Baaghi TV

Tag: نومئی

  • نومئی مقدمہ،عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری

    نومئی مقدمہ،عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری

    9 مئی کو میانوالی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تحریک انصاف کے سینئر رہنما عمر ایوب خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    عمر ایوب خان عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کے باعث ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی۔ عدالت میں ان کی غیر حاضری کے باعث سماعت آگے بڑھا دی گئی۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 30 جنوری تک ملتوی کر دی۔پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر احمد خان بچھر، صنم جاوید، عالیہ حمزہ، ایم این اے بلال اعجاز سمیت تحریک انصاف کے درجنوں کارکن عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے عدالت میں عمر ایوب خان کی غیر حاضری کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کی میڈیکل رپورٹ پیش کی۔

    اس موقع پر عدالت کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد نعیم شیخ نے مقدمے کی سماعت کی۔

    9 مئی کو میانوالی میں حساس قومی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مختلف افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے مزید کارروائی اور پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

  • پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،سپریم کورٹ

    پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسثس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہیں،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آج اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ اور رولز میں فیئر ٹرائل کا مکمل پروسیجر فراہم کیا گیا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسارکیا کہ جسٹس منیب، جسٹس عائشہ اور جسٹس آفریدی کے الگ الگ فیصلے ہیں، آپ ملٹری ٹرائل کے کس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں، جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میں کسی فیصلے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتامجسٹس عائشہ ملک نے سیکشن 2 ون ڈی ون کو فئیر ٹرائل کے منافی قرار دیا، جسٹس یحیٰی آفریدی نے قانونی سیکشنز پر رائے نہیں دی، جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ قانونی سیکشنز پر لارجر بینچز کے فیصلوں کا پابند ہو۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ 21 ویں ترمیم میں فیصلہ کی اکثرت کیا تھی، جس پر وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ اکثریت 9 ججز سے بنی تھی،21 ویں ترمیم کا اکثریتی فیصلہ 8 ججز کا ہے، 21 ویں ترمیم کو اکثریت ججز نے اپنے اپنے انداز سے ترمیم کو برقرار رکھا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 21 ویں ترمیم کو 8 سے زیادہ ججز نے درست قرار دیا، خواجہ حارث نے کہا کہ خصوصی ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کا لیاقت حسین کیس کا فیصلہ 9 ججز کا ہے، لیاقت حسین کیس میں ایف بی علی کیس کی توثیق ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21 ویں ترمیم کیس میں اکثریت ججز نے ایف بی علی کیس کو تسلیم کیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ 21 ویں ترمیم کیس میں کسی جج نے ایف بی علی کیس پرجوڈیشل نظرثانی کی رائے دی،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کسی جج نے نہیں کہا کہ ایف بی علی فیصلہ کا جوڈیشل ریویو ہونا چاہیئے، احتجاج اور حملہ میں فرق ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فیصلے میں اٹارنی جنرل کے حوالے سے لکھا ہے کہ کیس کو 9 مئی کے تناظر میں دیکھا جائے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ 21 جولائی 2023 کے آرڈر میں صرف 9 مئی کی بات کی گئی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ 9 مئی واقعات کے ملزمان کو ملٹری ٹرائل میں سزا پر اپیل کا حق دینے سے حکومت نے انکار کیا۔

    9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلے میں 9 مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلے میں 9 مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی، سوال ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل کہاں پر ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جرائم قانون کی کتاب میں لکھے ہیں، اگر جرم آرمی ایکٹ میں فٹ ہوگا تو ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوگا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے مقدمات فوجی عدالت میں نہیں چلیں گے،خواجہ حارث نے کہا کہ سیاسی سرگرمی کی ایک حد ہوتی ہے، ریاستی املاک پر حملہ کرکے ریاست کی سیکیورٹی توڑنا سیاسی سرگرمی نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم کے بغیر دہشت گردوں کے خلاف ملٹری ٹرائل نہیں ہوسکتا تھا، جس پر وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم میں قانون سازی دیگر مختلف جرائم اور افراد پر مبنی تھی۔

