Baaghi TV

Tag: نکاسی آب

  • نکاسی آب کا موثر نظام اور بہتر انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے، وزیراعظم

    نکاسی آب کا موثر نظام اور بہتر انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ملک کو قدرتی آفات سے بچانے کے لیے نکاسی آب کا موثر نظام اور بہتر انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے، وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ پوری مستعدی اور بین الاقوامی ماہرین سے مشاورت کے بعد ایک مضبوط نیشنل فلڈ کنٹرول پلان تیار کریں۔

    وزیراعظم نے ملک میں نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے ایک قابل عمل لائحہ عمل پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی تاکہ مستقبل میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صوبے ،وفاق اور متعلقہ ادارے سیلاب زدگان کی مشکلات کم کرنے کیلئے کوشاں ہیں ،سیلاب زدہ علاقوں اور متاثرین کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہے،مربوط کوششوں سے ہی حالیہ سیلاب جیسی آفت سےنمٹا جا سکتا ہے،سیلاب سے لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ،مال مویشی اور دیگراملاک کو نقصان پہنچا ،سیلاب زدگان کی فوری امداد کیلئے70ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،این ایف آر سی سی قومی سطح کے فیصلوں میں معاونت فراہم کرے گا،بطور قوم متحد ہو کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا،چیلنج بڑاہے تاہم مشکل وقت نے ہمیں مضبوط ہونے کا موقع دیا ہے.

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے یہ ہدایات زلزلہ بحالی اور تعمیر نو کے ادارے (ERRA) ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر (NFRCC) کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔

    وزیر اعظم نے صوبائی چیف سیکرٹریز سے کہا کہ وہ ریور بیڈ میں زمین کے استعمال سے متعلق زوننگ قوانین اور ضوابط پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسی کسی بھی تباہی سے بچا جا سکے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ "نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم اے)، پاکستان آرمی انجینئرنگ کور اور صوبائی محصولات کے محکموں کے نمائندوں کی طرف سے ایک مشترکہ سروے کیا جا رہا ہے تاکہ نقصانات سے متعلق معتبر اعداد و شمار اکٹھے کیے جا سکیں۔

    قبل ازیں وزیراعظم کو نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر (NFRCC) کی ٹیم نے بریفنگ دی۔ انہیں بتایا گیا کہ این ایف آر سی سی بچاؤ، ریلیف اور بحالی کی تین جہتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے تاکہ ملک میں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں تاریخی بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو مؤثر طریقے سے کم کیا جا سکے۔

    یہ بتانا ضروری ہے کہ نیشنل فلڈ ریسپانس اینڈ کورونیشن سنٹر (این ایف آر سی سی) وزیر اعظم کی ہدایت پر قائم کیا گیا تھا تاکہ ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی محکموں کی سیلاب سے نمٹنے کی کوششوں کو مربوط کیا جا سکے۔

  • شہر دریا میں تبدیل،لوگوں کا شدید نقصان

    شہر دریا میں تبدیل،لوگوں کا شدید نقصان

    قصور
    دو روزہ برسات سے سارا قصور شہر دریا کا منظر پیش کرتا رہا،پانی لوگوں کے گھروں،دفتروں،دکانوں میں داخل ہونے سے کروڑوں روپیہ کا نقصان

    تفصیلات کے مطابق جمعرات سے جمعہ تک ہونے والی دو روزہ برسات کے باعث سارا قصور شہر دریا کا منظر پیش کرتا رہا
    کئی گھنٹے سڑکیں پانی کے باعث دریا میں تبدیل ہوئی رہیں
    برسات کا پانی لوگوں کے گھروں،دفتروں اور دکانوں میں داخل ہونے سے شہریوں کی کروڑوں روپیہ کی اشیاء خراب ہو گئیں
    برسات ختم ہونے کے باوجود شہر کی بیشتر گلیاں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں
    شہریوں کو گلیوں بازاروں سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ مون سون بارشوں کا سلسلہ تیز ہونے کا امکان بھی موجود ہے

  • کالونی مالکان کا بے رحمانہ رویہ،اہل دیہہ پریشان

    کالونی مالکان کا بے رحمانہ رویہ،اہل دیہہ پریشان

    قصور
    قصور کے نواحی علاقہ اوراڑہ میں غیر قانونی بننے والی سوسائٹی سفاری گارڈن نے اہل علاقہ کا پانی بند کر دیا
    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی علاقے اوراڑہ میں بننے والی غیر قانونی سوسائٹی سفاری گارڈن نے اہل علاقہ کی سیوریج لائن بند کر دی جس سے پورے گاوں کا گندا پانی گلیوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا
    پانی جمع ہونے سے سکول جانے والے بچے، نمازی، اور عام عوام شدید پریشانی کے عالم میں ہیں۔
    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ گندگی کی وجہ سے ہمارے بچے ہیضہ، ملریا، ڈینگی جیسی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
    اہل علاقہ نے ڈی سی قصور اور وزیر اعلی پنجاب سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • نکاسی آب بہتر نا ہونے سے لوگ سخت پریشان

