Baaghi TV

Tag: نوازلیگ

  • نواز لیگ کو خطرات لاحق :پیپلز پارٹی کا 5 جنوری کو لاہور میں میدان لگانے کا اعلان:

    نواز لیگ کو خطرات لاحق :پیپلز پارٹی کا 5 جنوری کو لاہور میں میدان لگانے کا اعلان:

    لاہور:نواز لیگ کو خطرات لاحق :پیپلز پارٹی کا 5 جنوری کو لاہور میں میدان لگانے کا اعلان: ،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت مخالف تحریک شروع کرنے سے قبل 5 جنوری کو لاہور میں میدان لگانے کا اعلان کر دیا۔اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پی پی قیادت سے نوازلیگ وسطی پنجاب کے کچھ اہم لوگوں نے پہلے ہی رابطے کررکھے ہیں

    ادھر اسی حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پارٹی ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 5 جنوری کو صوبائی دارالحکومت لاہور کے حلقہ این اے 133 میں جلسہ عام کرے گی ، اس حلقے میں پی پی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری خطاب کریں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی طرف سے خطاب میں اہم اعلان اور آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا، آصف زرداری اور بلاول بھٹو باری باری لاہور کے دورے کریں گے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آپ نے ڈیل ڈیل کی باتیں ٹی وی پر سنی ہوں گی۔ تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں سے یہ باتیں سنی ہوں گی، یاد رکھیں یہ وہی شکلیں ہیں، وہی قلم ہیں جو شہید بی بی بینظیر پر ڈیل کا الزام لگا رہے تھے۔

    5 جنوری کو حکومت کے خاتمے کی بنیاد لاہور میں رکھیں گے۔ یہاں کبھی آر او الیکشن تو کبھی آر ٹی ایس الیکشن کرائے گئے۔ یہاں کبھی کسی چودھری کو استعمال گیا تو کبھی کسی نثار کو استعمال کیا جاتا رہا اور جمہوریت پر ڈاکہ ڈالا جاتا رہا ہے۔ آج پاکستان کے عوام کٹھ پتلی راج بھگت رہے ہیں۔ سلیکٹڈ راج بھگت رہے ہیں۔

    حکومت کیخلاف احتجاج کے سلسلے سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مل کرجدوجہد کرنی ہے، ملک کے کونے، کونے تک پیپلزپارٹی کا پیغام پہنچانا ہے، جن گھروں پر پیپلزپارٹی کے پرچم تھے وہاں دوبارہ پرچم کولہرانا ہے۔ آپ اٹھیں، ہمیں کسی ڈیل کی ضرورت نہیں، ہماری ڈیل شہدا کی قبروں اورعوام سے ہے، وعدہ ہے ہم گاؤں، گاؤں، شہر، شہر پہنچنے والے ہیں، تمام صوبائی عہدیدارتیاری پکڑیں میں آرہا ہوں، گلگت بلتستان، کشمیر، راجہ پرویزاشرف، قمر زمان کائرہ تیاری پکڑیں، پنجاب بھی پہنچنے والے ہیں، ملک کے ہرکونے تک پہنچیں گے۔

    بلاول کا کہنا تھا کہ جہاں میں نہیں پہنچ سکتا وہاں آصف زرداری، فریال تالپور، آصفہ بی بی پہنچیں گے، کٹھ پتلی کے خلاف جنگ کرنے کے اعلان کا وقت آچکا ہے، پانچ جنوری کولاہورمیں اپنا بیس بنائیں گے۔ ان کوضمنی، سینیٹ الیکشن، لوکل گورنمنٹ کو گھرسے شکست ہوئی، ان کے جانے میں دیرنہیں جیالے تیاری پکڑیں، اگلا الیکشن اوروزیراعظم، وزرائے اعلیٰ بھی آپ کے ہوں گے۔

  • ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے:بیٹے نےتسلیم کرلیا کہ میرے ابو”رانا شمیم” نواز لیگ وکلا ونگ کےعہدیدارہیں

    ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے:بیٹے نےتسلیم کرلیا کہ میرے ابو”رانا شمیم” نواز لیگ وکلا ونگ کےعہدیدارہیں

