Baaghi TV

Tag: نوکری

  • بے روزگار پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر فروخت کیے جانے کا انکشاف

    بے روزگار پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر فروخت کیے جانے کا انکشاف

    صوبائی دالحکومت لاہور میں بے روزگار پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر پاکستان سے لیجا کر کمبوڈیا میں فروخت کیے جانے کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے،لاہور ہربنس پورہ سلامت پورہ کے رہاشی انسانی سمگلر "ذیشان ملک” سبحان ملک "اور جاوید ملک” نے مناواں الحمد ٹاؤن کے رہائشی حمزہ نامی نوجوان سے کمبوڈیا میں نوکری دلوانے کا جانسہ دے کر 10 لاکھ بھی بٹور لیے ، مناواں کا ایک انسانی سمگلر ایجنٹ مرتضی غلام ” نے حمزہ نامی نوجوان کو کمبوڈیا میں کچھ ڈالروں کے عوض فروخت کر دیا،مناواں کے رہائشی نوجوان محمد حمزہ کو لگا کہ وہ کمبوڈیا میں کمپنی کو انٹرویو دے رہا ہے ، انٹرویو دینے کے بعد اس سے پتہ چلا اسے چند ڈالروں کے عوض پاکستانی انسانی سمگلروں نے فروخت کر دیا ہے، حمزہ نامی نوجوان نے اپنے ویڈیو بیان میں انکشاف کیا کہ آے جو انسانی سمگلر ہوتے ہیں اگر ان کے مطابق کام نہ کیا جائے تو کمرے میں بند کر کے بد ترین تشدد کیا جاتا ہے اور بلڈنگ سے گرا کر ہلاک کر دیا جاتا ہے ، کمبوڈیا کے ایک اپارٹمنٹ میں پھنسے قید نوجوان حمزہ نے اپنے ویڈیو بیان میں پاکستان کی لا اینڈ فورس ایجنسیوں سے مدد کی اپیل کی ہے ،کمبوڈیا میں پھنسے مناواں کے حمزہ نامی نوجوان نے بتایا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے اسے بھی کسی وقت بھی بلڈنگ سے گرا کر کوئی حادثہ بنا دیا جائے گا ،ڈی جی ایف ائی اےاور ڈائریکٹر ایف ائی اے لاہور انسانی سمگلر سبحان ملک جاوید ملک اور سبحان ملک مرتضی غلام کے خلاف فوری طور پر ایکشن لیں ،یہ انسانی سمگلر لاہور سمیت پنجاب بھر سے سادہ لوح افراد کو کمبوڈیا میں فروخت کر کے ان کی ڈالروں میں رقم وصول کر چکے ہیں .

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

  • نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں

    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

    نوکری کا جھانسہ دے کر لاہور میں تین لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا، پولیس نے واقعات کا مقدمہ درج کر لیا، ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں، لاہور کے علاقے غالب مارکیٹ میں ملازمت کا جھانسہ دے کر ایک طالبہ سے دو ملزمان نے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کی ہے، طالبہ کے مطابق ملزمان عدنان اور حسین نے نوکری کے لئے بلایا اور زبردستی جنسی زیاستی کی،

    دوسرا واقعہ لاہور کے علاقے فیصل ٹاؤن میں پیش آیا جہاں نوکری کا جھانسہ دے کر کر لڑکی کو 2 افراد آفس میں لے گئے اور عزت لوٹ لی، ملزم محبوب نے اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مصری شاہ کے علاقے میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جہاں شادی شدہ خاتون کو نوکری کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، ملزم لیاقت نے خاتون کو نوکری کا کہہ کر بلایا اور گھناؤنا کام کر دیا، پولیس حکام کے مطابق تینوں واقعات کے مقدمے درج کئے جا چکے ہیں،

    دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز کیپٹن(ر)سہیل چودھری کی ہدایت پر ملزمان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے شیراکوٹ/نواں کوٹ/ گلشن اقبال/سمن آباد پولیس نے مختلف کارروائیاں کیں،اے کیٹیگری کے عادی مجرم سمیت 05 عادی مجرمان گرفتار کر لئے،شیراکوٹ پولیس نے اے کیٹیگری کے لسٹڈ عادی مجرم آصف کوگرفتار کیا۔ مفرور اشتہاری ملزم ثاقب کو بھی دھوکہ دہی۔فراڈ کے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا۔عادی مجرم آصف کے خلاف رابری ۔ڈکیتی۔ راہزنی۔ جھپٹا کے 29 مقدمات درج تھے۔نواں کوٹ پولیس نے چوری۔جھپٹا۔نقب زنی کی 41 وارداتوں میں ملوث عادی مجرم دستگیر کو گرفتار کیا ،گلشن اقبال پولیس نے لسٹڈ عادی مجرم عثمان کو گرفتار کیا عادی مجرم عثمان چوری۔جھپٹا۔راہزنی کی 37 وارداتوں میں ملوث تھا۔سمن آباد پولیس نے رابری کے مقدمات میں ملوث لسٹڈ عادی مجرم محمد عثمان کوگرفتار کیا۔عادی مجرمان کو گرفتار کرکے مزید تفتیش جاری ہے

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    مارگلہ ہلز پرآگ لگا کر ویڈیو بنانے والی خاتون ٹک ٹاکر کے خلاف مقدمہ درج

  • نوکری کا جھانسہ دے کر لڑکی سے ذیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    نوکری کا جھانسہ دے کر لڑکی سے ذیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    لاہور: پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی، پولیس نے نوکری کا جھانسہ دیکر 21 سالہ لڑکی سے ذیادتی کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے غالب مارکیٹ پولیس کو ملزم کے خلاف درخواست موصول ہوئی، جس پر ایس پی ماڈل ٹاؤن نے ایس ڈی پی او گلبرگ کی سربراہی میں فوری ٹیم تشکیل دی۔

    پولیس کے مطابق درخواست میں کہا گیا کہ ملزم شہزاد نے 21 سالہ لڑکی کو نوکری کا جھانسہ دے کر کلمہ چوک بلوایا اور ایم ایم عالم روڈ پر واقع نجی ہوٹل میں لے جا کر ذیادتی کا نشانہ بنایا، ملزم لڑکی کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دیتا رہا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے ملزم شہزاد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تلاش شروع کر دی گئی ایس پی ماڈل ٹاؤن وقار کھرل کے مطابق ملزم کو
    جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کرکے حوالات بند کیا گیا، خواتین سے ذیادتی و ہراساں کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں-

    قبل ازیں تھانہ شاہدرہ کے علاقے اسلام پورہ میں گھر کے واش روم سے 13 سالہ لڑکے کی گردن کٹی لاش ملی ہے، مقتول کی شناخت 13 سالہ مجاہد کے طور پر ہوئی، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکے کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے-

    کولمبیا:بل فائٹنگ کے دوران اسٹینڈ گرنے سے 5 افراد ہلاک ،500 زخمی

    انویسٹی گیشن پولیس شاہدرہ نے ملزم سفیان عرف سنی کو گرفتار کر لیا ملزم قتل کی ہولناک واردات کے بعد اپنی خالہ کے گھر شیرا کوٹ جا کر چھپ گیا تھا،ملزم کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا گیا، وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیا تھا،،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کامران عادل کا کہنا ہے کہ ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا،مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے، ملزم کو مضبوط پراسیکیوشن کی مدد سے سخت سزا دلوائی جائے گی-


    مقتول مجاہد کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ان کا بیٹا مالک مکان شہباز کی دکان پر نوکری کرتا تھا، گزشتہ روز مجاہد گھر واپس نہیں آیا، تو رات اسے تلاش کرتے رہے، صبح شہباز نے فون کرکے کہا کہ مجاہد کی اس کے بھائی کے ساتھ لڑائی ہوئی ہے، وہ مجاہد کو گھر جا کر دیکھیں، جب اس کے گھر پہنچے تو تالا لگا ہوا تھا، پولیس کو اطلاع دی، پولیس نے تالا توڑا اور گھر میں داخل ہوئی تو گھر کے واش روم سے بیٹے کی لاش ملی-

