Baaghi TV

Tag: نیب ترامیم کیس

  • نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے اپیلوں پر سماعت کی ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل 5رکنی بینچ کاحصہ تھے ،جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بھی لارجر بینچ میں شامل تھے، سابق چیئرمین پی ٹی آئی ویڈیو لنک کےذریعے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب ترامیم کرنا حکومتی پالیسی کا فیصلہ ہے،حکومتی پالیسی میں عدلیہ مداخلت نہیں کرسکتی، پارلیمنٹ کے اختیارات میں عدلیہ مدا خلت نہیں کرسکتی،جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی بات کرتا ہوں،میں میڈیا سوشل میڈیا دیکھتا اور اخبارات پڑھتا ہوں،وزیر اعظم نے کالی بھیڑیں کہا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو کہیں کہ جوڈیشری میں کالی بھیڑیں نہیں ہیں، اگر عدلیہ میں کالی بھیڑیں ہیں تو وزیراعظم ریفرنس فائل کریں ،اٹارنی جنرل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ موجود ججز کےلیے استعمال نہیں کیے گئے،

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نیب قانون ان لوگوں پر لاگو ہوتا رہا جو حکومت سے باہر رہے،عدالت نے کہا کہ پھر وہی لوگ جو حکومت میں آتے ہیں تو دوسرے لوگ نیب کی زد میں آجاتے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب ترامیم کیسے آئین سے متصادم تھیں وجوہات کیا بتائی گئیں؟قانون میں طے کردہ کرپشن کی حد سےکم کیسز دیگر عدالتی فورمز پر چلانے کا ذکر ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پانچ پانچ لاکھ روپے کے مقدمات بلوچستان ہائیکورٹ میں چلتے رہے،پارلیمنٹ سزا کم رکھے یا زیادہ خود فیصلہ کرے یہ اس کا کام ہے،جسپریم کورٹ تو صرف قانون کے آئینی ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ لے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا نیب ترامیم سے مجرموں کو فائدہ پہنچایا گیا ؟وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ نیب ترامیم سے جرائم کی نوعیت کو واضح کیا گیا ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا کچھ لوگوں کی سزائیں نیب ترامیم کے بعد ختم نہیں ہوئیں؟کیا نیب سیکشن 9 اے پانچ میں تبدیلی کر کے نواز شریف کی سزا ختم نہیں کی گئی؟ نواز شریف کا کیس اثاثوں کا تھا جس میں ثبوت والی شق تبدیل کی گئی، نیب ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں کی گئیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا خیبرپختونخو ا حکومت اپنے صوبے میں یہ قانون لاسکتی ہے ؟ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ خیبرپختونخو ا حکومت ایسا کرسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخو ا حکومت اپنے طور پر قانون بنا سکتی ہے ،خیبرپختونخو ا میں احتساب ایکٹ اس لیے ختم ہوا کہ وہاں نقصان ہورہا تھا،وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی وزراء پریس کانفرنسز کرکے نیب قانون کے خلاف بیانات دیتے رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی تو آسان دلیل ہے کہ اقلیتی فیصلے کو اکثریتی فیصلہ کردیں،وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کسی قانون کی سزا کو مکمل ختم بھی کردے تب بھی اسے یہ اختیار حاصل ہے پارلیمنٹ عدالتوں پر بوجھ کم کرنے کےلیےقانون سازی کرسکتی ہے،اکثریتی فیصلے میں 100 ملین روپے کی کرپشن تک نیب کو کارروائی کاکہا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کرپشن کی حد کا اصول عدلیہ کیسے طے کرسکتی ہے؟اقلیتی رائے میں کہا گیا ریٹائرڈ ججز اورجرنیلوں کو نیب قانون سے استثنیٰ نہیں ملنا چاہیے، کیا آپ اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں ؟وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ میری رائے ایسی ہی ہے لیکن اٹارنی جنرل بہتر جواب دے سکتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہ کہ پرویز مشرف کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب تحقیقات کی بات کی،کسی جج کو نیب قانون سے کیسے استثنی ٰ دیا جاسکتا ہے؟ہم ججز مقدس گائے کیوں ہیں؟ کسی کو بھی قانون سے ماورا نہیں ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ سروس آف پاکستان کی تعریف میں ججز نہیں آتے، ججز آئینی عہدے ہیں،

