Baaghi TV

Tag: نوبل انعام

  • فزکس کا نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنسدانوں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا

    فزکس کا نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنسدانوں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا

    رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز نے سال 2023 کے لیے فزکس کا نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنسدانوں کے ناموں کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی: اس سال فزکس کا نوبل انعام ایٹو سیکنڈ پلسز آف لائٹ پر تحقیق کرنے والے پیئری ایگوسٹنی (اوہائیو یونیورسٹی، امریکہ)، فیرینگ کروز (میکس پلینک انسٹیٹیوٹ، جرمنی) اور این ایلہوئیلر (لُند یونیورسٹی سوئیڈن) کے نام رہا۔

    ایٹو سیکنڈ فزکس کا ایک ایسا شعبہ ہے جس میں سائنس دان وقت کے انتہائی چھوٹے پیمانے پر انتہائی چھوٹے ذرات کو دیکھتے ہیں ایٹو سیکنڈ ایک نینو سیکنڈ کا ایک ارب واں حصہ ہوتا ہے،سائنس دانوں نے ایسے تجربات وضع کیے جو انتہائی تیز لیزر ارتعاش پیدا کر سکتے ہیں اور دنیا کو انتہائی چھوٹے پیمانے پر پرکھنے میں مدد کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں جبکہ طبعیات سمیت دیگر سائنسی شعبوں میں بھی اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنس دانوں کو 10 لاکھ امریکی ڈالر کی رقم بھی دی جائے گی۔

    میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت کی بات کی تو ہمیں چور ڈاکو کہا . پیپلزپارٹی …

    https://x.com/NobelPrize/status/1709143709470572915?s=20
    ٹیم میں شامل این ایلہوئیلر تاریخ کی پانچویں خاتون ہیں جن کو فزکس میں نوبل انعام سے نوازا گیا اس سے قبل 221 ایوارڈ یافتہ خواتین میں 1903 میں میری کیوری، 1963 میں ماریہ جیوپرٹ مایر، 2018 میں ڈونا اسٹرک لینڈ اور 2020 میں اینڈریا گھیز نے فزکس میں نوبل انعام حاصل کیا تھا۔

    طوارقی اسٹیل ملز کا نام تبدیل کرنے اور فرٹیلائزر پلانٹس کو گیس کی فراہمی جاری …

  • نوبل ایوارڈز تقریب؛  ایران کی دعوت منسوخ

    نوبل ایوارڈز تقریب؛ ایران کی دعوت منسوخ

    نوبل فاؤنڈیشن کی جانب سے رواں سال ہونے والی نوبل ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کے لئے روس ، بیلاروس اور ایران کو دی گئی دعوت منسوخ کر دی گئی ہے جبکہ رپورٹس کے مطابق نوبل فاؤنڈیشن نے ہفتے کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ وہ روس، بیلاروس اور ایران کے سفیروں کو اس سال اسٹاک ہوم میں ہونے والی نوبل ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کے لیے مدعو نہیں کرے گی۔

    تاہم یاد رہے کہ نوبل فاؤنڈیشن نے گزشتہ برس بھی یوکرین پر حملے کی وجہ سے روس اور بیلا روس کے سفیروں کو مدعو نہیں کیا تھا جبکہ رپورٹس کے مطابق فاؤنڈیشن نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ رواں برس تینوں ممالک کو نوبل ایوارڈز کی تقریب میں مدعو کرے گی تاہم فاؤنڈیشن کے اس بیان کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کئی سویڈش سیاسی رہنماؤں نے اس کے ردعمل میں تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چینی کی قیمت 200 تک پہنچ گئی
    شادی جلدی یا لیٹ کبھی بھی ہو سکتی ہے ایشو والی بات نہیں‌عثمان مختار
    میں آج تک اقربا پروری کا شکار نہیں‌ہوئی غنا علی
    انڈر 23 ایشین کپ 2024 کوالیفائرز کیلئے 23 رکنی سکواڈ کا اعلان
    حلیم عادل شیخ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج
    جبکہ بڑے پیمانے پر تنقید کے بعد فاؤنڈیشن کو اپنے پہلے کیے گئے فیصلے کو تبدیل کرنا پڑا اور تینوں ممالک کو دی گئی دعوت منسوخ کرنی پڑی۔

