Baaghi TV

Tag: نومئی

  • فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    سانحہ 9 مئی 2023 کے 19 مجرمان کی سزاؤں میں معافی کا اعلان کردیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9 مئی کی سزاؤں پر عملدرآمد کے دوران مجرمان نے رحم اور معافی کی پٹیشنز دائر کی تھیں، ان مجرمان کو ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جارہا ہے جبکہ دیگر تمام مجرمان کے پاس بھی اپیل اور قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں،مجموعی طور پر 67 مجرمان نے رحم کی پٹیشنز دائر کی تھیں، 48 پٹیشنز کو قانونی کارروائی کے لیے ’کورٹس آف اپیل‘ میں نظرثانی کے لیے ارسال کیا گیا تھا، 19مجرمان کی پٹیشنز کو خالصتاً انسانی بنیادوں پر قانون کے مطابق منظور کیا گیا،دائر کی گئی دیگر رحم کی پٹیشنوں پر عملدرآمد مقررہ مدت میں قانون کے مطابق کیا جائے گا۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ سزاؤں کی معافی ہمارے منصفانہ قانونی عمل اور انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے، یہ نظام ہمدردی اور رحم کے اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے اپریل 2024ء میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 20 مجرمان کی رہائی کا حکم صادر کیا گیا تھا۔

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 مجرمان کی سزائیں معاف کر دی گئیں،19 مجرمان جن کی سزائیں معاف کی گئی ہیں ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
    1۔ محمد ایاز ولد صاحبزادہ خان
    2۔سمیع اللہ ولد میرداد خان
    3۔لئیق احمد ولد منظور احمد
    4۔امجد علی ولد منظور احمد
    5۔یاسر نواز ولد امیر نواز خان
    6۔سِیعد عالم ولد معاذاللہ خان
    7۔زاہدخان ولد محمد نبی
    8۔محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان
    9۔ حمزہ شریف ولد محمد اعظم
    10۔ محمد سلمان ولد زاہد نثار
    11۔ اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ
    12۔ محمد وقاص ولد ملک محمد خلیل
    13۔ سفیان ادریس ولد ادریس احمد
    14۔منیب احمد ولد نوید احمد بٹ
    15۔ محمد احمد ولد محمد نذیر
    16۔ محمد نواز ولد عبدالصمد
    17۔ محمد علی ولد محمد بوٹا
    18۔ محمد بلاول ولد منظور حسین
    19۔ محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم

    ان مجرمان کوضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جا رہا ہے،دیگر تمام مجرمان کے پاس بھی اپیل کرنے اور قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں ،سزاؤں کی معافی ہمارے منصفافہ قانونی عمل اور انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے

    9 مئی کو جو کیا بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، ایاز صادق

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

  • نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے،  عطا تارڑ

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس مفصل تھی،

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نو مئی اور 26 نومبر کے حوالے سے تفصیلی خیالات کا اظہار کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے احسن طریقے سے تمام امور پر روشنی ڈالی،نو مئی کے کیسز میں جن لوگوں نے دفاعی تنصیبات پر حملہ کیا اور شہداءکی یادگاروں کو مسمار کیا، ان کے ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوئے، ٹرائل میں وکیل کا حق دینے کے ساتھ ساتھ فیملی اور ریکارڈ تک رسائی فراہم کی گئی،ملٹری کورٹس میں ٹرائل غیر موجودگی میں نہیں ہو سکتا، اس کے لئے خود موجود ہونا لازمی ہوتا ہے، ٹرائل میں اپیل کے دو حق دیئے گئے، ملٹری اتھارٹیز اور ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دیا گیا ہے، رائٹ ٹو فیئر ٹرائل کو یقینی بنایا گیا ہے،جن لوگوں نے فوجی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا، وہ دیگر جلاﺅ گھیراﺅ کے واقعات میں ملوث تھے ان کے مقدمات اے ٹی سی میں چل رہے ہیں، اگر دفاعی تنصیبات پر حملہ کیا گیا ہے تو اس کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا،تمام مقدمات قانون اور آئین کے مطابق چل رہے ہیں، نو مئی کے منصوبہ ساز اور ماسٹر مائنڈ کے خلاف بھی کیس آگے بڑھنا چاہئے،نو مئی کے کیسز کا فیصلہ عجلت میں نہیں ہوا، اس میں دو سال کا عرصہ لگا، نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے،

