Baaghi TV

Tag: نکاح کیس

  • عدت کیس میں  قابل ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنایا جائے،وکیل خاور مانیکا

    عدت کیس میں قابل ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنایا جائے،وکیل خاور مانیکا

    اسلام آباد،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل نے اپیلوں پر سماعت کی، خاور مانیکا کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیئے،گزشتہ سماعت پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ2 دن جو دلائل ہوئے وہ بحث بالجبر کے مترادف تھے، ان کی طرف سے جنرل التوا کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا گیا، اس میں بذریعہ کال ڈائریکشن دی گئی، ہائیکورٹ ہمارےکیسز میں کیوں نہیں بتاتی کہ ہمارا کیا قصور ہے، ہمارے پاس سوشل میڈیا پر کوئی گالم گلوچ کی مہم چلانے والا نہیں ، میں ماہِ رمضان میں بھی کبھی عدالتوں میں پیش نہیں ہوا، محرم الحرام سوگ کا مہینہ ہے، میں نے اہل بیت کی محبت میں عدالت سے التواء مانگا تھا، درخواست عدالت نے منظور کر لی تو ہائیکورٹ نے بغیر چیلنج کیسے ڈائریکشن دے دی؟ میری ایک کیس میں نہیں سب کیسز میں التواء کی درخواست منظور ہوئی تھی، عام لوگوں کی ضمانتیں ہونے کے بعد 5،5 دن مچلکے جمع نہیں ہوتے، میرے حق میں فیصلہ آیا تو خوشی کا اظہار کروں گا، خلاف آیا تو آپ کے خلاف مہم نہیں چلاؤں گا، ہمارے وکلا نے صرف اونچا بولنے پر دہشتگردی کے پرچے بھگتے ہیں، جج ہمایوں دلاور کی کھلی عدالت میں طوفانِ بدتمیزی برپا کیا گیا، ججز کے قلم ان کے خلاف بھی چلے جنہوں نے عدالتوں میں ججز کی توہین کی، ایک جج عدالت میں ملزم کو کہتا ہے کہ گڈ ٹو سی یو۔

    ہم وکیل ذاتی عداوتوں کا ایندھن کیوں بنیں، آپ لوگوں کی لڑائی ہے تو وہ ایوان میں بیٹھ کر لڑیں،وکیل خاور مانیکا
    اس موقع پر تحریک انصاف کے وکلاء کی جانب سے خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری کے دلائل پر اعتراض کیا گیا،تو خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ جب آپ کے سامنے دھمکی آمیز دلائل دیے گئے تو ہم نے اعتراض نہیں کیا، وکیل کا کام نہیں ہے کہ گالم گلوچ کرے یا الزام تراشیاں کرے، شبلی فراز نے میرے معاون وکیل کو دیکھ کر کہا کہ ان کا علاج کیوں نہیں کیا جاتا، میرے لیے صدمہ تھا کہ ایوان میں بیٹھا شخص ایسی بات کیسے کر سکتا ہے، ہم وکیل ذاتی عداوتوں کا ایندھن کیوں بنیں، آپ لوگوں کی لڑائی ہے تو وہ ایوان میں بیٹھ کر لڑیں، مولانا فضل الرحمان کو مختلف القابات دیے گئے، آج ان کے ساتھ لانگ مارچ کے منصوبے بنا رہے ہیں، مجھے کہا گیا کہ شبلی فراز صاحب کے خلاف مقدمہ کریں، مگر ہم نے نہیں کیا، دوسری طرف سے اگر ایسا کچھ ہوتا تو وہ ہمارے خلاف درخواست دے چکے ہوتے، آپ مجھے مار سکتے ہیں، میرے معاون کو کچھ نہ کہا جائے۔

    ہو سکتا ہے کہ میں نے بھی پی ٹی آئی کے دھرنوں میں شرکت کی ہو،وکیل خاور مانیکا
    جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ سے کہا کہ آپ اب بس کریں، دلائل کی طرف آئیں،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ 2 سال سے ہمارے ساتھ ہو رہا ہے، ہم پر دہشت گردی کے پرچے ہوئے، کیا سلمان صفدر نے یہاں دھمکی آمیز دلائل نہیں دیے؟ میری تربیت میں بدتمیزی، گالم گلوچ نہیں، جسے میں جانتا ہوں اس سے اجنبی نہیں بن جاتا، وکیل کا کام ڈنڈا اور اسلحہ اٹھانا نہیں، وکیل کا کام ایمانداری کے ساتھ کیس لڑنا ہے، دلائل کے لیے ٹائم مرضی سے رکھوں گا، میں ڈائریکشن کو مدنظر نہیں رکھتا،جج افضل مجوکا نے انہیں ہدایت کی کہ نہیں، وقت کو مد نظر رکھنا پڑے گا،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں دلائل اپنی مرضی سے دوں گا، ڈائریکشن کا خیال دوسری پارٹی رکھتی ہے جس کے بندے اندر ہیں، جب یہ لوگ پی ٹی آئی میں پیدا نہیں ہوئے تھے تب بھی میرے بھائی پی ٹی آئی میں تھے، میرے بھائی مجھے کہتے ہیں کہ ہم پی ٹی آئی کے ہیں، آپ یہ کیس کیوں لڑ رہے ہیں؟ مجھے کسی نے بتایا کہ عمران خان نے کہا کہ طاہر آصف کا بھائی میرے خلاف وکیل ہے، ہو سکتا ہے کہ میں نے بھی پی ٹی آئی کے دھرنوں میں شرکت کی ہو،اس پر جج افضل مجوکا نے مسکراتے ہوئے تبصرہ کیا کہ یہ تو خبر ہے۔

    کس نے کہا تھا کہ جی ایچ کیو پر حملہ کریں، جناح ہاؤس پر حملہ کر یں؟ ریلیف نہ ملے تو کیا ہم ججز کو ٹرول کرنا شروع کر دیں ،وکیل خاورمانیکا
    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر ریلیف نہیں ملے گا تو کیا ہم ججز کو ٹرول کرنا شروع کر دیں گے؟ خاور مانیکا تشدد کیس کا کہا گیا تو میں نے انکار کر دیا کہ دوسری طرف میرے وکلاء ہیں، اسلحے، ڈنڈے اور لڑائیوں سے مسئلے کا حل نہیں ملے گا، عثمان ریاض گل کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ ریسلر ہیں مگر وہ بہت پیارے انسان ہیں، سلمان صفدر صاحب سے یہ امید نہیں تھی کہ ان کی طرف سے ایسا ہو گا، کس نے کہا تھا کہ جی ایچ کیو پر حملہ کریں، جناح ہاؤس پر حملہ کر یں؟ مجھے میرا ایک مؤکل کہتا ہے کہ میں عدالت کا گیٹ توڑ دوں، مؤکل نے کہا کہ کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں تو ان کو کچھ کہا نہیں جاتا، عدت پر 1992ء کے کیس کا حوالہ دیا گیا جس میں عدت کے 39 دن بتائے گئے، ایک سوال تھا کہ پہلی شکایت کے بعد دوسری شکایت کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ ہم نے پہلی شکایت درج نہیں کرائی اور وہ فردِ جرم عائد ہونے سے پہلے واپس لے لی گئی تھی، مسلم فیملی لاء میں صرف 90 دن بتایا گیا، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، اسلامی نظریاتی کونسل، فیڈرل شریعت کونسل، اسلامی اسکالر بھی موجود ہیں، میڈیکل ایکسپرٹ موجود ہیں، اپنی مرضی کے ایکسپرٹس سے رجوع کر سکتے ہیں، 2 درخواستیں دی ہیں وہ اس پر دلائل دینا چاہتے ہیں یا نہیں؟

