سابق وزیراعظم عمران خان کی بین ہمشیرہ علیمہ خان نے کہاہے کہ ہماری برداشت اب ختم ہوتی جارہی ہے،ہمارا مطالبہ ہے 9مئی پر جوڈیشل کمیشن بنایاجائے
میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان کو جب گرفتار کیا گیا اس کی فوٹیجز نکالی جائیں،عمران خان کو کوئی اے سی فراہم نہیں کیا گیا،عمران خان نے کوئی ڈیل نہیں کرنی،اگر ہمارے کیسز کا فیصلہ نہیں ہوتا تو سوالات اٹھیں گے۔اب ہم خود نکلیں گے اور آگر کوئی ہمارے ساتھ نکلنا چاہتا ہے وہ ضرور نکلے گا۔آج عمران خان نے کہا کون کہہ رہا ہے جیل میں میرے پاس ائیر کنڈیشنر والا بڑا کمرہ ہے، مجھے تنہا ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے، نہ وکلاء سے ملنے دیا جاتا ہے۔ عمران خان کی بلڈ ٹیسٹ رپورٹ تک نہیں دی جا رہی لیکن یہ جو مرضی کر لیں عمران خان نے ڈیل نہیں کرنی،ہماری برداشت اب ختم ہوتی جا رہی ہے، چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ ہے 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن بنائیں۔کوئی ہمارا ساتھ دے یا نہ دے ہم اڈیالہ جیل کے سامنے دھرنا دینے جا رہے ہیں،عمران خان کیساتھ انتہائی غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے،ہمیں بھی پکڑ کر بے شک اندر کر دیں بس اب بہت ہو گیا، اب جیل بھر دیں، ہم سب تیار ہیں.جو زیادتیاں ہو رہی ہیں ، عمران خان اور دیگر رہنماؤں و کارکنان کیخلاف ان پر اب خاموش نہیں رہ سکتے.
ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا کہنا ہے کہ جو بھی ریاست کیخلاف کھڑا ہو گا اس سے بات نہیں ہو گی
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کے دوران اسحاق ڈار کا کہناتھا کہ مذاکرات اورمفاہمت پرمیرا پختہ یقین ہے،اسی پارلیمنٹ کےسامنے 126 دن کےدھرنے کو مذاکرات سےاٹھایا تھا، سیاست میں مفاہمت اور مذاکرات ہوتے ہیں اور ہونے چاہیے لیکن ریاست کیخلاف کھڑے ہونے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے،سانحہ 9 مئی ریاست کےخلاف اٹھنا تھا،جی ایچ کیو ، جناح ہاؤس اور تنصیبات پر حملہ کرنے پر کوئی معافی نہیں دے سکتا ،کور کمانڈرز میٹنگ میں جس موقف کا اظہار کیا وہ ہر پاکستانی کا موقف ہے،سانحہ 9 مئی میں ملوث عناصر کے لیے کوئی رعایت مناسب نہیں ،ہم نے اب پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا انتشاریوں کو دوبارہ انتشار کرنے نہیں دیں گے اب بہت ہوچکا ہے۔
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف 4 سے8 جون تک چین کا دورہ کریں گے، چینی انجینئرز پرحملے کے ملزمان تک پہنچےہیں،دورہ چین سے اچھی خبریں آئیں گی،سی پیک اور سیکیورٹی کے حوالے سے ایشوز موجود ہیں۔سیکرٹری داخلہ اور دفتر خارجہ کے افسران کابل گئے ہیں،حملوں میں ملوث ملزمان بارے افغان حکام کو اعتماد میں لیا جائے گا، خیبرپختونخواہ کا بجٹ وفاقی بجٹ سے پہلے منظور ہونا معمول سے ہٹ کر ہے ، چار وفاقی اکائیوں کا بجٹ مل کر وفاق کا بجٹ بنتا ہے۔محمد بن سلمان کے والد کی طبیعت خراب ہے، صرف پاکستان نہیں جاپان کا دورہ بھی ملتوی کیا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نومئی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ زخم ہے جو شاید آنے والے کئی سالوں تک نہیں بھر پائے گا، اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ جنہوں نے نومئی کا واقعہ کیا انکو ابھی تک احساس ہی نہیں کہ انہوں نے پاکستان اور پاکستان کے اداروں کو کتنا نقصان پہنچایا،وہ تو اس اصول پر چل رہے کہ ہم نہیں تو کوئی بھی