Baaghi TV

Tag: نوٹس

  • سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کی ایف آئی اے میں طلبی

    سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کی ایف آئی اے میں طلبی

    ایف آئی اے نے سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کو طلب کرلیا ہے

    اینٹی کرپشن سرکل ایف آئی اے لاہور زون نے سابق چیئرمین واپڈا کو طلبی کا نوٹس بھجوا دیا ہے، سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کو بھجوائے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ کے خلاف ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی شکایت پرانکوائری درج ہے، واپڈا اتھارٹی پرملکی خزانےکو 1454 ملین روپے سے زائد کا نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں،ایف آئی اے کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس میں مزید کہا گیا کہ آپ 22 مارچ کوایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوں اور دستاویزات اورشواہدکی روشنی میں اپنی پوزیشن واضح کریں.

    یاد رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے اگست 2016 میں چیئرمین واپڈا تعینات کیا تھا اور بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ان کی مدمت ملازمت میں توسیع کر دی تھی۔

  • جعلی کاسمیٹکس پروڈکٹس کی فروخت میں ملوث 2 ملزمان گرفتار

    جعلی کاسمیٹکس پروڈکٹس کی فروخت میں ملوث 2 ملزمان گرفتار

    ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی بڑی کاروائی ،جعلی پروڈکٹس کی فروخت میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا

    گرفتار ملزمان میں اعتبار خان اور حسیب جان شامل ہیں، ملزمان رجسٹرڈ کاسمیٹکس کمپنی کی جعلی پراڈکٹس کی فروخت میں ملوث تھے ملزمان کو حسن ابدال سے گرفتار کیا گیا چھاپہ مار ٹیم میں سب انسپیکٹر وسیم احمد اور اے ایس آئی سمیع نیازی شامل تھے، ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔ ملزمان کی نشاندہی پر مزید گرفتاریاں متوقع ہیں،

    دوسری جانب ڈائریکٹر ملتان زون خالد انیس کی ہدایات پر حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن،جاری کاروائیوں میں حوالہ ہنڈی میں ملوث ملزم محمد جہانگیر گرفتار ملزم محمد جہانگیر سے 70 ہزار پاکستانی روپے برآمد ہوئے ملزم کے قبضے سے 49 لاکھ سے زائد مالیت کے لین دین سے متعلق حوالہ ہنڈی کے شواہد اور موبائل فون برآمد ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا،دیگر ملزمان کے ملوث ہونے کا تعین کیا جارہا ہے۔

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • شاندانہ گلزارمشکل میں پھنس گئی، ایف آئی اے طلبی کا نوٹس جاری

    شاندانہ گلزارمشکل میں پھنس گئی، ایف آئی اے طلبی کا نوٹس جاری

    تحریک انصاف کی سابق رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار ایک بار پھر مشکل میں پھنس گئی ہیں، شاندانہ گلزار کو ایف آئی اے نے طلب کرلیا

    شاندانہ گلزار کو ریاستی حکام کے خلاف اشتعال انگیز اور عوام کو اکسانے کی مہم چلانے پر 14 مارچ کو طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے، ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار حاضر نہ ہوئیں تو تصور کیا جائے گا کہ ان کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ نہیں ہے،ایف آئی اے نے شعیب مرزا کی تحریری شکایت پر شاندانہ گلزار کو نوٹس جاری کیا ہے، شاندانہ گلزار کو 14 مارچ کو ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر لاہور میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے

    واضح رہے کہ شاندانہ گلزار نے مبینہ طور پر وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف پرآڈیو لیک کا الزام عائد کیا تھا، شاندانہ گلزار نے مبینہ آڈیو لیک میں تحریک انصاف مقتول کارکن ظل شاہ کا ذکر کیا تھا،