    واقعہ کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور فرانزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا، پولیس کے مطابق لڑکے کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے تا ہم پوسٹ مارٹم کروایا جائے گا-

    کراچی :گلستان کالونی میں دھماکا،موذن سمیت 9 افراد جھلس گئے

  • پنجاب: اسکولوں میں قرآن کی تعلیم کے لیے 70 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کی منظوری

    پنجاب: اسکولوں میں قرآن کی تعلیم کے لیے 70 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کی منظوری

    لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبے بھر کے اسکولوں میں قرآن کریم کی لازمی تعلیم کے لیے عربی کے 70 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ (ایس ای ڈی) نے کابینہ کے سامنے عربی کے مضمون کے لیے 70 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا منصوبہ رکھا تھا۔

    سیکریٹری ایس ای ڈی غلام فرید کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں قرآن کریم کی تعلیم کے لیے عربی اساتذہ کی تربیت کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گریڈ ایک سے 5 تک نئی اسامیاں تیار کی جارہی ہیں۔

    جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے اسکولوں میں قرآن کریم کی تعلیم سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔عدالت نے جب اس ضمن میں حکومت پنجاب سے رپورٹ طلب کی تو محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ پہلے مرحلے میں 7 ہزار اساتذہ کی تربیت کی جارہی ہے۔

    انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ صوبے میں عربی کے 60 ہزار اساتذہ کی ضرورت ہے، بینچ نے درخواست کی سماعت 3 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کو عمل درآمد کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا، بروز پیر کابینہ نے 70 ہزار اساتذہ کی بھرتی کی منظوری دی تھی۔

    بینچ نے گزشتہ سماعت میں پنجاب کے سیشن ججز کو ہدایت کی تھی وہ اپنے اپنے علاقوں میں نگرانی کریں کہ آیا محکمہ تعلیم کے دعوے کے تحت قرآن کریم کو ایک علیحدہ مضمون کے طور پر پڑھایا جارہا ہے یا نہیں۔

    اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ ضلعی تعلیمی اتھارٹیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران نے ہر اسکول (سرکاری، نجی و مدرسہ) کا دورہ کیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہاں قرآن کریم کو ایک علیحدہ مضمون کے طور پر پڑھایا جارہا ہے۔

    عدالت نے حکم دیا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز یا ان کا نمائندہ نہ صرف اس بات کا جائزہ لے گا کہ قرآن کریم کو ایک علیحدہ مضمون کے طور پر پڑھایا جارہا ہے بلکہ وہ محکمہ تعلیم کی جانب سے پیش کیے جانے والے حقائق کی بھی تصدیق کرے گا۔