    جسٹس اظہر حسن رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پولیس اہلکار کی وردی پھاڑنا جرم ہے، یہاں کور کمانڈر لاہور کا گھر جلایا گیا، ایک دن ایک ہی وقت مختلف جگہوں پر حملے ہوئے، عسکری کیمپ آفسز پر حملے ہوئے، پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلایا گیا، ماضی میں لوگ شراب خانوں یا گورنر ہاؤس پر احتجاج کرتے تھے، پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ مختلف شہروں میں ایک ہی وقت حملے ہوئے، جرم سے انکار نہیں ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو ملٹری ٹرائل کیوں نہ ہوا، پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ پر بھی حملہ ہوا وہ بھی سنگین تھا، سپریم کورٹ کو بھی شامل کرے، جس پر خواجہ حارث نے کہا ’یہاں بات 2 ون ڈی ون کی ہے‘۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے 9 مئی خصوصی ٹرائل پر رائے دی آرمی ایکٹ کی شقوں پر فیڈریشن کو مکمل سنا ہی نہیں گیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر اٹارنی جنرل 27 اے کا نوٹس دیا گیا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب کے نوٹ سے تو لگتا ہے اٹارنی جنرل کو سنا ہی نہیں گیا۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ بینچ نے اٹارنی جنرل کو کہا تھا دلائل آرمی ایکٹ کی شقوں کے بجائے 9 اور 10 مئی واقعات پر مرکوز رکھیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ تو عجیب بات ہے، پہلے کہا گیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر بات نہ کریں، پھر شقوں کو کالعدم بھی قرار دے دیا گیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے تو عدالت میں کھڑے ہو کر کہا تھا ہم نے آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج ہی نہیں کیا،جسٹس محمد علی مظہر نے ویڈیو لنک پر موجود ایڈووکیٹ فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے یہ بات سن لی ہے، جس پر ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ جی میں نے کہا تھا کیس کو آرمی ایکٹ کے بجائے آئین کے تحت دیکھا جائے، 9 مئی واقعات کے خلاف دیگر درخواستیں دائر کی گئیں جن میں آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج کیا گیا تھا،خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی ون اور ٹو ون ڈی ٹو کو کالعدم قرار دینے سے قبل فیڈریشن کو مکمل شنوائی کا حق ملنا چاہیئے تھا، عدالت کا فوکس 9 اور 10 مئی واقعات پر تھا نہ کہ آرمی ایکٹ کی شقوں پر۔عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی

    ورک ویزا کے نام پر فراڈ میں ملوث ایجنٹ گرفتار

    بچوں کا غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے والے ڈاکٹر کو 5 سال کی سزا

  • نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نو مئی کے دوران درج ہونے والے 8 مقدموں میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جن میں استدعا کی گئی ہے کہ اے ٹی سی (انسداد دہشت گردی عدالت) نے حقائق کے برعکس ان کی ضمانتوں کو مسترد کیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ضمانتوں کی درخواستوں کو مسترد کرنا قانونی طور پر غلط ہے۔عدالت نے پولیس کو نوٹسز جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر مزید سماعت کا اعلان کیا گیا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے کو زیر غور رکھتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔

    بانی پی ٹی آئی نے عدالت سے درخواست کی کہ آٹھ مقدموں میں ان کی ضمانتیں منظور کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارروائی غیر قانونی اور زیادتی پر مبنی ہے، جس کے باعث ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔عدالت نے پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے.

    مریم نواز نے کیا "آسان کاروبار فنانس” اور "آسان کاروبار کارڈ” پروگرام کا افتتاح

    مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کمیٹی میں پیش

  • نومئی کیس، یاسمین راشد،اعجاز چوہدری سمیت 31 ملزمان پر فرد جرم عائد

    نومئی کیس، یاسمین راشد،اعجاز چوہدری سمیت 31 ملزمان پر فرد جرم عائد

    لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں 9 مئی کو مسلم لیگ ن کے دفتر کو جلانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی۔عدالت نے 31 ملزمان پر فرد جرم عائد کی.

