Baaghi TV

Tag: نیا سال

  • نئے سال کا لوڈشیڈنگ سے آغاز،موسم سرما میں بھی بجلی غائب

    نئے سال کا لوڈشیڈنگ سے آغاز،موسم سرما میں بھی بجلی غائب

    نیا سال شروع مگر لاہور میں سردی کے موسم میں بھی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر قابو نہ پایا جا سکا،

    کراچی ،لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، پشاور،ملتان، بدین اور سوات سمیت کئی شہروں میں بجلی غائب ہونے کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔لاہور میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، بجلی کے آنے اور جانے کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہے،
    لیسکو میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بارہ گھنٹے تک جا پہنچا، سسٹم پر نو سو میگاواٹ کا شارٹ فال ہے،لاہورشہر سمیت مضافات کے علاقوں میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہونے لگی۔ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سسٹم پر بجلی کی طلب دو ہزار چار سو پچاس میگاواٹ ریکارڈ کی گئی ، نیشنل پاور کنٹرول سینٹر سے فراہمی ایک ہزار پانچ سو پچاس میگاواٹ کی جا رہی ہے، بجلی کی طلب و رسد میں نو سو میگاواٹ کا شارٹ فال ہونے سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ لیسکو نے مضافات میں بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کرنے کا شیڈول نافذالعمل کیا ہے. لاہورمیں اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ چار سے پانچ گھنٹے تک کیا گیا، لیسکو کے الیون کے وی فیڈرز کی بجائے گرڈ سٹیشنز کو بند کر کے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، گڈوپار پلانٹ میں خرابی کی وجہ سے سسٹم پر بجلی کی قلت ہے

    لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی بجلی کی ڈیمانڈ میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں اعلانیہ کیساتھ ساتھ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،

    خوشاب میں بجلی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بارہ گھنٹے سے بھی زیادہ تجاوز کر گیا ، ہر ایک گھنٹے بعد دو گھنٹے بجلی جانا روٹین بن گئی ،بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کام کرنے والے مزدور پریشان ہیں، تجارتی مرکز کے تاجر شدید پریشان ہیں،ے ایکسین خوشاب بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا کوئی بھی جواب دینے سے قاصر ہیں

    سرائے عالمگیر:شہر اور گرد و نواح میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے،گھنٹوں بجلی کی بندش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،گھنٹے کے بعد گھنٹہ بجلی بند رہنا معمول بن گیا شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے تک جا پہنچا

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، رانا شمیم کے نہ آنے پرجاوید لطیف کا بڑا اعلان

    گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے

    کراچی کا بچہ بچہ جانتا ہے ایم کیو ایم والے کتنے شریف ہیں،سعید غنی

  • نئے سال کے آغاز پر ہمیں فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کو نہیں بھولنا چاہیئے،عارف علوی

    نئے سال کے آغاز پر ہمیں فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کو نہیں بھولنا چاہیئے،عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سال نو 2024ء کے آغاز پر پوری پاکستانی قوم، اور عالمی برادری کومبارکباد پیش کی۔

    باغی ٹی وی: صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہوں کہ آنے والا سال پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کیلئے خوشحالی، سیاسی اور معاشی استحکام لائے، نئے سال کے آغاز پر ہمیں فلسطین میں اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کو نہیں بھولنا چاہئے، فلسطینی عوام اسرائیلی افواج کے وحشیانہ حملوں کا مسلسل سامنا کر رہے ہیں عالمی برادری غزہ میں نسل کشی روکنے کے لئے فوری اقدامات، فلسطین میں منصفانہ اور دیرپا امن کے لئے کام کرے، انہوں نے کہا کہ میں غیر قانونی طور پر بھارتی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کے بارے میں بھی فکر مند ہوں، کشمیری عوام قابض بھارتی افواج کے مظالم اور طویل ترین محاصرے کا سامنا کر رہے ہیں،عالمی امن و سلامتی کے فروغ کیلئے عالمی برادری دیرینہ تنازعات کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیلئے عملی اقدامات اٹھائے، میں امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کاوشوں اور اُمت کے اندر اتحاد و اتفاق کی دعا بھی کرتا ہوں۔

