمجھتے ہوئےاس پر سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا گیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ فیصلہ نوازشریف کی ہدایت پرکیا گیا اور مریم نواز اور فضل الرحمن نے اس حوالے سے حکمت عملی طئے کی اور شام تک پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حکومت کوامتحان میں ڈالنے کا فیصلہ ہوا، اس فیصلے سے نہ تو ن لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی پی پی کی قیادت کو ن لیگ اور فضل الرحمن کے درمیان ہونے والے اس منصوبے سے آگاہ کیا گیا

    ذرائع کےمطابق تیسری بڑی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ جے یو ائی ف کے دو ارکان اسمبلی مولانا فضل الرحمن کے عمران خان خلاف اسلام اور پاکستان کی خارجہ پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ سراسرالزام تراشی ہے اورہمیں اس سے دور رہنا چاہیے ، بہرکیف موجودہ حکومت پچھلی حکومتوں سے ان پہلووں پر بہتر کام کررہی ہے اور ہمیں غیرمشروط حمایت کرنی چاہیے نہ نوازشریف یا کسی دوسرے کی رضا کی خاطرملکی معاملات کو خراب کرنا چاہیے

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اس بات پراعتراض بھی تھا اور اپنے ارکان اسمبلی پر شک بھی، جس کی وجہ سے وہ عدم اعتماد کے حوالے سے ہچکچا رہے تھے ، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ناکامی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس انداز سے حکومت کو مشکلات میں ڈالنا چاہتے ہیں

    ادھر اسلام آباد سے ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آصف علی زرداری نے جو ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا وہ اپنے وعدے پر پورے نظرآتے ہیں لیکن ن لیگ اور جے یو آئی ف کے دعوے صرف دعوے ہی تھے اوران میں حقیقت نہیں تھی ، جبکہ دوسری طرف آج جب وزیراعظم عمران خان کو بتادیا گیا کہ وہ بے فکر رہیں ان کے پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی ان کو ووٹ دیں گے اور عدم اعتماد بری طرح‌ ناکام ہوگی

    ان خبروں نے اپوزیشن کے لیے بہت ہی پریشانیاں پیدا کررکھی تھیں اور اب چونکہ یہ ساری گیم ہاتھ سے نکلتی ہوئی نظر آرہی تھی تو نوازشریف کی ہدایت پرزرداری کے علم میں لائے بغیر پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حالات کو بے قابو کرنے کا منصوبہ بنایا گیا

    اسلام آباد سے مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پی پی متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہے لیکن پی پی کی یہ تاریخ رہی ہےکہ وہ ایسے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے دور رہے ہیں بلکہ پی پی نےہمیشہ ایسے رویوں کی مذمت کی ہے اور یہی پی پی کی نظریاتی فتح ہے جسے مخالفین بھی مانتے ہیں ، اور اگر ماضی کو دیکھا جائے تو پی پی قیادت پارلیمنٹ لاجز کے اس کھیل سے بہت جلد بیزاری کا اعلان کرسکتی ہے، پی پی قیادت عمران خان کو پانچ سال پورے کرنے پر توقربانی دے سکتی ہے لیکن گیر جمہوری اور ایسے سازشی ہتھکنڈوں کا ساتھ نہیں دے سکتی کیونکہ آصف علی زرداری نے پارٹی کویہی تو سبق پڑھایا ہے کہ غیرجمہوری رویوں کی پی پی میں‌ نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہے یہ کسی کی فرمائش ہے

  • شہیدضیاالحق کی قبرکی بیحرمتی:جواپنےمحسن کاوفادار   نہیں وہ زرداری کاغمخوار:خون ہی سفید ہوگئے:اعجازالحق

    شہیدضیاالحق کی قبرکی بیحرمتی:جواپنےمحسن کاوفادار نہیں وہ زرداری کاغمخوار:خون ہی سفید ہوگئے:اعجازالحق

