Baaghi TV

Tag: نگران وزیراعظم

  • 90 روز کی آئینی مدت میں انتخابات،قریشی کا نگران وزیراعظم کو خط

    90 روز کی آئینی مدت میں انتخابات،قریشی کا نگران وزیراعظم کو خط

    90 روز کی آئینی مدت میں انتخابات کے انعقاد کا معاملہ ،پاکستان تحریک انصاف نے نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کو خط لکھ دیا،

    خط پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی کی جانب سے تحریر کیا گیا ،شاہ محمود قریشی نے کور کمیٹی کی ایما پر نگران وزیر اعظم کو خط تحریر کیا، خط میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نگران وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے پر آپ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، ملک دستور کی مکمل تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، سابق حکومت نےریاستی اداروں کو آئین کے مطابق چلانے کی بجائے ، اپنی جگہ بنانے اور خود کو احتساب سے بچانے کیلئے ایک کے بعد دوسرا حربہ استعمال کیا ،حکمران گروہ کے اس طرزِ عمل نے ریاست کی بنیادوں کو بے پناہ نقصان پہنچایا، سابق حکمرانوں نے تحریک انصاف کو انتخابی دوڑ سے باہر کرنے کی نیت سے ریاستی اداروں کا بے دریغ استعمال کیاچیئرمین عمران خان کو اٹک جیل میں نہایت ناگفتہ بہہ اور انسانیت سوز حالات میں رکھا گیا ہے، عمران خان کی گرفتاری اور جیل میں ان سے روا رکھا جانے والا سلوک کسی بھی ملک کے انتظامی اور عدالتی نظام کے چہرے پر ایک بد نما داغ ہے،عمران خان کو آئین اور جیل قوانین میں فراہم کردہ بنیادی حقوق سےمحروم رکھا جا رہا ہے،عمران خان کو آئین اور جیل قواعد کے مطابق بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں،پولیس کو بلا روک ٹوک گھروں اور املاک کو تباہ کرنے، عورتوں، بچوں، بوڑھوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے کے اختیارات دیے گئے تحریک انصاف کے 10 ہزار سے زائد کارکنان پابند سلاسل ہیں، عدالتوں کے آئینی احکامات کی پیہم توہین جاری ہے، ملک کو پھر سے آئین و قانون کی راہ پر چلانے کا وقت آن پہنچا ہے،

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    خط میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بنیاد شہریوں کے ووٹ کے حق پر استوار ہے،دستور اسمبلی کی قبل از وقت تحلیل کی صورت میں 90 روز میں انتخابات کے انعقاد کا حکم دیتا ہے،لہذٰا ہمارا پر اصرار مطالبہ ہے کہ آپ انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنائیں،مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے مردم شماری کے نتائج کی تاخیر سے منظوری کے بعد نئی حلقہ بندیوں کے معاملے کو انتخابات میں التوا کا بہانہ ہر گز نہیں بنایا جا سکتا،ہم مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انتخابات کی ساکھ کیلئے لازم ہے کہ فریقین کو انتخابی مقابلے کیلئے مساوی میدان فراہم کیا جائے ،موجود حالات میں آپ کا منصفانہ طرزِعمل جمہوری اقدار پر عوام کے اعتماد میں پختگی و تقویت کا موجب بنے گا، ہم آپ کو سونپے جانے والے اس عظیم فریضہ کی انجام دہی میں آپ کو اپنے تعاون کا یقین دلاتے ہیں

  • نگران وزیرِ اعظم سے گورنر گلگت و دیگرکی ملاقاتیں

    نگران وزیرِ اعظم سے گورنر گلگت و دیگرکی ملاقاتیں

    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں گورنر گلگت بلتستان نے نگران وزیرِ اعظم کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔گورنر گلگت بلتستان نے وزیرِ اعظم کو گلگت بلتستان کے دورے اور قانون ساز اسمبلی میں خطاب کی دعوت دی۔گورنر گلگت بلتستان نے وزیرِ اعظم کو گلگت میں جاری ترقیاتی منصوبوں بشمول انفراسٹرکچر کے منصوبے اور قراقرم یونیورسٹی پر پیش رفت سے آگاہ کیا اور افتتاح کی دعوت بھی دی۔

    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے سابق وزیرِ اعلی بلوچستان جام کمال اور علی مردان ڈومکی کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں جام کمال نے وزیرِ اعظم کو وزارت عظمی کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا.

