ڈاکٹر یاسمین راشد نےانتخابات میں نواز شریف کی کامیابی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔
اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل نے درخواست کو تکنیکی بنیادوں پر خارج کیا اور حقائق و قانون کا درست جائزہ نہیں لیا۔ درخواست گزار کے مطابق ٹربیونل کا فیصلہ آئینی اور قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے، فارم 45 میں مبینہ تبدیلی الیکشن کی شفافیت کے آئینی تقاضے کے خلاف ہے۔
معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے،سپریم کورٹ
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ حتمی نتائج مرتب کرنے کے لیے امیدواروں کو نوٹس جاری کرنا قانونی تقاضا ہے، تاہم نتائج مرتب کرتے وقت کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا، جو کہ انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے، شفاف انتخابات ہر امیدوار کا آئینی حق ہے اور اس حق کی حفاظت عدالت کی ذمہ داری ہے، الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں کامیاب قرار دیا جائے۔