    سال 2023 تمام تر رعنائیاں اورآب و تاب کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا اور نئے سال 2024 کا آغاز ہوگیا12 بجتے ہی سال نو کے آغاز کے ساتھ ملک بھر میں آتش بازی اور جشن کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کراچی میں سال نو کا آغاز ہوائی فائرنگ اور پٹاخوں کے ساتھ ساتھ ہلے گلے سے ہوا جبکہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے فلسطینوں سے اظہار یکجہتی کیلئے سال نو کی تقریبات پر پابندی کا اعلان کیا تھا اور عوام سے اپیل کی تھی کہ نئے سال کا سادگی سے استقبال کریں۔

  • الوداع 2023  ،خوش آمدید 2024،نیا سال مبارک

    الوداع 2023 ،خوش آمدید 2024،نیا سال مبارک

    سال 2023 تمام تر رعنائیاں اورآب و تاب کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا اور نئے سال 2024 کا آغاز ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : 2023 کئی یادیں چھوڑ کر رخصت ہوا ہے تو 2024 نئی امیدیں لیکر آیا ہے نئے سال شروع ہونے سے چند گھڑیاں قبل مساجد میں دعائیہ تقریبات کا انعقاد بھی کیا گیا 12 بجتے ہی سال نو کے آغاز کے ساتھ ملک بھر میں آتش بازی اور جشن کا سلسلہ شروع ہوگیا کراچی میں سال نو کا آغاز ہوائی فائرنگ اور پٹاخوں کے ساتھ ساتھ ہلے گلے سے ہوا،ملک بھر میں سال نو پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ عوام کو غیر ضروری طور سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے فلسطینوں سے اظہار یکجہتی کیلئے سال نو کی تقریبات پر پابندی کا اعلان کیا تھا اور عوام سے اپیل کی تھی کہ نئے سال کا سادگی سے استقبال کریں جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہوائی فائرنگ سے گریز کیا جائے ، اس سے کسی کی جان جاسکتی ہے ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے-

    پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار

    افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں،آرمی چیف

    سینئر پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کا بیٹا گرفتار

  • افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں،آرمی چیف

    افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں،آرمی چیف

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے جذبے کو کوئی شکست نہیں دے سکتا،افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں-

    باغی ٹی وی: سال نو کے حوالے سے جاری اپنے پیغام میں آرمی چیف جنرعاصم منیر کا کہنا ہے کہ 2023 کا ایک مشکل لیکن اہم سال ختم ہو گیا ہے پاکستانی مسلح افواج پاکستان کے قابل فخر اور باعزت لوگوں کو نیا سال مبارک ہو نیا سال پاکستان کیلئے اندرونی اور بیرونی اعتبار سے انتہائی اہم ہے پاک فوج ملکی سلامتی اور ترقی کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی ہمیں پاکستانی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی پر فخر ہے، افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں۔
    https://x.com/PakistanFauj/status/1741507239381209268?s=20
    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) نے کہا کہ مسلح افواج کی طرف سے باوقار اور قابل فخر عوام کو نئے سال کی مبارک بعد پیش کرتے ہیں نیا سال پاکستان کے لئے اندرونی اور بیرونی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، مسلح افواج مادر وطن کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں، پاکستان کی سرزمین بے پناہ قدرتی نعمتوں اور مواقع کی حامل ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بلاشبہ قوم ہمارے آباو اجداد کے خوابوں کے مطابق سرخرو ہوگی، آنے والی نسلوں کا روشن مستقبل ہمارا منتظر ہے وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق ہم فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، توقع ہے کہ نیا سال فلسطینی اور کشمیریوں کے مسائل میں کمی کا سبب بنے گا،پاک فوج بطور قومی فوج ملکی سلامتی اور ترقی کے مقصد میں اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ ہمیں پاکستانی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی پر فخر ہے پاکستان کے جذبے کو کوئی شکست نہیں دے سکتا-