    قبل ازیں نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے سابق صوبائی وزیر میر عاصم کرد گِیلو کی ملاقات ہوئی، میر عاصم گیلو نے وزیرِ اعظم کو وزرات عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے بلوچستان کے ایک وفد کی بھی ملاقات ہوئی، ملاقات میں سینیٹر سرفراز بگٹی اور میر خالد لانگو شامل تھے۔ وفد نے وزیرِ اعظم کو وزرات عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    انوار الحق کاکڑ پاکستان کے آٹھویں نگران وزیراعظم بن گئے 

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کابینہ مختصر رکھیں گے

  • نگران وزیراعظم کا کابینہ مختصر رکھنے کا فیصلہ

    نگران وزیراعظم کا کابینہ مختصر رکھنے کا فیصلہ

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ‌نے گزشتہ روز اپنے عہدے کا حلف لے لیا، اب وفاقی کابینہ کے حوالہ سے مشاورت تیز کر دی گئی ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کابینہ مختصر رکھیں گے، نگران وزیراعظم نے کابینہ کے لئے تمام تمام شخصیات کے پروفائل کا خود جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، نگران وزیراعظم نے اپنے قریبی دوستوں سے کہا ہے کہ پاکستان معاشی مشکلات کا شکار ہے، ایسے میں ملک پر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے، میرا پروٹوکول کم سے کم ہونا چاہئے ،

    نگران کابینہ میں کون کون شامل ہو گا؟ ابھی تک اندازے ہی لگائے جا رہے ہیں، متوقع ناموں میں جلیل عباس جیلانی، شعیب سڈل، احسن بھون، سرفرازبگٹی اور ذوالفقارچیمہ ، محمد علی درانی، سلطان علی الانہ شامل ہو سکتے ہیں، محمد علی درانی کو وزارت اطلاعات اور معروف بینکار سلطان علی الانہ کو وزیر خزانہ بنایا جا سکتا ہے

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    انوار الحق کاکڑ پاکستان کے آٹھویں نگران وزیراعظم بن گئے 

  • نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے حلف اٹھا لیا

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے حلف اٹھا لیا

    نامزد وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی تقریب حلف برداری منعقد ہوئی

    تقریب حلف برداری میں صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی، وزیراعظم شہباز شریف موجود تھے، صدر عارف علوی نے انوارالحق کاکڑ سے حلف لیا

    حلف برداری کی تقریب میں میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی، سپیکر قومی اسمبلی اور سروسز چیفس بھی شریک تھے، تقریب میں نگران وزیراعلی اور گورنرز بھی شریک تھے، ۔تقریب میں چیف جسٹس پاکستان ، چیف الیکشن کمشنر کو بھی مدعو کیا گیا تھا

    انوار الحق کاکڑ پاکستان کے آٹھویں نگران وزیراعظم بن گئے ہیں،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی حلف برداری کی تقریب مکمل ہو چکی ہے، اب نگران کابینہ بارے غور کیا جائے گا، میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر حفیظ شیخ بطور نگران وزیر خزانہ کابینہ کا حصہ ہونگے،چئیرمین ایپٹما گوہر اعجاز کو نگران وزیر انڈسٹریز کا قلمدان ملنے کا امکان ہے، جلیل عباس جیلانی نگران وزیر خارجہ جبکہ سابق آئی جی ڈاکٹر شعیب سڈل نگران وزیر داخلہ کے لیے فیورٹ نام ہیں، نگران وزیر قانون کے لیے احسن بھون کا نام زیر غور ہے، ذوالفقار چیمہ اور سرفراز بھگٹی بھی ممکنہ طور پر نگران کابینہ کا حصہ ہونگے،

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

  • نامزد نگران وزیراعظم کا سینیٹ رکنیت سے استعفیٰ منظور

    نامزد نگران وزیراعظم کا سینیٹ رکنیت سے استعفیٰ منظور

    نامزد نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے جو چیئرمین سینیٹ نے منظور کر لیا ہے،

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نےاپنا استعفیٰ چیئرمین سینیٹ کو بھجوایا تھا، انکی سینیٹ کی رکنیت مارچ 2024 تک تھی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے انوارالحق کاکڑ کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے نگران وزیراعظم انوار الحق نے نیوٹرل رہنے کے اصول پر اپنی نشست سے استعفے دیا