    ملزمان نے عدالت میں صحت جرم سے انکار کیا اور ان کے وکلا نے اپنے موکلوں کے دفاع میں دلائل دیے۔ عدالت نے کیس کی سماعت کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے پراسیکیوشن سے گواہان کو اگلی تاریخ پر طلب کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے کیس کی سماعت 23 جنوری تک ملتوی کر دی ہے اور اس موقع پر تمام ملزمان کو آئندہ تاریخ پر پیش ہونے کی ہدایت کی۔

    یہ مقدمہ 9 مئی کے واقعات کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے، جب مسلم لیگ ن کے مرکزی دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی، واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنما گرفتار ہیں اور جیل میں ہیں،قبل ازیں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں ڈاکٹر یاسمین راشد ،اعجاز چوہدری ،عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر پر فرد جرم عائد کردی تھی

    مریم نواز کو چاہیے کہ وہ اپنے والد یا چچا کو کہیں کہ مذاکرات بند کروا دیں،اعجاز چوہدری
    دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری کا کہنا ہے کہ مریم نواز چاہتی ہیں کہ مذاکرات ناکام ہوں،مریم نواز کو چاہیے کہ وہ اپنے والد یا چچا کو کہیں کہ مذاکرات بند کروا دیں،ہم تو جیلوں میں پڑے ہیں، مزید کچھ عرصہ گزار لیں گے، مذاکرات پاکستان کے مفاد میں ہیں، ان کو جاری رہنا چاہیے،اعجاز چوہدری کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ نے پروڈکشن آرڈر جاری کیے، مگر جیل حکام نے جانے نہیں دیا، یہ یوسف رضا گیلانی کی توہین ہے۔

    ہوائی اڈوں پر مسافروں کے لیے شراب کی خریداری کی حد مقرر کرنے کا مطالبہ

    جنوبی کوریا کے معزول صدر یون سک یول گرفتار

  • 9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

    9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

    بانی پی ٹی آئی نے 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق چیئرمین عمران خان نے 9 مئی کے دوران درج ہونے والے 8 مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔ ان مقدمات میں جناح ہاؤس پر حملہ اور دیگر الزامات شامل ہیں۔لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں عمران خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ 9 مئی کو وہ اسلام آباد میں نیب کی تحویل میں تھے اور ان پر سیاسی انتقام لینے کے لیے سازش کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ عمران خان نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ انہیں محض سیاسی وجوہات کی بنا پر ان مقدمات میں ملوث کیا گیا۔

    عمران خان کی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انہیں گزشتہ دو سال سے مختلف مقدمات کا سامنا ہے اور یہ تمام کارروائیاں انتقامی نوعیت کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف جو مقدمات بنائے گئے ہیں، وہ جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔عمران خان نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف درج مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں منظور کی جائیں تاکہ انہیں انصاف مل سکے اور ان پر عائد الزامات کا قانونی طریقے سے جائزہ لیا جا سکے۔

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • سپریم کورٹ،  9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ، 9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ آئینی بینچ،سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس،درخواستوں کی سماعت ہوئی

    آئینی بینچ نے جیلوں میں 9 مئی ملزمان کے ساتھ رویہ کے حوالے سے ر پورٹ طلب کرلی، آئینی بینچ نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو کل دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی،دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث نے کہا کہسپریم کورٹ نے ماضی میں قرار دیا کہ فوج کے ماتحت سویلنز کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ موجودہ کیس میں متاثرہ فریق اور اپیل دائر کرنے والا کون ہے؟خواجہ حارث نے کہا کہ اپیل وزارت دفاع کی جانب سے دائر کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وزارت دفاع ایگزیکٹو کا ادارہ ہے،ایگزیکٹو کیخلاف اگر کوئی جرم ہو تو کیا وہ خود جج بن کر فیصلہ کر سکتا ہے؟ آئین میں اختیارات کی تقسیم بالکل واضح ہے، آئین واضح ہے کہ ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا، فوجی عدالتوں کے کیس میں یہ بنیادی آئینی سوال ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو تو ایگزیکٹو فیصلہ کر سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون میں انسداد دہشتگردی عدالتوں کا فورم موجود ہے، قانونی فورم کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو خود کیسے جج بن سکتا ہے؟وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آپ کی بات درست ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کو صرف مسلح افواج کے ممبران تک محدود کیا گیا ہے، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ایسانہیں ہے، آرمی ایکٹ صرف آرمڈ فورسز تک محدود نہیں،مختلف کیٹیگریزشامل ہیں، اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 8(3) فوج کے ڈسپلن اور کارکردگی کے حوالے سے ہے، کیا فوجداری معاملے کو آرٹیکل8(3) میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ آئین میں شہریوں کا نہیں پاکستان کے شہریوں کا ذکر ہے۔

    وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ افواج پاکستان کےلوگ بھی اتنے ہی شہری ہیں جتنے دوسرےشہری، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سوال ہی یہی ہےکہ فوج کےلوگوں کوبنیادی حقوق سےمحروم کیسےکیا جاسکتا ہے کوئی شہری فوج کاحصہ بن جائے تو کیا بنیادی حقوق سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے، ملٹری کورٹس کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 175 سے الگ ہے، کوئی شہری روکنےکے باوجود فوجی چوکی کے پاس جانا چاہے تو کیا ہوگا؟ کیا کام سے روکنے کے الزام پر شہری کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیا جائے گا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ ایک صورتحال ہے، اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا، اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہی تو سب سے اہم سوال ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال کا جواب بہت سادہ ہے، اگرشہری آرمی ایکٹ میں درج جرم کا مرتکب ہوا تو ٹرائل ہوگا، صرف چوکی کے باہرکھڑےہونے پر تو شہری کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا، آرمی ایکٹ کا نفاذ کن جرائم پر ہوگا اس کا جواب آرمی ایکٹ میں موجود ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اختیارات کو وسیع کرکے سویلین کا ٹرائل ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ سویلین کا ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کو فوج کےڈسپلن میں لانے کیلئے لایا گیا، ہمارے ملک میں 14 سال تک مارشل بھی نافذ رہا، فرض کریں ایک چیک پوسٹ پر عام شہری جانےکی کوشش کرتا ہے تو کیا یہ بھی آرمڈفورسز کےفرائض میں خلل ڈالنے کے مترادف ہوگا؟

    سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران حفیظ اللہ نیازی روسٹرم پر آئے۔ جسٹس امین الدین خان نے پوچھا کہ کیا وہ سیاسی بات کریں گے،حفیظ اللہ نیازی نے کہا وہ سیاسی بات نہیں کریں گے۔پھر بولے نومئی کے ملزمان کو جیلوں میں منتقل کردیا گیالیکن ان سے جیل میں رویہ ایسا ہے جیسے وہ فوج کی حراست میں ہیں،ملزمان کو عام جیلوں میں دیگر قیدیوں کو ملنے والے تمام حقوق نہیں دئیے جا رہے، ملزمان کو جیلوں میں ہائی سیکورٹی زونز میں رکھا گیا ہے، فوجی عدالتیں فیصلے کی کاپی بھی مہیا نہیں کرہیں، فیصلوں میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ مجرم ہے یا معصوم،

    سپریم کورٹ نے پنجاب کی حد تک جیلوں میں ملزمان کو ملنے والی سہولیات سے متعلق رپورٹ مانگ لی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کل کی سماعت میں سہولیات کے حوالے سے آگاہ کریں،

    معافی مانگ کر رہائی پانے والے 9 مئی کے مجرموں کی پٹیشنز منظر عام پر

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

  • معافی کے بعد رہا ہونیوالے دوبارہ 9 مئی کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، عظمی بخاری

    معافی کے بعد رہا ہونیوالے دوبارہ 9 مئی کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، عظمی بخاری

    صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نوازپنجاب کے عوام کی فلاح وبہودکیلئے بھرپوراندازمیں کام کررہی ہیں.

