Baaghi TV

Tag: نوجوت سدھو

  • بھارت، کانگریس رہنما نوجوت سدھو کو 34 سال پرانے مقدمے میں 1 سال قید کی سزا

    بھارت، کانگریس رہنما نوجوت سدھو کو 34 سال پرانے مقدمے میں 1 سال قید کی سزا

    نئی دہلی :نوجوت سدھو کو 34 سال پرانے مقدمے میں سزا،اطلاعات کے مطابق بھارت کی بڑی سیاسی جماعت کانگریس کے رہنما، شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیت اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو 1988ء میں سڑک پر ایک شخص کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کرنے کے مقدمے میں ایک سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

    مقدمے میں لگائے گئے الزامات 27 دسمبر 1988ء کو ہونے والے واقعے سے متعلق تھے جن میں کہا گیا تھا کہ کار پارکنگ کے مسئلے پر ہونے والے جھگڑے میں نوجوت سدھو کی وجہ سے گرنام سنگھ نامی ایک شخص کے سر پر چوٹ لگی تھی جس سے اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔

    بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نوجوت سنگھ سدھو نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کر لیا ہے۔ پنجاب کانگریس کے سابق سربراہ کو مجرمانہ قتل کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا تاہم انہیں زخمی کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

    اس سے قبل سپریم کورٹ نے اسی کیس میں نوٹس کے دائرہ کار کو بڑھانے کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ درخواست ایک نظرثانی شدہ جاری پٹیشن کے تحت دی گئی تھی۔ نوجوت سنگھ سدھو نے مقدمے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ان کے خلاف کیس کو بڑھاوا دینا ہے جبکہ سپریم کورٹ اس حوالے سے پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔

    22 ستمبر 1999ء کو پٹیالہ کے ایک سیشن جج نے سدھو کو بری کر دیا تھا اور کہا تھا کہ شواہد نامکمل ہیں اور ان کو شک کا فائدہ دیا گیا تھا تاہم اس کے بعد واقعے کے متاثرہ شخص کے خاندان نے عدالتی حکم کو چیلنج کر دیا تھا اور معاملے کو پنجاب اور ہریانہ کی ہائی کورٹ میں لے گئے تھے۔

    بعد ازاں 2006ء میں عدالت نے نوجوت سنگھ سدھو کو تین سال کی سزا سنائی گئی تھی جس کے خلاف اُنہوں نے اپیل کی تھی اور اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

  • عمران خان کی بھارت میں پاکستان نوازافراد کووزیربنوانے کے لیے لابنگ:مودی اورمودی نوازغصے میں آگئے

    عمران خان کی بھارت میں پاکستان نوازافراد کووزیربنوانے کے لیے لابنگ:مودی اورمودی نوازغصے میں آگئے

    امرتسر:عمران خان کی بھارت میں پاکستان نوازافراد کووزیربنوانے کے لیے لابنگ کا انکشاف،اطلاعات کے مطابق بھارتی پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے پیر کو دعویٰ کیا کہ انہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے کانگریس رہنما نوجوت سنگھ سدھو کو اپنی کابینہ میں شامل کرنے کی درخواست موصول ہوئی تھی۔

    امریندر سنگھ نے کہا کہ درخواست ایک انتباہ کے ساتھ آئی تھی کہ “اگر وہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے تو بھلے انہیں دوبارہ ہٹا دیں”۔سابق وزیراعلٰی نے کہا کہ عمران خان کی درخواست اس کے فوراً بعد آئی جب انہوں نے “سدھو کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔”

    سدھو نے 14 جولائی 2019 کو کابینہ سے استعفیٰ دے کر مقامی حکومت کے قلمدان سے دستبردار ہو گئے تھے۔ سدھو اس وقت پنجاب کانگریس کے صدر ہیں۔

    امریندر سنگھ نے کہا کہ “اگر مجھے صحیح طریقے سے یاد ہے، تو یہ 20 جولائی کا دن تھا۔ سب سے پہلے، میں آپ کو بتاتا چلوں کہ میں نے مسٹر سدھو کو نوکری سے اس لیے ہٹایا کہ وہ آدمی اپنی ملازمت میں مکمل طور پر نااہل اور بالکل بیکار تھا۔ وہ لوکل گورنمنٹ کی دیکھ بھال کر رہا تھا اور 70 دنوں سے اس نے ایک فائل بھی مکمل نہیں کی۔”

    انہوں نے بتایا کہ “دو یا تین ہفتوں بعد، مجھے کسی ایسے شخص کی طرف سے پیغام ملا جسے ہم دونوں (سدھو اور امریندر) جانتے تھے، جس میں کہا گیا کہ انہوں نے (پاکستان کے وزیر اعظم) مجھ سے درخواست کی کہ سدھو کو میری حکومت میں شامل کیا جائے اور اگر وہ کام نہیں کرتے ہیں تو انہیں ہٹا دیں۔”

    تاہم، چندی گڑھ میں پریس کانفرنس کے دوران سدھو سے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔خیال رہے کہ سدھو اور عمران خان کرکٹ کے سابق ساتھی ہیں۔اور مودی اور مودی کے یاروں کے دشمن سمجھے جاتے ہیں‌

    جب سدھو نے 2018 میں عمران خان کی تقریب حلف برداری کے لیے پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستانی آرمی چیف کو گلے لگاتے ہوئے تصویر سامنے آنے پر امریندر بھی ناقدین میں شامل تھے۔

    مبینہ پیغام کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے، سنگھ نے کہا، “پیغام یہ تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے ایک درخواست بھیجی ہے کہ اگر آپ سدھو کو اپنی کابینہ میں لے سکتے ہیں تو وہ ان کے مشکور ہوں گے۔ وہ (سدھو) میرے (پاکستانی وزیر اعظم) پرانے دوست ہیں اور اگر وہ کام نہیں کرتے ہیں تو آپ انہیں ہٹا سکتے ہیں۔”

    سنگھ نے یہ تبصرے نئی دہلی میں بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں بی جے پی کے سربراہ جے پی نڈا اور شرومنی اکالی دل (سنیکت) کے سکھ دیو سنگھ ڈھنڈسا کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔

    یہ پریس کانفرنس بی جے پی، ایس اے ڈی (سنیکت) اور سنگھ کی پنجاب لوک کانگریس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کے معاہدے کا اعلان کرنے کے لیے بلائی گئی تھی، جو اس نے گزشتہ سال کانگریس چھوڑنے کے بعد تشکیل دی تھی۔