نہیں،یہاں تک کہ جس ملک کے وہ ٹارزن بنے ہوئے اسکو بھی پس پشت ڈال دیا اور ایک شخص کو تمام معاملات کا محور بنا دیا،کبھی یہ کہتے ہیں عمران نہیں تو پاکستان کا کیا کرنا،کبھی ایٹمی اثاثوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ، کبھی معیشت تباہ کرنے کی کوشش کرتے، کبھی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے،نومئی کو ایک سال ہونے کو، عوام کے ذہنوں میں سوال کہ نو مئی کے ذمہ دار،سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں کیوں نہیں لایا گیا، انہیں عبرت کا نشان کیوں نہیں بنایا گیا اور ریاستی ادارے واقعہ میں ملوث ملزمان سے رعایت کیوں برت رہے ہیں، جو لوگ بانی پاکستان، جی ایچ کیو کو نہ چھوڑیں،عسکری تنصیبات کو آگ لگا دیں، پاکستان کی سالمیت کو خطرے میں ڈالیں، وہ نوجوان جو نعرہ تکبیر بلند کر کے عسکری تنصیبات کو آگ لگائیں کیا انکے لئے کوئی رعایت برتی جا سکتی ہے، کیا انکو معاف کیا جا سکتا ہے؟
نومئی اچانک نہیں ہوا، کئی سالوں کی تربیت ،ذہن سازی تھی، مبشر لقمان
مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ نو مئی ، ایک دن اچانک سے نہیں ہو گیا، اسکے پیچھے کئی سالوں کی تربیت تھی، ایک لاوا تھا جو پھٹ پڑا، یہ وہی لوگ تھے جو کچھ عرصہ قبل پارلیمنٹ ،پی ٹی وی پر حملہ آور ہوئے، اور پارلیمنٹ ہاؤس پر اپنے کپڑے سکھانے کے لئے ڈالے، ریاست کا مذاق بنایا، 2014 میں یہی لوگ تھے جنہوں نے 126 دن کا دھرنا دیا، جس کا آغاز 14 اگست کو لانگ مارچ سے کیا اور پھر ریاست کو یرغمال بنا کر بیٹھ گئے، اس دھرنے میں صرف ڈی جے بٹ کا بل 15 کروڑ کا نقصان ہوا تھا،اس دھرنے سے معیشت کو اربوں کا نقصان ہوا، چینی صدر کا دورہ کینسل ہوا ،لیکن تحریک انصاف کو کیا ملا، کچھ بھی نہیں، کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ لانگ مارچ کا اعلان،تب ریاست خاموش تھی، اگر تب بھی کوئی بڑی کاروائی ہوتی تو حالات مختلف ہوتے،لیکن ریاست کے خاموش ہونے کی وجہ تھی کہ پرانے لاڈلوں سے جان چھوٹ رہی تھی اور ایک نئے لاڈلے کو لانے کی تیاری ہو رہی تھی، آگے چلیں ایک بار پھر اسلام آباد مارچ کیا گیا، اس بارسارے وسائل خیبر پختونخوا حکومت کے استعمال ہوئے، اسلام آباد کے درخت جلائے گئے، میٹرو سٹیشن کو نقصان پہنچایا گیا،مزید نقصان ہونے سے قبل ہی ایک دن میں یہ دھرنا ختم ہوا، پھر ایک اور لانگ مارچ لاہور سے اسلام آباد، جس میں خاتون صحافی کینیٹر کے نیچے آ گئی،پانچ چھ لاشیں بچھ گئیں، خونی لانگ مارچ،پھر بھی جاری رہا، پھر یہی تربیت نومئی کو کام آئی،جب ہر بڑے شہر میں دنگے ہوئے، ریاستی املاک کو توڑا گیا، پشاور میں ٹینک تک سڑک پر لائے گئے، میانوالی میں جہازوں کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی، پی ٹی آئی نے ابھی تک کچھ نہیں سیکھا،
ریاست نومئی کو نہیں بھولی، پی ٹی آئی نے دہشتگرد گروپوں کی طرح بچوں کی ذہن سازی کی، مبشر لقمان
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کل ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کی اور کہا انتشاری ٹولےکو کوئی معافی نہیں ہو گی نہ ہی انتشاری ٹولے کے ساتھ کوئی مذاکرات ہوں گے،اور اگر مذاکرات کرنے ہیں تو صرف سیاسی لوگوں سے بات چیت ہو گی، اس پریس کانفرنس کی آواز مجھے لگتا ہے کہ جس طرح نومئی کے واقعات کا وہ ذکر رہے تھے اور واضح کر رہے تھے کہ نومئی کے ذمہ داران کو سزا ملے گی، ریاست اس واقعے کو نہیں بھولی، اس واقعہ میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو استعمال کیا گیا، انکی ذہن سازی کی گئی اور انکو ریاست کے سامنے کھڑا کر دیا گیا،پریس کانفرنس سے واضح ہوا کہ چھوٹے بچوں کو بھی سزا ملے گی، دہشت گرد گروپ چھوٹے بچوں کی ذہن سازی کرتے ہیں اور انکو مرنے کے لئے بھیجتے ہیں یہاں تو سیاسی ادارے نے ایسا کام کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ صدق دل سے یہ معافی مانگیں تو پھر دیکھا جا سکتا ہے ، لیکن انکے رویئے سے لگ رہا ہے کہ یہ معافی نہیں مانگیں گے رؤف حسن نے پریس کانفرنس میں پھر الزامات لگائے اور کہا کہ نومئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا، سوشل میڈیا پی ٹی آئی کا اس پریس کانفرنس کے خلاف کھڑا ہو گیا، حماد اظہر نے بھی کہا کہ ادارے اب ہماری پریس کانفرنس سننے کا بھی حوصلہ کریں، اسکے بعد عمران خان کا جیل سے پیغام جاری ہوا کہ مجھے نو مئی کو فوجی دستے نے اسلام آباد سے اغوا کیا ، عمران خان نے گرفتار کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا،تحریک انصاف نومئی کو اون کرنے کو تیار نہیں تو پھر کیسے آگے بڑھا جا سکتا ہے،کیا انہوں نے ویڈیو نہیں دیکھیں جس میں آزادی کے نعرے لگائے جا رہے ہیں، صنم جاوید کہہ رہی ہیں کہ کینٹ جا کر احتجاج کریں، ویڈیو سامنے آئیں آرمی کی گاڑیوں کو روکا گیا، شیشے توڑے گئے،پتھر مارے گئے، جی ایچ کیو کا دروازہ توڑ رہے ہیں کیا وہ ویڈیو جعلی ہیں؟پشاور ریڈیو سٹیشن کی بلڈنگ کو آگے لگانے کی ویڈیو جعلی ہے؟ علی امین گنڈا پور بندوقیں لانے کی بات کر رہے ہیں کیا وہ ویڈیو جعلی ہیں؟ فیصل آباد میں آئی ایس آئی دفاتر کے باہر احتجاج کیا جاتا ہے، تمام ویڈیو ثبوتوں کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ نومئی سے تحریک انصاف کا تعلق نہیں.
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2014 کے دھرنے کی انکوائری کے لیے تیار ہوں، مجھے خوشی ہوگی کہ مجھے انکوائری کمیٹی میں پیش کیا جائے، 2014 کے دھرنے کے حوالے سے مجھ پر جتنے الزامات لگائے گئے سب غلط ہیں،
بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ 2013 کا الیکشن آر اوز کا الیکشن تھا،نگران وزیراعظم کے فارم 47 کے حوالے سے بیان کے بعد وفاقی حکومت سے کیا مذاکرات ہو سکتے ہیں ،صدر، وزیراعظم ، وزیراعلی پنجاب ،اور سینٹ الیکشن فراڈ ہیں،نون لیگ کے لوگوں نے پرائیویٹلی ہمیں بتا دیا تھا کہ جب تک قاضی فائز عیسی چیف جسٹس نہیں بنتا نہ الیکشن ہوں گے نہ نواز شریف واپس آئے گا میرا آدھا خاندان فوج اور آدھا خاندان بیوروکریسی میں ہے ، فوج ہماری ہے اور ہمیں فوج سے کوئی مسئلہ نہیں ،نو مئی واقعات کا مجھے اس وقت پتہ چلا جب مجھے سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا، نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی ،خدا کے واسطے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں ، ہم نے اپنی 27 سال کی تاریخ میں کبھی جلاؤ گھیراؤ نہیں کیا ،دو حکومتیں ہم نے انتخابات کیلئے تحلیل کیں سیاسی جماعت انتشار نہیں چاہتی،
میں کیوں معافی مانگوں، معافی تو مجھ سےمانگنی چاہئے،عمران خان
عمران خان سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ 9مئی کے واقعات پر معافی مانگیں گے، جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میں کیوں معافی مانگوں، معافی تو مجھ سےمانگنی چاہئے،کیپٹل ہل میں سی سی ٹی وی فوٹیجز سے ملزمان کی شناخت کرکے سزا دی گئی، یہاں تو سی سی ٹی وی فوٹیجز ہی غائب کردی گئیں، اگر بات نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں، میں پاکستان کیلئے بات چیت کا کہہ رہا ہوں،مجھے کون سی ڈیل چاہئے یا میں کون سا بیرون ملک جانا چاہتا ہوں،