  • س سیٹھ ص صحافی …

    س سیٹھ ص صحافی …

    کچھ دنوں سے ایک مشہور اینکر پرسن کی وڈیوز گردش میں ہیں جس میں وہ چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ‘آئو مجھے گرفتار کرو۔ میں پرویز مشرف نہیں کہ بھاگ جائوں گا وغیر ہ وغیرہ’ ۔۔۔ وہ اینکر سے سیاست دان زیادہ نظرآتے ہیں۔ورنہ اُنکا پرویز مشرف سے کیا لینا دینا. شائد سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر اُن پر بھی سیاست دانوں کا رنگ چڑھ گیاہے۔
    مجھے حیرانی اس بات کی ہوئی کہ اتنے کھڑپینچ اینکر کو بھی اپنی بات کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ کیوں لینا پڑ رہاہے جبکہ وہ روز سیاست دانوں کے ساتھ ایک پرائیویٹ چینل پر ٹاک شو میں محفل سجاتاہے ۔ کیاوجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے ٹاک شو کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے آخر وہ بھی تو بڑے صحافی ہیں اور کوئی اوراینکر بھی انہیں‌ بطور گیسٹ نہیں بلاتا ورنہ تو سوشل میڈیا کی کسی بھی ویڈیو پرٹاک شوز ہورہے ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ آداب صحافت کے خلاف ہے یا سیٹھ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ۔۔؟؟؟
    وجہ کوئی بھی ہوچھوٹے موٹے صحافی یا میڈیا ورکرز سوچتے ہیں کہ جب اتنا تگڑا اینکر اپنی بات ٹی وی چینل پر بات نہیں کرسکتا تو اُنکی بات کون کرے گا جو ‘تبدیلی’ آنے کے بعد سب سے زیادہ سیٹھوں کے زیر عتاب ہیں ۔ وہ سیٹھ جنہوں نے انہی میڈیاورکرزکے خون پسینے سے بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کی ہیں ۔ایک چینل سے کئی چینل بنائے اور کئی کاروبار کھڑے کیے ۔جب اُنکا زرہ سا منافع کم ہوا تو سارا بوجھ میڈیا ورکرز پر ڈال دیاگیا۔ اخبار ہوں یا نیوز چینلز، سب نے بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز کو نکال باہرکیا۔ تنخواہیں تیس فیصد سے لیکر پچاس فیصد تک کم کردی گئیں.
    حد تو یہ ہے کہ حالات کا رونا روتے ہوئے میڈیا کے سیٹھوں نے دو دو تینن تین تنخواہیں نیچے لگادیں ۔۔۔ کوئی چھوڑ کر جانا چاہے تو کہاجاتا ہے شوق سے جائوگزشتہ تنخواہیں نہیں ملے گی… مگر یہ تو اینکرز کا مسئلہ ہی نہیں !
    یہی ویڈیو والے اینکر صاحب مزدور ڈے پر ٹائ کوٹ چڑھا کر ایک بھٹے پر مزدوروں سے سوال کرتے نظرآئے کہ اُن کی زندگی کیسے گزرتی ہے اور پھر کسی مزدور کی داد رسی کروا کر ٹوئیٹر پر خود داد بھی سمیٹے نظر آئے ۔۔لیکن کیا ان اینکر صاب کو شائد یہ پتہ نہیں کہ میڈیا ورکرز کی حالت بھٹہ مزدوروں جیسی ہے ۔ میڈیا ورکرز بھی سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ ڈٹھائی سے ورکرز کی کئی تنخواہیں نیچے لگا رکھتے ہیں . حد تویہ ہے ہمارے جوڈیشیل سسٹم سے ورکرز کی بجائے سیٹھوں کو زیادہ ریلیف ملتے دیکھاہے۔ ۔۔
    اینکرز سارا دن چینلوں پر بیٹھ کر سیاسی دنگل کرواتے ہیں لیکن کتنی بار ایساہوا کہ کبھی میڈیا ورکرز کے استحصال پر کوئی پروگرام کیا گیاہو۔
    اگرکبھی کوئی چینل بند ہوتاہے تو یہی ورکررز ہوتے ہیں جو سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اور سیٹھوں کے لیے آزادی اظہار کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب یہی سیٹھ ورکرز کے چولھے بند کردیتے ہیں تو اور ورکرز سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو کوئی بھی ٹی وی چینل ان کی آواز نہیں بنتا کوئی بھی اینکر ورکرز کا مقدمہ نہیں لڑتا۔کیونکہ سیٹھ اجازت نہیں دیتا۔ کئی میڈیا ورکرز جو کئی کئ سالوں سے سیٹھوں کے پاس کام کررہےتھے جھٹ میں فارغ کر دیے گئے۔ ان میں سے کچھ چھوٹے موٹے کام ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور کچھ یوٹیوب پر طبع آزمائی کررہے ہیں ۔۔۔

    پرانے چینلوں سے جو لوگ نکالے گئے انہوں نے نئے آنے والے چینلوں کا رُخ کیا مگر وہاں بھی حالات ورکرز کے حق میں اچھے نہیں۔ یونیورسٹی سےڈگریاں لینے کے بعد جب سٹوڈنٹس نیوز چینلزکا رُخ کرتے ہیں توانہیں انٹرنشپ کے نام پر چھ چھ مہینے مفت کام کروایا جاتاہے ۔ اور پھر 15 ، 20 ہزار پر نوکری دے دی جاتی ہے ۔جو کئی کئی سال تک نہینں بڑھتی ۔ کئی ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی کم تنخواہ پر لوگوں کو رکتھے ہیں ۔مگر وہ بھی چھ چھ مہینے نہیں دیتے ۔ نہ میڈیکل نہ فیول اورنہ گریجوئٹی وغیرہ ۔
    اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے ‘تُھوک سے پکوڑے تلتے ہیں’ اورمیڈیا ورکرز اکلوتی سیلری پر لگے رہتے ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔

    جو حال ہمارے ملک کے میڈیا ہائوسز کاہے میرے خیال میں میڈیا کی تعلیم میں یہ سبق بھی ڈالاجائےکہ میڈیاکی چھوٹی موٹی نوکری وہ کرے جواس کے ساتھ کوئی دوسرا کاروبار بھی کررہاہو۔۔۔یاپھر شادی بیاہ ، بیوی بچوں کے جھنجھٹ میں نہ پڑے کیونکہ یہ نوکری کسی بھی وقت جاسکتی ہے ۔۔۔

    لیکن یہ مسائل چھوٹے موٹے صحافیوں اورمیڈیا ورکرز کے ہیں ۔ بڑے اینکروں کے نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو چینلوں سے لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں اور سیٹھ بھی انہیں تنخواہیں وقت سے بھی پہلےدے دیتے ہیں۔ کچھ اینکرز ایسے بھی ہیں جنہیں نوکری سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود نئی نوکری پر چلے جاتےہیں ۔ تو پھروہ اینکرز ان ایشوز پر بات کر کہ سیٹھ کو ناراض کیوں کریں گے ۔
    رہی بات صحافتی تنظیموں کی تویہ تنظیمیں سال کے آخرمیں الیکشن کے دنوں میں جاگتی ہیں ۔صحافیوں کے حقوق کے خوب نعرے لگائے جاتے ہیں اورپھر آپس میں لڑ بھڑ کر ہار جیت کر سب سال بھر کے لیے ٹھنڈے پڑے جاتے ہیں ۔ پیمرا کی نظر بھی صرف مواد پر ہوتی ہے ۔میڈیا ہاوءسز میں صحافیوں کے  ہونے والے استحصال پر نہیں

    لیکن ایک بات ہے ۔۔جبسے ‘تبدیلی’ کی گرم ہوا چلی ہے ۔۔اس کی تپش کچھ اینکرز کوبھی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔۔ کچھ فارغ کردیے گئے اور وہ اب یوٹیوب پر اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور کچھ خاموشی سے تنخواہ کٹوا کر کام کررہے ہیں ۔ لیکن سیٹھ کو کوئی فرق نہیں پڑاکیونکہ اُس کے ٹی وی چینلز کے علاوہ بھی کئی کاروبار ہیں ۔ اور تبدیلی کےاثرات صرف میڈیا ورکرز ہی جھیل رہے ہیں ۔
    آئے روز چینلوں سے لوگ نکالے جارہے ہیں ۔۔اوروہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔جو فارغ ہوجاتے ہیں اپنی قسمت پر آنسو بہاتے ہیں اور بچ جانے والے شکر بجا لاتے ہیں ۔۔سیٹھ کے آگے سب بے بس ہیں
    آزادی اظہار کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو میں اُس دن مانوں گا جب رپورٹر، کیمرہ مین ، ڈرائیور ، او بی وین آپریٹر، پی سی آر اور ایم سی آر سٹاف، نیوز روم ورکرز، رائٹرز، پروڈیوسرز، نان لینئر ایڈیٹرز اور دیگر ورکرز کے مسائل کے بارے میں بھی بولیں گے ! وہاں آزادی اظہار کے بھاشن اچھے نہیں لگتے جہا ں میڈیا ورکر یہ سوچ کر دفتر جائے کہ پتہ نہیں آج نوکری رہتی ہے یا پھر خدا حافظ کا پروانہ ملتا ہے ۔ یہاں سیٹھ کی چلتی ہے صحافی کی نہیں اور سیٹھ صرف کاروبار کرتا ہے اور اُسکی نظر صرف منافع پر ہوتی ہے صحافت جائے بھاڑ میں .