    یہ ادراک غلط ہے کہ چوری، ڈاکا یا تشدد صرف مرد کرتے ہیں، میڈیا کسی بھی واقعے کو سنسنی خیز طور پر پھیلاتا ہے،وکیل خاور مانیکا
    جج افضل مجوکا نے کہا کہ آپ دلائل دیں، بعد میں ان کو موقع دیں گے،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ قانون اس عدالت کو اجازت دیتا ہے کہ آپ ایڈیشنل شواہد مانگ سکتے ہیں، ان درخواستوں پر میرے معاون وکیل دلائل دیں گے، مجھے حیرت ہوئی، سلمان صفدر صاحب نے میرے لیے بھاگ کے الفاظ استعمال کیے،جج افضل مجوکا نے کہا کہ ان کو کہہ دیا تھا، انہوں وہ الفاظ واپس لے لیے تھے،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے ایک غلط فہمی پیدا کی جا رہی ہے کہ عورتوں کی شادی نہیں ہو گی، ہائی پروفائل کیسز میں میڈیا دیکھتا ہے کہ عوام کا رجحان کس سائیڈ پر ہے، یہ ادراک غلط ہے کہ چوری، ڈاکا یا تشدد صرف مرد کرتے ہیں، میڈیا کسی بھی واقعے کو سنسنی خیز طور پر پھیلاتا ہے، فیصلہ ہونے سے پہلے میڈیا پر ٹرائل آ جاتا ہے، یہ کیس بھی شروع سے میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے، ملزم کا بھی میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے میں اس حق میں نہیں،دوران سماعت سلمان اکرم راجہ نے عدالت سے استدعا کی کہ میں نے سپریم کورٹ میں ملٹری ٹرائل کیس میں پیش ہونا ہے، جواب الجواب کے لیے آ جاؤں گا،سلمان اکرم راجہ عدالت سے اجازت لے کر روانہ ہو گئے۔

    پاکستان کے معاشرے میں اسکینڈل کی بھوک ، میڈیا پہلے سے ذہن بنا رہا کہ ملزم کون ، اسامہ بن لادن اگر مارا نہ جاتا تو آج اس کا بھی کیس بنتا، کوئی وکیل ہوتا،وکیل خاور مانیکا
    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی جانب سے ہوا بنایا گیا کہ پاکستان میں بھی ایسے ایسے کیسز ہیں، ایک خاتون نے تھپڑ مار دیا اس پر ایک جج کو میڈیا کی ہائپ پر سزا ہو گئی، میڈیا پر کہا گیا کہ کیس اڑ گیا، میں نےمعاون وکیل سے پوچھا کہ کیا فیصلہ ہو گیا؟ عدت ذاتی معاملہ نہیں، یہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے طے شدہ ہے، پاکستان کے معاشرے میں اسکینڈل کی بھوک ہے، میڈیا پہلے سے ذہن بنا رہا ہے کہ ملزم کون ہے، اسامہ بن لادن اگر مارا نہ جاتا تو آج اس کا بھی کیس بنتا، کوئی وکیل ہوتا، میڈیا فیصلے کے اوپر اثر انداز ہو جاتا ہے، اس عدالت نے ججمنٹس کے حوالے دے کر ان کی مدد کی، ہم نے آپ پر اعتراض نہیں کیا، میرے مؤکل کا نقصان ہوا، اسے میڈیا نے ظالم قرار دے دیا، ہم چاہتے ہیں کہ اس کیس کا فیصلہ شریعت کے مطابق کیا جائے، میڈیا کی وجہ سے میرے مؤکل مظلوم سے مجرم بن گئے، عدالت نے اپیل کنندگان کو قانونی معاونت دی، ہم نے تو کبھی آپ کی ٹرولنگ نہیں کی، جس کا نقصان ہو گیا اسے ظالم بنا دیا، میرے کلائنٹ کے پاس میڈیا پلیٹ فارم نہیں، ہماری استدعا ہے کہ قابل ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنایا جائے، ہو سکتا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ ان کے حق میں آ جائے، مجھے امید ہے کہ دوسری پارٹی کو میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا، میڈیکل رپورٹ آنے تک عدالت انصاف دینے کے نتیجے تک نہیں پہنچ سکتی

    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے اضافی ثبوت اپیل میں پیش کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے جمع کروا دیے اور کہا کہ دوسری درخواست وفاقی شریعت کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل و علماء کو اپروچ کرنے کی ہے، عدت پر علماء سے رائے لی جائے، ہم کہتے ہیں کہ عدت کی مدت 90 دن ہے، درخواست ہے کہ علماء کا مؤقف آنے تک مزید سماعت نہ کی جائے

    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل ہونے پر عثمان ریاض گل ایڈووکیٹ نے خاور مانیکا کی درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل میں میڈیکل کی خواہش تھی اور جرح میں اس کا ذکر بھی ہے، میں ڈاکٹر نہیں لیکن مجھے مینوپاز کا علم ہے، اس موقع پر ان درخواستوں کی کوئی ضرورت نہیں، اضافی ثبوت سے متعلق اپیکس کورٹس کے فیصلے موجود ہیں،عثمان ریاض گل نے اضافی ثبوت کے حوالے سے عمر شیخ کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ پراسیکیوشن کو کوئی کمی پوری کرنے کے لیے اضافی ثبوت کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ان درخواستوں پر فیصلہ کرتے ہوئے شکایت کنندہ اور ان کے وکلاء کا کنڈکٹ بھی دیکھنا ہو گا، کیس کو التواء میں رکھنے کی متعدد کوششیں کی گئیں، اب یہ عدالت کو کام سے روکنے کے لیے تیسری کوشش کی جا رہی ہے،وکیل عثمان ریاض گل نے درخواستوں کو جرمانے کے ساتھ مسترد کرنے کی استدعا کر دی۔

    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ میری ایک بھی التواء کی درخواست دکھا دیں، میں ان کی جانب سے دی گئی دھمکیاں بتاؤں گا، میرا چین کا کنفرم ٹکٹ تھا، میں نہیں گیا، اگر اپیل کنندگان اپنے گواہ لانا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی بھی اعتراض نہیں،اس کے ساتھ ہی عدالت نے دورانِ عدت نکاح کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا۔

    واضح رہے کہ دوران عدت نکاح کیس میں تین فروری کو عام انتخابات سے قبل عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنائی گئی تھی، عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا تھا، عدالت نےعمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی تھی.

    ’سابقہ شوہر نہیں بتا سکتا کہ عدت اور خاتون کی ماہواری کے 3 سائیکل کب مکمل ہوئے‘

    عمران ،بشریٰ مجرم،،نکاح کی اتنی جلدی کیا تھی قوم کو وجہ تو بتادیں،خاور مانیکا

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران خان بشری بی بی کو درجنوں بار ملے بھی اور انکو دیکھا بھی ،عون چودھری کا دعویٰ

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے تھے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

    خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے خلاف درخواست میں کیا کہا تھا؟
    گزشتہ برس 25 نومبر کو بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عدالت سے رجوع کیا تھا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا کی استدعا کردی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کر دی ،درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان نیازی نے میری بیوی بشری مانیکا کو ورغلایا،اس سے ناجائز تعلقات رکھے، مجھ سے چھین کے عدت میں نکاح کیا اور میری زندگی تباہ کی، یہ جرم بنی گالہ اسلام آباد میں ہوا،تصدیق شدہ ناجائز تعلقات کی بناء پر بشریٰ بی بی کو طلاق دینے پر مجبور ہوا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا دینے کی استدعا کردی

    اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں دائر خاور مانیکا کی درخواست میں عمران خان اور بشری بی بی کے یکم جنوری 2018 کے نکاح کی کاپی بھی منسلک کی گئی ہے،خاورمانیکا نے غیرشرعی نکاح، زنا سے متعلق دفعات کے تحت درخواست دائر کی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت کی عدالت میں پیش ہوئے اورشکایت درج کرادی،درخواست سیکشن 494/34، B-496 ودیگر دفعات کے تحت دائر کی گئی

    درخواست میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی سے 1989 میں شادی ہوئی، ہماری شادہ شدہ زندگی پر سکون جارہی تھی جب تک چیئرمین پی ٹی آئی نے مداخلت کی،پیری مریدی کے چکر میں چیئرمین پی ٹی آئی بشریٰ بی بی کے گھر داخل ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی گھنٹوں بشریٰ بی بی کے گھر رہتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی اور میری شادی شدہ زندگی میں مداخلت شروع کردی تھی،چیئرمین پی ٹی آئی کو بے عزت کرکے کئی بار گھر سے نکالا،ایک بار رات گئے گھر آیا تو زلفی بخاری کو اپنے کمرے میں پایا،زلفی بخاری چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ بشریٰ بی بی کے گھر آنے جاتے رہتےتھے، چیئرمین پی ٹی آئی،زلفی بخاری کا اس طرح گھر پر آنا غیر اسلامی تھا،بشریٰ بی بی کا چیئرمین پی ٹی کے گھر بھی آنا جانا شروع ہوگیا،بشریٰ بی بی گھنٹوں چیئرمین پی ٹی آئی کے گھر رہتی تھیں،بشریٰ بی بی کے ساتھ میری تلخ کلامی بھی ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کےکہنے پر بشریٰ بی بی کو فرح گوگی نے الگ موبائل دیا،بشریٰ بی بی کو کئی بار روکا لیکن وہ ہمیشہ بہانے باننا شروع کر دیتی تھیں، مجھے میرےنوکر نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے ناجائز تعلقات بھی ہیں، بہت کوشش کی رشتہ قائم رہےلیکن 14نومبر2017 کو بشریٰ بی بی کو طلاق دے دی،چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے غیرشرعی نکاح فروری 2018 میں کیا، فرح گوگی نے طلاق کی تاریخ تبدیل کرنے کا کہا اور زبردستی کی، میں نے فرح گوگی کی بات رد کی جس پر چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے دوبارہ نکاح کیا، میری شادی شدہ زندگی چیئرمین پی ٹی آئی نے برباد کی، چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی زنا کے مرتکب ہوئے،دوران عدت نکاح کیا، گناہ کیا، فراڈ پر مبنی شادی کی،

