Baaghi TV

Tag: نگران پنجاب حکومت

  • نگراں پنجاب حکومت کو بڑے فیصلے کرنے سے روکا جائے،لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    نگراں پنجاب حکومت کو بڑے فیصلے کرنے سے روکا جائے،لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    لاہور: سینئیر قانون دان آفتاب باجوہ نے نگراں پنجاب حکومت کو کام سے روکنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ۔

    باغی ٹی وی:دائر درخواست میں نگراں وزیرِ اعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب میں نگراں حکومت کی آئینی میعاد ختم ہوچکی ہے، سپریم کورٹ نے الیکشن کی تاریخ میں توسیع کی لیکن نگراں حکومت پنجاب کو توسیع نہ دی نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب غیر آئینی طور پر عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں، نگراں وزیر اعلیٰ اور کابینہ کا عہدے پر برقرار رہنا آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    توشہ خانہ کیس:رجسٹرار آفس تمام متعلقہ درخواستوں کوسماعت کیلئے مقررکرے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ 90 روز گزرنے کے بعد نگراں حکومت کےتمام احکامات واقدامات غیرآئینی ہیں، عدالت نگراں وزیر اعلیٰ کو فوری عہدے سے ہٹانے، نگراں حکومت پنجاب کو کام سے روکنے اور الیکشن کمیشن کو پنجاب میں نئی نگراں حکومت کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے اور نئی نگراں حکومت کے آنے تک موجودہ حکومت کو بڑے فیصلے کرنے سے روکا جائے۔

    سویڈن اور ڈنمارک کا مذہبی کتابوں کی بے حرمتی کے واقعات روکنے پر غور

  • افسران کیلئے نئی گاڑیاں، نگران حکومت پنجاب  سمیت دیگر کو نوٹسز جاری

    افسران کیلئے نئی گاڑیاں، نگران حکومت پنجاب سمیت دیگر کو نوٹسز جاری

    لاہور: پنجاب حکومت کی طرف سے افسران کو نئی گاڑیاں دینے کے نوٹیفکیشن کے خلاف ایک اور درخواست دائر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائی کورٹ نے دائر درخواست پر سماعت کے دوران نگران حکومت پنجاب سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا عدالت نے درخواست کو اسی نوعیت کی دوسری درخواست کے ساتھ یکجا کرکے لگانے کی بھی ہدایت کر دی جبکہ پنجاب حکومت کے وکیل نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کر دیا ۔

    جسٹس رسال حسن سید کے روبرو سماعت میں درخواست گزار شیراز الطاف نے نگران پنجاب حکومت سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عوامی پیسہ عوام کی فلاح و بہبود پر استعمال کیا جائے۔

    افسران کیلئے لگژری گاڑیاں، حکومت پنجاب سے دس روز میں تفصیلی رپورٹ طلب

    درخواست گزار نے کہا کہ نگران حکومت صرف روز مرہ کے معمول چلا سکتی ہے ۔ نگران حکومت کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں، وہ پبلک فنڈز کو استعمال نہیں کرسکتی ۔ عدالت سے استدعا ہے کہ نئی گاڑیوں کی خریداری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے ۔

    واضح رہے کہ واضح رہے کہ حکومتِ پنجاب نے اسسٹنٹ کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز اور کمشنرز کے لیے نئی لگژری گاڑیوں کی خریداری کے لیے 2 ارب 33کروڑ روپے کے فنڈز جاری کئے تھے نگران وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد چیف سیکرٹری پنجاب نے تمام ڈویژنل کمشنرز کے لیے 1600 سی سی کاریں، تمام ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز (جنرل) کے لیے 1300 سی سی اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے ڈبل کیبن فور بائے فور کی خریداری کے لیے 2 ارب 33 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔

    کہا گیا تھا کہ تمام ڈبل کیبن گاڑیاں جو فی الحال اسسٹنٹ کمشنرز کے زیرِاستعمال ہیں بازیافت کی جائیں گی اور فیلڈ میں بہتر کارکردگی کے عوض تحصیلداروں کو الاٹ کی جائیں گی، تقریباً تمام نئی ڈبل کیبن گاڑیاں مالی سال 18-2017 میں پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت کے آخری دور میں خریدی گئی تھیں حکام کا کہنا تھاکہ تحصیلداروں کو نئی گاڑیاں فراہم کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ 1990 کی دہائی کی جیپیں استعمال کر رہے ہیں یا نجی گاڑیوں پر فیلڈ وزٹ کر رہے ہیں۔

    توشہ خانہ فوجداری کیس،سپریم کورٹ کے آرڈر آنے تک سماعت ملتوی

    جس کے بعد عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی درخواست میں چیف سیکرٹری، سیکرٹری ایکسائز سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ حال ہی میں آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر حکومت نے قرض لیا،‏سخت شرائط پر قرض کے بعد غریب عوام پر بھاری ٹیکسز عائد کردیے گئے،غریب عوام مہنگائی اور بھوک سے خود کشیاں کر رہی ہے،پنجاب حکومت نے غریب عوام کو ریلیف دینے کی بجائے افسران کیلئے نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا-

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ پنجاب حکومت نے دو ارب 33 کروڑ روپے سے زائد اسسٹنٹ کمشنرز اور افسران کی گاڑیوں کیلئے فنڈز جاری کر دیئے،صوبے بھر کے اسسٹنٹ کمشنرز، افسران اور محکموں کے پاس پہلے ہی بڑی تعداد میں گاڑیاں موجود ہیں،نگران حکومت نے اختیارات نہ ہونے کے باوجود اربوں روپے گاڑیوں کی خریداری کیلئے جاری کئے-

    درخواست میں استدعا کی کی گئی کہ عدالت اسسٹنٹ کمشنرز اور افسران کو گاڑیاں دینے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے،عدالت تمام محکموں اور افسران کے زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات طلب کرے-

    پارلیمنٹ اجلاس،منشیات کے کاروبار پر سزائے موت ختم

    جسٹس رسال حسن سید نے فرحت منظور چانڈیو ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے درخواست پر حکومت پنجاب سے دس روز میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بتایا جائے کہ صوبے بھر میں کتنی گاڑیاں محکموں اور افسران کے پاس ہیں،اگر عدالت جواب سے مطمئن نہ ہوئی تو متعلقہ افسران کو طلب کریں گے،عدالتی اطمینان کے بعد مناسب حکم جاری کیا جائے گا-

  • شاہد خاقان عباسی یا تو معذرت کریں یا ثبوت مہیا کریں،مفت آٹا اسکیم کے الزام پر پنجاب حکومت کا ردعمل

    شاہد خاقان عباسی یا تو معذرت کریں یا ثبوت مہیا کریں،مفت آٹا اسکیم کے الزام پر پنجاب حکومت کا ردعمل

    لاہور: نگران وزیراطلاعات پنجاب عامر میر نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کے الزام پر رد عمل دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر کا کہنا تھا کہ مفت آٹا اسکیم میں ایک پائی کی بھی کرپشن نہیں ہوئی الزام لگانے والوں کی اپنی ساکھ مجروح ہوئی، آٹااسکیم پنجاب کی تاریخ کی کامیاب ترین اسکیم رہی، اسکیم سے پنجاب کے 3 کروڑ مستحق لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔

    مفت آٹے کی تقسیم میں 20 ارب کی کرپشن ہوئی ہے،شاہد خاقان

    عامر میر کا کہنا تھا کہ آٹااسکیم کو وفاقی اور پنجاب حکومت نےمل کر فنڈکیا، آٹااسکیم کوپارٹی کی اندرونی سیاست کی بھینٹ چڑھانا سراسر زیادتی ہےشاہدخاقان عباسی یا تو معذرت کریں یا ثبوت مہیا کریں،نگران پنجاب حکومت پرالحمداللہ کوئی کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتا، نگران پنجاب حکومت ایک ایک پائی کا حساب دے سکتی ہے۔

    اے آئی چیٹ بوٹس کسی انسان جتنے ہی اچھے استاد ثابت ہو سکتے ہیں،بل گیٹس

    خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئےشاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ نظام اتنا کرپٹ اور فرسودہ ہوچکا ہے کہ ڈلیور نہیں کرسکتا، ہم نے 84 ارب روپے آٹے کی مد خرچ کیا، اس میں 20 ارب کی کرپشن ہوگی، ملک کے مسائل کی وجہ لیڈر شپ اور نظام کی ناکامی ہے-

    پولیس کاچوہدری شجاعت حسین کے گھر پر دھاوا افسوسناک ہے،نگراں وزیرِ اعلیٰ پنجاب محسن …

  • پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی

    پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی

    پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی-

    باغی ٹی وی: نگران وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لاہور میں جلسے،جلوس اور ریلیاں نکالنے پر پابندی ہوگی،لوگ عدالت میں جانا چاہتےہیں تو جاسکتےہیں،لاہور میں دفعہ 144صرف ایک روز کے لیے لگائی گئی ہے-

    عمران خان کا کل لاہور میں انتخابی ریلی کی قیادت کا اعلان

    نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے کہا کہ امیدواروں کی حتمی فہرست جاری ہونےکے بعد الیکشن مہم شروع کی جاسکتی ہے،پی ٹی آئی سے آج انتظامیہ کے مذاکرات ہوئے اور ریلی نہ نکالنے کا مشورہ دیا،12مارچ کیلئے پنجاب حکومت نے ریلی نکالنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا-

    عامر میر نے کہا کہ اگر ان کی جانب سے مزاحمت کی گئی تو دفعہ 144 کو آگے بڑھا دیا جائے گا،ہماری درخواست ہے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں،لاہور میں آج پی ایس ایل کا اہم میچ ہونےجارہاہے،لاہور میں آج میراتھون اور سائیکل ریس بھی ہوگی-

    صوبائی وزیرسردار عبدالرحمان کھیتران رہا

    نگران وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے آج اہم دن پر ریلی نکالنے کا اعلان کیا ،ہمارے لیے آج سب سے بڑا ایونٹ پاکستان سپرلیگ کا ہے،اگر ان کی جانب سے مزاحمت کی گئی تو دفعہ144کو آگے بڑھا دیا جائے گا-

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے کل ریلی کے اعلان کے بعد لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا-

    عمران خان نے کل لاہور میں ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا کہ ریلی کی قیادت وہ خود کریں گے اس کے اعلان کے بعد ڈپٹی کمشنر لاہور کا کہنا تھاکہ کرکٹ میچ کی وجہ سے کل ریلی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کرکٹ میچ اور ٹیم کی آمدو رفت کی وجہ سےانتہائی حساس دن ہےان کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی نے ریلی ملتوی نہ کی تو دفعہ 144کے نفاذ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

    چین میں کیڑوں کی برسات ،لوگوں میں حیرت اور خوف پھیل گیا