    اسلام آباد :فیصل مسجد میں شہید ضیاالحق کی قبرکی بیحرمتی:جواپنے محسن کا وفادارنہیں وہ زرداری کاغمخوارنہیں ہوسکتا:اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ضیاء کے صدر اعجاز الحق نے کہا ہے کہ آج وہ لوگ جمہوریت کی باتیں کر رہے ہیں جنہیں نیب نے جیلوں میں ڈالا تھا۔

    اعجاز الحق نے ضیاء الحق کے مزار کی بے حرمتی کے معاملے پر نیشنل پریس کلب میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فیصل مسجد میں شہید ضیاء الحق کے مزار کی بے حرمتی کی گئی، کل کا واقعہ انتہائی شرمناک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف جو اپنے محسن کا وفادار نہیں وہ زرداری کا غمخوار نہیں ہوسکتا ، لگتا ہے کہ یہ عمران خان کے خلاف اکھٹے ہیں اندرسے ان کے دلوں میں وہی نفرت اور دشمنی ہے

    انہوں نے کہا کہ سندھ کے آئے شرپسندوں نے مزار کی بے حرمتی کی ہے، یہ پاکستان کے سپہ سالار کی قبر کی بے حرمتی ہے، اس واقعے پر کارکنان اور ضیاء الحق کے چاہنے والوں کو تکلیف پہنچی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے، یہ واقعہ بلاول اور آصف زرداری کی ایما پر کیا گیا ہے، شر پسندوں کا تعلق سندھ سے تھا، مولانا فضل الرحمان اپنے مفاد میں ان کے ساتھ بیٹھے ہیں جنہیں لاڑکانہ کی سٹرکوں پہ کھسیٹنا چاہتے تھے۔

    اعجاز الحق نے کہا کہ لانگ مارچ میں چوری کی گاڑی لائی گئیں تھیں جو پنجاب میں بیچ کر جائیں گے، فی بندہ 30 ہزار دیکر لوگوں کو لانگ مارچ میں لایا گیا ہے، ہم نے بلاول اور آصف زرداری کے نام پہ ایف آئی آر کی درخواست تھانہ میں جمع کروا دی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 100 سے زائد کارکنان نے اس واقعے کے خلاف درخواستیں دی ہیں، پیپلز پارٹی اگر معافی مانگ لیں تو ٹھیک ورنہ لاڑکانہ بھی دور نہیں، آج وہ لوگ بھی جمہوریت کی باتیں کر رہے ہیں جنہیں نیب نے جیلوں میں ڈالا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری اپنے والد کی روح سے پوچھ سکتے ہیں، آصف زرداری نے پی ڈیم کو توڑ کر پیپلز پارٹی کو نکال لیا، مجھے شیخ رشید کا فون آیا تھا اور انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ، جس سے نیکی کریں اس کے شر سے بچیں۔

    اعجاز الحق نے کہا کہ پی پی اور ن لیگ میں کیا مشترکہ ہے، یہ صرف ڈر کے وجہ سے اکھٹے ہوئے ہیں، یہ لوگ بائیس کروڑ عوام کے لیے نہیں کر رہے، اپنے مفاد کے لیے عدم اعتماد لائے ہیں۔مسلم لیگ ضیاء کے صدر اعجاز الحق کا مزید کہنا تھا کہ دس پندرہ دن میں سب سامنے آجائے گا، انکی لائی عدم اعتماد بھی ناکام ہوگی۔

  • رانا شمیم کے کارہائےنمایاں:نیب میں پیش کردیئےگئے:پیش کرنے والے بھی گھرکے بھیدی نکلے

    رانا شمیم کے کارہائےنمایاں:نیب میں پیش کردیئےگئے:پیش کرنے والے بھی گھرکے بھیدی نکلے

    اسلام آباد:رانا شمیم کے کارہائےنمایاں:نیب میں پیش کردیئےگئے:پیش کرنے والے بھی اپنے ہی نکلے،اطلاعات کے مطابق عدلیہ پر حملہ کرنے والی اہم شخصیت جن کو اہل پاکستان رانا شمیم کے نام سے جانتے ہیں اس وقت ان کے کارہائے نمایاں کے حوالے سے ایک کیس نیب کے سپرد کردیا گیا ہے جس میں‌ کہا گیا ہے کہ انہوں نے جس صفائی سے 60 کروڑ روپے کے ساتھ کھلوآڑ کیا ہے اس سے پہلے شاید کوئی ایسے عہدے پر بیٹھا افسر نہ کرسکا