  • ممالک جہاں 2024 کا آغاز ہوچکا ہے

    ممالک جہاں 2024 کا آغاز ہوچکا ہے

    دنیا بھر میں لوگ 2024 کا خیرمقدم کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ نیوزی لینڈ سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں 2024 کا آغاز ہوچکا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر 4 بجے نیوزی لینڈ میں سال نو کا آغاز آتشبازی سے ہوا،نیوزی لینڈ سے قبل ٹونگا، سمووا اور کیریباتی میں 2024 کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے ہوا تھا آسٹریلیا میں سال نو کا آغاز سڈنی میں آتشبازی سے پاکستانی وقت کےمطابق شام 6 بجے ہوگا مگر اس سےپہلے ہی سڈنی ہاربر پر ایک فیملی شو کا انعقاد ہواآسٹریلیا کےبعد جاپان، کوریا، انڈو نیشیا میں سال نو کا آغاز ہوگا پھر جنوبی ایشیائی ممالک، روس، یورپی ممالک اور آخر میں امریکا میں نئے سال کا جشن منایا جاتا ہے۔

    نئے سال کو خوش آمدید کہنے کیلئے ہانگ کانگ کے وکٹوریا ہاربر پر آتش بازی سے نئے سال کا استقبال کیا جائے گا سال نو کے موقع پر تھائی لینڈ کے شاپنگ سینٹر آئیکون سیام اور دبئی کے برج خلیفہ سے بھی آتش بازی کی جائے گی اس کے علاوہ برطانیہ کے شہری لندن، نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر لوگ جشن منانے جمع ہوں گے تاہم پاکستان نے اس بار فلسطینیوں کے اظہار یکجہتی کے لیے سال نو کی تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حماس کے حملے پر تحقیقاتی رپورٹ جاری

    جہاں کچھ ممالک میں نئے سال کا آغاز ہو چکا ہے وہاں ایسا ملک ہے جہاں سب سے آخر میں نیا سال ہوگا،زمین کا ہر دن 24 گھنٹے کا ہوتا ہے مگر سال نو کا آغاز ہر جگہ مختلف وقت میں ہوتا ہے،اس کی وجہ انٹرنیشنل ڈیٹ لائن (بین الاقوامی خط تاریخ) ہے جو ہر دن کے آغاز اور اختتام کا تعین کرنے کا آفیشل ذریعہ ہے انٹرنیشنل ڈیٹ لائن کا خیال 1884 میں ایک کانفرنس کے دوران سامنے آیا تھا۔

    اس کانفرنس کے مقصد ریلوے لائنز اور بین الاقوامی سفر کے حوالے سے ضوابط طے کرنا تھا انٹرنیشنل ڈیٹ لائن ایسے فرضی خط کا نام ہے جو سطح زمین پر شمال سے جنوب تک نصف النہار اولیٰ کے مخالف جانب واقع ہے ایک ہی وقت میں اس کے دونوں طرف دو مختلف تاریخیں ہوتی ہیں، یعنی مغربی حصے کی تاریخ مشرقی حصے کی تاریخ سے ایک دن آگے ہوتی ہے ممالک یہ فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہیں کہ وہ شمالی اور جنوبی کس قطب کی سمت کی جانب کے ٹائم زون کا حصہ بننا چاہتے ہیں مگر معاملات اس وقت زیادہ پیچیدہ ہوجاتے ہیں جب ممالک اپنا وقت خود طے کرتے ہیں۔

    سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی

    ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 38 مقامی ٹائم زونز کا استعمال کیا جارہا ہے کچھ ممالک نے کوآرڈینیٹڈ یونیورسل ٹائم (یو ٹی سی) میں ایک گھنٹے کی بجائے 30 یا 45 منٹ کا اضافہ کیا ہوا ہےاگر آپ یو ٹی سی کو مدنظر رکھیں تو ماہرین کے مطابق زمین کے تمام حصوں میں ایک دن کو مکمل ہونے میں 25 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

    سب سے پہلے سال نو کا استقبال کرنے والا ملک

    زمین پر نئے سال کا آغاز بحرالکاہل میں واقع جزائر پر مشتمل ملک کیریباتی کے علاقے کیریتیماتی اور اس کے اردگرد کے 10 غیرآباد جزائر میں ہوتا ہے کیریباتی مجموعی طور پر 33 جزائر پر مشتمل ملک ہے اور کیریتیماتی میں سال نو کا آغاز امریکی ریاست ہوائی سے 24 گھنٹے پہلے جبکہ پاکستان سے 9 گھنٹے پہلے ہوتا ہے ایسا حال ہی میں ہوا ہے۔

