Baaghi TV

Tag: نوجوان نسل

  • نوجوان نسل کو حکومت میں شامل کرنا کیوں ضروری ہے؟

    نوجوان نسل کو حکومت میں شامل کرنا کیوں ضروری ہے؟

    کینیڈین مینٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن (سی ایم ایچ اے) کے مطابق: "نوجوانوں کی بامعنی شرکت کا مطلب ہے کہ نوجوانوں کی قوت، دلچسپی اور صلاحیت کو پہچاننا اور ان صفات کی پرورش کرنا شامل ہے تاکہ انہیں انفرادی اور نظمی سطح پر اثرانداز ہونے والے فیصلوں میں شامل ہونے کے حقیقی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ”

    پاکستان میں گورننس کے مختلف شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا بہت ضروری ہے۔ وہ تخلیقی صلاحیتیں، انوکھی سوچ، اور ملک کی موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    بدقسمتی سے، پاکستان میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں انہی منصوبہ بندی کرنے والوں پر انحصار کرتی رہی ہیں، جو معاشی پالیسیوں میں مثبت تبدیلی لانے، اور پیچیدہ سماجی مسائل کا حل کرنے کے لیے ناکام رہے۔ نتیجتاً، پاکستان تیزی سے برین ڈرین کا سامنا کر رہا ہے اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو دیگر ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے. جبکہ وہ اپنی معیشتوں کو ترقی دینے کے لیے اپنے انسانی وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں۔
    پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر والی ہے، البتہ نوجوانوں میں بے روزگاری بدستور زیادہ ہے۔ معیشت کی ترقی کے لیے ان کی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نوجوانوں کو ضروری ہنر مندی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ان دونوں شعبوں میں نمایاں کمی ہے۔

    برین ڈرین کا مقابلہ کرنے اور ترقی کرنے کے لیے پاکستان کو ٹیکنالوجی اور علمی نوعیت کی مصنوعات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ شعبوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے، جس میں خصوصی توجہ خصوصی مہارتوں اور ویلیو ایڈڈ نظریات کو تیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    اس عمل میں سب سے اہم قدم نوجوانوں کا مختلف شعبوں سے متعلق پالیسی سازی کے فیصلوں میں شمولیت ہے۔ نوجوان افراد کو ان فرسودہ پالیسی سازوں کی جگہ دینی چاہیے جو کئی دہائیوں سے براجمان ہیں اور 1990 کی دہائی کے بعد بدلتے وقت کے مطابق ڈھالنے میں ناکام ہیں۔

    پاکستان کو درپیش چیلنج فرسودہ ذہنیت سے دور ہونے کا ہے، جو اداروں کو ترقی پسند انداز میں ترقی دلانے سے قاصر رہے ہیں۔ جانبداری کا رواج، اور ایسے افراد کی سربراہان اور اسائنمنٹس کے عہدہ پہ تعیناتی جن کے پاس متعلقہ موضوع کا بہت کم علم ہو، اس عمل کو روکنے کی ضرورت ہے۔

    اب وقت ہے کہ ملکی حکمرانی میں نوجوانوں کی شمولیت کرا کے پاکستان اور اس کے مستقبل کو ترجیح دی جائے۔ ایسا کرنے سے پاکستان اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے مستفید ہو سکتا ہے، اپنی اہم مشکلات سے نمٹ سکتا ہے، اور ایک پائیدار ترقی کو فروغ دے سکتا ہے۔

  • عمران خان کے جلسوں سے ملک میں تبدیلی کی نئی لہر،نوجوان لڑکیاں والدین کو قتل کی دھمکیاں دینے لگیں،ویڈیو

    عمران خان کے جلسوں سے ملک میں تبدیلی کی نئی لہر،نوجوان لڑکیاں والدین کو قتل کی دھمکیاں دینے لگیں،ویڈیو

    عمران خان کے دھرنے میں پسند آئے لڑکے سے شادی کیلئے لڑکی کی اپنے سگے والد کو قتل کی دھمکیاں دے ڈالیں جس کی ویڈیو وائرل ہو گئی-

    ‏باغی ٹی وی: ویڈیو میں لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ جس لڑکے کو پسند کرتی ہے اس کے ساتھ ملاقات عمران خان کے جلسے میں ہوئی جس پر ویڈیو میں لڑکی کے والد نے کہا کہ یہ عمران خان کے جلسے میں جاتی ہے یہ بیٹی ہے میری عزت ہے ہماری ہم اسے منع کرتے ہیں جلسوں میں جانے سے یہ سنتی نہیں ہے ہماری بات-


    جس پر میزبان نے لڑکی سے پوچھا کہ آپ عمران خان کے جلسے پر کیوں جاتی ہیں لڑکی نے کہا کہ وہ ملک کی تندیلی کیلئے عمران خان کے جلسوں میں جاتی ہے اگر میرا باپ نہیں جاتا تو میں تو ضرور جاؤں گی میرا باپ جائےنا جائے میں نے تو جانا ہے میں نے ملک کیلئے کچھ کرنا ہے اور میں وہ کر کے رہوں گی-

    لڑکی کا والد شکوہ کرتا ہے کہ یہ ہماری بیٹی جلسے میں جاتی ہے یہ عزت ہے ہماری تو عمران خان اپنی عزت لے آئے نا اس کی بیوی جلسے میں آئے ہماری بیٹیاں ہی کیوں جلسے میں جائیں؟لڑکی نے کہا کہ عمران خان کی بیوی پردہ کرتی ہیں جس پر لڑکی سے پوچھا گیا کہ عمران خان کی بیوی نیک ہے کیا آپ نیک نہیں لڑکی کہتی ہے کہ میں بھی نیک ہوں لیکن میں بتا رہی ہوں میں ملک کی تبدیلی کے لئے بے پردہ ہوتی ہوں کتنی عورتیں ہیں جو وہاں پر آتی ہیں –

    یہ کئی بار پہلے بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ عمران خان کی بیوی کیوں نہیں دھرنوں جلسوں پر آتی جبکہ قوم کی بچیاں تبدیلی کے لئے آتی ہیں اچھی بات ہے کہ وہ تبدیلی چاہتی ہیں –

    لڑکی کے والد نے کہا کہ ہم بھی چاہتے ہیں ہماری بیٹی پردے میں رہے وہ ہماری عزت ہے اور ابھی بھی اس کے بال کھلے ہوئے ہیں ہم تو چاہتے ہیں یہ پردے میں رہے یہ ہماری بات سنتی نہیں مانتی نہیں میرا دل کرتا ہے میں اسے جان سے مار کر خود بھی مرجاؤں بس اب یہی
    ہو سکتا ہے-

    جس پر بیٹی نے والد کو کہا میں کیوں مروں آپ مریں اور آپ شرم کریں میں اتنی بڑی ہو گئی ہوں اپ کا فرض بنتا ہے میری بات سنیں یہ آپ کیا بدتمیزی کر رہے ہیں میں لڑکوں کے پیچھے بھاگ رہی ہوں کون سے لڑکوں کے پیچھے بھاگ رہی ہوں میں صرف اسی لڑکے سے پیار کرتی ہوں جو میرے ساتھ ہے اب نے میری اس کے ساتھ شادی کروانی ہے اگر نہیں کروائی تو میں بھاگ جاؤں گی-

    باپ کے قتل کرنے کی دھمکی دینے پر لڑکی کے بے خوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے باپ کو دھمکی دی کہ دیکھیں گے کون کسے قتل کرے گا-