  • نوبل ادب انعام یافتہ ایلس منرو

    نوبل ادب انعام یافتہ ایلس منرو

    ایلس منرو 10جولائی1931 ء کو کینیڈا کے صوبے، اونٹاریو میں واقع قصبے،ونگہیم (Wingham) میں پیدا ہوئیں۔ متوسط گھرانے سے تعلق تھا۔ رقم کی کمی کے باعث ہی دورانِ تعلیم ویٹرس،لائبریری کلرک اور تمباکو چننے کی ملازمتیں کر کے اپنے تعلیمی اخراجات برداشت کرتی رہیں۔ انیس سال کی تھیں جب پہلا افسانہ لکھا۔ تب بھی یہی مدعا تھا کہ اسے رسالے میں شائع کراکر آمدنی بڑھائی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایلس ناول نگار بننا چاہتی تھیں۔ لکھنے کی مشق کرنے کی خاطر انھوں نے افسانے لکھنے شروع کیے۔ تب کئی ادباء کے مانند وہ بھی ناول کو افسانے پہ ترجیح دیتی تھیں لیکن رفتہ رفتہ وہ طلسم ِافسانہ کی اسیر ہو کر رہ گئیں۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آن پہنچا کہ وہ ناول کو تصیحِ اوقات کی شے سمجھنے لگیں۔ افسانوی ادب کے عاشقوں اور نقادوں کا خیال ہے-

    ایلس منرو کو نوبل انعام ملنا اس سچائی کا غماز ہے کہ عالمی افسانہ اب اپنے سنہرے دور میں داخل ہو چکا۔ یاد رہے،ماضی میں بیشتر نوبل ادب ایوارڈ شاعری کرنے یا ناول لکھنے والے ادباء کو دیے گئے۔ کینیڈین دیہی ماحول،نسوانی مسائل اور مرد وعورت کے پیچیدہ تعلقات ایلس کی کہانیوں کے بنیادی موضوع ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعی انداز عظیم روسی افسانہ نگار،چیخوف کے طرز تحریر سے ملتا جلتا ہے۔ چیخوف کے مانند ایلس کے افسانوں میں بھی پلاٹ ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ نیز اچانک کوئی چونکا دینے والی بات سامنے نہیں آتی۔ ایلس کے افسانے چلتے چلتے میٹھے یا کڑوے جذبات و احساسات اور سچ عیاں کرتے چلے جاتے ہیں۔ انگریزی دنیا میں ایلس کی تخلیقات کے جملے اکثر قلمکار اپنی تحریروں میں بیان کرتے ہیں۔

    مثلاً ان کے ایک افسانے کا یہ جملہ:The constant happiness is curiosity(مسلسل خوشی تجسّس کی طرح ہے)کینیڈین انگریزی میں مقولے کا درجہ پا چکا۔ ایلس منرو کی زندگی کا بیشتر عرصہ دیہات میں گزرا۔ آج بھی وہ فطرت کے قریب رہنا پسند کرتی ہیں۔ سادہ اور پُروقار خاتون ہیں۔ دولت و شہرت کی دلداہ نہیں،اسی باعث ’’کمپنی کی مشہوری‘‘کی خاطر کبھی کوئی مہم نہ چلائی۔ عمر کے اس حصے میں ہیں جب ایوارڈ انسان کے لیے بے معنی بن جاتا ہے۔ تاہم نوبل ادب انعام ملنے پہ انھوں نے اظہار مسرت کیا۔ وہ اب تک ادبی دنیا کے کئی نامور ایوارڈ جیت چکیں۔ ان میں پین/مالمود ایوارڈ،او ہنری ایوارڈ،مان بوکر انٹرنیشنل پرائز اور کامن ویلتھ رائٹرز پرائز شامل ہیں۔ ایلس منرو انگریزی دنیا میں جانی پہچانی افسانہ نگار ہیں۔ نوبل کمیٹی نے انھیں جدید افسانہ نگاری کا امام (Master) قرار دیا۔