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہواہے کہ نیب میں‌ یہ درخواست فروری کے تیسرے ہفتے دائر کی گئی تھی لیکن اس کو میڈیا پرآنے سے روکنے کے لیے ن لیگ کے کچھ بڑوں کی کوششیں کارگر ہوئیں اور انہوں نے اس کرپشن سکینڈل کو میڈیا پرآنے سے روکا رکھا تاہم باغی ٹی وی کو یہ دستایزات مل چکی ہیں‌

    رانا شمیم کہ جن کو نوازشریف کی خصوصی شفقت حاصل تھی اور اسی شفقت کی وجہ سے نوازشریف نے رانا شمیم کو چیف جسٹس گلگت بلتستان لگا کرعدلیہ کے ذریعے اپنی سیاست کو تقویت دینے کی کوشش کی

     

    ان دستایزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ رانا شمیم نے شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی لا کالج کے سربراہ کی حیثیت سے جہاں ماہانہ لاکھوں روے تنخواہ اور لاکھوں ہی مراعات کے ذریعے حاصل کئے اس کے علاوہ بھی مال بنانے میں کامیاب رہے ، دستاویزات میں کہا گیا ہےکہ رانا شمیم نے شہید ذوالفقار علی بھٹو لا کالج کراچی میں‌ جس طرح لوٹ مار کا بازار گرم رکھا اس کی مثال پاکستان میں اس سے قبل کسی تعلیمی ادارے میں نہیں ملتی

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”470929″ /]

    اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رانا شمیم نے بیرون ممالک بھی جائیدادیں بنا رکھی ہیں ، ان میں ملائیشیا کا نام بھی سامنے آیا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ رانا شمیم نے کیٹل فارمز اور دیگر جائدادیں بھی بنا رکھی ہیں

    نیب سے درخواست کی گئی ہے کہ رانا شمیم کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان سے لوٹی گئی دولت کا حساب مانگا جائے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اس حوالے سے بہت اہم انکشافات ہوچکے ہیں جن کے مطابق سابق چیف جج گلگت بلتستان و سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثارکےخلاف بیان حلفی دینے والے جسٹس ریٹائرڈ ڈاکٹر رانامحمد شمیم کراچی میں دو سال قبل2 ستمبر 2019ءسے شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کے وائس چانسلر تعینات ہیں۔ یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ ڈاکٹر رانا محمد شمیم، صدر، وزیراعظم اور سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز سے زیادہ تنخواہ وصول کررہے ہیں جو تقریباً 30 لاکھ روپے ماہانہ ہے۔

    یونیورسٹی ذرائع کا کہناہے کہ وائس چانسلرکی دیگر مراعات کو اگر شامل کرلیا جائے تو یہ رقم ماہانہ 50 لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کا مین کیمپس کراچی میں واقع ہے اور تدریسی عمل کراچی میں جاری ہے مگر شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاکراچی کے وائس چانسلر جسٹس ریٹائرڈ ڈاکٹر رانا محمد شمیم گزشتہ20ماہ کے دوران ایک ماہ سے بھی کم عرصہ دفتر میں حاضر رہے ہیں۔ یونیورسٹی ذرائع کا کہناہے کہ وائس چانسلر نے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ ہاﺅس نمبر390، اسٹریٹ نمبر75،E- 11/3میں ایک دفتر قائم کیا ہوا ہے جس کا وہ کرایہ نہیں لیتے۔ اس دفتر کےلئے یونیورسٹی کا ایک ڈرائیور، باورچی، مالی اور ایک افسر ( کیئر ٹیکر) تعینات ہے جبکہ وائس چانسلرکےلئے کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک لگژری فلیٹ کرائے پر لیا گیا ہے جس کا کرایہ تقریباً ایک لاکھ روپے ماہانہ ہے جبکہ یہاں پر بھی عملہ موجود ہے۔