  • دوران عدت نکاح کیس، سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    دوران عدت نکاح کیس، سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا معطلی اور مرکزی اپیلوں پر جلد سماعت کی درخواست نمٹا دی

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کی درخواستوں پر سماعت کی ،عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء بیرسٹر سلمان صفدر، خالد یوسف چوہدری اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے،وکیل سلمان صفدر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں سزا معطلی کی درخواست پر 7 منٹ دلائل دوں گا، شکایت کنندہ کو اس سے کم وقت میں بھی دلائل دینے چاہئیں، میری ذمے داری عدالت کو بتانا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کون ہیں، ان اپیلوں پر پہلے 15 سے زائد سماعتیں 3 ماہ میں ہو چکی ہیں، اس کیس میں کبھی شکایت کنندہ اور کبھی پراسکیوشن نے کہا کہ کیس پڑھنا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیس میں کچھ نہیں، شکایت کنندہ کے وکیل نے تاخیری حربے استعمال کیے ہیں، کبھی کہا گیا کہ وہ سپریم کورٹ میں ہیں، کبھی کہا گیا کہ بیرونِ ملک ہیں، اگر میرے مؤکل یہاں نہیں ہوتے تو میں کبھی نہ کہتا کہ میرے ہوتے ہوئے وہ بولیں، اس بات کا اندازہ ہے کہ سزا معطلی کی درخواست پر دلائل کیسے دیتے ہیں۔

    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے کہا کہ سلمان صفدر ایک قابل وکیل ہیں اور ہر جگہ ان کی تعریف کی ہے

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر
    بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ اپیل کنندہ بشریٰ بی بی سابق وزیرِ اعظم کی اہلیہ ہیں، الیکشن سے قبل عمران خان کو سزا سنائی گئی، عمران خان کے خلاف بے شمار کیسز بنائے گئے،عمران خان کے کیسز سے میں نے بہت کچھ سیکھا، ایسی یونیک پراسیکیوشن میں نے آج تک نہیں کی، متعدد کیسز عدالتوں نے اڑا دیے، سائفر کیس، توشہ خانہ کیس پھر نکاح کیس میں سزا دی گئی، مجھے اس کیس کے شکایت کنندہ سے بھی ہمدردی ہے،میں کئی سالوں سے کریمنل کیسز لڑ رہا ہوں،جب اس کیس کو لڑنے کیلئے پڑھا تو پتا چلا ماضی میں ایسا کیس کسی نے نہیں لڑا،عجیب کیس ہے میاں،بیوی دونوں اندر ہیں، فراڈ کس نے کس کیساتھ کیا،ہمیں گواہان کو بلانے کی اجازت ہی نہیں دی گئی،ہمارے گواہان کے طور پر بشریٰ بی بی کے بچوں نے پیش ہونا تھا،اگلے دن صبح کیس کا فیصلہ سنادیا مگر ہمیں موقع ہی نہیں دیا گیا،عدت کیس میں آدھی رات تک سماعت چلتی رہی، ٹرائل میں آرٹیکل 10 اور حقائق کو نظر انداز کیا گیا، 16 جنوری کو بشری بی بی کی غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کیا گیا، آپ کے اوپر کیا پریشر تھا کہ غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کیا گیا، عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، سخت سردی میں رات کو یہ ٹرائل ہوا جج صاحب کی ایک مہربانی ہے چائے کا پوچھتے رہے، میں اس گلی میں نہیں جانا چاہتا جہاں فاضل دوست لے کے جانا چاہتے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نےبھارتی عدالت کے فیصلوں کے حوالے دیئے اور کہا کہ قانون میں عدت کے دوران شادی کوئی غیر قانونی عمل نہیں،خاورمانیکا کے وکیل نے کہا کہ میں بات مانتا ہوں کہ مجھے قانون نہیں آتا، یہ کہیں نہیں لکھا کہ ضمانت کے لئیے درخواست دائر نہیں کی جاسکتی، وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ یہ استغاثہ کا کیس ہے گرفتاری نہیں چاہئیے،عدت دورانیہ کانٹرولرشل بنا ہوا ہے، اس کیس میں بچے بھی پیش نہیں ہوئے،وکیل سلمان صفدر کی جانب سے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا ،سلمان صفدر نے کہا کہ یہ بیہودہ کیس ہے اور اسکو کرنا ہمارے بہت مشکل ہے،8 سال سے وہ ساتھ ہیں اور انکا کوئی بچہ نہیں،

    سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ سائفر کیس ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا تو عدالت نے کہا کہ مرکزی اپیل سنیں یا سزا معطلی کی؟ میں نے کہا کہ مرکزی اپیل سنیں، ورنہ میرے لیے آسان تھا کہ سزا معطلی پر دلائل دیتا، سائفر کیس کا ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا مگر اپیل دائر کر دی گئی، ٹرائل میں ہمارے وکلاء کو باہر نکالا گیا، دیر تک سماعتیں چلیں، ہائی کورٹ کے لیے آسان تھا کہ کیس ریمانڈ بیک کرنا مگر نہیں ہوا، میرٹ پر فیصلہ ہوا

    بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت سے عمران خان بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی استدعا کر دی، کہا اس کیس میں 5 ماہ ہوچکے ہیں،میری استدعا ہے کہ بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کو اس کیس سے بری کیا جائے،سلمان صفدر نے سزا معطلی کی درخواست پر دلائل مکمل کر لئے،کیس کی سماعت میں محتصر وقفہ کر دیا گیا،شکایت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل وقفہ کے بعد اپنے دلائل دیں گے

    خاور مانیکا کے وکیل نے عمران اور بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر دی
    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد،عدت نکاح کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ ہوئی،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے عمران اور بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر دی، وکیل زاہد آصف نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ اپیل کنندگان کا کیس سزا معطلی کا ہے یا نہیں، اپیل کنندہ کے وکلاء کی جانب سے خاور مانیکا کے لیے جھوٹا شخص ہے کے الفاظ استعمال کیے گئے، جھوٹا کون ہے مفتی سعید خاور مانیکا یا بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی، جو انٹرویو چلایا گیا ہے اس کے حقائق توڑ موڑ کر پیش کئے گئے، خاور مانیکا کے بیٹے اسی انٹرویو میں کہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کا نکاح بشری بی بی سے نہیں ہوا جھوٹا الزام ہے، یو ٹرن کا لفظ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے متعارف کروایا گیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ جھوٹا کون اور سچا کون ہے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ اصل میں جھوٹا کون ہے، 7 جنوری کو پی ٹی آئی کی جانب سے بیان دیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے بشری بی بی کو شادی کا پروپوزل بھیجا ہے،بیان میں کہا گیا کہ بشری بی بی کی جانب سے جواب آنے کے بعد بانی پی ٹی آئی باقاعدہ اعلان کریں گے، 1 جنوری کے نکاح کو اپیل کنندگان کی جانب سے جھٹلایا گیا، نکاح کے لئے ولی کی رضامندی اور موجودگی ضروری ہے،ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، زاہد آصف ایڈوکیٹ کی جانب متعد قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ قرآن و سنت کے مطابق گواہان کے بغیر نکاح جائز نہیں، خاتون کی پرائیویسی کے بارے میں بات کی گئی لیکن فیملی کی پرائیویسی کا ذکر نہیں کیا، عدالت نے دیکھنا ہے کہ جھوٹا کون ہے شکائت کنندہ کی بیوی کو بہلانے والا طلاق دلوانے والا اور عدت میں نکاح کرنے والا، کہتے ہیں عورت کا کہہ دینا کافی ہے یہ تو بتائیں عورت نے کہا کب وہ بیان کدھر ہے،بشری بی بی کی جانب سے ایک مرتبہ بھی عدت کے حوالے سے نہیں بتایا گیا،