  • کیمسٹری کا نوبل انعام امریکہ اور ڈنمارک کے سائنسدانوں کے نام

    کیمسٹری کا نوبل انعام امریکہ اور ڈنمارک کے سائنسدانوں کے نام

    دنیا کے معتبر ترین نوبل انعامات جیتنے والوں کےنام سامنے آنے کا سلسلہ جاری، تین شعبوں میں فاتحین کا اعلان کردیا گیا-

    باغی ٹی وی: امریکہ اور ڈنمارک کے سائنسدانوں نے 2022 کیلئے کیمسٹری کا نوبل انعام اپنے نام کر لیا دنیا کا سب سے بڑا انعام نوبیل پرائس 2022 بائے کیمسٹری دو امریکی اور ایک ڈینش سائنسدان نے جیت لیا۔

    سوئیڈن سائنسدان نے طب کا امریکا،آسٹریا اور فرانس کے سائنسدانوں نے فزکس کا نوبل…

    امریکی سائنسدان کیرولین آر برٹوزی، بیری شارپ لیس اور ڈنمارک کے مورٹن میلڈل نے کلک کیمسٹری اور بائیو آرتھوگونل کیمسٹری سے متعلق کام پر نوبل انعام حاصل کیا۔


    ان تینوں سائنسدانوں نے بیماریوں کے علاج اور تشخیص میں اہم کارنامے انجام دیئے۔ بائیو آرتھو گونل کے تحقیقاتی نتائج کینسر کی ادویات اورکلینکل ٹرائل میں استعمال ہو رہے ہیں۔

    ان تینوں سائنس دانوں کو کیمیا کی شاخوں کلک کیمسٹری اور بائیو آرتھوگونل کیمسٹری کے شعبے میں کی گئی تحقیق پر دی گئی ہے جس نے کیمیا کی ان شاخوں کو نئی جہت بخشی اور نئے حقائق سامنے لائے اور ایک مشکل عمل کو آسان بنایا اتنا کہ جیسے یہ تحقیق کہتی ہو کہ صرف ’’کلک‘‘ کریں اور مالیکیول کے جوڑوں کے بغیر تخرینی عمل کے ایک ساتھ ملنے کا مظہر دیکھیں۔

    امریکی تحقیقی ادارے اسکریپس ریسرچ سے منسلک کے بیری شارپ لیس اور ڈنمارک کی یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے مورٹن میلڈال نے کیمسٹری کی ایک فعال قسم ’’کلک کیمسٹری‘‘ کی بنیاد رکھی ہے جس میں مالیکیولر بلڈنگ بلاکس تیزی سے اور مؤثر طریقے سے اکٹھے ہوتے ہیں۔ تاہم امریکی خاتون سائنس دان کیرولین برٹوزی نے کلک کیمسٹری کو ایک نئی جہت پر لے جا کر جانداروں میں اس کا تجربہ شروع کیا اور کامیاب رہیں۔

    دوا سازی کی تحقیق میں اکثر دواؤں کی خصوصیات کے ساتھ قدرتی مالیکیولز کو مصنوعی طور پر دوبارہ بنانا شامل ہوتا ہے۔ اسی لیے کیمیا دان طویل عرصے سے پیچیدہ مالیکیولز بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بہت سے قابل تعریف مالیکیولر بنے لیکن یہ عام طور پر وقت طلب اور ان کی پیداواری لاگت بھی زیادہ ہوتی ہے تاہم اب اس کا حل ان تینوں سائنس دانوں نے پیش کردیا۔