    یونیورسٹی ذرائع کاکہناہے کہ یونیورسٹی کے اہم امور آن لائن نمٹائے جارہے ہیں۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کے زیرانتظام چلنے والی شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کراچی میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں سامنے آچکی ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی کا خزانہ تقریباً خالی ہو چکاہے۔ یونیورسٹی میں وزٹینگ فیکلٹی کے نام پر اقربا پروری کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعدد افراد کو نوازا جاچکاہے۔ یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی منظوری کے بعد جسٹس ریٹائرڈ ڈاکٹر رانا محمد شمیم کو مورخہ2ستمبر2019 کو محکمہ بورڈز اینڈ نیورسٹیز نے شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا ( زابل) کراچی کا وائس چانسلر تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا(زابل) میں وائس چانسلرکی اسامی کےلئے تین نام فائنل کئے گئے تھے جن میں دوسرا نام سابق جج حسن فیروز کا تھا جبکہ تیسرا نام پروفیسر ڈاکٹر رخسار احمد کا تھا۔

    باوثوق ذرائع کا کہناہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی اہم ترین شخصیت کی کہنے پر انکا نام وائس چانسلر کےلئے فائنل کیا گیا۔ یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی سے طویل عرصے غائب رہنے کی وجہ سے یونیورسٹی کے انتظامی معاملات شدید متاثر ہورہے ہیں

  • آصف زرداری نوازشریف سے ذرا بچ اورذرا ہٹ کررہیں:کہیں استعمال نہ ہوجائیں:اہم شخصیت کی نصیحت

    آصف زرداری نوازشریف سے ذرا بچ اورذرا ہٹ کررہیں:کہیں استعمال نہ ہوجائیں:اہم شخصیت کی نصیحت

    لاہور:آصف زرداری نوازشریف سے ذرا بچ اورذرا ہٹ کررہیں:کہیں استعمال نہ ہوجائیں:اہم شخصیت کی نصیحت ،اطلاعات کے مطابق آصف زرداری صاحب کو احتیاط برتنی چاہیے، اب بھی نواز شریف سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے،ملک کی بڑی سیاسی شخصیت نے آصف زرداری کو نواز شریف سے محتاط رہنے کا مشورہ دے دیا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے آصف علی زرداری کو نواز شریف سے محتاط رہنے کا مشورہ دے دیا۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے پی پی شریک چیئرمین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری صاحب کو احتیاط برتنی چاہیے، اب بھی نواز شریف سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

    صحافی کے اعتزاز احسن سے سوال پر کہ وزیر اعظم گھر جا رہے ہیں؟ انھوں نے کہا لوگوں کو رویہ دیکھ کر اندازہ ہو جائے گا کہ عمران خان گھر جا رہے ہیں یا نہیں، ملک اور اداروں کے لیے وزیر اعظم ناگزیر ہوتا ہے، اگر عمران خان وزیر اعظم نہیں ہوں گے تو کوئی اور وزیر اعظم ہوگا، اگلی حکومت کسی اور کی نہیں بلکہ عوام کی حکومت ہوگی۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے سابق ترجمان ندیم افضل چن نے دوبارہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے، انھوں نے شمولیت کا اعلان بلاول بھٹو کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے بعد کیا، میڈیا سے گفتگو کے موقع پر خورشید شاہ، شیری رحمان، قمر زمان کائرہ، بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت کئی اہم رہنما موجود تھے۔اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے ندیم افضل چن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی آپ کا گھر ہے واپس آنے پر خوش آمدید کہتا ہوں، اب اسلام آباد پہنچنے سے پہلے سلیکٹڈ اپنے گھر کی راہ لے گا کیونکہ پیپلزپارٹی عوامی طاقت پر یقین رکھتی ہے اب عوام ہی فیصلے کریں گے۔