    دوسری جانب صدر مملکت عارف علوی آج نگران وزیراعظم سے حلف لیں گے، انوارالحق کاکڑ کو نگران وزیراعظم کا پروٹوکول اور سیکورٹی مل گئی ہے، نگران وزیراعظم کی تعیناتی کا عمل مکمل ہوتے ہی نگران کابینہ کی تشکیل کی تیاریاں شروع کر دی جائیں گی ،نئے تعینات ہونے والے نگران وزیراعظم حلف اٹھانے کے بعد کابینہ کی تشکیل کریں گے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر حفیظ شیخ بطور نگران وزیر خزانہ کابینہ کا حصہ ہونگے،چئیرمین ایپٹما گوہر اعجاز کو نگران وزیر انڈسٹریز کا قلمدان ملنے کا امکان ہے، جلیل عباس جیلانی نگران وزیر خارجہ جبکہ سابق آئی جی ڈاکٹر شعیب سڈل نگران وزیر داخلہ کے لیے فیورٹ نام ہیں، نگران وزیر قانون کے لیے احسن بھون کا نام زیر غور ہے، ذوالفقار چیمہ اور سرفراز بھگٹی بھی ممکنہ طور پر نگران کابینہ کا حصہ ہونگے،

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

  • نگران  وزیراعظم  کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار،اختر مینگل نے نواز شریف کو خط لکھ دیا

    نگران وزیراعظم کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار،اختر مینگل نے نواز شریف کو خط لکھ دیا

    بلوچستان عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سردار اختر مینگل نے نگران وزیراعظم کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کے درمیان نگراں وزیراعظم کی تقرری کے لیے ہونے والی مشاورت میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما انوار الحق کاکڑ کے نام پر اتفاق ہوا جس کے بعد صدر مملکت نے بھی ان کی تقرری کی سمری پر دستخط کر دیئے، انوار الحق کاکڑ کی بطور نگراں وزیراعظم تعیناتی پر جہاں ن لیگ، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی کی جانب خیر مقدم کیا گیا وہیں کچھ حلقوں کی جانب سے اس پر تحفظات کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ اہم فیصلوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں نہ لینے سے بد اعتمادی بڑھے گی ، نگران وزیراعظم کے لیے ایسے شخص کی نامزدگی کی گئی جس سے ہمارے لیے سیاست کے دروازے بند کر دیئے گئے، آپ کے اس طرح کے فیصلوں نے ہمارے درمیان مزید دوریاں پیدا کر دیں میرا یہ خط 22 جولائی 2022 کےمیسج کا تسلسل ہے، جن مسائل کا ذکرمیں نے پہلےکیا تھا کاش اُن میں کمی آتی، آج بھی وہی بلوچستان ، وہی جبری گمشدگیاں ہیں، سیاسی حل کے بجائے بندوق سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

    لال حویلی کے باہر تجاوزات کے خلاف آپریشن،شیخ رشید آگ بگولہ ہو گئے

    انہوں نے خط میں لکھا کہ اس کا الزام کسی پر ڈالنے کے بجائے ہم اپنی شومئی قسمت کو ہی ٹھہرائیں تو بہتر ہوگا،وہی بلوچستان، وہی جبری گمشدگیاں، سیاسی حل کے بجائے بندوق سے مسلے کے حل کی کوشش کی جارہی ہے، سیاست دانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے آس لگائی جارہی ہے یا اُن کی مشاورت سے مسئلے کا حل تلاش کیا جارہا ہے۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمیں جنرل ایوب سے جنرل مشرف تک کے مظالم اچھی طرح یاد ہیں لیکن آپ کی جماعت مشرف اور باجوہ کی سازشوں اور غیر آئینی اقدامات کو اتنی جلدی فراموش کر گئی، اختر مینگل نے مردم شماری پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی جو تقریباً 2 کروڑ 24 لاکھ بنتی تھی اسے 73 لاکھ کم کر دیا گیا۔