    اقوام متحدہ کا افغان معیشت کی ڈرامائی گراوٹ پر تشویش کا اظہار

    امریکی سائنس دان بیری شارپلس جنہیں اب کیمسٹری میں دوسری بار نوبل انعام دیا جا رہا ہے اس سے قبل 2001 میں حاصل کیا تھا۔ وہ دو نوبل انعام لینے والے پانچویں سائنس دان بن گئے ہیں۔ اس بار بیری شارپلس کو 1998ء سے 2000 ء کے درمیان کیمیا کی نئی شاخ ’’کلک کیمسٹری‘‘ کا تصور پیش کرنے پر دیا گیا جو سادہ اور قابل اعتماد کیمسٹری کی ایک شکل ہے جہاں تعاملات (reactios) تیزی سے ہوتے ہیں اور ناپسندیدہ ضمنی مصنوعات سے بچا جاتا ہے۔

  • سوئیڈن سائنسدان نے طب کا امریکا،آسٹریا اور فرانس کے سائنسدانوں نے فزکس کا نوبل انعام اپنے نام کر لیا

    سوئیڈن سائنسدان نے طب کا امریکا،آسٹریا اور فرانس کے سائنسدانوں نے فزکس کا نوبل انعام اپنے نام کر لیا

    سوئیڈن کے سوانتے پابو نے فزیولوجی کے میدان میں اس سال کا نوبل انعام اپنے نام کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نوبل کمیٹی کے مطابق سوئیڈش سائنس دان کو یہ انعام معدوم ہوجانے والے انسانوں کے جینوم اور انسانی ارتقاء کے حوالے سے کی جانے والی دریافتوں پر دیا گیا ہے۔


    نوبل کمیٹی کا کہنا تھا کہ اپنی تحقیق کے ذریعے سوانتے پابو نے آج کے انسان کی معدوم قسم نِینڈرتھل کے جینوم کو ساخت دے کر بظاہر ناممکن دِکھنے والی چیز کو ممکن کر دِکھایا۔ انہوں نے ڈینیسووا نامی انسانی قسم کی دریافت بھی کی جو اس سے قبل نامعلوم تھی۔


    میکس پلینک انسٹیٹیوٹ کے شعبہ جینیات کے ڈائریکٹر سوانتے پابو کے متعلق جیوری نے بتایا کہ انہوں نے 70 ہزارسال قبل معدوم انسانی قسم سےموجودہ نوعِ انسانی میں افریقا سے مشرقِ وسطیٰ ہجرت کرجانے کے بعد ہونے والی جینیاتی منتقلی بھی دریافت کی۔


    جیوری کا کہنا تھا کہ دورِ حاضر کے انسانوں میں جینز کی یہ قدیم منتقلی آج بھی مطابت رکھتی ہے، جس کی مثال ہمارے مدافعتی نظام کا انفیکشنز پر دِکھایا جانے والا ردِ عمل ہے۔

    دوسری جانب رائل سوئیڈش اکیڈمی کی جانب سے سال 2022 کے لیے طبعیات (فزکس) کا نوبل انعام ’’کوانٹم مکینکس‘‘ پر تحقیق کرنے والے امریکا، آسٹریا اور فرانس سے تعلق رکھنے والے تین سائنس دانوں کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔


    رائل سویڈش اکیڈمی کی جانب سے فرانس کے ایلین ایسپیکٹ، امریکا کے جان کلوزر اور آسٹریا کے اینتون زِیلِنگر کو ایٹمی زرات کے رویوں سے متعلق کی جانے والی تحقیقات پر فزکس کا نوبل انعام برائے 2022 دیا گیا ہے۔


    https://twitter.com/NobelPrize/status/1577370223522496532?s=20&t=rVvKInbq57qYIJXZb0nfJw
    جیوری کے مطابق تینوں سائنس دانوں نے ذیلی ایٹمی ذرات کے رویوں سے متعلق تحقیق کی، جو سُپر کمپیوٹر اور اِنکرپٹڈ کمیونیکیشن کے حوالے سے مزید تحقیق کے دروازے کھولے گی اور اس موضوع کو مزید وسیع کرے گی۔


