Baaghi TV

Tag: نور جہاں

  • آئمہ بیگ کو نور جہاں کا کونسا گیت پسند ہے ؟‌

    آئمہ بیگ کو نور جہاں کا کونسا گیت پسند ہے ؟‌

    آئمہ بیگ جن کی گلوکاری کوخاصا پسند کیا جاتا ہے وہ بھی دوسرں کی طرح میڈم نور جہاں کے فن کی دیوانی ہیں. انہوں نے نور جہاں کی 22 ویں برسی کے موقع پر کہا ہے کہ میڈیم نور جہاں کی گائیکی سے ہم جیسے کیا ہم سے بعد میں آنے والے بھی یہاں تک کہ رہتی دنیا تک لوگ سیکھتے رہیں گے. ان کی گائیکی ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے. آئمہ بیگ نے کہا کہ نور جہاں کے گائے ہوئے گیت کا کور کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے بلکہ اس خیال سے بھی ڈر لگتا ہے. کیونکہ دل میں‌احساس رہتا ہے کہ کہیں‌کوئی غلطی نہ ہوجائے. آئمہ بیگ نے کہا کہ ان کا انداز سب سے

    الگ تھا وہ جیسا میک اپ کرتی تھیں‌جیسے ملبوسات زیب تن کرتی تھیں‌ وہ سب اتنا خوب صورت تھا کہ دیکھ کر دل خوش ہوجاتا تھا. آئمہ بیگ نے کہا کہ مجھے نور جہاں‌کے بہت سارے گانے پسند ہیں اور اکثر گنگناتی بھی رہتی ہوں لیکن ان کا ایک گیت مجھے بہت اچھا لگتا ہے ” میں‌ تے میرا دلبر جانی بلیاں تے پریم کہانی ” . یہ گیت جتنی بار سنو اتنی باراچھا لگتا ہے. آئمہ بیگ نے کہا کہ نور جہاں ہمارے ملک کی شان ہیں ہماری موسیقی کی جان ہیں .

  • میڈم نور جہاں مجھے اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں سنگیتا بیگم

    میڈم نور جہاں مجھے اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں سنگیتا بیگم

    سینئر اداکارہ سنگیتا بیگم نے ملکہ ترنم نور جہاں کی 22 ویں برسی کے موقع پر ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میڈم نور جہاں کے ساتھ میرا بہت سارا وقت گزرا. انہوں نے دو بار مجھے اپنی بہو بنانے کی کوشش کی ، پہلے وہ اچھو کا رشتہ لیکر آئیں میں نے کہا کہ نہیں‌اچھو تو میرا بھائی ہے پھر وہ اکبر کے لئے مجھے بہو بنانا چاہتی تھیں لیکن ایسا نہ ہو سکا. وہ اکثر میرے گھر میں‌آجاتی تھیں اور کہا کرتی تھیں کہ روٹیاں بنائو. میں گول گول چھوٹی چھوٹی روٹیاں بناتی تھی ، روٹیاں‌پھولتیں تو میڈم بہت خوش ہوتیں. ان کا ہئیر سٹائل ان کا ساڑھی پہننے کا انداز مجھے بہت پسند تھا. ایک سوال کے جواب میں سنگیتا بیگم نے کہاکہ میڈم نور جہاں کی نقل اس دنیا میں کوئی بھی نہیں‌کر سکتا.

    سنگیتا بیگم نے کہا کہ میڈم کے بہت سارے گیت مجھ پہ پکچرائز ہوئے ان کی اچھی عادت یہ تھی کہ وہ گانے سے پہلے پوچھ لیا کرتی تھیں کہ کس ہیروئین پر پکچرائز ہو رہا ہے، جس ہیروئین پر ان کا گانا پکچرائز ہوتا تو ایسا لگتا کہ اسی کی آواز ہے. جس دن ان کا انتقال ہوا تو میں بہت روئی مجھے ایسا لگا کہ جیسے میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے.

  • سروں کی ملکہ نور جہاں کی آج 22 ویں برسی

    سروں کی ملکہ نور جہاں کی آج 22 ویں برسی

    سروں کی ملکہ نور جہاں کی آج بائیسویں برسی ہے نور جہاں آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں اورہمیشہ رہیں گی.انہوں نے ہزاروں گیت گائے کئی فلموں میں‌اداکاری کی ، پاکستان کی پہلی خاتون ڈائریکٹر ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں. ان کی خدمات کے عوض انہیں 1957 میں صدارتی ایوارڈ تمغہ امتیاز اور بعد ازاں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔ 1965 کی جنگ میں انہوں نے میرے ڈھول سپاہیا، اے وطن کے سجیلے جوانوں، ایہہ پتر ہٹاں تے نیئی وکدے، او ماہی چھیل چھبیلا، یہ ہواؤں کے مسافر، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو، میرا سوہنا شہر قصورنیں سمیت بے شمار ملی نغمے گا کر قوم اور فوج کے جوش و ولولہ میں اضافہ کیا۔ لتا منگیشکر سمیت ہندوستان اور پاکستان کے بڑے اور نامور موسیقار، گلوکار ان کی شخصیت آواز اور اداکاری کے دیوانے تھے.میڈم نور جہاں نے انہوں نے 10ہزار سے زائد غزلیں و گیت گائےجو آج بھی کانوں میں‌رس گھولتے ہیں. نور جہاں21

    ستمبر 1923ء کو قصور میں پیدا ہوئیں۔انہیں پیار سے اللہ وسائی کہا جاتا تھا۔انکا گھرانہ موسیقی اور گانے بجانے سے وابستہ تھا اسی لیے ان کے گھروالوں نے انہیں بھی موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے استاد کے پاس بٹھادیا۔ استاد بابا غلام محمد سے موسیقی کی تربیت حاصل کی انہیں کلاسیکی روایتی ہندوستانی موسیقی کی خصوصی طور پر تربیت دی گئی تھی انکو ٹھمری، دھرپد، خیال اور دیگر اصناف موسیقی پر چھوٹی عمر میں ہی عبور حاصل ہوچکاتھا۔ انہوں نے کم سنی میں ہی اسٹیج پر اداکاری اور گلوکاری کا مظاہرہ کیا۔ جب تک یہ دنیا قائم ہے نورجہاں کو اور ان کی گائیکی کو یاد رکھا جائے گا.