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ الیکشن کے نتائج کے حوالے سے مجھ سے زیادہ نواز شریف پریشان ہیں، میرا مطالبہ درست ہے کہ نواز شریف اپوزیشن میں آکر بیٹھیں، پی ٹی آئی کو حکومت دینی چاہیئے۔
نجی ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آئین کی بالادستی کی باتیں جب عملی ہوں گی، تو اسکے اثرات ہم پر پہنچیں گے، آئین کچھ کہتا ہے اور ہوکچھ اور ہو رہا ہوتا ہے، اگر اعتراض کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ فوج ، عدلیہ پر تنقید کی، وہ کام نہ کریں جس سے تنقید ہو سکے، عوام، سیاسی پارٹیوں کے ساتھ وہ ایسا کیوں کریں، اگر ہم بات کریں تو کہا جاتا، آئین کی خلاف ورزی،اس قسم کی چیزیں سامنے آئیں گی تو تنقید ہو گی،
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ پشاور نو مئی جلسے کے بعد پھر بیٹھیں گے، اور آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے، پنجاب بھی جائیں گے، تحریک صرف جلسوں کا نام نہیں گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں،بہت کوشش کی گئی کہ مجھے عوام سے علیحدہ کیا جائے اور ہم تحریک کو چھوڑ دیں لیکن ہم ڈٹ گئے، ہمیں یہاں تک بھی کہا گیاکہ سیاسی جماعت ہے کھیل رہی ہے، ہم نے کہا ضرورت نہیں، یکجہتی لانی ہے ،ہم نے جے یو آئی کی تحریک کی بنیاد پر عوام کو لانا ہے، اور تبدیلی لائیں گے،
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ نو مئی کے واقعہ پر ہم نے بھی احتجاج کیا تھا، ریاستی تنصیبات پر حملوں کا قوم نے بھی نوٹس لیا تھا لیکن ایک سوال پیدا ہوتا ہے، اگر ہم اسکو تسلیم کریں تو یہ بتایا جائے کہ الیکشن میں دھاندلی کی ہے یا نہیں، یا تو وہ مان لیں، اگر نہیں مانتے تو عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ہے،
صدر پی ٹی آئی پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے قوم سے انکی پسند، انکے ووٹ کا حق چھنینے والے معافی مانگیں،
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ الیکشن چوری کرنے والے قوم سے معافی مانگیں ۔ فارم 47 پر جعلی حکومت بنوانے والے پہلے قوم سے معافی مانگیں، 9 مئی کی آڑ میں چادر اور چار دیواری کی عزت کو پامال کرنے والے معافی مانگیں ،لوگوں کے پسندیدہ لیڈر، انکی پارٹی کو ختم کرنے کی سازش کرنے والے معافی مانگیں ،کیڑے والی گندم منگوا کے قوم کا پیسا ضائع کرنے والے معافی مانگیں ۔کسان سے انکی اجرت چھیننے والے معافی مانگیں انکی محنت کو ضائع کرنے والے معافی مانگیں – ابھی تک صرف پنجاب کی نا اہل نا لائق فارم 47 کی حکومت نے گندم کی خریداری شروع نہیں کی باقی سب صوبوں میں خریداری شروع ہوچکی ہے ،پنجاب حکومت نے پہلے کسانوں کو زیادہ گندم اگانے کیلئے کہا اور اب انکی محنت، خون پسینے کی کمائی کو آگ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے -کسان اجکل سڑکوں پر رل رہے ہیں چیف جسٹس صاحب کون پوچھے گا انھیں؟جیل میں خوش ہوں، جتنی زیادتیاں کرنی ہیں کرو، مجھے جیل میں بلیوں اور چھپکلیوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے، آدھا دن مقابلے میں اور آدھا دن کتابیں پڑھنے میں گزرتا ہے
قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا،اسد قیصر نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے باپ سے معافی نہیں مانگتے کسی اور سے کیا مانگیں گے؟ ہم چاہتے ملک میں آئین اور قانون بالا دست ہو، چاہتے ہیں کہ تمام شہریوں کے برابر کے حقوق ہوں، اس کے لیے تمام اداروں کو آئینی حدود میں رہ کرکام کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ترجمان پاک فوج نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی فوج قومی فوج ہے،اس کے اندر تمام مکتبہ فکر، قومیت، رنگ ، نسل ، مذاہب کے لوگ ہوتے ہیں، کسی قسم کی کوئی سیاسی سوچ نہیں ہوتی، حکومت وقت سیاسی ہوتی ہے، ہر حکومت کے ساتھ فوج کا غیر سیاسی تعلق ہوتا ہے،ہم کسی خاص سیاسی سوچ کو نہیں دیکھتے، ہمارے لئے تمام سیاسی جماعتیں جو عوام کے نمائندے ہیں قابل احترام ہیں، اگر کوئی سیاسی سوچ یا لیڈر، یا ٹولہ اپنی فوج پر حملہ آور ہو، عوام اور فوج کے مابین نفرت اور خلیج پیدا کرے، شہیدوں کی تضحیک کرے، اسی قوم کی فوج بارے دھمکیاں دے، پراپیگنڈہ کرے اس سے کوئی بات چیت نہیں کرنی، ایسے سیاسی انتشاری ٹولے کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ قوم کے سامنے صدق دل سے معافی مانگے،انتشار اور نفرت کی سیاست سے اور پاکستان میں تعمیری سیاست کرے، بات چیت سیاسی جماعتوں کو زیب دیتی ہے اداروں کو نہیں، میں نے بڑا کلیئر بتایا کہ ایساسیاسی ٹولہ جو سامنے کر رہا ہے ان سے کوئی بات نہیں ہو گی.یہ چاہتے ہیں کسی وجہ سے ملک معاشی طور پر ہر لحاظ سے نیچے جائے، کچھ بھی کرنے اور کہنے کو تیار ہیں، افسوسناک ، انتہائی افسوسناک،
تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا
اسد قیصر نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے باپ سے معافی نہیں مانگتے کسی اور سے کیا مانگیں گے؟ ہم چاہتے ملک میں آئین اور قانون بالا دست ہو، چاہتے ہیں کہ تمام شہریوں کے برابر کے حقوق ہوں، اس کے لیے تمام اداروں کو آئینی حدود میں رہ کرکام کرنا ہوگا۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلے دن سے مطالبہ رہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے،تا کہ سب کچھ سامنے آ سکےکہ نومئی کا ذمہ دار کون ہے،9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کہاں ہے؟ عمران خان کے امریکی مداخلت کے الزام کا مقصد ایسا نہیں تھا کہ امریکا سے تعلق خراب کیے جائیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ترجمان پاک فوج نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی فوج قومی فوج ہے،اس کے اندر تمام مکتبہ فکر، قومیت، رنگ ، نسل ، مذاہب کے لوگ ہوتے ہیں، کسی قسم کی کوئی سیاسی سوچ نہیں ہوتی، حکومت وقت سیاسی ہوتی ہے، ہر حکومت کے ساتھ فوج کا غیر سیاسی تعلق ہوتا ہے،ہم کسی خاص سیاسی سوچ کو نہیں دیکھتے، ہمارے لئے تمام سیاسی جماعتیں جو عوام کے نمائندے ہیں قابل احترام ہیں، اگر کوئی سیاسی سوچ یا لیڈر، یا ٹولہ اپنی فوج پر حملہ آور ہو، عوام اور فوج کے مابین نفرت اور خلیج پیدا کرے، شہیدوں کی تضحیک کرے، اسی قوم کی فوج بارے دھمکیاں دے، پراپیگنڈہ کرے اس سے کوئی بات چیت نہیں کرنی، ایسے سیاسی انتشاری ٹولے کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ قوم کے سامنے صدق دل سے معافی مانگے،انتشار اور نفرت کی سیاست سے اور پاکستان میں تعمیری سیاست کرے، بات چیت سیاسی جماعتوں کو زیب دیتی ہے اداروں کو نہیں، میں نے بڑا کلیئر بتایا کہ ایساسیاسی ٹولہ جو سامنے کر رہا ہے ان سے کوئی بات نہیں ہو گی.یہ چاہتے ہیں کسی وجہ سے ملک معاشی طور پر ہر لحاظ سے نیچے جائے، کچھ بھی کرنے اور کہنے کو تیار ہیں، افسوسناک ، انتہائی افسوسناک،