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

  • فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران فوجی عدالتوں کے ذریعے متعدد سویلین افراد کا ٹرائل کیا گیا اور ان پر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔عمران خان نے فوجی عدالتوں کی حمایت کی تھی تو وہیں مراد سعید نے بھی فوجی عدالتوں کے حق میں بیانات دیئے تھے،

    2018 سے لے کر 2022 تک فوجی عدالتوں میں ہونے والے سویلین ٹرائلز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ 2018 میں فوجی عدالتوں میں 25 سویلین افراد کا ٹرائل ہوا، جبکہ 2019 میں یہ تعداد بڑھ کر 61 تک پہنچ گئی۔ 2020 میں 46 سویلین، 2021 میں 36 سویلین اور 2022 میں 12 سویلین افراد کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے سویلین افراد پر مقدمات کا آغاز اور ان کے خلاف سزائیں دی گئیں۔پاکستان میں 1972 سے 2023 تک فوجی عدالتوں میں مجموعی طور پر 1875 سویلین افراد کا ٹرائل ہو چکا ہے اور ان پر مختلف نوعیت کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔ ان سزاؤں پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی کیا جا چکا ہے۔ ان افراد میں دہشت گردی، شدت پسندی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افراد شامل ہیں جن کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے گئے۔

    اگرچہ فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا مؤثر جواب دینا تھا، مگر ان عدالتوں کے خلاف سیاسی بیان بازی بھی زور پکڑ گئی ہے۔ اس بات پر تنقید کی جاتی ہے کہ فوجی عدالتیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر سکتی ہیں اور ان کے فیصلے ہمیشہ شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اُترتے۔ یہ بات خاص طور پر اہمیت کی حامل ہے کہ جن جماعتوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کی، وہ خود بھی اپنے دور حکومت میں ان عدالتوں کی حمایت اور استعمال کرتی رہی ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما آج فوجی عدالتوں کے خلاف بیانات دیتے ہیں، مگر ان کے اپنے دور حکومت میں ان عدالتوں کے ذریعے 180 سویلین کا ٹرائل کیا گیا اور ان پر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔ اس تناقض پر سوال اٹھتا ہے کہ کس طرح ایک ہی سیاسی جماعت ایک وقت میں فوجی عدالتوں کی حمایت کرتی ہے اور بعد میں ان کے خلاف سخت بیانات دیتی ہے۔

    اگر تحریک انصاف اپنے ماضی کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کہے کہ "کل ہمارا موقف غلط تھا”، تو شاید اس میں کوئی وزن نظر آ سکتا ہے۔ لیکن جب ایک جماعت اپنے موقف میں واضح تبدیلی لاتی ہے اور اس میں کوئی معقول جواز پیش نہیں کرتی، تو عوامی سطح پر اس کے بیانات کو ہضم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    پاکستان میں 9 مئی کے دوران ہونے والے ہنگامہ آرائی کے بعد فوجی عدالتوں نے آج ان مجرموں کو سزائیں سنا دی ہیں جنہوں نے پاکستان کی فوجی تنصیبات پر حملے کی کوشش کی تھی۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے موقف پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ فوجی عدالتوں میں سیاسی رہنماؤں اور سویلینز کے ٹرائل کی حمایت کی تھی، لیکن آج جب ان کی جماعت کے کارکنان کو ان عدالتوں میں سزا ملی ہے تو پارٹی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور دیگر رہنماؤں بشمول مراد سعید نے ماضی میں فوجی عدالتوں کے ذریعے سیاسی مخالفین، میڈیا پرسنز اور سویلینز کے ٹرائل کی حمایت کی تھی۔ ان رہنماؤں نے ہمیشہ اس بات کا دفاع کیا تھا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوجی عدالتوں کا استعمال ضروری ہے۔ بانی تحریک انصاف، عمران خان نے بھی اکثر فوجی اداروں کو سپورٹ کیا اور ان کے کردار کو سراہا۔تاہم، 9 مئی کے حملوں کے بعد جب ان کے کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا سامنا ہے، تو پی ٹی آئی کی قیادت کی زبان بدل گئی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس بات کا بار بار اعادہ کیا جا رہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے انصاف کا عمل شفاف اور منصفانہ نہیں ہو رہا، جو کہ ان کی سابقہ پوزیشن کے بالکل برعکس ہے۔