    شاندانہ گلزار میں آپ کو بھاگنے نہیں دوں گی،عظمیٰ بخاری
    پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب عورت کارڈ نہیں چلے گا، میرٹ پر بات ہوگی شاندانہ گلزار میں آپ کو بھاگنے نہیں دوں گی،ظل شاہ سارا دن زمان پارک کے باہر بیٹھا رہتا تھا کہ عمران خان سے ملاقات ہو جائے، شاندانہ گلزار نے مریم نواز پر الزام لگایا ہے کہ مریم نواز کی کوئی آڈیو ہے،شاندانہ گلزار کے خلاف ایف آئی اے میں درخواست دی گئی ہے، جو کچھ آپ نے کہا اس کو ثابت کرنا پڑے گا، امید ہے شاندانہ گلزار انکوائری میں پیش ہونگی،اسمبلی کے تقدس کا خیال رکھنا سب ارکان کا فرض ہے،پاکستان کے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا،پی ٹی آئی ہمیشہ لاشوں پر سیاست کی ہے،اب عورت کارڈ نہیں چلے گا، میرٹ پر بات ہوگی

  • این اے 130، نواز شریف کی کامیابی کا نوٹفکیشن جاری

    این اے 130، نواز شریف کی کامیابی کا نوٹفکیشن جاری

    الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    نواز شریف کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹفکیشن کےمطابق سابق وزیراعظم نواز شریف این اے 130 لاہور سے رکن قومی اسمبلی قرار دیئے گئے ہیں

    شہباز شریف،مریم نواز، حمزہ شہباز، عطا تارڑ کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری
    الیکشن کمیشن کی جانب سے ن لیگی رہنما مریم نواز کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا،حمزہ شہباز کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا،عطا تارڑ کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، سابق وزیراعظم شہباز شریف کی کامیابی کا نوٹفکیشن بھی جاری کر دیا گیا،ن لیگی رہنما شہباز شریف مریم نواز، حمزہ شہباز، عطا تارڑ لاہور سے جیتے ہیں

    عون چودھری،امیر مقام کی کامیابی کا نوٹفکیشن جاری
    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دو مزید حلقوں کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ،الیکشن کمیشن نے این اے 128 لاہور سے عون چوہدری کی کامیابی کا حتمی نوٹیفیکیشن جاری کردیا ،الیکشن کمیشن نے شانگلہ این اے 11 سے امیر مقام کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

    این اے 69،ن لیگی امیدوار کی کامیابی کا نوٹفکیشن جاری
    قبل ازیں الیکشن کمیشن نے این اے 69 منڈی بہاوالدین سے بھی ایم این اے کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا،الیکشن کمیشن نے این اے 69 منڈی بہاوالدین سے مسلم لیگ ن کے ناصر بوسال کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ،ناصر اقبال نے 1 لاکھ 13 ہزار ووٹ حاصل کیے،آزاد امیدوار کوثر پروین 1 لاکھ 8 ہزار 9 سو ووٹ لے کر دوسرے نمبر پررہیں،

    پاکستان میں 8 فروری کو الیکشن منعقد ہوئے، الیکشن کمیشن 21 فروری تک حتمی اور سرکاری نتائج جاری کرنے کا پابند ہے،21 فروری سے 24 فروری تک 3 دن کے اندر آزاد ارکان کسی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں،25 فروری اور 26 فروری تک الیکشن کمیشن خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین کی نوٹیفیکیشن جاری کریگا،28 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا،موجودہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نومنتخب ممبران سے حلف لیں گے،اس کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن ہوگا،3 مارچ 2024ء تک نیا وزیر اعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھائے گا.

    این اے 65،ریٹرننگ افسر سے 20فروری تک رپورٹ طلب
    الیکشن کمیشن میں این اے 65 لالہ موسی میں انتخابی عذردای کیس کی سماعت ہوئی،چیف الیکشن کمشنر اور ممبر خبیرپختوانخوا نے کیس کی سماعت کی ،وکیل امیدوار نے کہا کہ سید وجاہت حسنین 90 ہزار کی لیڈ سے جیت چکے ہیں، قمر زمان کائرہ دوسرے نمبر پر ہیں، ن لیگ کے تیسری پوزیشن نصیر عباس کو جیتا دیا گیا،فارم 45 کے مطابق میری موجودگی میں فارم 49 پر مبنی نتائج جاری کیے جائیں، ممبر کے پی نے کہا کہ ریٹرنگ افسر نے 12 فروری کو مکمل نتائج جاری کیے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ٹوٹل کاسٹ ووٹ اور مسترد ووٹ کو جمع کریں اعدوشمار غلط بنتے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم اسکی انکوائری نہ کروالیں، وکیل نے کہا کہ سر یہ سیدھا دو جمع دو کا کیس ہے، الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر سے 20فروری تک رپورٹ طلب کر لی،این اے 65 میں کیس کی سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی گئی،