    لیکن دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف سے راہیں جدا کر کے واپس پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے ندیم افضل چن کے بھائی اور تحریک انصاف کے رکن اسمبلی وسیم چن نے بڑے بھائی کے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    ندیم افضل چن نے لاہور میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کر کے دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔اس موقع پر ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ کچھ مجبوریوں کی وجہ سے تحریک انصاف میں شامل ہونے کا غلط فیصلہ کیا لیکن اپنے گھر میں واپس آنے پر خوش ہوں۔

    ندیم افضل چن کے تحریک انصاف سے پیپلز پارٹی میں شمولیت کے فیصلے پر ان کے چھوٹے بھائی اور پی ٹی آئی رکن اسمبلی وسیم چن نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

     

     

    وسیم چن کی جانب سے جاری ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ ندیم افضل چن کا پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے، اس فیصلے میں والد صاحب یا ہم بھائیوں کی تائید حاصل نہیں ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ افضل چن نے بہتر سمجھا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ بہتر چل سکتے ہیں، انہوں نے اپنی سیاسی راہیں ہم سے جدا کر لیں، ہم اس فیصلے میں ان کے بالکل بھی ساتھ نہیں ہیں۔

    وسیم چن کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تحریک انصاف کا مینڈیٹ ہے اور ہم اپنے مینڈیٹ کی پاسداری کریں گے، ہم تحریک انصاف کے ساتھ ہیں اور ہمیں عمران خان پر مکمل اعتماد ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی کے ذاتی اختلافات اپنی جگہ مگرعمران خان عالم اسلام کا ایک مقبول لیڈر ہے

  • عمران خان کےخلاف عدم اعتماد لانے والوں کی ایک دوسرے پربداعتمادیاں سامنےآگئیں

    عمران خان کےخلاف عدم اعتماد لانے والوں کی ایک دوسرے پربداعتمادیاں سامنےآگئیں

    اسلام آباد :مولوی صاحب مروا دتاجےناں:عمران خان کےخلاف عدم اعتماد لانے والوں کی ایک دوسرے پربداعتمادیاں سامنےآگئیں،اطلاعات کے مطابق سابق صدر آصف زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات میں شہباز شریف نے مسلم لیگ (ق) کے بارے میں شکوے شکایات کیں۔

    تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران شہبازشریف مسلسل رابطےمیں رہے اور نوازشریف کوبھی ملاقات کےدوران آگاہ کیاجاتارہا۔

    ذرائع نے بتایا کہ ق لیگ کےحوالے سے ن لیگ کے تحفظات برقرار ہے ، ملاقات کے دوران شہبازشریف نے مولانا فضل الرحمان سے شکوے شکایات کیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ مولانا آپ کےکہنےپرپرویزالٰہی کوکھانےکی دعوت دی لیکن پرویزالٰہی نے کھانے کی دعوت پر معذرت کرلی، جس پرمولانا نے جواب میں کہا کہ علم ہونے پر چوہدری شجاعت کے بیٹے کو فون کیا۔

    اپوزیشن رہنماؤں نے دیگرسیاسی رہنماؤں سےرابطے فیصلہ کیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگرجماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی کوشش کی جائے گی۔

    یاد رہے گذشتہ روز سابق صدر آصف علی زرداری سے طویل ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ آصف زرداری کیساتھ عدم اعتماد پر مشاورت ہوئی، کل رات کوقانونی ماہرین کی ملاقات بھی ہوچکی ہے، طے ہوا ہے تحریک عدم اعتمادعمران خان کےخلاف لائی جائےگی۔لیکن یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت مخالف اتحاد میں اتحاد نہیں‌ رہا اور وہ عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں بڑے بڑے عہدوں اور وزارتوں‌ کا مطالبہ کررہے ہیں جو کہ پورے نہیں‌ ہوسکتے

  • فضل الرحمن کے گھرمیں عمران خان کے مخالفین کا اکٹھ: عدم اعتماد کے حوالے سےمشاورت