    9 مئی کے دن پی ٹی آئی کے کارکنوں نے نہ صرف سول حکومت کے خلاف احتجاج کیا بلکہ پاکستان کی فوجی تنصیبات، بشمول آئی ایس آئی کے دفاتر، پر حملے کی کوشش کی۔ ان حملوں کو ملک میں غداری کے مترادف قرار دیا گیا اور فوجی عدالتوں کے ذریعے مجرموں کا ٹرائل کیا گیا۔تاہم پی ٹی آئی نے فوجی عدالتوں کے اس استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر منصفانہ ہیں اور ان میں شفافیت کا فقدان ہے۔ پارٹی کی قیادت نے ان عدالتوں کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھائے ہیں، حالانکہ ماضی میں خود انہوں نے ان عدالتوں کی حمایت کی تھی۔

    جب ان کے کارکن فوجی عدالتوں میں سزا پا چکے ہیں، تو پی ٹی آئی کی قیادت نے سیاست چمکانے کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو ان کے مشکل وقت میں چھوڑ دیا تھا۔ پی ٹی آئی نے 9 مئی کے بعد اپنے کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں پیش ہونے یا ان کی قانونی مدد کرنے کا کوئی واضح راستہ نہیں دکھایا۔ اس کے برعکس، انہوں نے اپنے کارکنوں کو “سول کپڑوں میں فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار” قرار دیا، جو ایک متنازعہ اور بے بنیاد موقف تھا۔پی ٹی آئی کی قیادت اور اس کے حامیوں نے ہمیشہ فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ پروان چڑھایا تھا۔ بانی پی ٹی آئی اور اس کے ٹرولز نے بار بار پاکستان کی فوج کو میر جعفر اور میر صادق کے طور پر پیش کیا، جس سے نوجوانوں میں فوج کے خلاف نفرت کا جذباتی ماحول پیدا کیا گیا۔ یہ وہ بیانیہ تھا جس کا منطقی نتیجہ 9 مئی کے حملوں کی صورت میں نکلا، جب پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات پر حملہ کیا۔

    آج، جب فوجی عدالتوں نے ان مجرموں کو سزا سنائی ہے، تو پی ٹی آئی کو ان عدالتوں کے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ کہا تھا کہ ملک میں امن کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام ضروری ہے، اور آج ان عدالتوں نے اپنے ہی کارکنوں کو سزائیں دی ہیں۔ اب اس پر اعتراض کرنا پی ٹی آئی کے لیے اخلاقی طور پر جائز نہیں ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنے کارکنوں کی فکر کرتی تو اس نے انہیں اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑا ہوتا اور ان کے قانونی حقوق کے لیے جنگ کی ہوتی۔

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

  • نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    نو مئی کے مزید ساٹھ مجرموں کو سزائیں، کل تعداد 85 ہوگئی ہے،آج پی ٹی آئی کے مزید 60 بلوائیوں کو نو مئی کے فسادات میں ملوث ہونے پر سزائیں سنائی گئی ہیں، جس کے بعد ان مجرموں کی تعداد 85 ہوگئی ہے۔ نو مئی کے فسادات میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات، سرکاری املاک اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامی حالات پیدا ہوگئے تھے۔

    یہ فسادات اس وقت ملک کی سیاست کا اہم موضوع بن گئے تھے، اور ان میں ملوث افراد کی گرفتاریوں اور مقدمات کے سلسلے میں مسلسل پیشرفت ہو رہی ہے۔ تاہم، ایک المیہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی قیادت میں سے کسی نے بھی ان بلوائیوں کا مقدمہ لڑنے کی کوشش نہیں کی۔عمران خان اور ان کی جماعت کے قائدین مسلسل اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ فوجی عدالتیں غیر انسانی ہیں، اور ان کے کارکنوں کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ موقف محض سیاسی مفادات کے تحت اپنایا گیا ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کی جماعت کو اس بات کا خوف ہے کہ عمران خان کا ٹرائل بھی فوجی عدالت میں ہو گا ،خان کو یقین ہے کہ وہاں کیس اتنے مضبوط شواہد کے ساتھ پیش کیا جائیگا جس کیے بعد اس کے خلاف کہیں اپیل بھی منظور نہیں ہوسکے گی