    الیکشن کمیشن نے پی پی 71 سرگودھا میں نعیم حیدر پنجوتھہ کی درخواست پر دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا،الیکشن کمیشن نے این اے 70 سیالکوٹ میں فارم 47 کے مطابق ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر ریٹرننگ افسر سے رپورٹ منگوا لی،

    پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی کے ووٹوں میں کمی،لیڈ صرف 141 کی رہ گئی
    ملتان ، این اے 148 ، ریٹرننگ آفیسر نے نیا فارم 49 جاری کردیا ،پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی کے ووٹوں میں کمی ، لیڈ 293 سے کم ہوکر 141 پر آگئی ، یوسف رضا گیلانی نئے فارم 49 کے مطابق 141 ووٹوں سے جیت گئے ہیں، آر او ارشد کا کہنا ہے کہ سابق فارم 47 میں کلیریکل غلطیاں تھیں جنہیں درست کیا گیا ، ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہیں ہوئی ، یوسف رضا گیلانی کی موجودہ لیڈ میں پوسٹل بیلٹ ووٹ شامل ہیں ،

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

  • تیز تر انصاف، ایف آئی اے کو علیمہ خان کیخلاف کاروائی سے روک دیا گیا

    تیز تر انصاف، ایف آئی اے کو علیمہ خان کیخلاف کاروائی سے روک دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو آئندہ سماعت تک علیمہ خان کے خلاف کارروائی سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے علیمہ خان کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتےہوئے جواب طلب کرلیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے ایف آئی اے نوٹسز کے خلاف علیمہ خان کی 2 درخواستوں پر سماعت کی، علیمہ خان کی جانب سے وکیل شیرازرانجھا ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ایف آئی اے کو آئندہ سماعت تک علیمہ خان کے خلاف کارروائی سے روک دیا اور کیس کی مزید سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ، سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئیں،عمران خان کی بہن علیمہ خان نے ایف آئی اے نوٹسز کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا، علیمہ خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں میں ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، آج ہی سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے،ایف آئی اے سائبر کرائم اور انسداد دہشتگری ونگ کی طرف سے جاری نوٹسز معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے،درخواست میں کہا گیا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم اور انسداد دہشتگری ونگ کی طرف سے الگ الگ نوٹسز جاری کئے گئے، دو فرروی کو جاری کئے گئے نوٹسز معطل کرکے متعلقہ ریکارڈ طلب کیا جائے، عدالت فریقین کو انکوائری سے متعلق شواہد بھی پیش کرنے کا حکم دے،بتایا جائے کہ کن الزامات اور شواہد کے تحت نوٹسز جاری کئے گئے تاکہ درخواست گزار کو قانونی دفاع کا حق مل سکے،

    قبل ازیں علیمہ خان نے درخواست دائر کرنے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کروالی ہے،علیمہ خانم وکیل شیراز احمد رانجھا کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچی ہیں،ایف آئی اے سائبر کرائم اور انسداد دہشت گردی ونگ نے علیمہ خان کو طلبی کے نوٹس بھیجے تھے، علیمہ خان سائبر کرائم میں پیش نہیں ہوئی تھیں، گزشتہ شب علیمہ خان لاہور میں تھیں اور تحریک انصاف کے نامزد امیدواروں کی انتخابی مہم چلا رہی تھیں،

    واضح رہے کہ وزرات داخلہ کی شکایت پر علیمہ خان کو نوٹس جاری کیا گیا ہے، علیمہ خان کو چھ فروی کو سی ٹی ڈبلیو میں طلب کیا گیا ہے،علیمہ خان پر ریاست کے خلاف نفرت انگریز تقاریر کرنے کا الزام ہے، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ریاست مخالف بیانیہ پھیلایا جارہا ہے۔ اداروں کو متنازع کرنےکا بھی الزام عائد کیا گیا ہے،علیمہ خان پر نوٹس انکوائری نمبر 4/24 کے لیے 160سی آر پی سی کے تحت جاری کیاگیا ہے،علیمہ خان کو تحقیقات کے لئے چھ فروری دن گیارہ بجے کاؤنٹر ٹیررزم ونگ ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے

    جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • عمران خان کی بہن علیمہ خان کو ایف آئی اے نے طلب کر لیا

    عمران خان کی بہن علیمہ خان کو ایف آئی اے نے طلب کر لیا

    ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے عمران خان کی بہن علیمہ خان کو کل طلب کر لیا
    علیمہ خان کو سائبر کرائم انکوائری کا نوٹس جاری کر دیا گیا،علیمہ خان کیخلاف فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے سائبر کرائم کے نتیجے میں انکوائری کا نوٹس جاری کیا گیا،علیمہ خان کیخلاف ریاست کی مدعیت میں انکوائری کا حکم دیا گیا،علیمہ خان کیخلاف انکوائری کا حکم دھمکیاں، معاشرے میں انتشار پھیلانے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے نتیجے میں کیا گیا،ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس میں کہا گیا علیمہ خان 3 فروری 2024ء کو صبح گیارہ بجے ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں پیش ہو کر وضاحت پیش کریں ،عدم پیشی کی صورت میں یہ خیال کیا جائے گا کہ علیمہ خان کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کیلئے کچھ نہیں ہے

    جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • ننکانہ:قواعد و ضوابط ٹھس،کروڑوں کی کرپشن ،ضلع کونسل میں ٹینڈرزکے پول کرادئے گئے

    ننکانہ:قواعد و ضوابط ٹھس،کروڑوں کی کرپشن ،ضلع کونسل میں ٹینڈرزکے پول کرادئے گئے

    ننکانہ صاحب باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز)قانون و ضوابط ٹھس،کروڑوں کی کرپشن ،ضلع کونسل کے ٹینڈرزکے پول کرادئے گئے
    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ کونسل ننکانہ میں کرپشن کا بازار گرم قانون اور ضابطے کو پس پشت ڈال کر کروڑوں روپے کے ٹینڈر کی بندر بانٹ افسران نے مبینہ طور پر 68 لاکھ روپے رشوت وصول کر کے من پسند افراد کو ٹھیکے الاٹ کر دئیے ، حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان

    ضلع کونسل ننکانہ صاحب کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے کرپٹ افسران عوام کے پیسے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں گذشتہ دنوں ضلع کونسل ننکانہ میں ننکانہ صاحب تا واربرٹن روڈ کی مرمت اور ڈی سی ہاؤس اور چیف آفیسر دفتر کی مرمت کے لیے دو ٹینڈرز لگائے گئے جن کی مالیت 4 کروڑ 50 لاکھ روپے تھی ان ٹینڈرز کے لیے اخبار اشتہار سمیت تمام قانونی کارروائی فرضی طور پر مکمل تو کی گئی لیکن افسران نے مبینہ طور پر 68 لاکھ روپے پول کی مد میں وصول کر کے چند ٹھیکیداروں اور افسران کے درمیان بانٹ کر ٹھیکیداروں کو ٹینڈرز جاری نہ کیے اور من پسند افراد کو پورے ریٹس پر ٹھیکے الاٹ کر دئیے جس سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے من پسند ٹھیکیداروں نے دونوں ٹھیکوں میں ناقص میٹریل کا استعمال کر کے کام شروع کر دئیے ہیں

    باوثوق ذرائع کے مطابق ان ٹھیکوں کے بلز میں بوگس ادائیگی کے لیے بھی افسران اور ٹھیکیداروں کے درمیان بھاری رشوت کے عوض معاملات طے پا چکے ہیں اور ان ٹھیکوں میں ناقص اور کم کام کر کے زیادہ ادائیگی کیے جانے کا امکان ہے جس سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوگا شہری اور سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کرپشن میں ملوث افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دوبارہ شفاف انداز میں ٹھیکے دینے کا مطالبہ کیا ہے

    اس بابت چیف آفیسر ضلع کونسل عامر بٹ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ٹھیکے شفاف انداز میں الاٹ کیے گئے ہیں

  • تاحیات نااہلی ،سپریم کورٹ کا عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس

    تاحیات نااہلی ،سپریم کورٹ کا عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے معاملہ پر عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس لے لیا

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیئے ،تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین کے معاملے کو لارجز بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوا دیا گیا،کیس کی سماعت جنوری 2024 میں ہوگی، سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ موجودہ کیس کو انتخابات میں تاخیر کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائےگا،موجودہ کیس کا نوٹس دو انگریزی کے بڑے اخبارات میں شائع کیاجائے،سپریم کورٹ نے نوٹس میر بادشاہ قیصرانی کی تاحیات نااہلی کے کیس میں لیا

    کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس 2018 کے انتخابات سے متعلق ہے،اب نئے انتخابات سر پر ہیں تو یہ قابل سماعت معاملہ کیسے ہے؟وکیل درخواست گزار ثاقب جیلانی نے کہا کہ موجودہ کیس کا اثر آئندہ انتخابات پر بھی ہوگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ میر بادشاہ قیصرانی کو نااہل کیوں کیا گیا؟ وکیل درخؤاست گزار نے کہا میر بادشاہ قیصرانی کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر 2007 میں نااہل کیا گیا، ہائیکورٹ نے 2018 کے انتخابات میں میر بادشاہ کو لڑنے کی اجازت دے دی, میر بادشاہ قیصرانی کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اگر کسی کی سزا ختم ہو جائے تو تاحیات نااہلی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جھوٹے بیان حلفی پر کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے کو نااہل ہی ہونا چاہیے، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر پانامہ کیس میں فیصلہ دے دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی تاحیات نااہلی کے معاملے پر دو آرا ہیں،نیب کیسز میں اگر تاحیات نااہلی کی سخت سزا ہے تو قتل کی صورت میں کتنی نااہلی ہوگی؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ قتل کے جرم میں سیاست دان کی نااہلی پانچ سال کی ہوگی،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچے کے ساتھ زیادتی جیسے سنگین جرم کی سزا بھی پانچ سال نااہلی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ تاحیات نااہلی اور آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق کوئی نیا قانون بھی آچکا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ حال ہی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال کر دی گئی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اثر ختم کر سکتی ہے، الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل کر کے سپریم کورٹ کا آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ غیر موثر ہو چکا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کسی نے چیلنج نہیں کیں، جب الیکشن ایکٹ میں ترمیم چیلنج نہیں ہوئیں تو دوسرا فریق اس پر انحصار کرے گا، الیکشن ایکٹ میں آرٹیکل 232 شامل کرنے سے تو تاحیات نااہلی کا تصور ختم ہو گیا ہے،انتخابات سر پر ہیں، ریٹرننگ افسر، الیکشن ٹریبونل اور عدالتیں اس مخمصے میں رہیں گی کہ الیکشن ایکٹ پر انحصار کریں یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا اطلاق موجودہ انتخابات پر ہوگا، الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 کی شمولیت کے بعد تاحیات نااہلی سے متعلق تمام فیصلے غیر موثر ہو گئے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ امام قیصرانی 2007 کے انتخابات میں گریجویشن کی جعلی ڈگری پر نااہل ہوئے، 2018 کے عام انتخابات میں میر بادشاہ قیصرانی نے میٹرک کی بنیاد پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے، ہائیکورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی کو انتخابات لڑنے کی اجازت دی، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت میر بادشاہ قیصرانی تاحیات نااہل ہیں اور انتخابات نہیں لڑ سکتے تھے،سپریم کورٹ نے فیصلہ میں نا کہا تو نااہلی کے باوجود آئیندہ انتخابات لڑیں گے، میر بادشاہ قیصرانی کی سزا کے خلاف اپیل ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے، سپریم کورٹ ہائیکورٹ کو حکم دے کہ اپیل پر فیصلہ کرے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ کو حکم نہیں دے سکتی،ہم ہائیکورٹ پر مانیٹرنگ جج نہیں بیٹھے ہوئے، ہم ہائیکورٹ میں زیر التوا اپیل کے معاملے پر نہیں آئینی معاملے پر فیصلہ کریں گے، آرٹیکل 63 ون جی میں پاکستان کی تباہی کرنے والے کی نااہلی پانچ سال ہے، آرٹیکل 63 ون ایچ میں اخلاقی جرائم پر نااہلی تین سال ہے،لوگ شادی کے وقت جن شرائط پر رشتہ دیتے ہیں وہ پوری نہ ہوں تو شادی ختم تو نہیں ہوتی،یہ مثال صرف سمجھانے کی غرض سے دی ہے،امین تو صرف ہم ایک ہی شخصیت کو کہتے ہیں باقی کوئی اس درجہ پر نہیں پہنچ سکتا،ہر شخص ہر وقت سچ تو نہیں بولتا،اصل نااہلی تو آرٹیکل 63 میں ہے،پاکستان کی تباہی کرنے والے کو دوبارہ سیاست میں آنا ہی نہیں چاہیئے مگر اسکی نااہلی بھی پانچ سال ہے،آئین کی زبان کو دیکھنا ہوتا ہے ہر چیز آئین میں واضح درج نہیں،جو آئین میں واضح نہیں اس کی سپریم کورٹ تشریح کر سکتی ہے وضاحت نہیں،سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے سامنے نااہلی کی مدت کا معاملہ نہیں تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے اور پارلیمنٹ کی قانون سازی دونوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،پارلیمنٹ کی قانون سازی چلے گی یا سپریم کورٹ کا فیصلہ اونٹ کسی کروٹ تو بیٹھنا ہے،ایک طرف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے دوسری جانب قانون،ریٹرننگ افسر کس پر انحصار کرے گا؟انتخابات آگئے ہیں مگر کسی کو پتا نہیں کہ وہ الیکشن لڑے گا یا نہیں.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ وفاقی حکومت کی تاحیات نااہلی سے متعلق رائے کیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاق کی یہ رائے ہے کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 232 سپریم کورٹ کے فیصلے سے بالا ہے، عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نااہلی سے متعلق تین اپیلیں آئیں،سپریم کورٹ کے سامنے معاملہ 2008 اور 2018 کے انتخابات سے متعلق تھا، درخواست گزار کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی کے ساتھ 2 سال کی سزا بھی ہوئی،درخواست گزار کی نااہلی کی سزا کیخلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواء ہے،سپریم کورٹ صرف نااہلی کے سوال کو دیکھے گی، درخواست گزار کے وکیل کے مطابق میر بادشاہ قیصرانی کی نااہلی تاحیات ہے، جبکہ نااہلی کی مدت الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 میں 5 سال کی گئی ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق سیکشن 232 سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کے فیصلے سے بالا ہوگا، جبکہ وکیل درخواست گزار کے مطابق سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 62 ون میں تاحیات نااہلی کی تشریح کرچکی، وکلا کے مطابق الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کو چیلنج نہیں کیا گیا، آئندہ انتخابات میں اس معاملے سے ریٹرننگ افسران کو کنفیوژن ہوگیریٹرننگ افسر الیکشن ایکٹ پر انحصار کرے یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر یہ ابہام جمہوریت کیلئے ٹھیک نہیں ، یہ بھی خدشہ ہے کہ الیکشن ٹربیونل اور عدالتیں غیر ضروری مقدمہ بازی میں پھنس جائیں گی،ایڈیشنل اٹارنی کے مطابق یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہے اور لارجر بینچ کے سامنے مقرر ہونا چاہیے ،نااہلی سے متعلق معاملہ بنچ کی تشکیل کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوایا جاتا ہے، اٹارنی جنرل اور تمام ایڈوکیٹ جنرلز کو معاونت کیلئے نوٹس کیا جاتا ہے، نااہلی سے متعلق معاملے پر معاونت کیلئے الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس کیا جاتا ہے،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک میں اس وقت بے یقینی کی صورتحال ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ نے یہ بے یقینی والی بات دوبارہ نہیں کرنی، انتخابات 8 فروری کو ہی ہونگے، غیر یقینی کی بات کرنے والا توہین عدالت کا مرتکب ہوگا، موجودہ کیس کو الیکشن کمیشن سمیت کوئی انتخابات میں تاخیر کیلئے استعمال نہیں کرے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاحیات نااہلی بارے سپریم کورٹ کا فیصلہ اور الیکشن ایکٹ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے،الیکشن ایکٹ میں ترمیم اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں سے کسی ایک کو برقرار رکھنا ہوگا، سنگین غداری جیسے جرم پر نااہلی پانچ سال ہے تو نماز نہ پڑھنے والے یا جھوٹ بولنے والے کی تاحیات نااہلی کیوں؟ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے بعد اس آئینی تشریح پرکم سے کم پانچ ججز کا بنچ بننا چاہیے، عدالت نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس ہارنے یا جیتنے سے بہتر عدالت کی معاونت کرنا ہوتا ہے،آپ کے توسط سے یہ کنفیوژن دور ہوجائے گی،