    کہا گیا بچوں کو پیش نہیں ہونے دیا ، کس کے بچوں نے پیش ہونا تھا یہ نہیں بتایا گیا،وکیل خاور مانیکا
    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فرد جرم بشری بی بی کی موجودگی میں عائد ہوئی جب دستخط کا کہا گیا تو عدالت سے چلی گئیں، یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ چارچ بشری بی بی کی غیر موجودگی میں ہوا، کہا گیا بچوں کو پیش نہیں ہونے دیا حق نہیں دیا گیا کس کے بچوں نے پیش ہونا تھا یہ نہیں بتایا گیا، جج افضل مجوکا نے استفسار کیا کہ آپ کے کلائنٹ کو شادی کا پتہ کب چلا، زاہد آصف ایڈوکیٹ نے کہا کہ 2 جنوری کو پتہ چلا کہ نکاح ہو گیا تھا،جج افضل مجوکا نے کہا کہ آپ کی طرف سے کوئی بیان کیوں نہیں آیا جب نکاح کا پتہ چل گیا، اپیل کنندگان کہتے ہیں چلا کروایا گیا جس کے بعد شکائت دائر ہوئی اس پر بتائیں،بدنیتی کا تعلق حالات و واقعات سے ہوتا ہے کیا گرفتاری کے بعد ایسے حالات نہیں تھے، خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے کہا کہ جی نہیں ایسے حالات نہیں تھے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے تفتیش کے لیے گرفتار کیا گیا، جج افضل مجوکا نے کہا کہ جب شکائت واپس لی گئی تو کیس بریت کا بنتا ہے جج صاحب نے کیا لکھا،وکیل زاہد آصف نے کہا کہ میں نے وہ فیصلہ نہیں پڑھا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا جو پہلے والی شکائت واپس لی گئی تو چارج فریم ہوا تھا کہ نہیں،عثمان گل نے کہا کہ اس وقت تک چارج فریم نہیں ہوا تھا،

    کیا ایک عام آدمی جو ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی گزار رہا ہو وزیراعظم سے ٹکر لے سکتا ہے،وکیل خاور مانیکا
    جج افضل مجوکا نے کہا کہ فراڈ کوئی ایسا ایکٹ نہیں ہے 2006 میں یو کے نے ایکٹ متعارف کروایا،اس کیس میں فراڈ کیا ہوا یہ بتائیں،کیا کوئی پریشر یا دھمکی تھی کہ خاور مانیکا اگر شکائت درج کریں گے تو نتائج ہوں گے، وکیل زاہد آصف نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں تھی دھرنا اور بانی پی ٹی آئی کے وزیراعظم بننے کے حالات سامنے ہیں،کیا ایک عام آدمی جو ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی گزار رہا ہو وزیراعظم سے ٹکر لے سکتا ہے، جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری سے سوال کیا کہ اگر خاور مانیکا کو 2 جنوری کو یکم جنوری 2018 میں کیے گئے نکاح کا پتا چلا تو اگر وہ 2 جنوری کو خدا نخواستہ مر جاتے تو کیا بشری بی بی جائیداد میں حصہ دار ہوتیں؟ جس پر خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے ہاں میں جواب دیا،وکیل زاہد آصف نے کہا کہ اس کیس میں صرف 496 نہیں 494 اور 495 کا اطلاق بھی ہوتا ہے،نکاح نامے کے مطابق اپیل کنندگان نے اس سے پہلے شادی کے متعلق نہیں بتایا گیا،جج افضل مجوکا نے کہا کہ نکاح نامے کی کمپیوٹرائزڈ کاپی میں بشری بی بی کی جانب سے مطلقہ کے بارے بتایا ہے، اگر آپ کے دلائل ٹھیک ہیں تو یہ شارٹ سینٹینس ہے 5 سال بنتے ہیں اور سزا معطلی بنتی ہے، وکیل زاہد آصف نے کہا کہ یہ وانٹ کا کیس تھا سمن کا کیس نہیں تھا اس کے مطابق اس کیس میں درخواست ضمانت قبل از گرفتاری دائر کرنی تھی،

    شکائت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف ایڈوکیٹ کے سزا معطلی کی درخواست پر دلائل مکمل ہو گئے، جج افضل مجوکا نے کہا کہ مرکزی اپیل کے لئے کب میسر ہوں گے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم مکمل فری ہیں،جج افضل مجوکا نے کہا کہ 2 جولائی کی تاریخ ہے ہائی کورٹ نے کہا ہے یکم کو کیس نہ رکھیں،سیشن عدالت اسلام آباد نے عدت میں نکاح کیس میں عمران خان اور بشر یٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا،دوران عدت نکاح کیس میں محفوظ فیصلہ 27 جون دن تین بجے سنایا جائے گا

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے   12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    اسلام آباد ، ڈسٹرکٹ اینڈسیشن کورٹ میں دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،

    عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کی، عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف عدالت میں پیش ہوئے، خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے وکالت نامہ عدالت میں جمع کروا دیا، تحریک انصاف کے رہنما عون عباس، شاندانہ گلزار، کنول شوزب کمرۂ عدالت میں موجود تھیں،

    سماعت شروع ہوئی توخاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے سماعت بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کر دی،جس پر جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل سے کہا کہ اس کیس کی سماعت ملتوی نہیں ہو سکتی، 25 جون کو مرکزی اپیلوں پر سماعت ہے، تب تک لازمی دلائل فائنل کرنا ہیں، آپ خاور مانیکا سے رابطہ کر لیں، پاور آف اٹارنی واٹس ایپ پر منگوا لیں۔جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء سے کہا کہ میرے 2 سوالوں کےجواب دے دیں، مجھے سزا معطلی پر مطمئن کر دیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں آج اپیلوں پر دلائل دوں گا، وکیل شکایت کنندہ نوٹ کر لیں۔بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل نے کہا کہ عدالت کی مکمل معاونت کرنے کو تیار ہیں

    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے کہا کہ میں آج دلائل نہیں دے سکتا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے دوبارہ سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی،عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو اعلیٰ عدلیہ سے بعد میں فیصلہ آیا اس پر بھی عدالت عمل کرے، 1985ء کی آئینی ترمیم کے بعد صورتِ حال تبدیل ہو گئی ہے،بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل نے کہا کہ میں نے اڈیالہ جیل جانا ہے، پیر کو دلائل دوں گا، آج سلمان اکرم راجہ دلائل دیں گے،جج افضل مجوکا نے کہا کہ پیر کو سماعت کرنا ممکن نہیں، منگل کو سماعت کریں گے۔

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار میں دیا گیا فیصلہ آخری اتھارٹی ہے، شریعت عدالت کے قیام سے پہلے کے فیصلوں کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا، اسلام میں ایک اصول ہے کہ عورت کی ذاتی زندگی میں نہیں جھانکنا، اسلام میں خاتون کے بیان کو حتمی مانا جاتا ہے، عدت کے 39 دن گزر گئے تو اس کے بعد مزید نہیں دیکھا جائے گا۔اس کیس میں ہر کوئی مان رہا کہ طلاق تو بہرحال ہوگئی ہے عدت کا تصور شرعی ہے ،جج نے کہا کہ اس عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط نہیں کہا جا سکتا ہے ، وکیل سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ مسلم فیملی لا میں عدت کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ، چیئرمین یونین کونسل کو طلاق کا نوٹس جانے کے بعد 90 دن گزرنے چاہئیں ، بشریٰ بی بی طلاق کے بعد اپنی والدہ کے گھر چکی گئیں، چار ماہ رہیں، بشریٰ بی بی کو دوران ٹرائل اپنا موقف سامنے نہیں رکھنے دیاگیا،سپریم کورٹ نے 90 دنوں کا شادی سے تعلق ختم کردیا، نوٹس کا جواز ہی نہیں، 496بی میں دو گواہان ہونے لازم ہیں جو سامنے نہیں آئے،خاورمانیکا کے مطابق 14 نومبر 2017 میں تین بار تحریری طلاق دی گئی،ہمارے مطابق اپریل 2017 میں بشریٰ بی بی، خاورمانیکا کی طلاق ہوئی، فراڈکون کررہا؟کس کے ساتھ کررہا؟ دو فریقین موجود ہیں جن میں سے ایک فراڈ ہوگا،جج نے کہا کہ 496بی میں تو سزا نہیں ہوئی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 496بی ختم کردیاگیاتھا، سزا کی بات نہیں، فردجرم بھی 496بی میں عائد نہیں ہوا، عدالت نے دیکھنا ہے اسلامی شریعت عدت کے حوالے سے کیا کہتی ہے،شہنشاہ عالمگیر کے دور کے فتوے کو شریعت عدالت نے اپنا حصہ بنایا،