    نو مئی کا واقعہ کوئی راز نہیں ہے۔ آج ہر فرد کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح ایک مخصوص جماعت کے سیاستدانوں اور ان کے حمایتیوں نے افواج پاکستان، خفیہ ایجنسیوں اور سپاہ سالار کے خلاف زہر بھری تقاریر کیں اور ملک میں انتشاری فضا پیدا کی۔مذکورہ سیاستدانوں نے اپنے کارکنوں کو بلوائیوں کی صورت میں میدان میں اُتارا اور عوامی املاک، فوجی تنصیبات اور اہم سرکاری اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ تاہم، 9 مئی کے بعد جب فسادیوں کے چہرے بے نقاب ہوئے، تو عوام نے ان کی حمایت کرنا بند کر دیا اور انہیں مسترد کر دیا۔

    نو مئی کے فسادات کے بعد ایک نیا بیانیہ سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ سب کچھ ایک "فالس فلیگ آپریشن” تھا۔ یعنی یہ فسادات حکومت یا ریاستی اداروں کی جانب سے کسی مقصد کے لیے خود کیے گئے تھے تاکہ کسی خاص گروہ کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکے۔ لیکن عوام ان دعووں سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ عوام نے اس بیانیہ کو مسترد کردیا اور ان سیاستدانوں کی حقیقت کو پہچان لیا جو عوام کو ہمیشہ بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عمران خان جانتے تھے کہ فوجی عدالتوں میں ان کے کارکنوں کے خلاف فیصلہ آنا تقریباً یقینی تھا اور اس کے بعد ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے خلاف عالمی سطح پر شور مچاتے ہیں۔

    نو مئی کے فسادات کے حوالے سے عدالتوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور ان فسادات میں ملوث افراد کو سزا دی جا رہی ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سارے معاملے میں عمران خان اور ان کی جماعت نے اپنی اخلاقی ذمہ داری سے انکار کیا ہے اور اپنے کارکنوں کا مقدمہ لڑنے کے بجائے انہیں سیاسی ہمدردی کے بہانے ایک بار پھر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ 9 مئی کا واقعہ تاریخ کا ایک سیاہ باب بن چکا ہے، اور عوام نے اس کی حقیقت کو جان لیا ہے۔

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید مجرمان کو سزائیں سنا دی گئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائی گئی ہے،جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان خان نیازی ولد حفیظ اللّٰہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے، جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔بریگیڈیئر رجاوید اکرم کو 6 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے،

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں، سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائیں، سزا پانے والے 60 مجرمان کی تفصیلات درجہ زیل ہیں۔
    جناح ہاؤس حملہ
    • حسان خان نیازی: 10 سال قید بامشقت
    • میاں عباد فاروق: 2 سال قید بامشقت
    • رئیس احمد: 6 سال قید بامشقت
    • ارزم جنید: 6 سال قید بامشقت
    • علی رضا: 6 سال قید بامشقت
    • بریگیڈیئر (ر) جاوید اکرم: 6 سال قید بامشقت
    • محمد ارسلان: 7 سال قید بامشقت
    • محمد عمیر: 6 سال قید بامشقت
    • نعمان شاہ: 4 سال قید بامشقت

    جی ایچ کیو حملہ
    • راجہ دانش: 4 سال قید بامشقت
    • سید حسن شاہ: 9 سال قید بامشقت
    • محمد عبداللہ: 4 سال قید بامشقت

    اے آئی ایم ایچ، راولپنڈی حملہ
    • علی حسین: 7 سال قید بامشقت
    • فرہاد خان: 7 سال قید بامشقت

    پنجاب رجمنٹ سنٹر، مردان حملہ
    • زاہد خان: 2 سال قید بامشقت

    ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس، تیمرگرہ حملہ
    • سہراب خان: 4 سال قید بامشقت
    • محمد سلیمان: 2 سال قید بامشقت
    • اسد اللہ درانی: 4 سال قید بامشقت

    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملہ
    • خرم لیاقت: 4 سال قید بامشقت
    • پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ: 3 سال قید بامشقت

    قلعہ چکدرہ حملہ
    • ذاکر حسین: 7 سال قید بامشقت
    • اکرام اللہ: 4 سال قید بامشقت
    • رئیس احمد: 4 سال قید بامشقت
    • گوہر رحمان: 7 سال قید بامشقت