    انہوں نے لکھا کہ انسانی حقوق کے برخلاف قانون سازیاں شاید ہم سے زیادہ مستقبل میں آپ حضرات کے ہی خلاف استعمال کیں جائیں گی کیونکہ ہم بلوچستان کے باسیوں کو روزِ اول سےانسان سمجھا ہی نہیں گیاسی پیک سے اہل بلوچستان کو کیا حاصل ہو، آپ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے، کتنے موٹروے، بجلی اور شمسی توانائی کےمنصوبے، میٹرو ٹرینوں اور بسوں سے لے کر صحت اور تعلیم کی سہولتوں سے لے کر پینے کے پانی کے جو منصوبے اور سہولتیں مہیا کی گئی ہیں وہ دنیا کی ترقی کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں۔

    اوورسیز پاکستانی نے سمندر کی تہہ میں پاکستانی پرچم لہرا دیا

    انہوں نے لکھا کہ موجودہ دور میں گوادریونیورسٹی کےقیام بمقام لاہورکا بھی اعلان کیاگیاجو میں سمجھتا ہوں بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا، گوادر ائیرپورٹ کا نام بجائے کسی بلوچستان کی سیاسی یا سماجی شخصیت کے کسی ایسے شخص کے نام کردیا جس کے نام سے شاید ہی بلوچستان کے لوگ واقف ہوں گے،کسی بھی اہم فیصلوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرنا بداعتمادی ہی کو دوام بخشے گی، بڑے اور چھوٹے صوبوں کے درمیان نفرتوں کی مٹی سے بنائے گئے اُن میناروں کی اونچائی اور مضبوطی میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوسکتا ہے۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنی مستقبل میں آنے والی حکومت کی راہ ہموار کرنے کے لیے قانون بنائے اور توڑے بھی جاتے ہیں لیکن اُس کے برعکس اہلِ بلوچستان کو اپنے پیاروں کے لیے آوز اٹھانا اور آنسو بہانا بھی خلافِ قانون ہے آپ کے گزشتہ 2 دورِ حکومت میں بھی یہ سب کچھ ہوتا رہا اور ہم پچھلی بار کی طرح اس بار بھی یہ تصور اور خیال کر بیٹھے کہ شاید اُن تلخ تجربات کے بعد آپ کی جماعت کو اب احساس ہوگیا ہوگا لیکن آپ کی جماعت نے ہمیں پہلے بھی غلط ثابت کیا اور اب بھی،کاش کہ ہمیں مطالعہ پاکستان کی نصاب کی کتابوں میں گزشتہ 76 سالہ تاریخ پڑاھائی جاتی تو شاید ہم تاریخ سے سبق حاصل کرتے لیکن اب تو ہم اور آپ تاریخ کے سامنے صرف اور صرف جواب دے ہیں اور جواب دے رہے ہیں۔

    قومی پرچم کو نذر آتش کرکےالزام پارٹی پرعائد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی …

  • نگران وزیر اعظم  کی حلف برداری کی تقریب کل ہوگی

    نگران وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب کل ہوگی

    اسلام آباد: نگران وزیر اعظم انوار الحق کا کڑ کی حلف برداری کی تقریب کل یعنی 14 اگست کو ہو گی۔

    باغی ٹی وی : باخبر ذرائع کے مطابق تقریب میں سبکدوش وزیراعظم شہباز شریف بھی شرکت کریں گے، سابق حکومت کے اہم عہدیداروں اور اتحادی حکومت کے سابق وزرا ،چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی، چیف جسٹس آف پاکستان،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، سروسز چیفس، چیف الیکشن کمشنر کو دعوت نامے ارسال کر دیئے گئے ہیں جبکہ چاروں گورنرز اور نگران وزرائے اعلیٰ کو بھی دعوت دی جائے گی-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیرِ اعظم اور قائد حزب اختلاف نے دستخط کرکے ایڈوائس صدر کو بھجوا دی تھی، صدر پاکستان ڈاکٹرعارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 224 ایک اے کے تحت انوارالحق کاکڑ کی بطورنگران وزیراعظم تعیناتی کی منظوری دی –

    شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی کے لیے کام نا کرنے کے معاہدے کےتحت …

    انوار الحق کاکڑ کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے اور وہ بلوچستان سے 2018 میں سینیٹر منتخب ہوئے تھے، انوار الحق کاکڑ نے 2008 میں ق لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکش لڑا تاہم وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے بعد ازاں وہ نواب ثناء اللہ زہری کے دور حکومت میں صوبے کے ترجمان کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کرتے رہے ہیں، انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے پولیٹیکل سائنس اور سوشیالوجی میں ماسٹر کیا ہے۔