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھاکہ وزیراعلیٰ مریم نوازانتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ہیں.وزیراعلیٰ پنجاب نے مہنگائی میں کمی کیلئے سرتوڑکوششیں کیں.ملک میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 4.1فیصدپرآچکی ہے.مہنگائی میں کمی کیلئے وزیراعظم محمدشہبازشریف کی کوششیں لائق تحسین ہیں.وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے مفت سولرپروگرام شروع کیاگیاہے.مفت سولرپروگرام کے تحت ایک لاکھ سولرپینل تقسیم کئے جائیں گے.بجلی چوری میں ملوث افرادکوسولرپینل کی سہولت نہیں ملے گی.جنوبی پنجاب شریمپ فارمنگ کا حب بننے جارہاہے.پنجاب حکومت نجی شعبے کے اشتراک سے 48ہزارایکڑاراضی پر جھینگافارم قائم کرے گی،

    عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف یہ لوگ معافیاں مانگتے ہیں،والدین گڑگڑاتے ہیں، خدا کا واسطہ اور ترلے منتے کرتے ہیں دوسری طرف باہر آتے ساتھ ہی جو زبان استعمال کرتے ہیں، ان کا وہی جذبہ ہے کہ دوبارہ نو مئی کرنے کیلئے تیار ہیں، کیا اس جیسی جماعت یا لیڈر کے لئے کوئی رعایت ہونی چاہئے،یہ رعایت پاک فوج کی طرف سے انہیں ملی ہے اور پاک فوج کو اس پر دوبارہ سوچنا ہوگا،مجھے ان بچوں سے بہت ہمدردی ہے جو انتشار اور فساد کا ایندھن بنے،دوسری طرف کے پی کے کے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ان فسادیوں، بلوائیوں کے اعزاز میں تقریب ہوتی ہے اور ہلا شیری دی جاتی ہے کہ شاباش بڑا کام کر کے آئے ہو، مجھے لگتا ہے کہ مستبقل میں ریلیف کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں، ٹک ٹاکر خاتون کھڑی ہیں اور ساتھ لڑکا ایکشن مار رہا ہے،بلوائی دندنا رہے ہیں، دھمکیاں دے رہے ہیں، ایسے لوگوں کو کوئی رعایت نہیں ملنی چاہئے،

    بانی پی ٹی آئی جیل میں دیسی مرغیاں ،ڈرائی فروٹ کھاتے ، ان کی خدمت کیلئے اور کیا رہ گیا ،عظمیٰ بخاری
    عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ یہ جھوٹ بہت بولتے ہیں، پکا منہ بنا کر جھوٹ بولنے کی عادت ہے ،الزام لگا کر مظلوم بننا اور پھر ہمدردی حاصل کرنا، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا طریقہ ہے، جو مرضی الزام لگا دیں جھوٹا، یہ سب کرتے ہیں،26 نومبر کے دھرنے میں ایک کلپ آیا تھا جس میں کہا گیا کہ میرا باپ مر گیا گیا تھا ،لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس کا باپ زندہ سلامت تھا، پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کا کوئی معاملہ جیل ریفارمز کا نہیں یہ صرف بانی پی ٹی آئی کو ریلیف دلاناچاہتے ہیں، بانی پی ٹی آئی جیل میں دیسی مرغیاں کھاتے ہیں،ڈرائی فروٹ کھاتے ہیں ان کی خدمت کیلئے اور کیا رہ گیا ہے ،ہم کہتے ہیں کہ انہوں نے ہر چیز میں سیاست کرنی ہے، خیبر پختونخوا میں جیلوں میں انسانوں کی کیا حالت ہے وہاں کوئی نہیں جاتا لیکن انہوں نے اڈیالہ میں عمران کے سیل میں گھسنا ہے یہ سیاسی ایجنڈہ ہے اور کچھ بھی نہیں.