تحریک انصاف نے نو مئی کے حوالہ سے ملک گیر احتجاج کا پروگرام تشکیل دے دیا، اس ضمن میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں،
نو مئی کو تحریک انصاف ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالے گی اور جلسے کرے گی پی ٹی آئی کے تمام اراکین اسمبلی، ٹکٹ ہولڈر، ضلعی و تحصیلی رہنما اپنے اپنے حلقوں و علاقوں میں احتجاج کریں گے،نو مئی کے حوالہ سے پی ٹی آئی نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نو مئی کو ملک بھر میں عمارتوں پر پاکستان اور تحریک انصاف کے جھنڈے لگائیں جائیں گے ، احتجاج میں شامل شرکاء عمران خان کی تصاویر بھی پاس رکھیں گے جن پر قیدی نمبر 804 بھی لکھا ہو گا،نو مئی کے روز نو مئی کے شہداء کے لئے دعا بھی کی جائے گی،ہر صوبائی اسمبلی کے حلقہ میں مقامی قائدین اور ٹکٹ ہولڈر احتجاجی ریلی نکالیں گے،پاکستان تحریک انصاف کے دفاتر میں خصوصی تقاریب منعقد ہونگی،
دوسری جانب پی ٹی آئی لاہور نے عمران خان کی رہائی کے لیے پرامن تحریک کا اعلان کردیا ہے ،سیکرٹری جنرل تحریک انصاف لاہور حافظ ذیشان رشید کا کہنا ہے کہ 8 مئی کو رات 10 بجے اہلیان لاہور اپنی چھتوں پر موبائل روشن کریں، کارکن عمران خان کی رہائی کے لیے پرامن تحریک کا حصہ بنیں،صدر تحریک انصاف لاہور چوہدری اصفر گجر نے کہا کہ یونین کونسل کی سطح تک تنظیم سازی اولین ترجیح ہے، 60 روز میں بلدیاتی الیکشن کے لیے خود کو مکمل تیار کر لیں گے
واضح رہے کہ نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، عسکری تنصیات پر حملے کئے تھے، منظم منصوبہ بندی کے تحت شہدا کی یادگاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، نو مئی کے بعد تحریک انصاف کے کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے، کئی جیلوں میں تو کئی مفرور ہیں، عام انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت بن گئی، علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ بن گئے ہیں تا ہم پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں نو مئی میں ملوث پی ٹی آئی کارکنان مشکل میں ہیں.
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عمران خان و دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف 9 مئی کے کیس پر سماعت کرتے ہوئے اسد عمر کی درخواستِ بریت پر فیصلہ محفوظ کر لیا
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج شبیر بھٹی نے کیس کی سماعت کی،دورانِ سماعت اسد عمر اپنے وکلاء سردار مصروف اور آمنہ علی کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے،وکیل آمنہ علی نے کہا کہ ایماء کی حد تک الزام ہے، کوئی ثبوت چالان میں موجود نہیں، اسد عمر کی حد تک درخواستِ بریت پر دلائل ہو چکے،جج شبیر بھٹی نے کہا کہ اسد عمر کی حد تک بریت کی درخواست پر آرڈر کروں گا،عدالت نے اسد عمر کی درخواست بریت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
وکیل سردار مصروف نے استدعا کی کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔جج شبیر بھٹی نے استفسار کیا کہ عمران خان کی بریت کی درخواست دائر ہوئی ہے؟وکیل سردار مصروف نے جواب دیا کہ بریت کی درخواست دائر نہیں ہوئی، پروڈکشن کی درخواستیں دائر ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف والے دوبارہ فوج کو سیاست میں دھکیل رہے ہیں، تحریک انصاف ایک اور 9 مئی کا منصوبہ بنا رہی ہے