    مجھے یہاں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے،میرے پاس مقدمے کی تیاری کا کوئی مواد نہیں،عمران خان
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سماعت ملتوی کرتے ہیں، عمران خان نے کہا کہ 8فروری کو ملک میں ڈاکہ ڈالا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بات اس وقت نہ کریں، ابھی نیب ترامیم والا کیس سن رہے ہیں،عمران خان نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق 2درخواستیں آ پ کے پاس ہیں، چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے سوال کیا کہ اس میں آپ کے وکیل کون ہیں؟عمران خان نے کہا کہ ان درخواستوں میں میرے وکیل حامد خان ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان سینئر وکیل ہیں، انہوں نے باہر جاناتھا توا ن کو مقدمے میں تاریخ دی ،عمران خان نے کہا کہ جیل میں ون ونڈو آپریشن ہے جس کو ایک کرنل چلاتے ہیں، آپ ان کو آرڈر کریں کہ میری قانونی ٹیم سے ملاقات کروانے دیں،مجھے یہاں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے،میرے پاس مقدمے کی تیاری کا کوئی مواد نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو ساری چیزیں مہیا کردی جائینگی،ہم آپ کے سامنے آرڈر کردیتے ہیں، آپ کونسی لیگل ٹیم ملنا چاہتے ہیں ؟ عمران خان نے کہا کہ میں خواجہ حارث سے ملنا چاہتا ہوں،عدالت نے کہا کہ خواجہ حارث سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کرسکتے ہیں،

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کی درخواست مسترد کردی۔جسٹس اطہر من االلہ نے سماعت لائیو نشر کرنے کی حمایت کر دی اور ریمارکس دئیے کہ کیس پہلے لائیو چلتا تھا تو اب بھی لائیو چلنا چاہیے، ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کا کہنا تھا یہ کیس عوامی مفاد اور دلچسپی کا ہے جبکہ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ کیس ٹیکنیکل ہے، اس میں عوامی مفاد کا معاملہ نہیں، لائیو اسٹریمنگ پر تھوڑی دیر تک بتاتے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم نے متفرق درخواست دائر کی ہے، سماعت براہ راست دکھائی جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا یہ عوامی مفاد کا مقدمہ نہیں آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیں، بعد ازاں بینچ نے مشاورت کے بعد براہ راست نشریات کی درخواست چار ایک کے تناسب سے مسترد کردی، جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ انتظار کروانے پر معذرت خواہ ہیں، بینچ نے کوئی جلدی میں فیصلہ نہیں کیا، تمام ججز سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا۔

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی درخواست دائر کر رکھی ہے،عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ویڈیولنک کے ذریعے پیش کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے علاوہ ازیں خیبر پختو نخوا حکومت نے بھی سماعت لائیو دکھانے کیلئے درخواست دائر کی ہے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نیب ترامیم کو چیلنج کیا تھا، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نیب ترامیم کو بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر کالعدم قرار دیا تھا تین رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت نے انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔

    نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

  • نیب ترامیم کیس :عمران خان کوویڈیو لنک کے ذریعے جیل سے پیش ہونے کی اجازت

    نیب ترامیم کیس :عمران خان کوویڈیو لنک کے ذریعے جیل سے پیش ہونے کی اجازت

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کو نیب ترامیم کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے جیل سے پیش ہونے کی اجازت دے دی۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی اپیلوں پر سماعت کی جبکہ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں،دوران سماعت پراسیکیوٹر جنرل نیب عدالت میں پیش ہوئے-

    سماعت کے آغاز پر حکومتی وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آ گئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آئے ہیں، وکیل نیب کا کہنا تھا کہ اس کیس میں جو دلائل وفاقی حکومت کے ہوں گے ہم انہیں اپنائیں گے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فریق اول کی جانب سے کون وکیل ہے؟ جس پر وکیل وفاقی حکومت ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے کہا کہ مرکزی اپیل میں خواجہ حارث فریق اول کے وکیل تھے، بعدازاں سماعت میں مختصر وقفہ کر دیا گیا۔

    آئی ایم ایف کی 4 سالوں میں پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی …

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ بے نظیر کیس کے تحت یہ اپیل تو قابل سماعت ہی نہیں،زیادہ تر ترامیم نیب آرڈیننس سے لی گئی ہیں،ہائیکورٹ کے فیصلوں کے تناظر میں بھی ترامیم کی گئی ہیں،عدالت متاثرہ فریق کی تعریف کر چکی ہے۔مخدوم علی خان نےکہا کہ وفاقی حکومت کی ترامیم کو کالعدم قرار دیا گیا ہے،وفاقی حکومت متاثرہ فریق ہے-

    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کیسے متاثرہ فریق ہے،متاثرہ فرد ہی اپیل کر سکتا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ یہ معاملہ قانون میں ترمیم کی شقوں کا ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ بے نظیر کیس کے تحت یہ اپیل تو قابل سماعت ہی نہیں،زیادہ تر ترامیم نیب آرڈیننس سے لی گئی ہیں،ہائیکورٹ کے فیصلوں کے تناظر میں بھی ترامیم کی گئی ہیں،عدالت متاثرہ فریق کی تعریف کر چکی ہے۔