    میرپور ماتھیلو: باغی ٹی وی کی خبر پر ڈی آئی جی سکھر کا نوٹس، بااثر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

    میرپورخاص: مہنگائی کا طوفان، عوام کی چیخیں نکل گئیں، ضلعی انتظامیہ بے بس

  • رحم کی  اپیلوں کی منظوری، آرمی چیف کی ہمدردی، انصاف کیلیے فوج کے عزم کا ثبوت

    رحم کی اپیلوں کی منظوری، آرمی چیف کی ہمدردی، انصاف کیلیے فوج کے عزم کا ثبوت

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی جانب سے 9 مئی کے حملوں میں ملوث 19 ملزمان کی رحم کی اپیلوں کی منظوری ایک طرف جہاں ان کی انسان دوست سوچ کو ظاہر کرتی ہے، وہیں یہ فوجی عدالتوں کی شفافیت اور انصاف کے نظام کی پختگی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔یہ افراد اپنی دو سالہ سزا مکمل کرنے کے قریب تھے، اور ان کی اپیلیں محض انسانیت کی بنیاد پر منظور کی گئیں۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فوجی عدالتیں انصاف کے اصولوں کے مطابق اور آئین کے تحت کام کر رہی ہیں۔

    یہ اقدام نہ صرف فوجی عدالتوں پر تنقید کرنے والوں کی زبانوں کو بند کرتا ہے، بلکہ یہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی انصاف اور رحم کے معاملے میں متوازن نقطہ نظر کو بھی اجاگر کرتا ہے۔پی ٹی آئی کے بیانیے کے برعکس، فوج نے فسادیوں کے ساتھ بدلہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں دکھایا۔ سزا سنانے اور رحم دینے کے حوالے سے کیے گئے فوری فیصلے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فوج انصاف کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے، انسانی ہمدردی کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔

    آرمی چیف نے واضح طور پر کہا ہے کہ ریاست ان لوگوں کو ریلیف فراہم کرے گی جو حقیقی پچھتاوے کا مظاہرہ کریں گے، لیکن بدامنی اور تشدد کے واقعات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    اس فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی ادارہ اپنے قیدیوں کو قانونی راستوں کی پیشکش کر رہا ہے، جن میں رحم کی درخواستیں شامل ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پورا عمل انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ان رحم کی اپیلوں کی منظوری آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی انسانیت پسندی اور فوج کی انصاف کے ساتھ وابستگی کا غماز ہے، اور اس سے یہ تمام بے بنیاد قیاس آرائیاں رد ہو جاتی ہیں جو اس عمل کو سیاسی مقاصد سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

  • سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سانحہ نومئی، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے 19 مجرمان کی سزا معافی کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے

    9 مئی کو ہونے والے ہنگاموں اور احتجاج کے بعد فوج نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ کسی بھی فرد کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کر رہی۔ 9 مئی میں ملوث 19 افراد کو فوجی عدالت سے ملنے والی سزائیں معاف کرنے کے فیصلے کو ایک طاقتور پیغام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر نےیہ فیصلہ انسانیت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس کا مقصد آئین اور قانون کی بالادستی کو فروغ دینا ہے۔سزاؤں کی معافی کا یہ فیصلہ غیر جانبدارانہ طور پر آئین اور قانون کے مطابق کیا گیا ہے، اور کسی بھی سیاسی یا دیگر نوعیت کے دباؤ سے آزاد ہے۔

    "9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے ساتھ انتقامی کارروائی کے بجائے انسانیت کی بنیاد پر سزاؤں کی معافی کا فیصلہ کیا گیا جو آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے رحم دل اور نرم دل قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔” فوج کا مقصد ہمیشہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فیصلے کرنا ہے، جو عناصر انسانی حقوق کے نام پر ملٹری قانون اور ٹرائل کے عمل پر بے جا تنقید کر رہے تھے، آج کا فیصلہ ان کے لیے ایک سخت جواب ہے۔ یہ فیصلہ فوج کی جانب سے اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ آئین کی بالادستی اور قانون کے احترام میں مکمل طور پر پختہ ہے۔