    بنوں کینٹ حملہ
    • امین شاہ: 9 سال قید بامشقت
    • اکرام اللہ: 9 سال قید بامشقت
    • ثقلین حیدر: 9 سال قید بامشقت
    • عزت گل: 9 سال قید بامشقت
    • نیک محمد: 9 سال قید بامشقت
    • رحیم اللہ: 9 سال قید بامشقت
    • خالد نواز: 9 سال قید بامشقت

    پی اے ایف بیس میانوالی حملہ
    • فہیم ساجد: 8 سال قید بامشقت
    • احسان اللہ خان: 10 سال قید بامشقت
    • محمد بلال: 4 سال قید بامشقت

    فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملہ
    • حمزہ شریف: 2 سال قید بامشقت
    • امجد علی: 2 سال قید بامشقت
    • محمد فرخ: 5 سال قید بامشقت
    • محمد سلمان: 2 سال قید بامشقت
    • فہد عمران: 9 سال قید بامشقت

    دیگر حملے
    • راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملہ: محمد احمد (2 سال قید بامشقت)، منیب احمد (2 سال قید بامشقت)
    • گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملہ: محمد ایاز (2 سال قید بامشقت)
    • تمام مقدمات آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کیے گئے۔
    • مجرموں کو اپیل اور دیگر قانونی حقوق حاصل ہیں۔
    • مسلح افواج، حکومت، اور عوام انصاف کے قیام اور ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے عزم پر قائم ہیں۔

    ریاست کی ناقابل تسخیر رٹ کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم میں ثابت قدم ہیں ،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کے مطابق اِس کے ساتھ ہی فوجی حراست میں لئے جانے والے 9 مئی کے ملزمان پر
    چلنے والے مقدمات کی سماعت متعلقہ قوانین کے تحت مکمل کر لی گئی ہے،تمام مجرموں کے پاس اپیل کا حق اور دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں، جیسا کہ آئین اور قانون میں ضمانت دی گئی ہے،قوم، حکومت اور مسلح افواج انصاف اور ریاست کی ناقابل تسخیر رٹ کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم میں ثابت قدم ہیں

