سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سنائی گئی سزا برقرار رکھی ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس صلاح الدین پہنور اور دیگر ججز پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی، سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست خارج کردی، دورانِ سماعت ملزم کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کے روبرو تسلیم کیا کہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا وہ مقتولہ نور مقد م کے اہلِخانہ سے معذرت خواہ ہیں اور ان کے دلائل کا مرکز قتل کےوقت ظاہر جعفر کی ذہنی حالت ہے، ملزم کی ذہنی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے-
وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ وہ یہ مؤقف اختیار نہیں کر رہے کہ ان کے مؤکل نے قتل نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وقوعے اور ٹرائل کے دورا ن ظاہر جعفر کی ذہنی حالت درست نہیں تھی،ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزو فر ینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا رہا ہے اور جیل میں بھی اس کا علاج جاری رہا۔
سماعت کے دوران بینچ کے ارکان نے استفسار کیا کہ ایسا طبی ریکارڈ پیش کیا جائے جس سے ثابت ہو کہ ملزم کا علاج کب شروع ہوا، کس ڈاکٹر نے کیا اور وقوعے کے وقت اس کی ذہنی کیفیت کیا تھی ؟عدالت نے ملزم کی تعلیمی زندگی اور طبی تاریخ سے متعلق ریکارڈ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
وکیلِ صفائی کی جانب سے لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک کا ایک خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا، تاہم بینچ نے اس خط کی تاریخ اور اس کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات اٹھائے۔
جسٹس صلاح الدین پہنور نے مزید کہا کہ دفاع کا مؤقف ہے کہ مجرم کو اپنی مرضی کا وکیل نہیں ملا، تاہم یہ بات حیران کن ہے کہ ایک جانب مرضی کا وکیل نہ ملنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب لندن سے طبی دستاویزات حاصل کر لی گئیں۔
خواجہ حارث نے مزید کہا کہ ہم نے ٹرائل کے دوران مجرم کے معائنے کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی جو مسترد ہوئی، سپریم کورٹ میں مرکزی کیس میں بھی میڈیکل بورڈ کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی۔
جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس ہاشم کاکڑ نے مجرم کے وکیل سے استفسار کیا کہ فرض کریں ہم مان لیتے ہیں مجرم کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، تو اس صورت حال میں نظرثانی میں کیا ریلیف چاہتے ہیں، اگر ڈرگ ٹیسٹ بھی ہوجاتا تو آپکو اسکا کیا فائدہ ہوتا۔
اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں عدالت نظرثانی میں میرٹس دیکھ سکتی ہےسپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں دوبارہ ٹرائل کا حکم دے چکی ہے، میں دوبارہ ٹرائل کی نہیں بلکہ سزا میں رعایت کی استدعا کرتا ہوں، سزا موت دیتے وقت عدالت کو مکمل حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے تھا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے جواباً کہا کہ خواجہ حارث صاحب اگر شروع میں ہی آپ جیسے وکیل کی خدمات لی جاتی تو مجرم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، ہم کب سے آپکو سن رہے ہیں کچھ تو گریس کا مظاہرہ کریں، تین گھنٹوں سے آپ نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔
خواجہ حارث کی جانب سے نظر ثانی اپیل پر سماعت پیر ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے مختصر وقفے کے بعد دلائل جاری رکھنے کا حکم دیا۔
وقفے کے بعد عدالت نے کیس کی کارروائی آگے بڑھائی جس دوران وکیل صفائی نے دلائل جاری رکھے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد نور مقدم قتل کیس میں اس کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ برقرار رہے گا۔
واضح رہے کہ 27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے پوش علاقے میں واقع ایک گھر میں قتل کیا گیا تھ اس کیس میں جرم ثابت ہونے پر اسلام آباد کی مقامی عدالت نے 24 فروری 2022 کو ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی۔ بعد ازاں مجرم نے سپریم کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی جسے 20 مئی 2025 کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اس کے بعد مجرم کی جانب سے نظر ثانی اپیل دائر کی گئی جس پر آج سپریم کورٹ نے 4 گھنٹے تک سماعت کی۔ مجرم ظاہر جعفر کی جانب سے خواجہ حارث نے دلائل دیے جبکہ نور مقدم کے والدین کی جانب سے پیروی ایڈووکیٹ شاہ خاور نے کی۔