    عدت نکاح کیس:وکیل کی عدم پیشی،عمران خان و اہلیہ کی سزا کیخلاف اپیلوں کی سماعت …

    چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ صدر کو آرڈیننس جاری کرنے کیلئے وجوہات لکھنا چاہئیں،مخدوم علی خان نے صدارتی آرڈیننس جاری کرنے سے متعلق آئینی شقوں کو پڑھا-

    اٹارنی جنرل اور نیب نے حکومتی وکیل کی اپیلوں کی حمایت کردی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت نے اس حوالے سے حکم بھی جاری کیا تھا، ہم عدالت آنے سے کسی کا راستہ نہیں روک سکتے، نیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیاسی انجنیرنگ میں ملوث رہی، اگروہ ویڈیو لنک سے پیش ہونا چاہتے ہیں تو اقدامات کرنے چاہیئے،مخدوم علی خان نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کو بذریعہ ویڈیو یا وکیل کے ذریعے نمائندگی دی جا سکتی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ معاملہ قانون کا ہے، یہ معاملہ کسی انفرادی شخصیت کا نہیں،کیا تمام مقدمات میں بھی ایسے ہی سائلین کو نمائندگی ملنی چاہئے،کیس ترامیم کے درست ہونے یا غلط ہونے سے متعلق ہے، وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دے دی۔

    حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہو گی،وزیراعظم

    چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی کے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کے انتظامات کیے جائیں، یہ بڑی عجیب صورتحال ہے کہ بانی پی ٹی آئی جو اس مقدمے میں درخواست گزار تھے اور اب اپیل میں ریسپانڈنٹ ہیں ان کی یہاں پر نمائندگی نہیں، بانی تحریک انصاف اگر دلائل دینا چاہیں تو ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دے سکتے ہیں، ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دینے کا بندوبست کیا جائے، چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کتنے وقت تک ویڈیو لنک کا بندوبست ہو جائے گا؟پرسوں بانی پی ٹی آئی کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کے انتظامات کر لیے جائیں۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ سوال یہ بھی ہے کہ کیا مرکزی اپیلیں قابل سماعت بھی تھیں یا نہیں،فاروق ایچ نائیک انفرادی درخواست گزار کے وکیل کی حیثیت سے پیش ہوئے۔

    فحش اداکارہ کیساتھ جنسی اسکینڈل کیس:ٹرمپ کے سابق وکیل نے بیان ریکارڈ کرا دیا

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ جو 25ریفرنس واپس ہوئے ان کا ٹرائل کہاں ہوگا،کیا یہ صوبائی خودمختاری میں مداخلت نہیں ہے،1999میں نیب کا جو کنڈکٹ رہا، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ نیب کیا ملک میں کسی کو جوابدہ ہے؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ کرپشن ایک مسئلہ ہے، نیب مکمل ناکام ہو چکا ہے،نیب کو پولیٹیکل انجینئرنگ کیلئے استعمال کیا گیا،نیب بتائے پچھلے 10سال میں کتنے سیاستدانوں کیخلاف کیسز چلوائے،نیب بتائے پچھلے 10سال میں کتنے سیاستدانوں کو قید کیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ نیب نے تین سال ایک شخص کو جیل میں رکھا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ لوگوں کیساتھ ظلم بھی بہت ہو رہا ہے،آپ نے مطمئن کرنا ہے کہ لوگوں پر اب تو ظلم نہیں ہو رہا ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اٹارنی جنرل آپ نے یقینی بنانا ہے کہ ویڈیو لنک کام کرے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ حکومت نے وجوہات دینی ہیں کہ آرڈیننس اس وجہ سے جاری کرنا ضروری ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ بریگیڈیئر اسد منیر کا خودکشی کا نوٹ کافی ہے،یہ بنیادی انسانی حقوق کی بات ہے،سپریم کورٹ کا 11رکنی لارجر بنچ ایسی درخواستوں کو سن چکا ہے،مخدوم علی خان نے کہاکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ معطل تھا جب نیب ترامیم کیخلاف درخواست سنی گئی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ درخواست میں ایسی کوئی ترمیم چیلنج کی گئی جو آئین کے خلاف ہو؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اہم سوال یہ ہے جو منصور علی شاہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں اٹھایا،چیف جسٹس نے کہاکہ کسی نے کروڑوں کھا لئے، وہ لاکھوں میں بھی ہو سکتے ہیں،کیا دنیا میں ایسی کوئی مثال ہے کہ قانون سازوں نے رقم کا تعین کیا ہو۔