    سعودی عرب نے فلسطین کے لیےغیر مقیم سفیرنامزد کر دیا

  • انوارالحق کاکڑ،نگران وزیراعظم،صدر نے سمری پر دستخط کر دیئے

    انوارالحق کاکڑ،نگران وزیراعظم،صدر نے سمری پر دستخط کر دیئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے انوارالحق کو نگران وزیراعظم پاکستان مقرر کر دیا گیا، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سمری پر دستخط کر دیئے ہیں،

    انوارالحق کاکڑ کو نگران وزیراعظم بنانے کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے ملکر کیا تھا، دونوں‌ نے سمری پر دستخط کر کے صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اب صدر مملکت نے سمری پر دستخط کر دیئے ہیں،

    بطور نگران وزیراعظم ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دوں گا،انوارالحق کاکڑ
    انوارالحق کاکڑ نے نگران وزیراعظم مقرر ہونے پر ابتدائی پیغام میں کہا ہے کہ بطور نگران وزیراعظم ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دوں گا،نگران وزیراعظم نامزد کرنے پر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کا شکریہ،

    انوار الحق کاکڑ کے لئے پروٹول وزیر اعظم ہاوس سے روانہ ہوگیا ،انوار الحق کاکڑ کا آٹو کیڈ وزیر اعظم ہاوس سے منسٹر انکلیو روانہ ہوا،سبکدوش وزیر اعظم شہباز شریف کو کل گارڈ آف آنر دیا جائے گا ،شہباز شریف آج مریم اورنگزیب کے ہمراہ لاہور پہنچ چکے ہیں، انہوں نے راجہ ریاض کے ساتھ ملکر دستخط کئے تھے اور فوری وزیراعظم ہاؤس سے نکل آئے تھے،

    سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا تعلق بلوچستان کے ضلع کاکڑ سے ہے انہوں نے کوئٹہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی جس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن چلے گئے انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان سےپولیٹیکل سائنس اور سوشیالوجی میں ماسٹر کیا،سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے 2008 میں (ق) لیگ کےٹکٹ پرکوئٹہ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا جس میں انہیں کامیابی نہ مل سکی،انوار الحق کاکڑ 2018ء سے سینیٹ انتخابات میں بلوچستان سے جنرل نشست پر آزاد امیدوار کے طور پر ایوان بالا پاکستان کے لیے منتخب ہوئے تھے، انہوں نے 12 مارچ 2018ء کو سینیٹر کی حیثیت سے حلف اٹھایا،وہ باپ کے اشتراک سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے،

    سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ انوار الحق کاکڑ صاحب نہ صرف سیاستدان ہیں بلکہ کچھ لوگ اُنکو دانشوروں میں بھی شامل کرتے ہیں، انوار الحق کاکڑ کا نام سامنے آنے کے بعد بہت سی چیزیں واضح ہوگئیں، جب عمران خان وزیراعظم تھے تو انوارالحق کاکڑ کے ان کیساتھ بھی اچھے تعلقات تھے، اس سرکل میں شامل تھے جن سے عمران خان بلوچستان کے معاملات پر بات چیت کیا کرتے تھے، ایسی خوبی ہے کہ پی ٹی آئی سمیت سب پارٹیوں سے اچھے تعلقات ہیں ، انوارالحق کی کوشش ہو گی کہ نگران حکومت سے کوئی ایسا تاثر نہ ملے کہ ان کی کابینہ میں کسی ایک پارٹی کا اثر و رسوخ ہو، انوار الحق کاکڑ کو جن لوگوں نے نگران وزیراعظم بنایا ہے ،اب تک ان کا نام مثبت طور پر لیا جا رہا ہے منفی لیں گے تو زیادہ سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کے قریبی بندہ کہہ دیں گے ان کے صوبے سے بہت مسائل ہیں لیکن یہ ان کا مینڈیٹ نہیں ہوگا، ان کا مینڈیٹ الیکشن کرانا ہوگا، معاشی پالیسیاں جاری تو رہیں گی لیکن یہ ان کا مینڈیٹ نہیں ہوگا وہ وزیراعظم بھی ہوں گے ، آئینی ذمہ داریاں بھی نبھائیں گے لیکن جو تعیناتیاں دو اڑھائی ماہ میں ہوچکی ہیں اب نئی تعیناتیوں پر بھی پابندی لگ چکی ، ایسی صورتحال میں اثر ورسوخ شہبازشریف اور اسحا ق ڈار کا ہی ہوگا،سینئر صحافی سلیم صافی کا کہنا ہے کہ انوار الحق نے ہمیشہ ریاست پاکستان کی ترجمانی کی ہے اور ریاست کے ساتھ کھڑے رہے ہیں

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے انوار الحق کاکڑ کو نگراں وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دی اور کہا کہ موجودہ حالات میں سینیٹر انوار الحق کاکڑ بہترین انتخاب ہیں،

  • پانامہ کیس فراڈ،نواز شریف الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں، اسحاق ڈار

    پانامہ کیس فراڈ،نواز شریف الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں، اسحاق ڈار

    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانامہ کیس ایک فراڈ تھا،یہ عدالتی تاریخ کا حصہ ہے،

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ 27 جولائی کو نواز شریف نا اہلی کی پانچ سالہ سزا مکمل کر چکے،نواز شریف الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں، 184/3میں کے تحت قانون سازی سے 30دن میں اپیل کا حق دیا گیا۔ یہ قانون نظر ثانی کے حوالے سے تھا،الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے نا اہلی کی مدت کا تعین کر دیا گیا ہے،معیشت ایک دن میں ٹھیک نہیں ہو گی، شق 239کے تحت نگراں حکومت کو کچھ اختیارات دئیے گئے جو بھی حکومت آئے اسے تسلسل برقرار رکھنا ہو گا

    صحافی نے اسحاق ڈار سے سوال کیا کہ کیا آپ نگران وزیراعظم بن رہے ہیں؟ جس کے جواب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میرا اس پر یقین ہے اللہ نے آپ سے جو کام لینا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا، میں نے چوتھی بار وزارت خزانہ کا عہدہ نہیں مانگا تھا اللہ نے 5 سال بعد اسی کرسی پر بٹھا دیا،

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • انوار الحق کاکڑ نگران وزیراعظم،وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر میں اتفاق

    انوار الحق کاکڑ نگران وزیراعظم،وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر میں اتفاق

    انوار الحق کاکڑ نگران وزیراعظم،وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر میں اتفاق ہو گیا ہے

    باپ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر انوار الحق کاکڑ پاکستان کے نگران وزیراعظم ہونگے،وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے انوارالحق کاکڑ کے نام پر اتفاق کیا ہے،یہ نام میں نے دیا تھا وزیر اعظم نے اس پر اتفاق کیا ہے، کل تک نگران وزیراعظم حلف اٹھا لیں گے،کابینہ بنانے کا اختیار نگران وزیر اعظم کا ہے،چھوٹے صوبے کا غیر متنازع شخص وزیراعظم مقرر ہوا ہے،

    قبل ازیں راجہ ریاض وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے، وزیراعظم شہبا زشریف سے راجہ ریاض کی ملاقات ہوئی،یہ دوسری ملاقات تھی، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے قائد حزب اختلاف کی ملاقات ہوئی،وزیرِ اعظم اور قائد حزب اختلاف کے مابین نگران وزیرِ اعظم کی تقرری پر حتمی مشاورتی عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہو گیا، انوار الحق کاکڑ کے نام پر بطور نگران وزیرِ اعظم اتفاق کر لیا گیا،وزیرِ اعظم اور قائد حزب اختلاف نے مشترکہ طور پر دستخط کرکے ایڈوائس صدر پاکستان کو بھجوا دی. وزیرِ اعظم نے قائد حزب اختلاف کا مشاورتی عمل میں تعاون اور ان 16 ماہ میں بطور بہترین حزب اختلاف کی قیادت پر شکریہ ادا کیا،

    انوار الحق کاکڑ 2018ء سے سینیٹ انتخابات میں بلوچستان سے جنرل نشست پر آزاد امیدوار کے طور پر ایوان بالا پاکستان کے لیے منتخب ہوئے تھے، انہوں نے 12 مارچ 2018ء کو سینیٹر کی حیثیت سے حلف اٹھایا،وہ باپ کے اشتراک سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے،