Baaghi TV

Tag: نورالہدیٰ

  • یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    اس مرتبہ کا یومِ خواتین پاکستان کے کسی بھی صوبے کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز کے نام …… جنہوں نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہی کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کا آغاز کر دیا۔ مریم نواز کی رفتار بتا رہی ہے کہ وہ بھرپور استقامت کے ساتھ اپنا آئینی سفر مکمل کریں گی اور ملکی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے تاریخ میں سرخرو بھی ٹھہریں گی۔ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے فوری بعد ہی سے مریم نواز نے جو میچور سٹارٹ لیا، وہ یقینا قابل تحسین ہے۔ منصب سے ایسا انصاف کم ہی وزرائے اعلیٰ کرتے نظر آئے ہیں۔ اسمبلی کے فلور پر ان کی طرف سے جیسے اپوزیشن کے ساتھ مثبت طرز عمل کا مظاہرہ کیا گیا، یہاں تک کہ خود اپوزیشن پنجوں پر گئیں اور احوال دریافت کیا، یہ بلاشبہ ان کی مہذب شخصیت کی دلیل ہے۔

    مریم نواز کا طرز عمل بتاتا ہے کہ وہ خود کو مختلف اور منفرد کو ثابت کرتے ہوئے صحیح معنوں میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر صوبے کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے بھی خود کو وقف کیا ہے۔ وہ پنجاب کی خواتین کی ترقی اور خود انحصاری پر فوکس کا عزم لے کر آئی ہیں۔ اس ضمن میں وہ شارپ ویژن رکھتی ہیں۔ انہوں نے عہد کیا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق اور چادر چار دیواری کا تحفظ فراہم کرنے کیلئے بھرپور انداز میں متحرک رہیں گی۔ اس کی آڑ میں کسی بھی تنقید کو خاطر میں نہیں لائیں گی۔ اس امر کا تجربہ ہمیں گذشتہ دنوں دیکھنے کو بھی ملا جب مریم نواز نے سیف سٹی اتھارٹی کے دورہ کے دوران بریفنگ دینے والی ایک خاتون کا سر دوپٹے سے ڈھانپا اور اس پر مخالفین کی جانب سے بلا جواز تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ مریم نواز کا موقف تھا کہ کسی خاتون کا دوپٹہ ٹھیک کرنے کے عمل پر تنقید کرنے والے اپنا ظرف دکھا رہے ہیں، لیکن وہ اپنا کام کرتی رہیں گی۔

    اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وزارت اعلیٰ کے پہلے ہی ہفتے میں مریم نواز نے خواتین کو فوکس کرتے ہوئے انقلابی اقدامات اٹھانے شروع کئے۔ وزارت اعلیٰ کا اعزاز پنجاب کی خواتین کے نام کرتے ہوئے انہیں ایک بہتر اور محفوظ پنجاب بنا کر دینے کا وعدہ کیا۔ اپنے منصب کو خواتین سے منسوب کرتے ہوئے ان کی ہراسمنٹ روکنے کا چیلنج لیا …… مراکز صحت کو ماں اور بچے کی صحت میں خصوصی دلچسپی لینے اور انہیں علاج کی معیاری اور بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات دیں …… اسی طرح پنجاب میں گرلز ایجوکیشن کے فروغ کیلئے خصوصی کاوشوں کا اعلان کیا …… خواتین پولیس کمیونیکیشن آفیسرز کیلئے ہاسٹل بنانے …… وویمن سیفٹی ایپ کو اپ گریڈ کر کے ری-لانچ کرنے…… خواتین کو ٹرانسپورٹ کارڈز اور سکوٹیز دینے…… بڑی تعداد میں ڈے کئیر سنٹرز بنانے سمیت دیگر اعلانات و اقدامات مریم نواز کے صرف پہلے ایک ہفتے کے کریڈٹ میں شامل ہیں …… آپ مریم نواز کے ابتدائی سات دنوں کا موازنہ کسی بھی دوسرے صوبے کے وزیر اعلیٰ سے کر لیں، اس قدر متحرک، مستعد اور کام کا دھنی چیف منسٹر کوئی نہیں پائیں گے۔ مریم نواز نے عزم کیا ہے کہ وہ تنقید اور مخالفت کے باوجود اپنا فرض ادا کرتی رہیں گی اور خدمت کر کے تمام مخالفین کو غلط ثابت کریں گی۔ مجھے یقین ہے کہ اپنے اقدامات سے وہ اپنا نام تاریخ کے ابواب میں سنہرے الفاظ کی صورت رقم کرنے میں کامیاب ٹھہریں گی۔