    لاہور: ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے:بیٹے نےتسلیم کرلیا کہ میرے ابو”رانا شمیم” ن لیگ وکلا ونگ کےعہدیدارہیں ہیں‌، ادھر وزیرمملکت فرخ حبیب نے بھی رانا شمیم کے صاحبزادے کے دعوے کی تصدیق کرتےہوئے کہا ہے کہ رانا شمیم ن لیگ وکلا ونگ کے عہدیدار ہیں، یہ بات ان کے صاحبزادے نے خود ٹی وی پر تسلیم کی۔

     

     

    وزیر مملکت فرخ حبیب کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ نوازشریف نے عدلیہ پر حملے کیلئے بیان حلفی بھی اپنی موجودگی میں تحریر کرایا، یہ بہت بڑا انکشاف ہے ،اسی لئے تو انہیں گارڈ فادر کہا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رسی جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا۔

     

     

     

    قبل ازیں وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے اس حوالے سے اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ رانا شمیم نے ثاقب نثار کیخلاف حلف نامہ نواز شریف کے دفتر میں نوٹرائز کرایا ، نئے انکشافات نےایک بار پھر شریف فیملی کو سسیلین مافیا ثابت کر دیا ہے۔

     

    وزیر اطلاعات کا مزید کہا تھا کہ حلف نامے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج صاحبان کے نام شامل ہیں، ثابت ہو گیا یہ مافیا اداروں کو کس طرح بلیک میل کرنےکی صلاحیت رکھتا ہے۔

     

    ادھرذرائع کا کہنا ہے کہ نوازلیگ کی قیادت خبروں کے ذریعے عوام الناس کو گمراہ کرنے اور فیک نیوز چلانے کے لیے بہت زیادہ انویسٹمنٹ کررہی ہے ، جس کے ذریعے نوازلیگ کے بڑے بڑے اچھے چہرے بھی نوازشریف کی خاطرجھوٹ بولنے پرمجبور ہیں

  • غریب جیلوں میں اورملک کا اربوں‌ لوٹنے والے نوازشریف کی سیاسی دباوپرسزا کا خاتمہ ہو:یہ ناممکن ہے:وزیراعظم

    غریب جیلوں میں اورملک کا اربوں‌ لوٹنے والے نوازشریف کی سیاسی دباوپرسزا کا خاتمہ ہو:یہ ناممکن ہے:وزیراعظم

    اسلام آباد:غریب جیلوں میں بےبس اورملک کا اربوں‌ لوٹنے والے نوازشریف کی سیاسی دباوپرسزا کا خاتمہ ہو:یہ ناممکن ہے:،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے عوام کا پیسہ لوٹ کر باہر منتقل کیا، عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کا خاتمہ ممکن نہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ترجمانوں کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، بلدیاتی الیکشن سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختوانخوا کے معاون خصوصی بیرسٹر سیف نے وزیراعظم کو بریفنگ کے دیتے ہوئے بلدیاتی الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے سے متعلق اعدادوشمار سے بھی آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ویلیج کونسل کے نتائج میں بہتری کی امید ہے۔ تحریک انصاف کے پی کے میں ووٹوں کے تناسب سے مقبول اور بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف کو ووٹ زیادہ پڑا، اس کو اجاگر کیا جائے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا خیبرپختونخوا الیکشن سے متعلق خوشیاں منانا حیران کن ہے، یہ ممکن نہیں کہ ہے کہ سزا یافتہ شخص کی سزا ختم ہو جائے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے عوام کا پیسہ لوٹا اور باہر منتقل کیا، پانامہ میں نواز شریف کا نام آیا اور عدالت نے نا اہل کیا، نواز شریف آج تک منی ٹریل بھی نہیں دے سکے، تحریک انصاف کا ووٹر اور عوام ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔

    عمران خان نےکہا کہ پیڈ میڈیا اور سیاسی دباو سے ایک مجرم شخص کی سزا معاف کردی جائے اور غریب جیلوں میں بے بس تڑپ رہے ہوں ایسے ممکن نہیں ہوسکتا ،

    ادھراطلاعات کے مطابق لاہور کی بینکنگ جرائم کورٹ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں عدالت کے دائرہ اختیار پر وکلاء کو تیاری کے لیے حتمی مہلت دے دی۔

     

     