    رائل سویڈش اکیڈمی کی جیوری کے مطابق سائنس دانوں کو ’الجھے ہوئے فوٹون پر تجربات کرنے، ’بیل اِن اکویلیٹیز‘ کی خلاف ورزی ثابت کرنے اور کوانٹم انفارمیشن سائنس متعارف کرانے پر ایوارڈ دیا گیا ایوارڈ حاصل کرنے والوں نے اپنی تحقیق سے مزید بنیادی تحقیق کے راستے کھولے اور نئی عملی ٹیکنالوجی کے لیے راہیں ہموار کیں ہیں۔


    ایوارڈ حاصل کرنے والے فرانس کے ایلین ایسپیکٹ کا تعلق یونیورسٹی آف پیرس-سیکلے سے، آسٹریا کے اینتون زِیلِنگر یونیورسٹی آف ویانا سے وابستہ ہیں جبکہ امریکا کے جان کلوزر کیلیفورنیا میں ایک کمپنی کے مالک ہیں ان تینوں سائنس دانوں نے 2010 میں بھی مشترکہ طور پر وولف پرائز اپنے نام کیا تھا۔

    خیال رہے کہ سائنس کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دے کر نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنس دانوں کو ایوارڈ کے ساتھ 10 ملین سویڈش کرونر کی رقم بھی دی جائے گی۔ یہ رقم نوبل انعام کے موجد سویڈش الفریڈ نوبل کی چھوڑی گئی جائیداد میں سے دیا جاتا ہے۔


    واضح رہے کہ رائل سوئیڈش اکیڈمی کی جانب سے بدھ 05 اکتوبر کو کیمسٹری، جمعرات 6 اکتوبر کو لٹریچر جب کہ 7 اکتوبر جمعے کو امن کے نوبل انعام کے لیے ناموں کا اعلان کیا جائے گا جبکہ نوبل انعام برائے اکنامکس کی کیٹگری کیلیے اعلان سب سے آخر میں دس اکتوبر کو کیا جائے گا۔

  • یوکرینی بچوں کی مدد کیلئے روسی صحافی نے اپنا نوبل انعام نیلام کر دیا

    یوکرینی بچوں کی مدد کیلئے روسی صحافی نے اپنا نوبل انعام نیلام کر دیا

    ماسکو: روس کے صحافی نے جنگ سے متاثریوکرینی بچوں کی امداد کے لئے نوبل انعام میں ملا سونے کا میڈل نیلام کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق یوکرین پر حملہ کرنے والے روس سے تعلق رکھنے والے صحافی دیمتری میریتوو نے نوبل پرائز میں ملنے والا سونے کا نوبل میڈل 10 کروڑ 30 لاکھ ڈالر میں فروخت کردیا۔

    روسی صحافی کا کہنا ہے کہ میڈل کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم اقوام متحدہ کے بچوں کی بہبود کے لئے کام کرنے والے ادارے کے ذریعے یوکرین میں جنگ سے بے گھر ہونے والے بچوں کی مدد اوربحالی کے لئے خرچ کی جائے گی۔ جنگ کے نتیجے میں یتیم ہونے والے بچوں کوبہتر اورمحفوظ مستقبل دینا اہم ہے-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق 23 قیراط سونے کا میڈل اتوار کے روز ایک آن لائن پورٹل کے ذریعے فروخت کیا گیا تھا، یہ نوبل انعام روسی صحافی کوگزشتہ برس صحافتی کاوشوں پر دیا گیا تھانیلام کیا گیا میڈل اب تک کا سب سےمہنگا نوبل انعام ہے، اس سے قبل 2014 میں نوبل انعام 4 اعشاریہ76 ملین ڈالر میں فروخت کیا گیا تھا، جو امریکی بائیولوجسٹ جیمز واٹسن کو 1962 میں ڈی این اے کی دریافت کے لیے دیا گیا تھا۔

    یوکرین کا تنازعہ طوالت اختیارکرے گا،ہم مغرب کے جھانسےمیں نہیں آئیں گے :روس

    امریکی اخبار کے مطابق دیمتری موراتوو ڈنمارک کے سائنسدان نیلز بوہر سے متاثر ہوئے ہیں، جنہوں نے 1939 میں سوویٹ یونین کے حملے کے بعد فن لینڈ کے لیے امداد جمع کرنے کے لیے اپنا نوبل امن انعام فروخت کیا تھا۔

    دیمتری میریتوو کو2021 میں آزادانہ اورغیرجانبدارانہ صحافت پرنوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔

    ریلوے نظام درہم برہم،30 سال بعد بڑی ہڑتال

  • نوبل انعام کیا مسلمانوں کو بھی دیا گیا ؟

    نوبل انعام کیا مسلمانوں کو بھی دیا گیا ؟

    لاہور: ویسے تو ہر سال سنتے رہتے ہیں کہ جی فلاں شخص کو نوبل انعام سے نوازا گیا ، اچھی بات ہے لیکن سوال یہ تھا کہ کیا کسی مسلمان کو بھی اس انعام سے نوازا گیا تو اس کے جواب میں بہت سے مسلمانوں کے نام سامنے آگئے ،ویسے تو امن کا پہلا نوبیل انعام سنہ 1901 میں ریڈ کراس کے بانی ‘ہینری ڈونینٹ’ اور فرانس کے سماجی کارکن فریڈرک پاسے کو دیا گیا تھا۔

    تفصیلات کےمطابق اس برس امن کے نوبیل انعام کے لیے ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد علی کے نام کا اعلان کیا گيا ہے۔ وہ ایتھوپیا کے پہلے، دنیا کے 100 ویں اور 14 ویں مسلم شخص ہیں جنہیں اس اعزاز سے سرفراز کیا جائے گا۔امن کا نوبیل انعام پانے والی مسلم شخصیات میں سب سے پہلا نام مصر کے سابق صدر انور سعادت کا ہے۔ انہیں یہ اعزاز خلیجی خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کے لیے 1981 میں دیا گیا تھا۔

    جناب محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نسل پرستی کے سخت خلاف تھے،عیسائی مفکر

    فلسطینی رہنما یاسر عرفات یہ انعام پانے والے دوسرے مسلم رہنما تھے۔ سنہ 1994 میں انہیں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدے کے لیے اس اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ایران کی شیرین عابدی پہلی مسلم خاتون اور تیسری مسلم تھیں جنہیں اس اعزاز سے 2003 میں نوازا گیا۔ انہیں یہ اعزاز جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے کے لیے دیا گیا تھا۔

    مصر سے تعلق رکھنے والے محمد البردعی چوتھے مسلم ہیں جنہیں 2005 میں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ انہیں یہ اعزاز جوہری توانائی کے پر امن استعمال کی کوششوں کے لیے دیا گیا تھا۔بنگلہ دیش کی ‘گرامین بینک’ کے بانی محمد یونس پانچویں مسلم ہیں جنہیں اس اعزاز سے 2006 میں سرفراز کیا گیا۔ انہیں یہ اعزاز غریبی کے خلاف جد و جہد کے پیش نظر دیا گیا۔

    اللہ میری توبہ! سگی ماں نے اپنا 13 سالہ حافظ قرآن بیٹا قتل کردیا

    پاکستان کی ملالہ یوسف زئی نوبیل امن انعام جیتنے والی نہ صرف چھٹی مسلم تھیں بلکہ نوبیل کی صد سالہ تاریخ میں نوبیل جیتنے والی سب سے کم عمر ایوارڈ یافتہ بھی ہیں۔ انہیں یہ اعزاز تعلیم کے لیے شعبے میں نمایاں کام کرنے پر دیا گیا۔یمن کی توکل کامران کو امن کے نوبیل اعزاز سے 2011 میں سرفراز کیا گیا۔ توکل یمن کی ایک سیاسی و سماجی کارکن اور صحافی ہیں۔ انہیں یمن میں ‘آئرن وومن’ یعنی خاتون آہن اور ‘مادر تحریک’ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ پہلی عرب مسلم اور دوسری مسلم خاتون ہیں جنہیں اس اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔

    شرین عابدی، توکل کامران اور ملالہ یوسف زئی کے بعد نوبل انعام حاصل کرنے والی عراق کی نادیا مراد 14 ویں مسلمان خاتون ہے۔نادیہ کو 2018 میں جنسی تشدد کو جنگ کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف کئے گئے کوشیشوں کے لیے دیا گیا۔سنہ 2019 میں ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی علی احمد نوبیل امن انعام جیتنے والے آٹھویں مسلم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ ایتھوپیا کے پہلے دنیا کے 100 ویں شخص ہیں جنہیں اس اعزاز سے سرفراز کیا جائے گا۔

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا 69 واں روز، نظام زندگی مفلوج،ظلم وتشدد جاری

    اس کے علاوہ پاکستان کے سائنسدان عبدالسلام کو فزکس میں 1979 میں۔مصر کے نجیب محفوظ کو 1988 میں ادب کے شعبے میں۔1999 میں مصر کے احمد زاویل کو کیمسٹری کے شعبے میں۔ترکی کے ارحان پامک کو 2006 میں ادب کے شعبے میں۔اور 2015 میں ترکی کے عزیز سنکار کو کیمسٹری کے شعبے میں اس اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔

  • 2019 کا نوبل انعام 3 سائنسدانوں کے نام ،کس وجہ سے نوبل انعام ملا ،خبر نے ہلچل مچادی

    2019 کا نوبل انعام 3 سائنسدانوں کے نام ،کس وجہ سے نوبل انعام ملا ،خبر نے ہلچل مچادی

    نیویارک :حسب سابق اس سال بھی نوبل انعام یورپین اور امریکی سائنسدانوں کے حصے میں آیا ، اطلاعات کے مطابق سال 2019 کیلئے طب کا نوبیل انعام مشترکہ طور پر 2 امریکیوں ولیم کیلن ، گریگ سمینزا اور ایک برطانوی سائنسدان سر پیٹر ریٹ کلف کو دیا گیا ہے۔

    ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری—از–محمد نعیم شہزاد

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق نوبل انعام کے حوالے سے سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں رواں سال کے نوبیل انعام برائے طب کا اعلان کیا گیا۔تینوں سائنسدانوں کو یہ انعام ان کی انسانی جسم میں خلیوں اور آکسیجن کے ربط سے متعلق تحقیق پر دیا گیا۔اسٹاک ہوم کے کارولنسکا انسٹیٹیوٹ میں انعام کا اعلان کرتے ہوئے نوبیل کمیٹی کا کہنا تھا کہ ان سائنسدانوں کی تحقیق سے انیمیا (خون کی کمی) ، کینسر اور دیگر بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد ملے گی ۔https://twitter.com/NobelPrize/status/1181140315635376128?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.geo.tv%2Flatest%2F206123-

    درسی کتابیں 35فیصد تک مہنگی ،تعلیم خواب بننے لگی

    ذرائع کے مطابق نوبیل کمیٹی کے مطابق آکسیجن کی اہمیت تو بہت پہلے ہی واضح ہوچکی ہے لیکن خلیات کس طرح آکسیجن کی مقدار کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتے ہیں ان کی تحقیق سے قبل یہ معلوم نہیں تھا۔نوبیل کمیٹی کے ایک ممبر رینڈال جانسن نے اسے نصابی دریافت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک انتہائی بنیادی لیکن دلچسپ پہلوہے کہ خلیات کس طرح کام کرتے ہیں۔

    سی ایس ایس امتحانات اور انگریزی کا”جن”—- از — پروفیسر محمد…

    یاد رہے کہ نوبیل انعام کو کسی بھی شعبے میں خدمات کے اعتراف میں دیا جانے والا بڑا انعام تصور کیا جاتا ہے اور رواں برس ان سائنسدانوں کو انعام کے ساتھ 9 لاکھ 7 ہزار امریکی ڈالر کی انعامی رقم بھی ملے گی جو کہ تینوں میں مشترکہ طور پر تقسیم کی جائے گی۔