    آج کا یوم خواتین پنجاب کی سب سے کم عمر اے ایس پی سیدہ شہر بانو کے نام سے بھی منسوب کیا جانا چاہئے جس نے اچھرہ کے بازار میں مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھوں ایک خاتون کی جان بچائی۔ اے ایس پی شہربانو نے خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنے، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے اور صنفی جرائم میں ملوث سفاک ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم کر رکھا ہے۔ ہر لحاظ سے پُرعزم شہر بانو نقوی انٹیلی جنس بیورو، پبلک مینجمنٹ اور مختلف پولیس اسٹیشنوں میں اہم عہدوں پر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں۔ کمزور خواتین اور بچوں کی حفاظت کیلئے تحفظ مراکز، پولیس اسٹیشنوں میں ڈے کئیر سنٹر کے آغاز کی کوششیں اور پنجاب میں پہلی مرتبہ پولیس اینیمل ریسکیو سنٹر کے قیام جیسی کاوشیں شہر بانو نقوی کی خدمات میں شامل ہیں۔ اے ایس پی شہر بانو کے اچھرہ واقعہ کو سانحہ بننے سے بچانے جیسے دلیرانہ اقدام پر انہیں پولیس کی جانب سے قائد اعظم گولڈ میڈل کیلئے نامزد کر دیا گیا ہے جو کہ یقینی طور پر انہیں رواں سال میں عنایت کر دیا جائے گا، تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ آرمی چیف کو بھی ملاقات کے دوران اپنے ادارہ کے پلیٹ فارم سے ان کیلئے خصوصی ایوارڈ کا اعلان کرنا چاہئے تھا جبکہ حکومت پاکستان کو بھی ایوارڈ کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔ محض تعریفیں اور تھپکیاں انسان کی حوصلہ افزائی تو کر سکتی ہیں، مگر اس کی خدمات کے اعتراف کا حق نہیں ادا کر سکتیں …… مجھے یقین ہے کہ اس قدر عزت افزائی کے بعد بھی سیدہ شہر بانو نقوی ڈاؤن ٹو ارتھ رہیں گی اور تکبر کا شکار نہیں ہوں گی۔

    خواتین کی شراکت اور انہیں بااختیار بنائے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ان کی معاشرتی حیثیت مسلمہ ہے۔ ہم پُرامید ہیں کہ مریم نواز کی قیادت میں صنفی مساوات پر مبنی صوبہ تشکیل پائے گا اور پنجاب کی خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے خاتون وزیر اعلیٰ کی کاوشیں تاریخ کے یادگار عنوان کی صورت میں یاد رکھی جائیں گی

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    پیس پلازہ میں آتشزدگی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نوٹس

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب کرلیا

    مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم

    برطانوی ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ مریم نواز سے ملاقات،مبارکباد دی

  • آسرا…… سفید پوشوں کا،تحریر: محمد نورالہدیٰ

    آسرا…… سفید پوشوں کا،تحریر: محمد نورالہدیٰ

    ہم روز مرہ زندگی میں متعدد واٹس ایپ گروپوں میں ایڈ کئے جاتے ہیں۔ جو واٹس ایپ گروپ غیر متعلقہ لگتا ہے اسے فوراً لیفٹ کر دیتے ہیں۔ تاہم بعض دفعہ ہم ایڈ کرنے والی ہستی کو بھی دیکھ لیا کرتے ہیں کہ کس نے گروپ میں شامل کیا ہے۔ ان میں سے بعض ایڈ کرنے والے افراد ایسے ہوتے ہیں جن کا نام دیکھ کر ہم بوجوہ گروپ چھوڑنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بڑے نام نے مجھے گذشتہ دنوں ایک واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کیا۔ وہ معروف ڈرامہ رائٹر اور ادبی حلقہ میں نمایاں مقام کی حامل شخصیت ہیں۔ اس نام کی وجہ سے میں چاہتے ہوئے بھی گروپ سے خود کو خارج نہ کر پایا۔ بعد ازاں گروپ میں ہونے والے سرگرمیاں میرے نظر سے گزری، تو نہ صرف گروپ کی اہمیت کا اندازہ ہوا بلکہ گروپ نہ چھوڑنے کا اپنا فیصلہ بھی درست معلوم ہوا۔

    یہ گروپ سفید پوش ادبی شخصیات کیلئے ایک ”آسرا“ تھا۔ جس کا بنیادی مقصد ادبی برادری کو ان کا پردہ رکھتے ہوئے معاشی کرائسز میں سہارا دینا تھا۔ معروف ڈرامہ رائٹر و شاعرہ سدرہ سحر عمران نے اپنی سماجی ترقی کیلئے متحرک دوست مومنہ وحید کے ساتھ مل کر ایک چیلنج قبول کیا۔ جب انہیں معلوم ہو اکہ ایک ان کے حلقہ احباب میں موجود ایک ادبی شخصیت قرض کا بوجھ لئے دنیا سے رخصت ہو گئی اور اس کے لواحقین کو اس قرض کی ادائیگی میں اپنی آمدن کا واحد سہارا بھی فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔ سدرہ اور مومنہ نے ادبی و سماجی حلقوں پر مشتمل اہم افراد کو ایک واٹس ایپ گروپ میں اکٹھا کر کے ان کے ساتھ مذکورہ خاندان کی پریشانی کا اظہار کیا، جس پر تمام افراد نے اپنا اپنا کردار ادا کر کے اس خاندان کے واحد ذریعہ آمدن کو بچایا۔

    سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید کا موقف تھا کہ ”ہمارے ادیب،شاعر،فنکار اپنے اپنے فن سے ”ریٹائرمنٹ“ کے بعد جس اذیت،افلاس،بیماری، غربت اور گمنامی کا شکار ہوکر مرتے ہیں ہمیں اس کی خبر ہی نہیں ہوپاتی۔ یہ الگ بات ہے کہ شہرت اور پیسے کے عروج کے اوقات میں لوگوں کو اپنا مشکل وقت بھی یاد رکھنا چاہئے، لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ ان کا فعل ہے۔ بوقت ضرورت ان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہمارا ظرف ہے“۔
    معاشرے کے مختلف ضرورت مند طبقات کیلئے تو بہت سے ادارے اور لوگ اپنی اپنی حد تک کوششیں کر رہے ہیں لیکن ادبی برادری بالکل نظر انداز ہے۔ ایک خاص وقت میں اس طبقے کو درپیش کرائسز سے نکالنے کیلئے انفرادی و اجتماعی کوششیں بہت ضروری ہیں۔ یہی سوچ لے کر سدرہ عمران اور مومنہ وحید نے سفید پوش آرٹسٹوں کا ”آسرا“ بن کر پہلا قدم اٹھایا ہے۔ محض گنتی کے چند گروپ ممبران کی مدد سے انہوں نے مذکورہ ادبی شخصیت کے خاندان کو لاکھوں روپے قرض کے بوجھ سے نکالا۔ مجھے ایک خاص بات یہ لگی کہ جیسے ہی مطلوبہ ٹارگٹ مکمل ہوا، مومنہ وحید اور سدرہ سحر کی جانب اعلان کیا گیا کہ گروپ ممبران مزید کوشش نہ کریں۔ وگرنہ میں نے ایسے افراد بھی دیکھے ہیں جو مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے بعد بھی لوگوں کو مزید امداد بھیجنے سے منع نہیں کرتے۔ یہی ”آسرا“ کی خاصیت تھی۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ ادبی برادری کیلئے اس اقدام کا آغاز سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید نے انفرادی طور پر شروع کیا ہے اور وہ اسے انفرادی ہی رکھنے کے قائل ہیں، اسے باقاعدہ کسی این جی وغیرہ کی شکل نہیں دینا چاہتے۔

    ہمارے ارد گرد کئی سفید پوش ایسے ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارہ نہیں کرتے بلکہ اپنی مشکل سے خود نبٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ملک کے معاشی حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، یہاں سے واپسی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ ایسے میں عام آدمی کے کرائسز میں اضافہ ہونا یقینی امر ہے۔ ہمیں اپنے اپنے ادبی سرکل میں بے شمار ایسے افراد ملیں گے جو حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہونے کے باوجود اپنی خود داری کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے گریزاں ہیں۔ گذشتہ دنوں کئی دہائیاں ٹی وی سکرین پر راج کرنے والے معروف اداکار راشد محمود فالج اور دل کے عارضے کی وجہ سے مشکل حالات سے گزرے۔ نظر انداز کرنے کے حوالے سے راشد محمود کا شکوہ سوشل میڈیا پر آیا تو زمانے کو ان کے معاشی حالات کا علم ہوا۔ ذرائع ابلاغ وقتاً فوقتاً ایسی کتنی ہی کہانیاں ہمارے علم میں لاتے ہیں جن میں اپنے اپنے ادوار کی نامی گرامی شخصیات کسمپرسی سے گزر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے حالات ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ان میں کھیل، ادب، صحافت، شوبز میں نمایاں رہنے والے انمول ہیرے شامل ہیں۔
    کہتے ہیں کہ جب کوئی معاشرہ اپنے مجبور و بے کس لوگوں کو خودانحصار بنانے کی جانب توجہ دے، تو یہ اس کے مہذب ہونے کی دلیل ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کے ساتھ ساتھ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے والے سفید پوش لوگوں کی زندگی بہتر کرنے کیلئے ہر فرد کا انفرادی سطح پر کردار ہی قوم میں یکجہتی اور عروج لائے گا۔ حالات ایسے ہی تبدیل ہوتے ہیں، حقیقی تبدیلی بھی یونہی آتی ہے ……ضرورت صرف ذمہ داری محسوس کرنے کی ہے، وگرنہ احساس تو ہم خوب رکھتے ہیں۔ اس احساس کو خود میں سے مرنے مت دیں۔

    میں سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ ادبی برادری کا درد محسوس کرتے ہوئے ان کیلئے ”آسرا“ بنی۔ مجھے یقین ہے کہ ان دونوں نے مل کر جو ذمہ داری اٹھائی ہے، وہ اس پر ثابت قدم رہیں گی اور ہماری گمنام اور سفید پوش ادبی برادری کو حالات کے دھارے پر نہیں چھوڑیں گی، بلکہ اخلاقی و معاشی طور پر صحیح معنوں میں ان کیلئے ”آسر“ا ثابت ہوں گی۔ اور اس میں درد مند دل رکھنے والی ادبی و سماجی شخصیات کا بھرپور ساتھ انہیں حاصل رہے گا۔
    پلکیں ہیں بھیگی کسی کی، رخسار ہے نم کسی کا
    گر ہوسکے تو مداوا، کیوں نہ کریں ہم کسی کا