    سزا پانے والے 60 مجرمان کی تفصیلات درجہ زیل ہیں

    1۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان خان نیازی ولد حفیظ اللہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت
    2۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت
    3۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث رئیس احمد ولد شفیع اللہ کو 6 سال قید بامشقت
    4۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث ارزم جنید ولد جنید رزاق کو 6 سال قید بامشقت
    5۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی رضا ولد غلام مصطفی کو 6 سال قید بامشقت
    6۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ دانش ولد راجہ عبدالوحید کو 4 سال قید بامشقت
    7۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث سید حسن شاہ ولد آصف حسین شاہ کو 9 سال قید بامشقت
    8۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی پر حملے میں ملوث علی حسین ولد خلیل الرحمان کو 7 سال قید بامشقت
    9۔ پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد نبی کو 2 سال قید بامشقت
    10۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤنٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث سہراب خان ولد ریاض خان کو4 سال قید مشقت
    11۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث بریگیڈئر (ر) جاوید اکرم ولد چودھری محمد اکرم کو 6 سال قید بامشقت
    12۔ ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم لیاقت ولد لیاقت علی شاہد کو 4 سال قید بامشقت
    13۔قلعہ چکدرہ حملے میں ملوث ذاکر حسین ولد شاہ فیصل کو 7 سال قید بامشقت
    14۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث امین شاہ ولد مشتر خان کو 9 سال قید بامشقت
    15۔پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث فہیم ساجد ولد محمد خان کو 8 سال قید بامشقت
    16۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث حمزہ شریف ولد محمد اعظم کو 2 سال قید بامشقت
    17۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد ارسلان ولد محمد سراج کو 7 سال قید بامشقت
    18۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمیر ولد عبدالستار کو 6 سال قید بامشقت
    19۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث نعمان شاہ ولد محمود احمد شاہ کو 4 سال قید بامشقت
    20۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد خانزادہ خان کو 9 سال قید بامشقت
    21۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث محمد احمد ولد محمد نذیر کو 2 سال قید بامشقت
    22۔ ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ ولد پیرزادہ میاں قمرالدین بھٹہ کو 3 سال قید بامشقت
    23۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث محمد عبداللہ ولد کنور اشرف خان کو 4 سال قید بامشقت
    24۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث امجد علی ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت
    25۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد رحیم ولد نعیم خان کو 6 سال قید بامشقت
    26۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث احسان اللہ خان ولد نجیب اللہ خان کو 10 سال قید بامشقت
    27۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث منیب احمد ولد نوید احمد بٹ کو 2 سال قید بامشقت
    28۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد علی ولد محمد بوٹا کو 2 سال قید بامشقت
    29۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث سمیع اللہ ولد میر داد خان کو 2 سال قید بامشقت
    30۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں محمد اکرم عثمان ولد میاں محمد عثمان کو 2 سال قید بامشقت
    31۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث مدثر حفیظ ولد حفیظ اللہ کو 6 سال قید بامشقت
    32۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث سجاد احمد ولد محمد اقبال کو 4 سال قید بامشقت
    33۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خضر حیات ولد عمر قیاض خان کو 9 سال قید بامشقت
    34۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد نواز ولد عبدالصمد کو 2 سال قید بامشقت
    35۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث محمد بلال ولد محمد افضل کو 4 سال قید بامشقت
    36۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان کو 2 سال قید بامشقت
    37۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث اسد اللہ درانی ولد بادشاہ زادہ کو 4 سال قید بامشقت
    38۔چکدرہ قلعے پر حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد شاہ زمان کو 4 سال قید بامشقت
    39۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد فرخ ولد شمس تبریز کو 5 سال قید بامشقت
    40۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث وقاص علی ولد محمد اشرف کو 6 سال قید بامشقت
    41۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث امیر ذوہیب ولد نذیر احمد شیخ کو 4 سال قید بامشقت
    42۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی حملے میں ملوث فرہاد خان ولد شاہد حسین کو 7 سال قید بامشقت
    43۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث عزت خان ولد اول خان کو 2 سال قید بامشقت
    44۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ کو 2 سال قید بامشقت
    45۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث ثقلین حیدر ولد رفیع اللہ خان کو 9 سال قید بامشقت
    46۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد سلمان ولد زاہد نثار کو 2 سال قید بامشقت
    47۔ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث حامد علی ولد سید ہادی شاہ کو 3 سال قید بامشقت
    48۔ راہولی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد وقاص ولد ملک محمد کلیم کو 2 سال قید بامشقت
    49۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث عزت گل ولد میردادخان کو 9 سال قید بامشقت
    50۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث حیدر مجید ولد محمد مجید کو 2 سال قید بامشقت
    51۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث گروپ کیپٹن وقاص احمد محسن(ریٹائرڈ) ولد بشیر احمد محسن کو 2 سال قید بامشقت
    52۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمر گرہ حملے میں ملوث محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم کو 2 سال قید بامشقت
    53۔گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملے میں ملوث محمد ایاز ولدصاحبزادہ خان کو 2 سال قید بامشقت
    54۔چکدرہ قلعے حملے میں ملوث رئیس احمد ولد خستہ رحمان کو 4 سال قید بامشقت
    55۔ چکدرہ قلعے حملے میں ملوث گوہر رحمان ولد گل رحمان کو 7 سال قید بامشقت
    56۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث نیک محمد ولد نصر اللہ جان کو 9 سال قید بامشقت
    57۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث فہد عمران ولد محمد عمران شاہد کو 9 سال قید بامشقت
    58۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث سفیان ادریس ولد ادریس احمد کو 2 سال قید بامشقت
    59۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث رحیم اللہ ولد بیعت اللہ کو 9 سال قید بامشقت
    60۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خالد نوازولد حامد خان کو 9 سال قید بامشقت

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، ایک اور ملزم پر فرد جرم، ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی درخواستیں مسترد

    جی ایچ کیو حملہ کیس، ایک اور ملزم پر فرد جرم، ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی درخواستیں مسترد