    بعدازان چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوادیا،حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل عمران خان کی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کو یقینی بنائیں، وفاق اور پنجاب ویڈیو لنک پر عمران خان کی حاضری یقینی بنائیں، خیبر پختونخوا حکومت کے علاوہ تمام صوبائی حکومتوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں،عدالتی معاونت کے لیے خواجہ حارث کو بھی نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔

    اس میں کہا گیا کہ اپیل کنندگان کے مطابق عمران خان نیک نیتی سے عدالت نہیں آئے،اپیل کنندہ کے مطابق کوئی ترمیم بانی پی ٹی آئی یا عوام کے خلاف نہیں تھی،اپیل کنندہ کے مطابق نیب ترامیم کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا، اپیل کنندہ کے مطابق سپریم کورٹ کو ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔

    سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اس حکم نامے کی کاپی خواجہ حارث اور بانیٔ پی ٹی آئی کو بھجوائی جائےچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب سے اخراجات اور ریکوری کی تفصیلات طلب کرلیں، جسٹس اطہرمن اللہ نےکہا کہ ساتھ یہ بھی بتائیں 10سال میں کتنے سیاستدانوں کو گرفتار کیا؟،بعدازاں عدالتِ عظمیٰ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت 16 مئی تک ملتوی کر دی۔

  • نیب ترامیم کیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت 21 فرفوی تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی،دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون کے ساتھ کیا واضح نہیں ہے کہ کیسز منتقل ہو کر کہاں جائیں گے؟۔

    وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ چئیرمین نیب کی سربراہی میں کمیٹی ہے جو کیسز کی متعلقہ فورمز پر منتقلی کا معاملہ دیکھ رہی ہے، برطانیہ میں کہا جاتا ہے کہ اگر کسی معاملے کا فیصلہ نا کرنا ہو تو اس کو کمیٹی میں بھجوا دیں، نیب آرڈیننس 2019 کے تحت 41 افراد بری ہوئے تھے۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کیس میں عدالت خود کو 2022 کی نیب ترامیم تک ہی محدود رکھے گی۔

    حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عمران خان کی درخواست میں حقائق درست انداز میں نہیں بتائے گئے، درخواست میں پٹشنر کو نیب ترامیم کا آئین کی شقوں سے متصادم کے متعلق بتانا ہوتا ہے، عمران خان کی درخواست میں ٹوٹل 47 قانونی سوالات ہیں، ان 47 قانونی سوالات میں صرف 4 میں نیب ترامیم کے ساتھ آئینی شقوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم کے درخواست میں پہلے دو سوالات ضیا اور مشرف دور کے ریفرنڈم والے ہیں، نیب ترامیم کی درخواست میں 21 قانونی سوالات دراصل سوالات ہی نہیں ہیں، درخواست کے ان 21 سوالات میں کسی نیب ترامیم یا بنیادی حقوق کا حوالہ نہیں دیا گیا-

    دلائل میں وکیل نے مزید کہا کہ درخواست کے 16 سوالات میں نیب ترامیم کا حوالہ دیا گیا پر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بتائی گئی، درخواست میں 6 سوالات میں بنیادی حقوق بتائے گئے مگر نیب ترامیم نہیں درج کی گئیں، عمران خان نے درخواست میں امپورٹڈ سازش کا ذکر بھی کیا ہے، پچھلے کچھ دنوں کے اخبارات کے مطابق اب یہ امپورٹڈ سازش بھی ایکسپورٹڈ سازش بن چکی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو عمران خان کی درخواست کا فارنزک آڈٹ کر دیا ہےکیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں ،کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

    واضح رہے کہ خیال رہے کہ گزشتہ سال جون میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت نے نیب آرڈیننس میں 27 اہم ترامیم متعارف کروائی تھیں، لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کی منظوری نہیں دی تھی، تاہم اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا اور بعد میں اسے نوٹیفائی کیا گیا تھا۔

    نیب (دوسری ترمیم) بل 2021 میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ڈپٹی چیئرمین، جو وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جائے گا، چیئرمین کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بیورو کا قائم مقام چیئرمین بن جائے گا، بل میں چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی 4 سال کی مدت بھی کم کر کے 3 سال کردی گئی ہے۔

    قانون کی منظوری کے بعد نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکے گا، مزید یہ کہ ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو بھی نیب کے دائرہ کار سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت افراد یا لین دین سے متعلق زیر التوا تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز یا کارروائیاں متعلقہ قوانین کے تحت متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں کو منتقل کی جائیں گی، بل نے احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے 3 سال کی مدت بھی مقرر کی ہے، یہ عدالتوں کو ایک سال کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند بھی بنائے گا۔

    مجوزہ قانون کے تحت نیب کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے، بل میں شامل کی گئی ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ ایکٹ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے شروع ہونے اور اس کے بعد سے نافذ سمجھا جائے گا۔