    عدت کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ” عدت کیس میں دونوں مرکزی اپیلوں کا فیصلہ کرنے کے لیے میرے پاس 12 جولائی تک کا وقت ہے ”

    خاور مانیکا نے مان لیا کہ ویڈیو میں ہوں اور یہ بھی مانا کہ اس نے کہا بشری بی بی متقی پرہیز گار ہیں ،وکیل سلمان اکرم راجہ
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قانون کا مقصد عورت کو سہارا دیناہے،سزا معطلی کے ساتھ ساتھ اپیل پر بھی معاونت کرنا چاہوں گا،ومجھے معلوم ہے آئندہ پندرہ روز میں عدالت نے سزا معطلی، اپیل پر فیصلہ کرناہے، سلمان اکرم راجا نے مفتی سعید کے انٹرویو کی کاپی بذریعہ یو ایس بی عدالت میں جمع کروا دی، اور کہا کہ مفتی سعید نے اقرار کیاکہ جیونیوز کے اینکر شاہزیب خانزادہ کو انٹرویو دیا،خاور مانیکا نے مانا کہ ان کا شاہ خانزادہ کے ساتھ ایک انٹرویو ہے ، اگر عدالت ایک دفعہ سن لے ،جج نے کہا کہ کیا ہو ایس بی فرانزک کے لیے آپ کی جانب سے کوئی درخواست دی گئی ؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یکم فروری یہ کیس شروع ہوا دو فروری ختم ہو جاتا ہے ، جج نے استفسار کیا کہ دو دن میں ختم ہو گیا ؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بارہ بارہ ، 14 ، 14 گھنٹے روزانہ ہم اڈیالہ جیل کے سامنے عدالت کے سامنے کھڑے رہے ،انہوں نے کہا بحث ابھی ہو گی کل میں نے فیصلہ سنانا ہے ، خاور مانیکا نے مان لیا کہ ویڈیو میں ہوں اور یہ بھی مانا کہ اس نے کہا بشری بی بی متقی پرہیز گار ہیں ،جو الفاظ ویڈیو میں بشری بی بی کے حوالے سے کہے گا ان کا بھی خاور مانیکا نے مانا ، یہ سب کچھ ہونے کے بعد ہمیں فرانزک کرانے کی کیا ضرورت تھی ؟ خاور مانیکا نے مانا کہ یہ کلپ اس زمانے کا ہے جب وہ میری بیوی تھیں ، خاور مانیکا نے اپنے کلپ کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا ،

    شاہزیب خانزادہ کے ساتھ خاور مانیکا کا انٹرویو عدالت میں چلایا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خاور مانیکا ویڈیو میں کہہ رہا بشری بی بی میری سابقہ اہلیہ ہیں ، خاور مانیکا بشری بی بی کے سابقہ اہلیہ ہونے کا بھی کہہ رہا ہے وہ ایک متقی پرہیز گار خاتون ہیں ، خاور مانیکا کا یہ کہنا کہ وہ سابقہ اہلیہ ہیں اس کا مطلب ہے وہ یکم جنوری 2018 کے بعد یہ بات کر رہے ہیں ، خاور مانیکا اس کا مطلب ہے جھوٹ شخص ثابت ہے ، خاور مانیکا کو جھوٹا کہنے پر وکیل زاہد آصف ایڈوکیٹ نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ ایسے الفاظ استعمال نا کریں پہلے بھی میرے کلائنٹ کے ساتھ ایک نا خوشگوار واقعہ ہو چکا ، آپ کوئی اور مناسب الفاظ بھی استعمال کر سکتے ہیں ،خاورمانیکا کے ساتھ ذاتیات پر نہ اتریں، خاورمانیکا کہیں جھوٹے ثابت نہیں ہوئے،

    نوٹ کرلیاکہ پریشر کے تحت، تاخیر سےشکائت دائر کی گئی،عدت کیس اپیل میں عدالت کے ریمارکس
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خاورمانیکا نے انٹرویو میں بانی پی ٹی آئی کو دعائیں دیں اور کہا روحانی تعلق تھا، شکائت دائر کرنے سے قبل خاورمانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، خاورمانیکا کو گرفتار کیاگیا، 4 ماہ جیل رہے، 14 نومبر کو جیل سے باہر ائے، 25 نومبر کو شکایت دائر کی،جو لوگ چلے پر جاتے ہیں ہمیں معلوم ہے ان کے ساتھ کیاہوتاہے،جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "عدالت نے نوٹ کرلیاکہ پریشر کے تحت، تاخیر سےشکائت دائر کی گئی”.وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پانچ سال گیارہ ماہ بعد شکایت درج کی گئی ، چلے سے واپس آکر یہ خیال آیا ،

    دورانِ سماعت کیس کے گواہ اور نکاح خواں مفتی سعید کا ویڈیو بیان بھی عدالت میں چلایا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جیل سے نکلنے کے بعد 25 نومبر 2023 کو بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف شکایت فائل کرتے ہیں ۔ خاور مانیکا جب چلا مکمل کرکے واپس آئے تو انھیں یاد آیا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو گئی ۔ پہلے ایک کمپلینٹ محمد حنیف نے دائر کی پھر خاور مانیکا نے دائر کی ، پہلے جو شکایت کنندہ تھا اس نے کمپلینٹ واپس لی ، پھر دوسری کمپلینٹ میں بھی کردار وہی تھے جو پہلی کمپلینٹ میں تھے ، خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے عدالت سے استدعا کی کہ پانچ منٹ وقفہ کر لیں ؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھے تو کوئی ایشو نہیں ، میں وقفے کے بغیر جاری رکھ سکتا ہوں،خاور مانیکا کے وکیل نے کہا کہ راجہ صاحب جوان ہیں ہم بوڑھے ہو گئے ، عدالت نے سلمان اکرم راجہ کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کر دی.

    میرا دل نہیں مانتا کہ میں مفتی سعید کو عالم کہوں،وکیل عمران خان
    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا دل نہیں مانتا کہ میں مفتی سعید کو عالم کہوں، کوئی سوچ سکتاہےکہ عدالت میں کھڑے ہو کر جھوٹ بولا جاسکتا ہے،مفتی سعید نےکہا دوسرے نکاح کے دوران معلوم نہیں کون کون گواہان موجود تھے،عون چودھری کی موجودگی میں مفتی سعید نےکہا معلوم نہیں کون گواہ تھا، مفتی سعید بھروسے کے لائق نہیں، خاور مانیکا سے قبل حنیف نامی شہری نے شکایت دائر کی، محمد حنیف کی شکایت میں وہی گواہان تھے جو خاور مانیکا کی شکایت میں تھے، عون چوہدری شکایات کے کرتا دھرتا ہیں، تمام گواہان کو عون چوہدری جمع کرتے،

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے خاور مانیکا کے ملازم اور گواہ محمد لطیف کا بیان عدالت میں پڑھا،جج افضل مجوکا نے استفسار کیا کہ خاور مانیکا کو کب معلوم ہوا کہ بشریٰ بی بی اورعمران خان کا نکاح ہوا؟خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے عدالت میں کہا کہ میں خاور مانیکا سے پوچھ کر عدالت کو آگاہ کر دوں گا،عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان پر تو کوئی الزام بھی نہیں ہے، جس پر جج نے کہاکہ یہ تو مانیں فراڈ عمران خان کے ساتھ ہوا ہے،جج افضل مجوکا کے اس جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 27 جون سے قبل فیصلہ کرنا ہے، اگر کوئی فریق حاضر نہ ہوا تو فیصلہ پھر بھی کروں گا، عدالت نے عدت میں نکاح کیس میں دائر سزا معطلی کی درخواست پر سماعت 25 جون تک ملتوی کر دی

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں جلد سماعت کے لیے مقرر کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ایڈیشنل اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے سیشن کورٹ اسلام آبادمیں کیس کی سماعت کی،بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض گل سیشن کورٹ اسلام آبادمیں پیش ہوئے ،عثمان ریاض گل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ عدالت پیش کردیا اور کہا کہ ڈائریکشن آچکی ہے کل کے لیے رکھ لیں ، جج افضل مجوکہ نے کہا کہ اگر میں زندہ رہا تو 10 دن میں فیصلہ کردوں گا ، کل ممکن نہیں ہے ، بہت سی ضمانت کی درخواستیں لگی ہوئی ہیں،اگر دوسری پارٹی پیش نہ بھی ہوئی تب بھی فیصلہ کردوں گا ،وکیل نے کہا کہ کل کے لیے سماعت رکھ لیں ، نوٹس ریکارڈ کا حصہ ہو جائیں گے ، جج نے کہا کہ آج کی سماعت کا آرڈر لکھ رہا ہوں اس میں نوٹس سے بڑا کچھ ہوگا ،سیشن کورٹ اسلام آباد نے کیس کی سماعت 21 جون تک ملتوی کردی

    ایڈیشنل اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے فریقین کو نوٹسزجاری کردیئے،جج افضل مجوکہ نے کہا کہ خاور مانیکا اور ان کے وکیل 21 جون کو عدالت میں پیش ہوں ، دیگر صورت میں ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کردیا جائے گا،

    یڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا ہی عدت میں نکاح کیس کی اپیلوں اور سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ کریں گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کیس سیشن جج شاہ رخ ارجمند سے جج محمد افضل مجوکا کو ٹرانسفر کر دیا تھا سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے خاور مانیکا کے دوبارہ اعتراض پر اپیلوں پر محفوظ فیصلہ نہیں سنایا تھا

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں دوران عدت نکاح کیس میں بشریٰ بی بی کے سابق شوہر و شکایت کنندہ خاور مانیکا نے سزا کے خلاف اپیلیں سننے والے سیشن جج شاہ رخ ارجمند پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔

    دوران عدت کیس میں سزا کے خلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے کی،خاور مانیکا نے جج شاہ رخ ارجمند سے کمرہ عدالت میں کہا کہ میرے خاندان کو تباہ کر دیا گیا، آپ کے گھر کے ساتھ یہ ہو تو پتہ چلے، مجھے نہیں لگتا کہ مجھے انصاف ملے گا، آپ یہ کیس ٹرانسفر کر دیں،جج شاہ رخ ارجمند نے خاورمانیکا سے سوال کیا کہ آپ نے یہ کیسے سوچ لیا؟ کیا کوئی ثبوت ہے یا میں تحریک انصاف کے لیے ہمدردی دکھاتا ہوں؟ عدالت میں ہوں آپ بتائیں مجھ پر کیا الزام ہے؟ میرے 21 سال کے کیریئر میں پہلی بار مجھ پر اعتراض ہوا ہے۔

    کل مجھے بھی قبر میں جانا ہے، آپ کو بھی، میرے لیے کرسی اہم نہیں،جج کا خاور مانیکا سے مکالمہ
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ شرم ناک ہے، آپ پر پریشر ڈالنے کی کوشش ہے، آپ ان کی بات نوٹ کر لیں، ان کا جھوٹ بڑھتا جا رہا ہے،جج شاہ رخ ارجمند نے خاور مانیکا سے کہا کہ کل مجھے بھی قبر میں جانا ہے، آپ کو بھی، میرے لیے کرسی اہم نہیں، آپ اتنی دیر سے کیوں آئے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے خاور مانیکا سے متعلق کہا کہ یہ بندہ جھوٹا ہے، انتہا کا جھوٹا ہے،خاور مانیکا نے کہا کہ میرے گھر میں بات ہو رہی ہے کہ کچھ نہیں ہو سکتا، مجھے نہیں لگتا کہ مجھے انصاف ملے گا، آپ یہ کیس ٹرانسفر کر دیں، میرے گھر میں زلفی بخاری میسج کر رہا ہے، میری فیملی تقسیم ہو گئی ہے

    جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ جب کوئی پارٹی کیس کے بعد باہر نکلتی ہے تو کہتی ہے کہ جج نے پیسے لے لیے، اپیل کی اسٹیج ہوتی ہے، میں کسی اور کو کیس ٹرانسفر نہیں کر سکتا، آپ کتنے جج تبدیل کریں گے، کیس ہارنے کے بعد سب یہی کہتے ہیں،

    دورانِ سماعت خاور مانیکا اور پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،خاور مانیکا نے کہا کہ ٹرائل کے دوران عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کو تھپکی دی تو یہ گند اچھالنے لگے، سلمان اکرم راجہ نے ایک ٹکٹ کے لیے اس کیس میں جوش دکھایا، آپ عمران خان کی گڈ بک میں نہیں آئے بلکہ خدا آپ کو فنا کر کے رکھ دے گا، زلفی بخاری میری بیٹیوں کو فون کالز کیوں کر رہا ہے؟جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ کیس اس حد تک سن چکا ہوں کہ کیس کسی اور عدالت میں ٹرانسفر نہیں ہو سکتا، سیکشن 528 کے مطابق اس معاملے میں ہائی کورٹ کچھ کر سکتی ہے، ہمارے جوڈیشل سسٹم میں پارٹی جیت کر کہتی ہے کہ انصاف دیر سے ملا، اگر پارٹی ہار جائے تو کہتی ہے کہ جج نے رشوت لے کر فیصلہ کیا،خاور مانیکا نے جج سے کہا کہ عدالت کا عمران خان کی طرف جھکاؤ ہو گیا ہے۔

    عدالت نے عثمان ریاض گل ایڈووکیٹ کو سیکشن 528 اور 526 پڑھنے کی ہدایت کی جس کے بعد عمران خان کے وکیل عثمان ریاض گل نے سیکشن 528 اور 526 عدالت کے سامنے پڑھیں، وکیل عثمان ریاض گل نے کہا کہ 90 فیصد اپیلوں پر سماعت ہو چکی، کوئی تھریٹ ہے شکایت کنندہ کو تو متعلقہ فورم سے رابطہ کریں،خاور مانیکا نے کہا کہ میری پوری فیملی میں یہ بات کی جا رہی ہے کہ جج صاحب عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کر دیں گے،

    دوران سماعت خاور مانیکا اور پی ٹی آئی وکلا کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ
    سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس ایک جملے پر کسی عدالت کو کیس ٹرانسفر کرنے کا کہنا توہینِ عدالت میں آتا ہے، حال ہی میں جسٹس بابر ستار نے عدم اعتماد کی درخواست پر جرمانہ کیا ہے، خاور مانیکا نے پورے خاندان کو رسوا کیا ہے،خاور مانیکا نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ آپ کے قریبی دوست معظم نے آپ کو کال نہیں کی؟سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ کال کی ہے مگر میں نے ان کو جواب دیا کہ بات نہیں ہو سکتی،خاور مانیکا نے الزام عائد کیا کہ آپ نے ان کو کہا کہ لاہور آ کر بات کرتے ہیں،اس کے بعد ایک بار پھر پی ٹی آئی کے وکلاء اور خاور مانیکا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

    جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ اس درخواست پر پہلے فیصلہ کر لیتے ہیں، پھر آگے دیکھتے ہیں، سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ خاور مانیکا کیس کے اس اسٹیج پر ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، میری استدعا ہے کہ اس درخواست پر ان پر جرمانہ کیا جائے،وکیل عثمان ریاض گل نے کہا کہ بغیر ثبوت کے میں بھی کوئی الزام لگاؤں تو مجھے بھی سزا ملنی چاہیے،عدالت نے خاور مانیکا کی عدم اعتماد کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو بعد میں سنا دیا گیا، عدالت نے درخواست گزار خاور مانیکا کے کیس منتقلی کی درخواست مسترد کر دی

    خاورمانیکا کے مطابق فرح گوگی نے عدالت کو اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کےلیے مینج کیالیکن ثبوت نہیں دیا،فیصلہ
    دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر کیس ٹرانسفر درخواست مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا،سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے دو صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، عدالت نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ خاورمانیکا نے بیان حلفی کے ساتھ کسی اور عدالت میں کیس ٹرانسفر کرنے کی درخواست دی, خاورمانیکا کو ذاتی حیثیت میں عدالت نے سنا، وکیل شکایت کنندہ نے بھی دلائل دیے،سیکشن 528 کے تحت اپیل پر سماعت شروع ہوجائے تو کیس ٹرانسفر نہیں کیا جاسکتا،مرکزی اپیلیں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے سزا معطلی کی درخواستوں پر آج کی تاریخ تک فیصلہ نہیں کیاگیا، موجودہ اسٹیج پر کیس کی ٹرانسفر کی درخواست کو منظور نہیں کیا جاسکتا،صرف اسلام آباد ہائیکورٹ ہی اس کیس کو کسی اور عدالت کو ٹرانسفر کرسکتی ہے، خاورمانیکا کے مطابق عدالت کا جھکاؤ، ہمدردیاں پی ٹی آئی کی طرف ہے، خاورمانیکا نے الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی بھی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیاگیا، خاورمانیکا کے مطابق فرح گوگی نے عدالت کو اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کےلیے مینج کیاہے، خاورمانیکا نے کوئی بھی دستاویزی ثبوت جمع نہیں کروایا،تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیئے کہ 21 سالہ جوڈیشل کیریئر میں پہلی بار مجھے ایسی درخواست موصول ہوئی،میں نے ہائی پروفائل کیسز سمیت کئی کیسز کی سماعت کی لیکن ایسی کوئی شکایت میرے خلاف نہیں کی،میں اپنا جوڈیشل کام ایمانداری، دیانت داری کے ساتھ کررہاہوں،ہر جج انصاف فراہمی کا مقدس فریضہ سر انجام دےرہاہے،مجھ پر کسی بھی پارٹی کی جانب سے کوئی بھی دباؤ نہیں ہے،تمام حقائق کودیکھتے ہوئے خاورمانیکا کی درخواست کو مسترد کیاجاتاہے، خاورمانیکا کے وکلاء 8 مئی کو حتمی دلائل دیں، دلائل نہ دینے کی صورت میں اپیلوں کو فیصلے کے لیے مقرر کردیاجائےگا،آئندہ سماعت پر دلائل نہ دیے تو دلائل کے لیے مزید وقت نہیں دیاجائےگا

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • دوران عدت نکاح کیس، سزا کے خلاف اپیل میں دلائل دینے والے پراسیکیوٹر کا تبادلہ

    دوران عدت نکاح کیس، سزا کے خلاف اپیل میں دلائل دینے والے پراسیکیوٹر کا تبادلہ

    دوران عدت نکاح کیس، سزا کے خلاف اپیل میں دلائل دینے والے پراسیکیوٹر کا تبادلہ کر دیا گیا

    پراسیکیوٹر رانا حسن عباس کا تبادلہ کر دیا گیا،گزشتہ روز انہوں نے عدالت میں اپیل میں دلائل دیئے تھے، رانا حسن عباس کی جگہ پراسیکیوٹر عدنان علی کو تعینات کر دیا گیا ہے، اس ضمن میں نوٹفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے،پراسیکیوٹر رانا حسن عباس کو ایڈیشنل سیشن جج سکندر خان کی عدالت رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

    پراسیکیوٹر رانا حسن عباس کو ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کی جانب سے لکھا گیا خط بھی سامنے آیا ہے جس میں‌کہا گیا ہے کہ ” آپ نے بغیر اجازت میڈیا چینلز پر کیسز سے متعلق بیان جاری کیے، آپ کو عدالتوں میں پیش ہونے سے فوری روکا جاتا ہےاپنے سوشل میڈیا سے تمام مواد حذف کریں”.

    اسلام آباد سے سینئر کورٹ رپورٹرثاقب بشیر ٹویٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اہم خبر ، کل غیر معمولی معاملہ ہو گیا عدت کیس میں عمران خان اور بشری بی بی کی سیشن کورٹ اپیل میں سرکار کی جانب سے پیروی کرنے والے اسسٹنٹ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکوٹر رانا حسن عباس کو عدت کیس سے الگ کر کے دوسری عدالت بھیج دیا گیا رانا حسن عباس نے کل دوران سماعت موقف اختیار کیا تھا کہ ” یہ کیس اسلام آباد سول کورٹ کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں آتا کیونکہ نکاح لاہور ہوا ہے ” پراسیکیوٹر نے کل ہی یہ سوال اٹھایا کل ہی اس کا تبادلہ دوسری عدالت کرکے اس کی جگہ نئے پراسیکوٹر کو عدت کیس سونپ دیا گیا ، ماضی میں نور مقدم کیس سمیت ہائی پروفائل کیسز میں رانا حسن عباس کیسز کی زبردست طریقے سے پیروی کر چکے ہیں

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • طلاق کے 48 دنوں بعد بشریٰ بی بی، بانی پی ٹی آئی نے نکاح کیا،وکیل

    طلاق کے 48 دنوں بعد بشریٰ بی بی، بانی پی ٹی آئی نے نکاح کیا،وکیل

    دوران عدت نکاح کیس، بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیل پر سماعت سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے کی، وکلاء صفائی عثمان گِل اور سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے ،خاور مانیکا کے وکیل رضوان عباسی تاحال عدالت پیش نہیں ہوئے،رضوان عباسی کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر وکیل صفائی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ رضوان عباسی خالی عدالت میں ایک گھنٹے سے فارغ بیٹھے ہیں، وہ کہہ رہے مری جانا ہے، میں نہیں آرہا، ان کے معاون وکلاء بھی بھاگ گئے ہیں، وہ کہہ رہے میں نہیں آؤں گا، بلا کر دکھائے مجھے کوئی، ان کی تصویر بھی لی ہے، وہ تو عدالت کی توہین کر رہے ہیں، ہمیں پھر دلائل کا آغاز کرنے دیں، رضوان عباسی پر افسوس ہوا۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے خاور مانیکا اور ان کے وکیل کی عدم موجودگی میں ہی سلمان اکرم راجہ کو دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کردی،سیشن جج نے وکیل رضوان عباسی کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی،سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ طلاق اور عدت ختم ہونے کی تاریخیں اہم ہیں، خاور مانیکا کے مطابق انہوں نے بشریٰ بی بی کو 14 نومبر 2017ء کو تین بار طلاق دی، بشریٰ بی بی کو سول عدالت میں اپنے ثبوت پیش کرنے کے حق سے محروم کیا گیا، 14 نومبر 2017ء کو طلاق دینے کی بات سے مکر نہیں سکتے، یکم جنوری 2018ء تک 48 دن طلاق کو گزر گئے تھے

    وکیل سلمان اکرم راجہ نےدوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل میں سورۃ البقرہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ سورۃ البقرہ میں عدت کے حوالے سے آیات موجود ہیں،سپریم کورٹ نے سورۃ البقرہ میں عدت کے حوالے سے آیات کو اپنایا،طلاق کے 48 دنوں بعد بشریٰ بی بی، بانی پی ٹی آئی نے نکاح کیا،

    عدت میں نکاح کیس میں اپیل پر سماعت سننے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب بھی عدالت پہنچ گئے

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیل پر سماعت 9 اپریل تک ملتوی
    عدت کیس میں خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی پیش نہیں ہوئے کیس کی سماعت 9 اپریل منگل تک ملتوی کر دی گئی، سیشن جج نے کہا کہ ابھی تو اپیل کافی حد تک سنی جا چکی ہے ، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزا معطل کر دے ، عید بھی ہے اگر سزا معطل ہو جائے تو بشری بی بی رہا ہو جائیں گے ، جونئیر وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ یہ تو کوئی طریقہ کار نہیں کہ راجہ رضوان عباسی فری بیٹھے ہوئے تھے ، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جان بوجھ کر رضوان عباسی نہیں آئے ہم نے تصویر لی ہے ،سزا معطلی کی حد تک وہ دلائل دے سکتے تھے لیکن وہ جان بوجھ کر نہیں آئے ، جج نے کہا کہ شکایت کنندہ کی سائیڈ پر پہلا دن ہے ان کو بھی سن لیتے ہیں ،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عید سر پر کھڑی ہے بشری بی بی کو جناب رہا کر سکتے ہیں ،سلمان اکرم راجہ نے عید سے پہلے سزا معطل کرکے عمران خان و بشریٰ بی بی کی رہائی کی استدعا کر دی ،سیشن جج نے کہا منگل 9 اپریل کو دیکھیں گے،

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • دوران عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کو وکیل نہ ملا،بشریٰ کی اپیل پر دلائل طلب

    دوران عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کو وکیل نہ ملا،بشریٰ کی اپیل پر دلائل طلب

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدت میں نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدت میں نکاح کیس کی سماعت ہوئی،سیشن جج شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں خاور مانیکا پیش ہوئے،خاور مانیکا نے عدالت سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کردی، خاور مانیکا نے عدالت میں کہاکہ مجھے نوٹسز تاخیر سے موصول ہوئے ہیں، مجھے وکیل کرنا ہے ، کچھ وقت دیا جائے،سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے کہاکہ آپ کو ساڑھے 12بجے تک وقت دے دیتے ہیں،آپ اپنے وکیل کا وکالت نامہ جمع کروا دیں،سیشن عدالت نے خاور مانیکا کو وکیل نامزد کیلئے ساڑھے 12بجے تک کا وقت دے دیا.

    دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں،دوبارہ سماعت ہوئی،خاورمانیکا عدالت کے روبرو پیش، خاور مانیکا کی جانب کوئی وکیل پیش نہ ہوا،خاور مانیکا کا کہنا تھا کہ وقت کم تھا کوئی وکیل نہیں ملا، پراسیکیوٹر حسن رانا عدالت پیش ہوئے، پی ٹی آئی وکلاء عثمان ریاض گل ، شیراز رانجھا اور خالد یوسف چوہدری عدالت پیش ہوئے،بشری بی بی کی جانب سے سزا معطلی کیلئے متفرق درخواست دائر کردی گئی،درخواست میں کہا گیا کہ عدالت نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل قابل سماعت قرار دی،عدالت اپیل پر فیصلہ تک بشری بی بی کی سزا معطل کرے،عدالت اپیل پر فیصلہ تک بشری بی بی کی ضمانت پر رہائی کا حکم دے،عدالت نے کیس کی سماعت 20 مارچ تک ملتوی کردی،عدالت نے آئندہ سماعت پر متفرق درخواست اور سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل طلب کر لیے

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • دوران عدت نکاح کیس، سزا کیخلاف عمران ،بشریٰ بی بی کی اپیل دائر

    دوران عدت نکاح کیس، سزا کیخلاف عمران ،بشریٰ بی بی کی اپیل دائر

    عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں دوران عدت نکاح کیس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

  • جج نے زبانی فیصلہ سنایا،کاپی نہیں دی، چیلنج کرینگے، بیرسٹر گوہر

    جج نے زبانی فیصلہ سنایا،کاپی نہیں دی، چیلنج کرینگے، بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ دوران عدت نکاح کیس کا فیصلہ چیلنج کرینگے، امید ہے ہمیں انصاف ملے گا، عدلیہ مہربانی کر کے ہمارے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے،

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ جج صاحب کے پاس فیصلہ موجود نہیں تھا، زبانی فیصلہ سنایا، کاپی بھی نہیں دی گئی، تاریخ میں پہلی بار 2 دن میں 14، 14 گھنٹے ٹرائل کرکے فیصلہ سنادیا گیا، آج بھی جج صاحب نے زبانی فیصلہ سنادیا جو غیر قانونی ہے۔نکاح ویلڈ ہے، جج صاحب نے نکاح کو غیر قانونی قرار نہیں دیا ، عمران خان کو سزا اس لیے ہوئی تاکہ اسے دوسرے سیاست دانوں کے برابر کردیا جائے، خان صاحب پر بیہودہ اور بدعنوانی کے الزام آئیں اس لئے ایسے فیصلے کیے جا رہے، عمران خان باقی سیاستدانوں سے الگ ہے، عمران خان نے آج بھی پیغام دیا کہ توشہ خانہ میں سب سے پہلے ہمیں سزا ہو جاتی ہے اور کسی کو نہیں ہوئی.کارکنان سے کہوں گا پر امن رہیں اور تحمل سے کام لیں، 8 فروری کو ووٹ دینے کے لیے نکلو

    ہم عدالت جائیں گے کہ بشری بی بی کو واپس اڈیالہ منتقل کریں،بیرسٹر گوہر
    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ایک بے شرم قسم کا فیصلہ سنایا گیا،ایک بے ہودہ کیس میں زیادہ سے زیادہ سزا سنائی گئی،جج صاحب نے جب آڈر سنایا میں نے جج صاحب سے کہا آپ سے یہ توقع نہیں تھی،عدلیہ سے مایوسی ہوئی،عدلیہ نے اپنے تقدس کو پامال کیا،اس کیس کا کوئی سر پیر نہیں،عمران خان کا عوام کے لیے یہی پیغام ہے پرامن رہو برداشت کرو،خان صاحب کہ رہے ہیں ہزار سال جیل میں رہنا پڑا رہوں گا میں نے ڈیل کوئی نہیں کرنی،8 مئی کو نکلو اور اپنے امیدوار کو جتواؤ۔ہم نے عدالت کو کہا کہ یکم جنوری کو نکاح ہوا تھا، بانی پی ٹی آئی نے بچوں کو اعتماد میں لینے کے بعد دعائیہ تقریب رکھی ،دعائیہ تقریب کو جج صاحب نے دوسرا نکاح تصور کیا ہے، جرمانے کی عدم ادائیگی پر 4، 4 ماہ قید کی سزا بھگتنا ہو گی، میڈیا کے لوگوں کو بھی اپنی جگہ سے دور رکھا گیا، عوام کے لیے بانی پی ٹی آئی کا پیغام ہے کہ صبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں،بانی پی ٹی آئی نے کہا میں کوئی ڈیل نہیں کر رہا، اگر ڈیل ہوئی ملکی ترقی کے حوالے سے ہو گی،ہم نے کہا کہ ہم بھی گھر کے ملازم کو لانا چاہتے ہیں لیکن اجازت نہیں دی گئی،ہم نے کہا ہم اپنے گواہ پیش کریں گے لیکن ہمیں گواہ پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی،نکاح اپنی جگہ موجود ہے، بشری بی بی کو بنی گالہ رکھنے کے خلاف درخواست دیں گے، ہم عدالت جائیں گے کہ بشری بی بی کو واپس اڈیالہ منتقل کریں

    ہر بےانصافی کا بدلہ 8 فروری کو عوام اپنے ووٹ سے لیں گے،ترجمان تحریک انصاف کا فیصلے پر ردعمل
    بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے دورانِ عدّت نکاح کےعدالتی فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ جج قدرت اللہ کا فیصلہ نہایت شرمناک، شرعی احکامات کے منافی اور کتاب اللہ، قانون اور ازدواجی و عائلی قوانین پر سنگین اور شرمناک حملہ ہے،تاریخ کے لغو، بیہودہ اور غیرشفاف ترین ٹرائل کا نہایت سیاہ رو فیصلہ لکھ کر جج قدرت اللہ نے پورے نظامِ عدل کا سر شرم سے جھکا دیا ہے،چادر اور چار دیواری کی حرمت سے یکسر لاعلم ریاست نے آج افراد خصوصاً ازدواج کے نکاح و طلاق جیسے معاملات میں غیر قانونی، غیر شرعی، غیر اسلامی اور غیر اخلاقی مداخلت کرکے آوارگی کا ثبوت دیا ہے،بانی چیئرمین عمران خان کو غلامی پر راضی کرنے اور خدا کی بندگی سے ہٹا کر اپنے سامنے جھکانے کیلئےمنصوبہ سازوں نے اللہ کی حدود کا کھلا مذاق اڑایا ہے اور تہذیب و شریعت کو نفرت و حقارت سے پیروں تلے کچلا ہے، سائفر اور توشہ خانہ جیسے بیہودہ مقدمات کے بعد عدّت میں نکاح کے کیس کے فیصلے کےذریعے قابلِ نفرت سیاسی انتقام کا مذموم ایجنڈا آگے بڑھانے کی کوشش کی،کپتان نے شدید گراوٹ، صریح ناانصافی اور ننگی لاقانونیت کے سامنے سرجھکایا نہ ان کی قوم فرعونیت کو قبول کرے گی،ظلم اور ناانصافی کا پوری جرات اور بہادری سے سامنا کرتے قوم کے بہادر قائد پر کئے جانے والے ہر ظلم اور ان کے ساتھ روا رکھی جانے والی ہر بےانصافی کا بدلہ 8 فروری کو عوام اپنے ووٹ سے لیں گے،

    جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

    واضح رہے کہ دوران عدت نکاح کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا، عدالت نے عمران خان اوربشریٰ بی بی کو سزا سنا دی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