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • راشد لطیف نے پی جے میر کو ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا

    راشد لطیف نے پی جے میر کو ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے سابق کرکٹر اور تجزیہ کار پی جے میر کو ایک ارب ہرجانے کا لیگل نوٹس بھیجا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے راشد لطیف کا کہنا تھا کہ میں نے نہ کبھی جاوید میانداد کو تھپڑ مارا اور نہ کبھی انکے آواز اٹھائی، جاوید میانداد نہ صرف لیجنڈ کرکٹر اور پاکستان کا فخر بھی ہیں، میں نے ان کی کپتانی میں ڈیبیو کیا اور ان سے بہت کچھ سیکھا میں جاوید میانداد کی اپنے والد کی طرح عزت کرتا ہوں

    راشد لطیف نے ٹویٹر پر اپنی پوسٹ میں بھجوایا جانے والا نوٹس بھی شیئر کیا اور کہا کہ جھوٹا الزام لگانے والے پی جے میر کو ایک ارب ہرجانے کا نوٹس بھیجا ہے ،میر معافی مانگیں، 14 دن میں معافی نہ مانگی توقانونی چارہ جوئی کروں گا

    واضح رہے کہ پی جے میر نے الزام عائد کیا تھا کہ 1993میں راشد لطیف نے ڈریسنگ روم میں جاوید میاں داد کو تھپڑ مارا تھا

  • جانبدار کابینہ، الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو نوٹس جاری کر دیا

    جانبدار کابینہ، الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو نوٹس جاری کر دیا

    جانبدار ارکان کو وفاقی کابینہ سے ہٹانے کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان پیش ہوئے،الیکشن کمیشن نے کہا کہ کیا آپ احد چیمہ ، توقیر شاہ اور فواد حسن فواد کی نمائندگی کر سکتے ہں ، کمیشن کی معاونت کریں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ جوابدہ چار کو نوٹس بھجوا دیں ،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ نگراں وزیر اعظم کو نوٹس جاری کریں ، کیس کی سماعت 31 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی،الیکشن کمیشن نے نگراں وزیر اعظم کو نوٹس جاری کردیا

    درخواست گزار نے نگران وفاقی وزیر فواد حسن فواد، مشیر احد چیمہ کو ہٹانے کی درخواست کی تھی۔درخواست میں استدعاء کی گئی ہے کہ وزیر اعظم کے سیکرٹری توقیر شاہ سابق وزیر اعظم کے سیکرٹری رہے، آرٹیکل 218 کے مطابق نگران سیٹ اپ غیر جانبدار ہونا چاہیے،

    اقلیتوں کے مذہبی حقوق کا بل 2020 قائمہ کمیٹی نے کیا مسترد

    سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق عملدرآمد کیس کی سماعت،عدالت کا بڑا حکم

    سپریم کورٹ میں فراڈ کرنیوالے نے چیف جسٹس کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے، کیا کہا؟

    سپریم کورٹ نے قتل کے 80 سال کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری پر فیصلہ سنا دیا

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ ،نگران حکومت میں الیکشن کمیشن کے حکم پر افسران کا تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک سابق حکومت کے لگائے کتنے وفاقی سیکریٹری کام کر رہے ہیں ؟الیکشن کمیشن ٹرانسفر سے متعلق اپنے نوٹیفکیشن پر بلاامتیاز عمل کرائے،اگر منگل تک الیکشن کمیشن کے حکم پر بلاامتیاز عمل نہ ہوا تو آرڈر معطل کر دیں گے، الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن میں پولیس کا خاص طور پر لکھا کتنے ٹرانسفر ہوئے؟