    کسی زمانے میں انٹرنیشنل ڈیٹ لائن کیریباتی کے درمیان سے گزرتی تھی یعنی اس ملک کے مغربی یا مشرقی جزائر میں تاریخ مختلف ہوتی تھی مگر 1995 میں اس ملک میں ہر جگہ کے لیے ایک ہی ٹائم زون کردیا گیااس کا مقصد نئی صدی کا سب سے پہلے استقبال کرنے کے خواہشمند سیاحوں کو اپنی جانب کھینچنا تھا مگر اب وہاں 3 ٹائم زون موجود ہیں۔

    ہماری بربادی کے اسباب

    سب سے آخر میں نئے سال کا استقبال کرنے والے علاقے

    دنیا میں نیووے (برطانیہ کے زیرتحت) اور امریکی سمووا (امریکا کے زیرتحت) وہ آخری آباد مقامات ہیں جو سال نو کا استقبال کرتے ہیں،یہ کیریباتی کے جنوب مغرب میں جنوبی بحرالکاہل میں واقع ہیں، یہاں سال نو کا آغاز پاکستان کے 16 گھنٹے بعد ہوتا ہے قریب موجود سمووا کبھی ان ممالک میں شامل تھا جہاں نئے سال کا آغاز سب سے آخر میں ہوتا تھا مگر 2011 میں اس ملک نے اپنا ٹائم زون آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے وقت کے مطابق کرلیا اس تبدیلی کے نتیجے میں سمووا انٹرنیشنل ڈیٹ لائن میں سال نو کا استقبال کرنے والے اولین ممالک میں شامل ہوگیاویسے دنیا میں بیکر آئی لینڈ اور ہاؤلینڈ (یہاں پاکستان کے 17 گھنٹے بعد دن کا اختتام ہوتا ہے) میں دن سب سے آخر میں ختم ہوتا ہے مگر وہاں کوئی رہتا نہیں۔

    لک بھر میں نیشنل ہائی ویز اور موٹرویز کے لئے …

  • نیا سال ملک اور سیاست کےلیے2023 سے بہترہوگا ،منظور وسان

    نیا سال ملک اور سیاست کےلیے2023 سے بہترہوگا ،منظور وسان

    کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما منظورحسین وسان نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیا سال ملک اور سیاست کے لیے 2023 سےبہترہوگا۔

    باغیٹی وی: منظور حسین وسان نے اپنے بیٹے کی سالگرہ کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ الیکشن 8 فروری کو ہوں گے نیا سال ملک اور سیاست کےلیے2023 سے بہترہوگا اور2024 ملکی معیشت اور لا اینڈ آرڈرکی صورتحال کےلیے بھی اچھا ثابت ہوگا پی پی پی اور ن لیگ میں اتحاد نہیں ہوگا بلکہ الیکشن میں مقابلہ سخت ہوگا، آئندہ انتخابات میں وزیراعظم بلاول بھٹو یا نوازشریف ہوں گے۔

    غزہ کی صورت حال پر سلامتی کونسل کے ناکام ہونے پر افسوس ہے،انتونیو گوئتریس

    مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے اظہارخیال کرتے ہوئے منظور وسان نے کہا کہ وہ ( مولانا فضل الرحمان) اچھے آدمی ہیں مگر وہ ملک کے صدر نہیں بینں گے، تاہم ہوسکتا ہے کہ پہلے کی طرح کشمیر کمیٹی کےسربراہ بن جائیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلے کے بھی عام انتخابات میں ففٹی ففٹی چانسز ہیں۔

    انڈر 19 ایشیا کپ ، پاکستان نے بھارت کو شکست دے دی

  • نیا سال، وہی ہڈیاں وہی کھال — اشرف حماد

    نیا سال، وہی ہڈیاں وہی کھال — اشرف حماد

    نیا سال پھر چپکے سے آ دھمکا ہے۔ اب وہی فارمل باتیں ہوں گی۔ دیکھا جائے تو وہ ہورہی ہیں، اور بڑے طمطراق سے ہو رہی ہیں۔ دسمبر کے آخری ہفتے سے تو کان پک گئے ہیں۔ کیا کریں جنوری کے اینڈ جنٹل تک یہی ہوگا۔ کوئی بن بلائے مہمان کی طرح ملے ہتھوڑا اور برسائے: ”نیا سال مبارک ہو”۔جواب میں ہم زچ ہوکر کہیں: ”شکریہ، آپ کو بھی نیا سال مبارک ہو۔”