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ایک بار پھر فتنہ فساد کی سیاست کر رہی ہے، آج پی ٹی آئی میں سے بہت سی آوازیں اٹھ رہی ہیں، پی ٹی آئی عہدوں کے لیے انتشار کا شکار ہو چکی ہے،تحریک انصاف کے رہنماوں کے آپس میں بیانات نہیں ملتے، تحریک انصاف اب صرف خیبر پختونخواہ تک رہ گئی ہے ، ماضی میں پی ٹی آئی نے چینی صدر کے دورے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تھی، تحریک انصاف نے اب سعودی عرب پر بھی الزام لگانا شروع کر دیا ہے، ہم سیاست دان ہیں مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں،تحریک انصاف کو سیاسی لوگوں سے بات کرنی چاہیےتحریک انصاف کے اند ربے چینی پھیلی ہوئی ہے ،تحریک انصاف والے مس کال کا انتظار کر رہے ہیں ،
جو بھی پاکستان کے آئین اور قانون کو نہیں مانتا اس سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے،پیپلز پارٹی
فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ سیاسی قوتوں سے مذاکرات نہیں کریں گے، بلکہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے مذاکرات کریں گے، سنی اتحاد کونسل، پی ٹی آئی آرمی کو سیاست میں مداخلت کی دعوت دے رہے ہیں،ہم ہمیشہ سے سیاست میں آرمی کی مداخلت کے خلاف ہیں،انہوں نے ایران کے صدر پاکستان کے دورے پر آئے تو سعودیہ سے متعلق بیان دیا،جو ہمیں کہتے تھے کہ پی پی صرف سندھ تک محدود جماعت ہے آج وہ خود ایک صوبے تک محدود ہو چکے ہیں، چیئرمین پی ای سی پر پی ٹی آئی میں گھمسان کا رن ہے، کے پی میں ایک طرف سیلاب ہے تو دوسری طرف امان و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے، کے پی کے وزیر اعلیٰ کا دھیان اسلام آباد کی طرف ہے،پی ٹی آئی شائد ایک اور 9 مئی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،کے پی وزیر اعلیٰ کا اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے،ضمنی انتخابات میں ان کو اسی رویے کی وجہ سے انتہائی بری شکست ہوئی،پچھلے دنوں ٹی ٹی پی کی طرف سے جو بیانات آئے، ان میں اور سی ایم کے پی کے بیانات میں کوئی فرق نہیں،جو بھی پاکستان کے آئین اور قانون کو نہیں مانتا اس سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے،کے پی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لئے جو 50،60 ارب سالانہ ملتے رہے ہیں وہ کہاں گئے؟، 10 سال دور میں کے پی حکومت کو این ایف سی ایوارڈ کے جو پیسے ملتے رہے ان کی تحقیقات ہونی چاہیے،کے پی حکومت کا سارا دھیان احتجاج اور چوکوں چوراہوں پر ناچنے کی طرف ہے،کے پی حکومت سے بھی طلباء یونینز پر سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہیں، جس طرح سے کیبنٹ کے ذریعے بجٹ پاس کرایا گیا وہ غیر آئینی ہے،کے پی حکومت ابھی تک اسمبلی کا اجلاس بلانے سے کترا رہی ہے کہ مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینا پڑھ جائے،انہیں مخصوص نشستوں پر حلف تو لینا ہی پڑے گا،پی ٹی آئی کی پانچ فرنچائزز ہیں، یہ اتنا بتا دیں کہ ان کی آفیشل فرنچائز کونسی ہے، میں کے پی حکومت ترجمان کو سیریس ہی نہیں لیتا، شہریار آفریدی اور بانی پی ٹی آئی پہلے 9 مئی کی معافی مانگیں،پی ٹی آئی کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ حاضر سروس کے پاؤں پڑتے ہیں اور ریٹائرڈ کا گریبان پکڑنا چاہتے ہیں،یہ ابھی بھی کندھا اور بیساکھی تلاش کر رہے ہیں مگر ماضی کی طرح اب انہیں یہ سہولت میسر نہیں آنے والی،انہیں سیاسی قوتوں سے ہی مذاکرات کرنے پڑیں گے،یہ پہلے خود انہیں سیاست میں مداخلت کی دعوت دیتے ہیں اور جب وہ مداخلت کرتے ہیں تو پھر ان کی چیخیں نکلتی ہیں،