    "نومئی کے مجرمان کی سزا معافی کا یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کے تحت لیا گیا ہے اور اس میں کسی بھی سیاسی مفاد یا پروپیگنڈے کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ان سزاؤں کا معاف کیا جانا صرف اور صرف انسانیت کی بنیاد پر ہے۔ اس فیصلے کو کسی بھی سیاسی عمل سے جوڑنا یا اس پر بے بنیاد قیاس آرائیاں کرنا حقیقت سے دور ہوگا۔”فیصلے سے واضح ہو گیا کہ فوج کی کارروائیاں ہمیشہ قانون اور آئین کے تحت ہوں گی، اور کسی بھی شخص یا گروہ کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو پاکستان میں ہونے والے ہنگاموں میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے فوج کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، اور اس کے بعد کئی افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ جن کی سزاؤں میں کمی یا معافی دینے کا فیصلہ ایک نیا پیش رفت ہے، جسے حکومت اور فوج دونوں کے درمیان ایک اچھے تعلقات کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

  • سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    آج 9 مئی کے 19 مجرمان کو، جنہیں دو سال کی سزا سنائی گئی تھی، ان کی رحم کی پیٹیشنز پر عمل کرتے ہوئے معافی دے دی گئی اور رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا یہ فیصلہ کئی اہم نکات کو اجاگر کرتا ہے اور ملٹری کورٹ کے عمل کی شفافیت اور آئینی اصولوں کی پیروی کی واضح مثال ہے۔یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ ملٹری کورٹس کا ٹرائل مکمل طور پر آئین اور قانون کے مطابق اور شفافیت پر مبنی ہے۔ وہ عناصر جو فوجی عدالتوں اور ٹرائل کے عمل پر بے جا تنقید کرتے رہے ہیں، آج کا فیصلہ ان کے لیے ایک زور دار جواب ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملٹری عدالتیں نہ صرف انصاف فراہم کرتی ہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے میں غیر جانبدار رہتی ہیں۔

    آئینی بینچ کی اجازت کے بعد، جس رفتار سے سزائیں سنائی گئی تھیں، اسی تیزی سے مجرمان کی رحم کی پیٹیشنز پر عمل درآمد کیا گیا۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لیا گیا ہے اور ان افراد کی باقی ماندہ سزا، جو تقریباً چار سے پانچ ماہ تھی، کو معاف کر دیا گیا۔ یہ عمل اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ قانون کی بالادستی اور آئین کی تکمیل میں غیر جانبداری کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔

    یہ 19 مجرمان وہ ہیں جنہوں نے اپنے رحم کی درخواست خود دی تھی اور ان کی سزا میں معافی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی۔ یہ لوگ تقریباً ایک سال اور چھ ماہ کی سزا مکمل کر چکے تھے اور صرف چند ماہ کی باقی سزا تھی، جس کو معاف کیا گیا۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فوج کسی بھی فرد کے ساتھ انتقامی کاروائی نہیں کر رہی بلکہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس سے پہلے بھی اپریل 2024 میں 20 مجرمان کی سزاؤں کو معاف کیا تھا، اور اب ان 19 مجرمان کے معاملے میں بھی انسانیت اور ہمدردی کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا۔ یہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی رحم دلی اور انسانیت کے تئیں ہمدردی کا واضح اظہار ہے۔یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ ملٹری ٹرائل اور قانون کی شفافیت میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف قانون کی شفافیت کا پتا چلتا ہے بلکہ انصاف کی فراہمی میں غیر جانبداری کی بھی وضاحت ہوتی ہے۔یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ باقی مجرمان کے پاس بھی اپیل کرنے کا حق برقرار ہے اور وہ اپنے قانونی اور آئینی حقوق کے مطابق مزید کارروائی کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نظام انصاف میں انسانی ہمدردی اور رحم کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔اس فیصلے کو کسی بھی سیاسی عمل سے جوڑنا اور اس پر بے تکی قیاس آرائی کرنا غیر مناسب ہے۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد صرف مجرمان کی باقی ماندہ سزا میں کمی لانا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

    یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ قانون اور آئین کی بالادستی کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاتا۔ ملٹری کورٹس کی شفافیت، انصاف کے تقاضوں کی تکمیل اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فیصلوں کا لینا، یہ سب چیزیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی فوج کے ٹرائل سسٹم میں انصاف کی فراہمی میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    9 مئی کو جو کیا بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، ایاز صادق

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے