Baaghi TV

Tag: نوجوت سنگھ سدھو

  • نوجوت سنگھ سدھو جیل سے رہا ہو گئے

    نوجوت سنگھ سدھو جیل سے رہا ہو گئے

    بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے پنجاب کے رہنما و سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کوجیل سے رہا کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ برس سدھو کو 34 برس پرانے روڈ ایکسیڈینٹ کے کیس میں ایک برس جیل کی سزا سنائی تھی اس حادثے میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا سدھو 10 ماہ سے پٹیالہ کی جیل میں قید تھے تاہم انہیں سزا پوری ہونے سے 2 ماہ قبل ہی آج رہا کردیا گیا۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …


    جیل حکام نے بتایا کہ سدھوکی دو ماہ قبل رہائی جیل میں اچھے برتاؤ کے باعث عمل میں آئی رہائی پر کانگریس کے کارکنوں نے دھول کی تھاپ پر جیل کے باہر رہنما کا استقبال کیا۔

    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق نوجوت سنگھ سدھو کو 1988 کے روڈ ریج کیس میں سپریم کورٹ نے ایک سال قید کی سزا سنائی تھی روڈ ریج مقدمے میں یہ الزام شامل تھا کہ 27 دسمبر 1988 کو سدھو نے گرنام سنگھ کے سر پر مکّا مارا تھا جس سے ان کی موت ہوئی تھی۔

    پولیس کی طرف قتل قراردی گئی لڑکی 9 سال بعد زندہ لوٹ آئی،قتل کے الزام …

    رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال مئی میں نوجوت سنگھ سدھو کوایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی بھارتی سپریم کورٹ نےسدھو پر 1000روپے جرمانہ عائد کر کے انہیں رہا کردیا تھا تاہم اس حوالے سے ہلاک ہونے والے شخص کے خاندان نے نظرثانی درخواست دائر کی تھی جس میں ان کو سزا سنائی گئی تھی۔

    ٹوئٹر میں کمپنیوں سے منسلک اکاؤنٹس کو ویری فائیڈ کرنے کا فیچر متعارف کروا دیا …

  • نوجوت سنگھ سدھو کو شاہ رخ خان کی کونسی بات ہمیشہ یاد رہتی ہے؟‌

    نوجوت سنگھ سدھو کو شاہ رخ خان کی کونسی بات ہمیشہ یاد رہتی ہے؟‌

    نوجوت سنگھ سدھو جن کے پوری دنیا میں پرستار پائے جاتے ہیں وہ کپل شرما کے شو میں بطور جج بھی فرائض انجام دے چکے ہیں. ان کا کرکٹ کا ایک لمبا اور کامیاب کیرئیر ہے ، سدھو کس کی کس بات سے ہیں بے حد متاثر. آئیے ہم آپکو بتاتے ہیں. سدھو کے ایک پرانے انٹرویو کا سوشل میڈیا پر کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں‌وہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں، کہ میں شاہ رخ خان کو اُن وقتوں میں ملا جب وہ ڈرامہ سیریل فوجی میں‌کام کیا کرتے تھے ، ان کا ٹی وی پر کافی نام بن چکا تھا. اس ملاقات میں ، میں نے ان سے پوچھا کہ ٹی وی میں تو بہت نام بنا لیا اب اگلہ کیا پلان ہے تو اس نے کہا کہ بالی وڈ‌. میں اس کی بات سن کر حیران ہوا اور میں‌نے کہا کہ بالی وڈ ؟ ارے کیا بات کرتے ہو وہاں تو مقابلے کی ایک

    بڑی فضا ہے بڑے بڑے نامور اور کامیاب لوگ بیٹھے ہیں جو تمہیں ایسے کھا جائیںگے کہ تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا ، تو شاہ رخ خان نے آگے سے ایک جواب دیا اس جواب کو میں‌ آج تک یاد رکھے ہوئے ہوں، انہوں نے کہا کہ میں کبھی کسی سے مقابلہ نہیں کرتا میرا مقابلہ مجھ سے ہے ، میں خود سے ہی اپنا مقابلہ کرتا ہوں ، میں کسی کی نہ ٹانگ کھینچتا ہوں نہ ہی خود کے ساتھ ایسا ہونے دیتا ہوں. تو یہ ہوتا ہے یقین جو شاہ رخ خان میں تھا.

  • 34 سال پرانےکیس میں نوجوت سنگھ سدھو کو ایک سال قید کی سزا

    34 سال پرانےکیس میں نوجوت سنگھ سدھو کو ایک سال قید کی سزا

    نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی پنجاب کانگریس کے سابق صدر نوجوت سنگھ سدھو کو 34 سال پرانے کیس میں ایک سال قید کی سزا سنا دی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق نوجوت سنگھ سدھو کو بھارتی سپریم کورٹ نے 1988 میں سڑک پر جھگڑے کے کیس میں جیل بھیجا،1988 میں سڑک پر جھگڑے کے دوران ایک شخص کی ہلاکت بھی ہوئی تھی نوجوت سنگھ سدھو 1988 میں بھارتی کرکٹ ٹیم کا حصہ تھے اب بھارتی پنجاب پولیس سدھو کو اپنی تحویل میں لے گی-

    پٹیالہ میں کار سے جاتے ہوئے سدھو بزرگ گرنام سنگھ سے ٹکرا گئے تھے غصے میں سدھو نے شہری کو گھونسا ماراجس کے بعد گرنام سنگھ کی موت واقعہ ہو گئی تھی پٹیالہ پولس نے سدھو اوراس کے دوست روپندر سنگھ کے خلاف مجرمانہ قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔

    سدھو کو 1999 میں ٹرائل کورٹ نے بری کر دیا تھا لیکن پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ نے2006 میں سدھو کو اس کیس میں تین سال قید کی سزا سنائی تھی سدھو اس وقت امرتسرسے بی جے پی کے ایم پی تھے۔سزا کے بعد استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد سدھو نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اس سے پہلے سدھو نے سپریم کورٹ سے روڈ ریج کیس میں ان کے خلاف دائر نظرثانی کی درخواست کو خارج کرنےکی درخواست کی تھی درخواست کےجواب میں کہا کہ یہ واقعہ 33 سال پہلے کا ہے اور عرضی قابل سماعت نہیں ہے سدھو نے سپریم کورٹ سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ اپنی صاف ساکھ کا حوالہ دیتے ہوئے اس کیس میں اپنی سزا میں ترمیم نہ کرے تاہم سپریم کورٹ نے نوجوت سنگھ سدھو کو 2018 میں صرف ایک ہزار روپے جرمانے کے ساتھ چھوڑ دیا تھا تعزیرات ہند کی دفعہ 323 کے تحت اس جرم کی سزا زیادہ سے زیادہ ایک سال قید یا1000روپے جرمانہ یا دونوں ہیں۔