    فضل الرحمن کے گھرمیں عمران خان کے مخالفین کا اکٹھ: عدم اعتماد کے حوالے سےمشاورت

    اسلام آباد: فضل الرحمن کے گھرمیں عمران خان کے مخالفین کا اکٹھ: عدم اعتماد کے حوالے سےمشاورت ،اطلاعات کے مطابق زرداری، فضل الرحمان اور نواز شریف نے عدم اعتماد پر حتمی مشاورت مکمل کرلی

    پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری ، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے عدم اعتماد کی تحریک پر حتمی مشاورت مکمل کرلی۔آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنےکےطریقہ کار اور اس کے لیے مناسب وقت کو حتمی شکل دینے پر غورکیا گیا، اس دوران صدر ن لیگ شہباز شریف سے بھی ٹیلی فونک مشاورت کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران لندن میں موجود مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا گیا جس میں تینوں رہنماؤں نے عدم اعتماد کی تحریک پر حتمی مشاورت مکمل کرلی۔

    مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری کے درمیان ملاقات کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    اعلامیےکے مطابق ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال اور عدم اعتماد کی تحریک پر مشاورت ہوئی، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ملاقات کے دوران بذریعہ فون تمام مشاورت میں شریک رہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے، عدم اعتماد سے متعلق قانونی ماہرین کی رائے بھی آچکی ہے،عدم اعتماد کا ڈرافٹ تیار ہوچکا ہے، جس پر ملاقات میں مشاورت ہوئی، عدم اعتماد کی حتمی تاریخ کا تعین شہباز شریف کی علالت کے باعث آئندہ ایک دو روز میں ہوگا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ موجودہ حکومت کے تین سالہ دور میں ملک معاشی عدم استحکام کا شکار ہوا، تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اس کو بحال کریں گے۔

  • بے چارے غریب نوازشریف کی جائیداد اور کمپنیوں میں شیئرز کی تفصیلات عدالت کوپیش کردی گئیں

    بے چارے غریب نوازشریف کی جائیداد اور کمپنیوں میں شیئرز کی تفصیلات عدالت کوپیش کردی گئیں

    لاہور :بے چارے غریب نوازشریف کی جائیداد اور کمپنیوں میں شیئرز کی تفصیلات عدالت کوپیش کردی گئیں ،اطلاعات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی جائیداداورکمپنیوں میں شیئرز کی تفصیلات عدالت میں جمع کرادی۔

    تفصیلات کے مطابق پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی جائیداد ضبط کرنے کے معاملے پر نیب نے نواز شریف کی جائیداد اور کمپنیوں میں شیئرز کی تفصیلات احتساب عدالت جمع کرادی۔

    جائیدادضبطی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بے چارے غریب نوازشریف کےنام مختلف شہروں میں 1649کنال 39 مرلے زرعی اراضی ، لاہورمیں نواز شریف کے نام پر1547کنال زرعی اراضی ضبط کی گئی۔

    نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف کے نام موضع منکا میں 936کنال 10مرلے اراضی ہے جبکہ اپر مال لاہور میں بنگلہ نمبر135بھی نواز شریف کی ملکیت ہے ، جسے ضبط کیا گیا۔

    نیب کے مطابق نوازشریف کےنام پرایک مرسیڈیز،ٹیوٹالینڈکروزر ، مختلف کمپنیز میں 8 لاکھ 62 ہزار 294 کے شیئرز بھی ضبط اثاثوں میں شامل ہیں جبکہ 2ٹریکٹربھی نواز شریف کی ملکیت میں ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ جائیداد ضبطی کے خلاف مختلف افراد نے درخواستیں دائرکیں ، نیب نےنوازشریف کےعلاوہ کسی اورفردکی جائیدادیاشیئرضبط نہیں کیے، درخواست گزاروں کے اعتراضات بلا جواز ہیں۔

    نیب نے استدعا کی کہ عدالت جائیداد ضبط کے خلاف دائر اعتراضات مسترد کرے۔