    راولپنڈی: سانحہ 9 مئی کے دوران جی ایچ کیو پر حملے کے کیس کی سماعت میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، جس میں عدالت نے ملزم بلال اعجاز کو چارج شیٹ جاری کر دی ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے ملزم عاصم اور شہیر سکندر کا اشتہار جاری کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ 9 مئی کے دوران جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کی سماعت ہوئی، جس میں ملزم بلال اعجاز پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ عدالت نے اس موقع پر ملزم عاصم اور شہیر سکندر کے بارے میں حکم جاری کیا کہ ان کا اشتہار شائع کیا جائے تاکہ ان کی گرفتاری عمل میں لائی جا سکے۔اس کے علاوہ، عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو،آڈیو ریکارڈنگ فراہم کرنے کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے فوٹیج کی فراہمی کے لیے درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جنہیں عدالت نے مسترد کر دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ان درخواستوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی اور اس حوالے سے درخواست گزار پنجاب حکومت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ محکمہ داخلہ اور عدالت کو دوسرے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت 6 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا جس کے دوران جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ملک بھر میں شدید تشویش اور تنقید کی لہر دوڑ گئی تھی، اور اس مقدمے میں ملزمان کی گرفتاری اور قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔

    جی ایچ کیو راولپنڈی کیس: قید کی سزا پانے والے 2 مجرم اڈیالہ جیل منتقل

    جی ایچ کیو حملہ کیس، زین قریشی سمیت مزید 3 ملزمان پر فرد جرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان و دیگرکی بریت درخواستیں خارج

  • نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ ہماری جدوجہد آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ہے، ہم آزاد عدلیہ چاہتے ہیں،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ کل مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، تین مطالبات سامنے رکھے،غیر قانونی کام بند کئے جائیں، جیلوں میں بند ورکر، عمران خان کو رہا کیا جائے، رہائی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم رعایت مانگ رہے ہیں، انہوں نے انتقاما کیس بنائے کوئی قانونی حیثیت نہیں،سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں،اتنے کیسز بنائے گئے ہیں کہ اہم مقدمات کی اہمیت ختم ہوگئی ہیں،پارلیمنٹرین پر دھشتگردی، قتل اور غداری کے مقدمات درج کیے گئے ہیں، سویلین کا ملٹری کورٹ میں فیصلے پر مایوسی ہوئی،پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، پاکستان تحریک انصاف کے کسی کارکن ایک گملہ تک نہیں توڑا، ہم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے، پارلیمنٹ کے پاس اختیارات ہونی چاہئے، ہم آزاد عدلیہ چاہتے ہیں،ہم نے اپنا مؤقف حکومت کے سامنے رکھا ہے، آگے بڑھنا ہے، ملک کی معاشی صورتحال، امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم ملک کو بحران سے نکالنا چاہتے ہیں،ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل پر ہمیں شدید تشویش ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی ہمیں شدید مایوسی ہے کہ اگر سپریم کورٹ ہی آئین کے خلاف چلی جائے تو پھر عام لوگ کہاں جائیں،

    قبل ازیں اسد قیصر کو پشاور ہائی کورٹ سے 30 جنوری تک راہداری ضمانت مل گئی ہے

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    سری لنکا کے مرکزی بینک کا بھارتی بینک پر جرمانہ

  • فوجی عدالتوں سے سزائیں،برطانیہ کے بعد امریکا کا ردعمل

    فوجی عدالتوں سے سزائیں،برطانیہ کے بعد امریکا کا ردعمل

    امریکا نے 9 مئی کے مقدمات میں فوجی عدالتوں کی جانب سے 25 شہریوں کو سزائیں سنائے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے پاکستان کی فوجی عدالتوں کی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو 9 مئی کے مظاہروں میں ملوث شہریوں کے خلاف فوجی ٹریبونلز کی جانب سے سزاؤں کی سنائی جانے والی کارروائی پر تحفظات ہیں،فوجی عدالتوں میں عدالتی آزادی، شفافیت اور مناسب عمل کی ضمانتوں کا فقدان ہے، پاکستانی حکام آئین میں درج منصفانہ ٹرائل کا احترام کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل یورپی یونین نے بھی اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں کئے جانے والے فیصلے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں، برطانوی حکومت نے بھی پاکستان میں فوجی عدالتوں سے 25 شہریوں کو سزاؤں پر اپنا ردعمل جاری کیا ہے،برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ پاکستان کے قانونی عمل میں دخل اندازی نہیں کرتا، برطانیہ اپنی قانونی کارروائیوں پر پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت، آزادانہ جانچ پڑتال کا فقدان ہے۔