    جمعہ جمعہ آٹھ دن گزریں گے تو مبارک بادیں کچھ اس انداز کی ہوں گی: ”معاف کریں موقع نہیں ملا” یا ”بھئی کئی بار فون کیا مگر بات ہی نہیں ہو سکی ” یا پھر”معاف کرنا میں گاؤں کیا تھا لہٰذا مبارک باد تاخیر سے دے رہا ہوں…بہر حال آپ کو نئے سال کی ڈھیر ساری مبارکبادیں ہوں۔” مطلب آپ کو نئے سال کی مبارک باد کہے بنا کوئی نہیں چھوڑے گا۔

    اس کے بعد گردش ایام پھر وہی ہوں گے، جو گذشتہ سال تھے، جو اس سے پچھلے سال تھے۔ یا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ کتنے نئے سالوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ یعنی میٹاڈاروں کے دھکّے، کھڑکیوں پر قطاریں، بیگم کی جھڑکیاں، کرم فرماؤں کی بھڑکیاں، ٹی وی کی جلی کٹی "خبریاں”، باس کی یک چشم گل نظر، دفاتر میں سیاست، دوستوں کے سبزی خور جوک جنہیں وہ نان ویج انداز میں سنا کر طبیعت کو اور بھی مکدّر و پُرخشم کر دیتے ہیں۔

    جب ایک شناسا نے مجھے نئے سال کی مبارک باد ماری تو میں نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا نیا سال کسی پابند سلاسل وقت کا محتاج نہیں۔ وہ تو بغیر اجازت آتا رہتا ہے۔ سال کے معنی ہیں سورج کے گرد زمین کا ایک چکّر۔ اور یہ چکّر چلتے رہتے ہیں۔ زمین جہاں اس وقت ہے وہاں وہ اب سے ٹھیک ایک سال پہلے تھی۔ اور اب ٹھیک ایک سال بعد دوبارہ پھر اس جگہ آئے گی۔ لہٰذا ہر گزرتا پل ایک نیا سال ہے۔ وہ صاحب اردو کے سات کے ہندسے کی طرح منھ کھولے میری باتیں سنتے رہے۔ اس کے بعد آنکھیں جھپکاتے ہوئے گرم جوشی سے ہاتھ ملا کر بولے، ”چلئے ، آپ کو ہر نئے پل نیا سال مبارک ہو”۔ اور میں اپنا سا منھ لے کر رہ گیا۔

    جنوری کی پہلی صبح کے کُہر کے قہر میں میں نے ایک کانپتے آٹو ڈرائیور پر افلاطونیت کا نسخہ آزمانے کی کوشش کی۔ میں نے کہا: ”برخوردار جانتے ہو یہ دنیا اس وقت اپنے محور پر اس قدر سست رفتار سے گھوم رہی ہے کہ اس کا ایک چکّر ایک کھرب ایک ارب ایک کروڑ ایک سو چھیاسی کے ہندسے کو اتنے ہی بڑے ہندسے سے 11 بار ضرب دے کر جو حاصلِ ضرب آئے گا اتنے سال میں پورا ہوتا ہے۔ اور پوری کائنات اتنی بڑی ہے کہ اس قدر آہستہ گھومنے کے باوجود اس کے سب سے باہری سرے پر گھومنے کی رفتار ایک لاکھ کھرب میل فی سیکنڈ ہے۔ اور تم ہو کہ بڈشاہ چوک سے مہاراج گنج تک دو کلومیٹرکے دو سو روپے مانگ رہے ہو اور وہ بھی برائے نام سیٹ کے۔”

    یہ سن کر ڈرائیور بار بار آنکھیں جھپکانے لگا اور اپنے دوست سے، جو اس کے ساتھ ہی اس کی آدھی سیٹ پر براجمان تھا، کہا "صاحب سے کرایہ نہیں لیتے ہیں، لگتا ہے یہ کوئی بھٹکی ہوئی روح ہیں، لہٰذا انہیں حفاظت سے مہاراج گنج میں اتاریں گے”۔ کائنات کے اس چکّر نے مجھے پھر چکّرایا۔

    ایک "پکے” مسلمان کے طور پر میں نے سائنس نہیں پڑھی ہے۔ خلائی سائنس کی تو بات ہی نہیں کیونکہ وہ تو انکل سام کی "سازشی تھیوری” ہے۔ کوئی چیز اپنی جگہ پر ٹہری ہوئی نہیں ہے۔بلکہ سوائے کتابوں کے ہر چیز کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔ چاند زمین کے چکر میں دیوانہ ہے۔ زمین سورج کے عشق میں اس کے چکّرکاٹ رہی ہے۔سورج اپنی کہکشاں کے ساتھ گل چھرے اڑا رہا ہے۔ کہکشاں، کسی اور کہکشاں کے پیار میں فریفتہ ہے۔ اور وہ والی کہکشاں لگتا ہے کسی اور کہکشاں کے چکّر میں جھکڑ سہ رہی ہوگی۔ یہ سب دیکھ کر مجھے تو خود کائنات کے چال و چلن پر بھی شک ہے۔ یہ نیک بخت بھی یقیناً کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔

    ایک دن ایک خلائی "سائنس کار” نے میں مجھے نئی خلائی تحقیقات کی نوید نہیں بلکہ وعید سنائی۔ ہوا یوں کہ وہ یک لخت زور زور سے کمرے چکّر کاٹنے لگے اور چکّروں کے اس عمل میں خود چکّر کھا کر گر پڑے۔ میں نے گھبرا کر ان کی پُرشکن جبین پر ہاتھ رکھا۔ وہ ایک دم اٹھے، سیدھے کھڑے ہو کر ٹائی درست کی اور ہمیں تسلّی دیتے ہوئے بولے:” ڈونٹ وری، آئ ایم اوکے، بس ذرا چکّر سا آگیا تھا۔”

    میں نے اس نئے چکّر کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے: ”کوئی خاص معاملہ نہیں۔ بس مجھے اچانک یہ سوجھی کہ اس وقت جو میں تمہارے ڈرائنگ روم میں سکون سے بیٹھا ہوا ہوں توحقیقت میں سب کچھ ایک دم ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔ سب گردش میں ہے، زمین، سورج، چاند، ستارے، سیارے کہکشاں، حالات، خبریں، کردار، اطوار، دن مہینے اور سال۔ بس یہ سوچتے سوچتے چکّر سا آگیا…باقی آئی ایم اوکے۔”

    یہ سن کر کچھ دیر کے لئے مجھے چکر سے لگے کیوں کہ خلائی علوم میں وہ ناسا کی بھٹکی ہوئی آتما ہے۔ خلائی سائنس تو کیا سائنس کی ابجد کے لحاظ سے میں پہنچا ہوا ناواقف ہوں۔

    بہر حال نئے سال کی مبارک بادیں بغیر مٹھائی، بریانی اور ہریسہ کے آپ وصول کرتے رہیں۔ وہ اس لیے کہ سیاسی لیڈران، مختلف شعبوں کے ہیڈز، دفتروں کے باسز، یونینوں کے رہنما اور دوست، عزیز و اقارب، گرل اور بوائے فرینڈ اور تو اور سوشل میڈیا کے نیٹی زن دوست آپ کو نئے سال کی مبارک بادیں پیش کرنے میں کڑھائی میں زندہ مچھلیوں کی طرح تڑپ رہے ہیں۔

  • نیا سال اور پھر سیاستدانوں کے نئے عزائم، تجزیہ: شہزاد قریشی

    نیا سال اور پھر سیاستدانوں کے نئے عزائم، تجزیہ: شہزاد قریشی

    نئی عیسوی سال 2023ء کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اہل مغرب خاص طور پر اس موقع پر دو کام کرتے ہیں ایک دوسرے کو مبارکباد اور نئے سال کے لئے عزائم، عرب ممالک میں بھی تبدیلی شروع ہو چکی بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سعودی عرب مشرقی اور مغرب کے درمیان ایک دوسرے سے جڑا ہوا مرکز بن چکا ہے دوسری طرف قطر نے یورپی دنیا میں عربوں کی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔ چین کے صدر نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ بن سلیمان کی پالیسیوں کی وجہ سے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ امن اور استحکام کا مرکز بن چکا ہے۔ ہم نے نئے سال کا جشن تو منایا مگر تادم تحریر ہمارے سیاسی رہنمائوں نے ایک دوسرے کو غدار، چور، ڈاکو، کرپٹ، نااہل، بدکار، ثابت کرنے میں وقت ضائع کر دیا۔ ملک و قوم دونوں کو لاغر کر دیا۔ ملک و قوم کو بے بس، لاچار، بے چارہ دوسروں کے رحم و کرم پر پہنچا دیا۔ خون خرابہ، دہشت گردی، تمام صوبوں میں ایک ہنگامہ برپا ہے۔ پاک فوج اور پولیس اپنے شہید ہونیوالے جوانوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں حکمران اور اپوزیشن والے بتائیں اب نئے سال کے کیا عزائم ہیں؟ کس سیاستدان کس جماعت کو عبرت کا نشان بنانا ہے؟ امریکہ سمیت کس مغربی ممالک کو گالیاں دے کر اپنی سیاست کو زندہ رکھنا ہے۔ کس کو بھارتی ایجنٹ اسرائیلی ایجنٹ قرار دینا ہے۔ کارکردگی کا عالم تو یہ ہے ملک میں نہ گیس ہے نہ بجلی۔ دنیا ترقی کے منازل طے کر رہی ہے ایک دوسرے پر ایک دوسرے پر آئی ایم ایف سے قرض لینے کا الزام لگانے والے سیاستدانوں کو اور فیصلہ ساز اداروں کو یاد نہیں کہ جس سیاستدان نوازشریف نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اپنے ایک دور حکومت میں جس میں موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار تھے پالیسی بنائی تھی اس کو غدار، کرپٹ ترین، مودی کا یار، ملک دشمن قرار نہیں دیا؟ ایک دور میں نوازشریف نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے صوابدیدی فنڈ سے دستبرداری کا اعلان نہیں کیا تھا؟ کیا حکومتی برآمدات بڑھانے ، درآمدات جو کہ غیر ضروری ہیں ان کو کنٹرول کرے؟ ملک اپنے وسائل پرانحصار کرے۔ اگر 1990ء کے دور حکومت میں نوازشریف کی معاشی اصلاحات پر کام جاری رہتا تو آج ہم کب کا کشکول توڑ چکے ہوتے۔ بدقسمتی سے ہماری کسی حکومت کو مدت پوری کرنے نہیں دی گئی جس کا خمیازہ ملک اور قوم دونوں بھگت رہے ہیں۔ پاکستان کو معاشی اصلاحات دینے والا نوازشریف آج بھی اپنے ایک بھائی اور مسلم لیگی ورکر شہبازشریف کے دورحکومت میں جلاوطن ہی ہے۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • صدر یو ایم ٹی کی جانب سے سب کو نئے سال 2022کی خوشیاں مبارک

    صدر یو ایم ٹی کی جانب سے سب کو نئے سال 2022کی خوشیاں مبارک

    لاہور:یو نیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) کے صدر ابراہیم حسن مراد نے نئے سال 2022 کے حوالے سے سب کیلئے نیک دِلی تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نیا سال نئی شروعات، نئی توقعات،ٹوٹے ہوئے تعلقات کو جوڑنے، پچھلی غلطیوں کو سدھارنے،نئے سنگ میل عبور کرنے اور ملک پاکستان کو خوشحال بنانے کے ارادے سے شروع کرنا چاہیئے۔انہوں نے بتایا کہ بہت سے ایسے مشکل راستے بھی ہیں جن پر چل کر ہمیں ملک پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

     ابراہیم مراد کا کہنا تھا کہ 2022 کے ہمیں اس نئے سال روزگار اور تعلیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنا کر معاشی استحکام کو یقینی بنانے کیلئے انفرادی اور پیشہ ورانہ طور پر بہتری کے لیے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سال2022 میں، ہمارے اہداف بہت سمارٹ ہو نے چاہئیں، جس کے ذریعے ہم روزگار کے مواقعوں کو بڑھاتے ہوئے معیار زندگی اور تعلیی نظام کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ نئے سال میں درپیش مسائل اور چیلنجز کا بہت بہادری اور عقل مندی سے کرسکیں۔

    صدر یو ایم ٹی ابراہیم حسن مراد نے نوجوان نسل کو اپنے پیغام میں کہا کہ 2022 بحالی کا سال ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ جدت کا سال بھی ہوگا جس میں ہم تیز رفتار ڈیجیٹل ایرامیں داخل ہونگے جہاں صنعتی سمیت دیگر انقالابات کا سامنہ کرنا پڑیگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے سال میں آگے بھڑکر چیلجز کا سامنا کرنے کیلئے نوجوانوں کو ہمہ وقت تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ صدر یو ایم ٹی ابراہیم مراد نے یو ایم ٹی کی جانب سے سب کیلئے نئے سال 2022پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا

  • نیا سال:شہباز شریف اہم عہدے پر،نواز شریف پاکستان میں اور عمران خان کیلئے مشکلات سے بھر پور،ماہر علم نجوم کی تہلکہ خیز پیش گوئی

    نیا سال:شہباز شریف اہم عہدے پر،نواز شریف پاکستان میں اور عمران خان کیلئے مشکلات سے بھر پور،ماہر علم نجوم کی تہلکہ خیز پیش گوئی

    ماہر علم نجوم ہمایوں محبوب نے 2022 میں پاکستان کی سیاست کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں-

    باغی ٹی وی :نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر علم نجوم ہمایوں محبوب نے کہا کہ نئے سال 2022 میں مہنگائی پاکستانیوں کیلئے سب سے بڑا مسئلہ ہوگا، نیا سال عمران خان کیلئے مشکلات سے بھرپور ہوگا اور ان کا کرسی پر ٹکے رہنا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا اگر وہ گھر گئے تو قانونی طریقے سے جائیں گے-

    انہوں نے کہا کہ نئے سال میں سابق وزیر اعظم نواز شریف پاکستان میں ہوں گے، دنیا میں بڑی تبدیلی ہوتی نظر آرہی ہے، ن لیگ کا گرہ کھلتا ہوا نظر آرہا ہے، اسی سال شہباز شریف یا کسی ن لیگی کو اہم عہدے پر دیکھ رہا ہوں۔

    نابینا خاتون نجومی بابا وینگا کی 2022 کیلئے پیش گوئیاں

    ہمایوں محبوب کے مطابق سنہ 2022 میں الیکشن ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہےمارچ، اپریل کے بعد مہنگائی کا طوفان آئے گا، پاکستان ہی نہیں دنیا بھرمیں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

    ماہر علم نجوم نے کہا کہ 2022 میں یورپ، امریکہ اور بھارت میں بچوں سے متعلق کوئی بیماری پھیل سکتی ہے،2022 میں پاکستان میں امن و امان کے مسائل نہیں ہوں گے تاہم بھارت میں خانہ جنگی ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، جنگ و جدل کے حوالے سے 2023 اور 2024 زیادہ خطرناک سال ہوں گے۔

    قبل ازیں بلغاریہ کی مشہور خاتون آنجہانی نجومی بابا وینگا نے سال 2022 کےلیے اہم پیش گوئیاں کیں خاتون نجومی نے پیشگوئی کی کہ کئی ایشیائی ممالک اور آسٹریلیا ’سیلاب کے زد ‘ میں آکر سے متاثر ہوں گے جبکہ محققین کی ایک ٹیم سائبیریا میں ایک مہلک وائرس دریافت کرے گی جو اب تک منجمد ہے خیال رہے کہ 2014 میں ایک قدیم وائرس سائبیرین پرما فراسٹ میں 30 ہزار سال تک غیر فعال رہنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو گیا تھا۔

    2022 کی خطرناک پیشنگوئیاں، تین دن کا اندھیرا اور خوفناک جنگ

    بابا وینگا کی پیش گوئی میں ایک یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کے بہت سے شہر 2022 میں پینے کے پانی کی قلت کا شکار ہوں گے اگرچہ دنیا پہلے ہی قلب آب سے دوچار ہے 2022 میں لوگ ٹیکنالوجی سے بہت زیادہ مانوس ہوجائیں گے اور موبائل فون کی اسکرینوں سے چپک جائیں گے زیادہ سے زیادہ اسکرین ٹائم ایسا ماحول اور نفسیاتی خلل پیدا کرے گا کہ لوگ حقیقت اور قوت متخیلہ کے فرق میں تقریق نہیں کرسکیں گے اور جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

    علاوہ ازین بابا وینگا نے دعویٰ کیا کہ ایک سیارچہ جسے ’اومواموا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے زمین پر زندگی کی تلاش کے لیے ایلین کی جانب سے بھیجا جائے گا۔

    2022 اہم سال ، پاک بھارت ٹاکروں کا سال،دنیا کی نظریں لگ گئیں