    نکاسی آب بہتر نا ہونے سے لوگ سخت پریشان

    قصور
    دیپال قصور روڈ پر واقع مشہور قصبے الہ آباد ٹھینک موڑ کی حالت نا سنور سکی،سیوریج سسٹم خراب ہونے سے مین شاہراہ پر ہر وقت پانی کھڑا رہنا معمول شہریوں کے ساتھ ٹرانسپورٹرز بھی پریشان

    تفصیلات کے مطابق دیپال پور قصور روڈ پر واقع تحصیل چونیاں کے قصبے الہ آباد ٹھینک موڑ کی حالت نا سنور سکی سارے قصبے کا سیوریج سسٹم ناکارہ ہے جس سے شہریوں کے گھروں و شاہراہوں پر پانی کھڑا رہتا ہے قصور دیپالپور روڈ پر خاص طور پر پانی ہر وقت کھڑا رہتا ہے جس کے باعث مقامی شہریوں کے ساتھ ٹرانسپورٹرز بھی سچت پریشان ہیں کیونکہ پانی کھڑا رہنے سے گاڑیوں کے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آئے روز گاڑیاں خراب ہو جاتی ہے
    شہریوں نے نئے تعینات ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر سے نکاسی آب الہ آباد کی بہتری کیلئے استدعا کی ہے

  • اوکاڑہ میں بارش کے بعد نکاسی آب کا نظام بری طرح فیل۔ شہری پریشان

    اوکاڑہ میں بارش کے بعد نکاسی آب کا نظام بری طرح فیل۔ شہری پریشان

    اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ میں کئی گھنٹوں کی بارش کے بعد شہر تالاب کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔ اوکاڑہ اور گرد و نواح میں تسلسل کیساتھ بارش برسی جس کے بعد شہر اور مضافاتی علاقوں میں سیوریج کا نظام مجموعی طور پر ناکام نظر آیا۔ جگہ جگہ تالاب بن گئے اور کیچڑ نے گزرگاہوں میں ڈیرے جمالیے۔ اوکاڑہ شہر میں صرف ایک انڈرپاس ہے جو کافی عرصہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے وہاں بھی پانی کا ایک بڑا تالاب بن چکا ہے۔ راوی روڈ، ایم اے جناح روڈ، کچہری بازار سمیت اوکاڑہ فلائی اوور کے نیچے کا علاقہ بری طرح متاثر ہوا جس کی وجہ سے آمدورفت بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ نکاسی آب کا نظام بری طرح فیل ہوچکا ہے۔ پانی شہریوں کے گھروں میں داخل ہورہا ہے جسکی وجہ سے شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نکاسی آب کا نظام بہتر بنایا جائے۔

  • 100 گھر اپنے گھروں کا پانی سڑک پر چھوڑنے پر مجبور

    100 گھر اپنے گھروں کا پانی سڑک پر چھوڑنے پر مجبور

    قصور
    20 سال پرانی 100 گھروں پر مشتمل پل جبومیل سٹاپ نالیوں اور سیوریج کے نظام سے محروم لوگ سڑک پر گھروں کا پانی چھوڑنے پر مجبور
    تفصیلات کے مطابق 20 سال قبل سردار شریف ڈوگر نے پل جبومیل سٹاپ پر رہائش کی پھر رفتہ رفتہ آس پاس گھروں کی تعداد بڑھتی گئی اور اب تقریبا 100 کے قریب گھر اور 50 کے نزدیک دکانیں بن چکی ہیں جن کی نکاسی آب کیلئے آج دن تک کسی گورنمنٹ نے کوئی کام نہیں کیا مقامی رہائشیوں ،عبدالستار، عبدالغفار گجر،نزیر رحمانی اور بھولا گجر نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری رہائشوں کے پیچھے کھیت ہیں جن کے مالکان ہمیں نکاسی کا پانی اپنے کھیتوں میں نہیں ڈالنے دیتے مجبور ہو کر ہم اپنے گھروں کا پانی سڑک پر چھوڑ رہے ہیں حالانکہ ہم سے گورنمنٹ نے رجسٹری کی مد میں لاکھوں روپیہ وصول کئے ہیں مگر پھر بھی ہمیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے ہر ایم پی اے ،ایم این اے ہم سے نکاسی آب کا وعدہ تو کرتا ہے مگر عملدرآمد نہیں حالانکہ آبادی سے صرف ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر راءو خان والا ڈرین ہے لہذہ ہماری نکاسی آب کا مسئلہ حل کیا جائے کیونکہ ہم بھی پاکستانی شہری ہیں لہذہ ڈی سی قصور نوٹس لے کر ہمارہ مسئلہ حل کروائیں