    بینکنگ کورٹ کے جج سردار طاہر صابر نے ایف آٸی اے کی جانب سے دائرہ اختیار پر دائراعتراض پر سماعت کی، وکلا نے کیس پر تیاری کے لیے مزید مہلت کی استدعا کی جس کو منظور کرتے ہوٸے عدالت نے سماعت چار جنوری تک ملتوی کر دی۔

    عدالت نے قرار دیا کہ آٸندہ سماعت پر فریقین کے وکلاء عدالتی دائرہ اختیار پر دلائل مکمل کریں۔ شوگر انکواٸری منی لانڈرنگ کیس میں ایف آٸی اے نے عدالت کے داٸرہ اختیار پر اعتراضات اٹھاٸے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ بینکنگ کورٹ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت نہیں کر سکتی۔

    اس حوالے سے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ آج منی لانڈرنگ کیس سے شہباز شریف کے وکلا غیر حاضر رہے، روز روز چالان مانگنے والے آج عدالت سے فرار ہوگئے۔

    دوسری جانب شہبازگل نے بھی طنزیہ وار کرتے ہوئے کہا کہ اب چابی بھری ترجمان کیا فرماتی ہیں، جھوٹی باجی کو اطلاع دینی تھی کہ شہباز شریف عدالت سے بھاگ رہے ہیں۔

    دوسری طرف سوشل میڈیا پر شریف فمیلی کے اس شاہانہ طرز عمل پر ایک طوفان بدتمیزی بپا ہے ، پاکستانی پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ ہے ایک پاکستان جہاں طاقتور کے لیے قانون اور جبکہ غریب کے لیے قانون اور

    بعض نے لکھا ہے کہ اس ملک کی تباہی میں ان بڑے لوگون کا ہاتھ ہے اور ان کو خودساختہ قانون کا ساتھ بھی نصیب ہے

    بعض نے لکھا ہے کہ اس ملک کی عدالتوں میں غریب رسوا ہورہے ہیں اور شرفائے سیاست عدالتوں کو جوتے کی نوک پربھی نہیں سمجھتے یہ کیا ہورہا ہے ، ہمیں اس نظام سے کون بچائے گا

  • نوازلیگ میں وزیراعظم کا نام نوازشریف:باقی خواہشمندوں کواطاعت کرنا پڑے گی:ورنہ آوٹ:رانا ثنااللہ

    نوازلیگ میں وزیراعظم کا نام نوازشریف:باقی خواہشمندوں کواطاعت کرنا پڑے گی:ورنہ آوٹ:رانا ثنااللہ

    اسلام آباد:نوازلیگ میں وزیراعظم کا نام نوازشریف:باقی خواہشمندوں کواطاعت کرنا پڑے گی:ورنہ آوٹ:اطلاعات کے مطابق نواز لیگ کے سینئر رہنما رانا ثنااللہ کا کہنا ہےکہ (ن) لیگ میں وزیراعظم کے امیدوار کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں اور پارٹی میں جب بھی وزیراعظم کی بات آتی ہے تو وہ ایک ہی نام نواز شریف ہے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ الیکشن سے پہلے نوازشریف کی واپسی کا فیصلہ ان کا اپنا ہوگا اور وہ جب واپس آنا چاہیں گے آجائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پارٹی نوازشریف کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی چاہتی ہے اور پارٹی کا فیصلہ ہے کہ جب تک انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی نہیں ہوتی انہیں واپس نہیں آنا چاہیے۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ میں وزیراعظم کے امیدوار کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں، پارٹی میں جب بھی وزیراعظم کی بات آتی ہے تو وہ ایک ہی نام نوازشریف ہے، اگرکسی وجہ سے نوازشریف نہیں ہوں گے تو ان کی جگہ ہمارے سینئرترین شہبازشریف ہیں۔

    ادھر رانا ثنااللہ کے اس بیان کے بعد ان خبروں کی تصدیق اور تقویت ملتی ہے کہ جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ نواز لیگ میں وزیراعظم کے لیے ایک سرد جنگ چل رہی ہے ، مریم نوازخود وزیراعظم بننا چاہتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مریم نواز یہ سمجھتی ہیں کہ اگرشہبازشریف وزیراعظم بن گئے تو ایک تو وہ غیر فعال ہوجائیں گی دوسرا شہبازشریف اپنے آپ کوایڈجسٹ کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ رکھیں گے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایسی صورت میں نوازشریف اور مریم نواز کی علامتی حیثیت کے سوا کچھ نہیں