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے، خواجہ آصف

    عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نومئی کومنصوبہ بندی کےتحت حملےکیےگئے، ڈیڑھ سال سے یہ چیز لٹک رہی تھی ، نو مئی کو حساس تنصیبات پر حملے کیے گئے ، حملہ کرنے والے تربیت یافتہ افراد تھے۔عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے یہ قومی نوعیت کا معاملہ تھا جس میں فیصلوں کی فوری ضرورت تھی، فیصلوں میں سب سے بڑی رکاوٹ عدلیہ نے کھڑی کی ۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ قوم کی دفاعی فوج کو للکارا گیا ، یہ للکار ہندوستانی فوج کی جانب سے نہیں تھی ، منصوبہ بندی کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حملے کئے گئے، کسی ملک کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ اس کے دفاع کو چیلنج کیا گیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ جن 25افراد کو فوجی عدالتوں سے سزائیں ملیں ان کی ویڈیوز موجود ہیں ، حملہ آواروں کی ویڈیو میں ان کے چہرے اور آوازیں واضح ہیں ، اسی بنیاد پر انہیں سزائیں دی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ عدلیہ کیلئے باعث شرم ہے، جنرل باجوہ اور دیگر مائنس نوازشریف پر کام کر رہے تھے، نوازشریف کو مائنس کرنے کا اسٹیبلشمنٹ کا پرانا منصوبہ تھا، مجھے ذاتی طور پر اپروچ کیا گیا ، میں قائد ن لیگ کو بتا کر ان سے ملا تھا۔وزیر دفاع نے کہا کہ ان کا مقصد عمران خان کو اقتدار میں لانا تھا جبکہ بانی پی ٹی آئی خود فوج کی سب سے بڑی پیداوار ہیں، جب اقتدار سے الگ ہوئے تو امریکہ کے خلاف ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کا نعرہ لگایا، اب یہ لوگ امریکہ کی حمایت کا اعلان کررہے ہیں اور امریکہ کا کندھا استعمال کرکے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں ۔190ملین پاؤنڈ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آنے چاہیے تھے، عمران خان نے یہ رقم ملک ریاض کو دے دی اور ملک ریاض سے واجبات ایڈجسٹ کرائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 2018ء کے الیکشن میں آرٹی ایس سسٹم بیٹھا کر عمران خان کو اقتدار دلوایا گیا، یوٹرن لینے والا کبھی لیڈر نہیں بن سکتا،10روز قبل یہ صرف اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنا چاہتے تھے، آج حکومت سے مذاکرات کیلئے رضا مند ہیں ، تحریک انصاف سے مذاکرات کیلئے حکومت نے کمیٹی بنا دی ہے۔

    پاورسیکٹرکیلئے مزید 50 ارب سے زائد سبسڈی کافیصلہ

    انگلینڈ کا چیمپئنز ٹرافی کے لیےاسکواڈ کا اعلان

    انگلینڈ کا چیمپئنز ٹرافی کے لیےاسکواڈ کا اعلان

  • فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائی، تحریک انصاف کا رد عمل سامنے آیا ہے

    قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ سویلینز کے خلاف ملٹری کورٹس کے سزاوں کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں،فوجی عدالتوں کی جانب سے پی ٹی آئی کے زیر حراست افراد کے خلاف سنائی گئی سزائیں انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں۔ زیر حراست افراد عام شہری ہیں اور ان پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا،فوجی عدالتیں قانونی طور پر ریاست کی عدالتی طاقت کی شراکت دار نہیں ہو سکتیں، مسلح افواج ریاست کے انتظامی اختیار کا حصہ ہیں ،ایسی عدالتوں کا قیام عام شہریوں سمیت عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے ،ایسے فیصلوں سے آئین کی بنیادی خصوصیت طاقت کی تقسیم کی نفی ہوئی ہے۔

    واضح رہے کہ سانحہ نومئی، فوجی عدالتوں سے بڑا فیصلہ آ گیا، عدالت نے 25 مجرموں کو سزا سنائی ہے،فوجی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 14 مجرموں کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے،ایک مجرم کو نو سال قید بامشقت، ایک مجرم کو سات سال قید،دو مجرموں کو چھ سال قید با مشقت ،دو مجرموں کو چار سال قید با مشقت ،ایک مجرم کو تین سال قید بامشقت،چار مجرموں کو دو برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے،

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں