Baaghi TV

Tag: نیب

  • ‏سابق چئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ر مزمل حسین کو نیب نے طلب کر لیا

    ‏سابق چئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ر مزمل حسین کو نیب نے طلب کر لیا

    ‏سابق چئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کے خلاف نیب حرکت میں آگیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مزمل حسین کے غلط اقدامات کے باعث تربیلا فور پراجیکٹ 753ملین ڈالر کا نقصان ہونے کا الزام ہے مزمل حسین کو سنگین مالی بے ضابطگیوں کے الزامات پر نیب لاہور نے 6 جون کو طلب کرلیا-

    عمران خان گرفتاری سے ڈر گئے،ضمانت کی درخواست دائر کر دی

    واضح رہےکہ چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین نے گزشتہ ماہ عہدے سےاستعفیٰ دیا تھا مزمل حسین کا کہنا تھا کہ اپنا استعفیٰ آج وزیراعظم کو بھجوا دیا ہےاستعفیٰ دینے کی وجوہات ابھی شیئر نہیں کر سکتا لیکن استعفیٰ منظور ہونے کے بعد وجوہات پر تفصیلی گفتگو کروں گا میں نے اپنی تعیناتی کے دوران متعدد اہم آبی وسائل پر کام کیا، واپڈا کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر کے دکھایا۔

    عمران خان کے بیان پر وزیراعظم شہباز شریف کا رد عمل

    یاد رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے اگست 2016 میں چیئرمین واپڈا تعینات کیا تھا اور بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ان کی مدمت ملازمت میں توسیع کر دی تھی۔

    پاکستان کو عالمی سازش کے تحت خانہ جنگی کی طرف لے جایاجا رہا ہے،شیخ رشید

  • فرح خان کے ملازمین نیب خود پیش نہ ہوئے، جواب جمع کروا دیا

    فرح خان کے ملازمین نیب خود پیش نہ ہوئے، جواب جمع کروا دیا

    فرح خان کے ملازمین نیب خود پیش نہ ہوئے، جواب جمع کروا دیا

    فرح خان کیس تحریری جواب نیب میں جمع کروا دیا گیا

    فرح خان کی جانب سے اظہر صدیق ایڈوکیٹ نے نیب آفس میں تحریری جواب جمع کروایا گیا ہے، نیب کی جانب سے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ نیب کا نوٹس جاری کرنے کا عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اپنے اختیارات سے تجاوز ہے,فرح شہزادی کبھی بھی پبلک آفس ہولڈر نہیں رہیں, جواب میں اعلی عدالتوں کا حوالہ دیتے ہوئے نیب سے کہا گیا کہ پہلے اپنا دائرہ اختیار کا تعین کریں اور پھر نوٹس جاری کریں-

    نیب نے فرح کا منیجر، کیشیر اور بینکرز کو آج طلب کر رکھا تھا ، نیب نے منیر،آصف،وقار کو نوٹس جاری کر کے پیش ہونے کا حکم دیا تھا، نیب طلبی کے باوجود فرح کے ملازمین پیش نہیں ہوئے بلکہ وکیل نے جواب جمع کروایا ہے

    قبل ازیں نیب نے دونوں میاں بیوی کےخلاف ریکارڈ کی وصولی کے لیے 100 سے زائد مراسلے جاری کیے تھے، یہ مراسلے مختلف حکومتی اور نجی اداروں کو ارسال کیے گئے تھے تحقیقاتی ٹیم مختلف محکموں سے موصولہ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہےکہ فرح خان کی طلبی کے نوٹس جاری کیے جائیں فرحت شہزادی عرف فرح خان گوگی نے عمران خان کی ایمنسٹی اسکیم سے 33 کروڑ روپے جبکہ ان کے شوہر احسن جمیل گجر نے 2 کروڑ روپے بخشوانے سمیت دیگر الزامات ہیں جبکہ فرح گوگی کے شوہر حسن جمیل گجر مختلف ٹی وی پر کہ چکے ہیں کہ وہ دو تین ہفتوں میں پاکستان آ کر تحقیقات کا سامنا کریں گے

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے سے قبل ہی اپوزیشن جماعتوں نے فرح پر الزام لگانے شروع کر دیئے تھے، ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے دو تین بار فرح کی کرپشن کا ذکر کیا، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو علیم خان بھی کھل کر فرح کے خلاف بولے، فرح دبئی جا چکی ہے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی فرح بی بی ،خاتون اول بشری بی بی کی قریبی دوست کے چرچے ہر طرف چل رہے ہیں، ہر آنے والے دن نیا انکشاف سامنے آتا ہے تا ہم اب فرح نے خاموشی توڑی ہے اور ایک بیان جاری کیا ہے،

    فرح کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میرا سیاست سے تعلق ہے اور نہ ہی کبھی سرکاری معاملات میں مداخلت کی میرے کردار پر کیچڑا چھالنے والوں کی اپنی بھی بہن بیٹیاں ہیں بزنس کے بارے میں میرے شوہر پہلے ہی وضاحت دے چکے ہیں جن لوگوں کو میرے ساتھ منسوب کیا گیا وہ بھی اس کی تردید کر چکے ہیں میری فیملی ان الزامات کو سن کر صدمے میں ہے مجھے اور میرے خاندان کو سنی سنائی باتوں پر بدنام نہ کیا جائے

    سوشل میڈیا پر فرح خان کی چارٹرڈ طیارے میں بیٹھے تصویر وائرل ہو رہی ہے تاہم ابھی یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے یہ پرانی ہے یا تازہ تصو یر ہے ، اس تصویر میں دیکھا جا سکتاہے کہ فرح خان کے قدموں میں ایک ہینڈ بیگ موجود ہے جو کہ اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکزبناہواہے ، فرح خان نے ایک پیلے رنگ کی جوتی بھی پہنی ہوئی ہے جس نے صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہوئی ہے ۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹس میں دعویٰ کیا جارہاہے کہ یہ بیگ دراصل معروف برینڈ ” ہرمز “ کا کیلی بیگ ہے اور اس کی مالیت تقریبا ڈیڑھ کروڑ سے زائد ہے جبکہ فرح خان نے جو پیلے رنگ کی چپل پہن رکھی ہے وہ بھی کچھ کم نہیں بلکہ ایک لاکھ روپے سے زائد کی ہے ۔

    ‏یہ کشمیر اور پاکستان کاترجمان بننےکی بجائےفرح گوگی کا ترجمان بن گیا

    فرح خان جہاں بھی ہوگی رانا ثنااللہ اسے واپس لائیں گے:مریم نواز

    فرح خان کو دبئی سے پاکستان واپس لا نے کا فیصلہ

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    نیب نے فرح خان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا

    نیب نے سابق خاتون اول کی دوست کے حوالے سے وضاحت کردی

    شہزاد اکبر بھاگ گیا، فرح بھاگ گئی،کچھ کیا نہیں تو ڈر کیسا؟ سعد رفیق

    فرح خان کیخلاف ریکارڈ کے حصول کیلئے نیب متحرک

    منی لانڈرنگ انکوائری، فرح کب آ رہی پاکستان؟

    عمران خان کی اہلیہ کی دوست فرح گوگی کی مشکلات میں مزید اضافہ

  • لیک آڈیو کو آصف زرداری نے مسترد کیا نہ ہی عمران خان نے،درست ہوگی،وزیراعلیٰ سندھ

    لیک آڈیو کو آصف زرداری نے مسترد کیا نہ ہی عمران خان نے،درست ہوگی،وزیراعلیٰ سندھ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ 16جون کی تاریخ دی گئی ہے ،

    سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مجھ پر لگے الزامات میں کوئی صداقت نہیں کیس میں کچھ نہیں ،16جون کو پھر پیشی ہے نیب نے بدنیتی سے کیس بنایا جو جو اس کیس میں نامزد ہیں وہ سرخرو ہوں گے، احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے ،پرامن احتجاج کا طریقہ ہے،پیپلزپارٹی نے بھی کامیاب مارچ کیا،ملک مافیا کے زور پر نہیں چلتا،نیب کے جو افسران ملوث ہیں انکو 5 سال کی سزا ہو گی،کراچی میں پی ٹی آئی کو احتجاج کرنا تھا تو جگہ کا تعین کرتے،لیک آڈیو کو آصف زرداری نے مسترد کیا نہ ہی عمران خان نے،درست ہوگی پیشی پر جتنا خرچہ ہوتا ہے حساب لگا لیں، سب کا کتنا بنتا ہے، نیب قوانین کے حوالے سے ترامیم کر دی گئی ہیں،

    واضح رہے کہ ملک کے نامور پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی ’عمران خان‘ کا پیغام سابق صدر آصف زرداری کو پہنچانے کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی۔ مبینہ آڈیو میں فون ریسیو ہونے پر آصف زرداری کہتے ہیں کہ ’ہیلو‘، اس پر ملک ریاض کہتے ہیں کہ ‘السلام علیکم سر‘، سابق صدر جواب میں کہتے ہیں کہ ‘وعلیکم السلام، خیریت؟‘ اس کے بعد ملک ریاض کہتے ہیں کہ ’سر بس بتانا تھا، میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا تھا، باتیں آپ سے کرنی ہیں، آپ نے کہا تھا بات نہیں کریں گے، آپ کو انفارمیشن دینی تھی، خان کی طرف سے مجھے بڑے میسجز تھے کہ پیچ اپ کروا دیں آپ کے ساتھ، آج تو اس نے مجھے بہت ہی میسجز کیے‘اس کے جواب میں سابق صدر کہتے ہیں کہ ’اب امپاسیبل ہے نہ‘۔ اس کے جواب میں ملک ریاض کہتے ہیں کہ نہیں ٹھیک ہے، بس آپ کے سامنے بات رکھ دوں۔گفتگو کے دوران آصف زرداری مسلسل کھانستے ہوئے بھی سنائی دیے

    آڈیولیک پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حال ہی میں منظر عام پر آنے والی آڈیو ٹیپ عمران خان کی اصلیت اور دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے۔ اپنے دعووں کے برعکس، انہوں نے خود کو اور اپنی حکومت کو بچانے کے لیے این آر او مانگا۔ تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد غیر ملکی سازش کی جعلی کہانی گھڑی گئی۔ ان کا جھوٹ بے نقاب ہو چکا ہے۔

    واضح رہے کہ آڈیو آنے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے مختلف بیانات دیئے جا رہے ہیں تا ہم عمران خان کی جانب سے ابھی تک اس کی تردید نہیں کی گئی،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میدان میں‌ آگئے، ریفرنس کی خبروں‌ پر صدرمملکت کوخط لکھ کر اہم مطالبہ کر دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جائیداد کے اصل مالک ہیں یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے سب بتا دیا

    صدارتی ریفرنس کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پیش ہو گئے،اہلیہ کے بیان بارے عدالت کو بتا دیا

    منافق نہیں، سچ کہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،جسٹس عمر عطا بندیال

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد صدر اور وزیر اعظم کو فورا مستعفی ہوجانا چاہئے، احسن اقبال

  • نیب  کوجو آزادی حاصل تھی اب وہ ختم ہوگئی:شاہ محمود قریشی

    نیب کوجو آزادی حاصل تھی اب وہ ختم ہوگئی:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد:رہنما پی ٹی آئی شاہ اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نیب کا ادارہ بے معنی ہوگیا ہے، جو آزادی حاصل تھی اب وہ ختم ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو نیچا دکھانے کیلئے یہ سب متحد ہوئے، عمران خان کے خلاف یہ سب اکٹھے ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ فیٹف کی قانون سازی کیلئے بات ہونی تھی وہاں ایک مسودہ تھما دیا جس میں ترامیم تھیں، نیب ترامیم وہی ہیں جو انہوں نے این آر او 2 مانگا تھا، موجودہ حکومت نے قومی اسمبلی سے کچھ بل پاس کروائے، انہوں نے ذاتی مفاد کیلئے قانون سازی کی۔ان کا کہنا تھا کہ مخصوص ٹولے نے اپنے مفادات کیلئے ترامیم کی، سپریم کورٹ نے کہا ہے اگر نیب قانون میں کوئی ترامیم کی جاتی ہیں تو سپریم کورٹ کو بتایا جائے، نیب کا ادارہ بے معنی ہوگیا ہے، جو آزادی حاصل تھی اب وہ ختم ہوگئی۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے پر از خود نوٹس لینا چاہیئے، نیب اب حکومت کے ماتحت ہو گیا، اشرافیہ نے اپنے مفادات کو محفوظ کیا، غیر فطر ی نظام زیادہ دیر نہیں چلے گا۔انہوں نے کہا کہ نیب ترمیم میں صدر کا اختیار واپس لے کر وفاق کو دیدیا گیا، عمران خان کی پیچ اپ کرانے والی آڈیو من گھڑت ہے، ن لیگ سے ایک نشست ہوئی تھی، ن لیگ سے لانگ مارچ کے معاملے پر ناکام بات چیت ہوئی تھی، اوورسیز سے متعلق قانون سازی کو بھی چیلنج کرنے کا ارادہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے قانونی ٹیم کو اجازت دے دی کہ اسکو چیلنج کریں، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق بھی انہیں پسند نہیں آیا، ہماری نظر میں اوورسیز پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں، اتحادیوں نے مل کر ان کی اہمیت کو دفن کیا ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسفند یار ولی کیس کو سامنے رکھتے ہوئے از خود نوٹس لیا جائے، صاف نظر آرہا ہے ترامیم کن کو فائدہ دینے کے لیے کی گئیں، منی لانڈرنگ کیسز کو اس ترمیم سے متاثر کیا گیا، چیئرمین نیب کی گرفتاری کےاختیار کو بھی شرائط سے ختم کیا گیا، سیکشن 9 سب سیکشن اے 5 کے ڈائریکٹ بینیفشری وزیر اعظم ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ نیب کو اینٹی کرپشن پنجاب یا ایف آئی اے بنانے کی کوشش کی گئی، نیب کے انڈر ٹرائل کیسز بھی متاثر ہوئے ہیں ، 80 فیصد کیسز نیب سے دیگر کورٹس کی طرف منتقل ہو جائیں گے، نیب قانون میں تبدیلی سے یہ سب اس کے شکنجے سے آزاد ہوگئے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی، کرپشن سے جان چھڑانا قوم کی خواہش ہے، انہوں نے نیب قانون میں ترامیم کر کے خود کو این آر او ٹو دیا ہے۔

  • کون بنے گا نیا چیئرمین نیب؟ حکومتی اتحادی جماعتوں نے نام فائنل کر لیا

    کون بنے گا نیا چیئرمین نیب؟ حکومتی اتحادی جماعتوں نے نام فائنل کر لیا

    کون بنے گا نیا چیئرمین نیب؟ حکومتی اتحادی جماعتوں نے نام فائنل کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کی جگہ نئے چیئرمین نیب کا نام حکومتی اتحاد نے فائنل کرلیا ہے

    خبر رساں ادارے جیو کے مطابق سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ر مقبول باقر کے نام پر حکومتی اتحادی جماعتوں میں آپس میں اتفاق کیا گیا ہے ، مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے مابین نئے چیئرمین نیب کے نام پر مشاورت ہوئی،مشاورت میں جسٹس ر مقبول باقر کے نام پر اتفاق کیا گیا ہے ،سابق صدر آصف زرداری اور وزیراعظم نواز شریف نے بھی اس نام پر اتفاق کیا ہے،

    قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، پی ٹی آئی کے منحرف رکن راجہ ریاض بھی جسٹس ر مقبول باقر کے نام پر اتفاق کریں گے، قوی امکان ہے کہ وہی نئے چیئرمین نیب ہوں گے، جسٹس (ر) مقبول باقر سندھ ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں پروموٹ ہوئے تھے اور ان کے جج کے طور پر کردار پر کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا

    دوسری جانب تحریک انصاف کےرہنما فواد چودھری کا کہنا ہے کہ جسٹس(ر) مقبول باقر معقول آدمی ہیں امید ہے جسٹس (ر) مقبول باقر ایسے پراسس سے چیئرمین نیب نہیں بنیں گے، جسٹس(ر)مقبول باقر کو پتہ ہے لوٹے کو ڈمی اپوزیشن لیڈر بنا کر پراسس کرایا جارہا ہے کوئی بھی عزت دار آدمی اس پراسس کے ذریعے نہیں آئے گا،چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے جو بھی آئے گا وہ سیاسی اعتماد کے ذریعے آئے گا سب کو پتہ ہے راجہ ریاض ایک ڈمی اپوزیشن لیڈر ہیں راجہ ریاض کو لوٹا ایسوسی ایشن کی حیثیت سے اپوزیشن لیڈر لگا دیا

    موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے عہدے کی مدت 2 جون کو ختم ہوجائے گی اس لیے نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی اس سے قبل ہی ہونے کا امکان ہے ، نیب ترمیمی آرڈیننس کی میعاد 2 جون کو ختم ہو رہی ہے اور جب آرڈیننس ختم ہوگا تو موجودہ چیئرمین نیب اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکیں گے نیب ترمیمی آرڈیننس میں موجودہ چیئرمین نیب کو اگلے چیئرمین کی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کی شق شامل کی گئی تھی اور جسٹس (ر) جاوید اقبال عارضی انتطام کے تحت اس وقت بطور چیئرمین نیب کام کر رہے ہیں

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا

  • کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹس کو سے متعلق جو آرڈرہم نے کیے وہ قائم رہیں گے ،آپ ای سی ایل کی لسٹ سے متعلق رپورٹ پیش کریں،ہم چاہتےہیں کہ قانون کی عمل داری ہو،ہم ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرینگے،ہم ابھی کوئی آرڈر پاس نہیں کررہے، ایسا کوئی شخص جس کے خلاف مقدمہ ہو وہ ملک سے باہر نہیں جائیگا،ہمیں ایف آئی اے کی رپورٹ کے بارے میں بتایا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ای سی ایل رولز کی سیکشن دو میں کیسے ترمیم کی گئی؟ کیا ترمیم کرتے وقت متعلقہ اداروں سے مشاورت کی گئی؟کرپشن سمیت دیگر چیزوں کو نکال کر رولز تبدیل کر دیئے گئے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ وہ لوگ کیسے ای سی ایل رولز بدل سکتے جو خود مستفید ہوں ، جن کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ہیں وہ خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟

    سپریم کورٹ نے ای سی ایل سے نکالے گئے ناموں پر تشویش کا اظہار کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 22اپریل کو ای سی ایل رولز میں تبدیلی کی گئی ہم ایگزیکٹوز کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرینگے،وہ نام نکالے گئے جن پرکرپشن اورٹیکس چوری کے مقدمات تھے،ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے رولز تبدیلی کا اطلاق ماضی سے کیسے ہوسکتا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ رولز تبدیلی پر کابینہ سے منظوری کے نوٹیفکیشن میں یہ لکھا گیا اطلاق ماضی سے ہوگا؟ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سوال کیا کہ رولز تبدیلی سے کس کس کو فائدہ ہوا؟ مقدمات کا سامنا کرنے والے وزراکی جانب سے رولز تبدیلی کی منظوری مفادات کا ٹکراؤ ہے، تفصیلات فراہم کریں کہ کابینہ میں شامل کن اراکین کو فائدہ پہنچا؟الزام کا سامنا کرنے والے کابینہ میں شامل وزیر خود کو الگ کر سکتا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کا کہنا ہے 174 نکالے گئے ناموں سے قبل ہم سے مشاورت نہیں کی گئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ای سی ایل رول 2010 کا سیکشن دو پڑھیں، رولز کے مطابق کرپشن، دہشتگردی، ٹیکس نادہندہ اور لون ڈیفالٹر باہر نہیں جا سکتے، کابینہ نے کس کے کہنے پر کرپشن اور ٹیکس نادہندگان والے رول میں ترمیم کی؟کیا وفاقی کابینہ نے رولز کی منظوری دی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے منٹس پیش کردوں گا، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا 120 دن بعد ازخود نام ای سی ایل سے نکل جائے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ 120دن کا اطلاق نام ای سی ایل میں شامل ہونے کے روز سے ہوگا،عدالت نے کہا کہ کابینہ کے ارکان خود اس ترمیم سے مستفید ہوئے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ کابینہ ارکان اپنے ذاتی فائدے کیلئے ترمیم کیسے کر سکتے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ معلوم ہے کہ وفاقی وزرا پر ابھی صرف الزامات ہیں،کیا کوئی ضابطہ اخلاق ہے کہ وزیر ملزم ہو تو متعلقہ فائل اس کے پاس نہ جائے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اپنے فائدے کیلئے ملزم کیسے رولز میں ترمیم کر سکتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ملزم وزرا کو تو خود ہی ایسے اجلاس میں نہیں بیٹھنا چاہیے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیاسرکولیشن سمری کے ذریعے ایسی منظوری لی جا سکتی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے مطابق ان سے پوچھے بغیر ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی انفرادیت کے مطابق تفصیلات نہیں چاہتے ، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے بعد ریویو کا طریقہ کار ہی ختم ہو گیا،ممبران کا نام ای سی ایل میں ہونا اور رولز میں کابینہ کی ترمیم کیا مفادات کا ٹکراو نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ای سی ایل رولز میں ترمیم تجویز کی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ جس شخص کے وکیل تھے اسی کو فائدہ پہنچایا، کیا طریقہ کار اپنا کر ای سی ایل رولز میں ترمیم کی گئی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے طریقہ کار سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں، فی الحال حکومت کے ای سی ایل رولز سے متعلق فیصلے کالعدم قرار نہیں دے رہے، قانون پر عمل کے کچھ ضوابط ضروری ہے، انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے، ریاست کے خلاف کارروائیوں پر سپریم کورٹ کارروائی کرے گی، عرفان قادر نے کہا کہ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کر رہا ہوں مجھے سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحریری طور پر ہمیں دلائل دیں ایسے نہیں سن سکتے،عرفان قادر نے کہا کہ اہم کیس ہے،دو جماعتوں میں کشیدگی ہے عدالت بھی بیچ میں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے،

    وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ایف آئی اے افسران کے تبادلے کی رپورٹ پر بحث کی گئی ،عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے رپورٹ سے تاثر ملا کہ معاملات کو غیر سنجیدہ اقدامات سےکور کیا گیا ،وزارت قانون نے 13 مئی کو سکندر ذوالقرنین سمیت ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کومعطل کیا بظاہر ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کو کیس کی دو سماعتوں میں پیش نہ ہونے کی بنیاد پر معطل کیا گیا ،جن سماعتوں کی عدم پیشی پر پراسیکیوٹرز معطل ہوئے وہ نئی حکومت کے قیام کے بعد کی تھیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پراسیکیوٹرز کو یہ کہا کہ آپ پیش ہو نا ہوں آپ فارغ ہیں؟ پراسیکیوٹرز کو تبدیل کرنے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، انویسٹی گیشن افسر کو بھی بیماری کی وجہ سے تبدیل کیا گیا،انویسٹی گیشن افسر تبدیل ہونے کے مہینہ بعد بیمار ہوا،

    سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ،عدالت نے ڈائریکٹر لا آپریشنز ایف آئی اے عثمان گوندل بھی ریکارڈ سمیت طلب کر لیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوشن ٹیم بظاہر مقدمہ کی کارروائی رکوانے کیلئے تبدیل کی گئی،آرٹیکل 248 وزراء کو فوجداری کارروائی سے استثنٰی نہیں دیتا،چاہتے ہیں نظام قابل اعتماد انداز میں چلے، اعلیٰ حکام کیخلاف مقدمات میں مختلف سلوک زیادہ نوٹس میں آتا ہے،

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے مقدمات میں کیا پیشرفت ہوئی؟ کیا وزیراعظم پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی تک فرد جرم عائد نہیں ہوئی،وزیراعظم سمیت کسی نے کوئی استثنیٰ نہیں مانگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا مقص کسی مقدمے کو تیزی سے چلانا نہیں ہے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

  • سپریم کورٹ کے احکامات ،چیئرمین نیب نے تبادلوں پر پابندی لگا دی

    سپریم کورٹ کے احکامات ،چیئرمین نیب نے تبادلوں پر پابندی لگا دی

    سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ،چیئرمین نیب نے تبادلوں پر پابندی لگا دی

    چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے نیب میں ٹرانسفر پوسٹنگ پر فوری پابندی لگا دی

    نیب کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں کی گئیں پوسٹنگ اورٹرانسفرز پر عمل بھی فوری طور پر روک دیا گیا،چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے نیب ہیڈکوارٹرزاوربیوروز کو عدالتی فیصلے پر عمل کرنے کی ہدایت کر دی،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے تبادلوں کا ریکارڈ طلب کیا تھا، نیب کی جانب سے بھی کچھ تبادلے حالیہ دنوں میں کئے گئے تھے جنکو آج چیئرمین نیب نے روک دیا ہے،

    دوسری جانب حکومت نے تکنیکی بنیادوں پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے نیب ترمیمی آرڈیننس کی میعاد 2 جون کو ختم ہو رہی ہے اور جب آرڈیننس ختم ہوگا تو موجودہ چیئرمین نیب اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکیں گے۔ نیب ترمیمی آرڈیننس میں موجودہ چیئرمین نیب کو اگلے چیئرمین کی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کی شق شامل کی گئی تھی اور جسٹس (ر) جاوید اقبال عارضی انتطام کے تحت اس وقت بطور چیئرمین نیب کام کر رہے ہیں

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا

  • یہ لوگ صرف اپنے کیسز ختم کرنے آئے ہیں،شیخ رشید

    یہ لوگ صرف اپنے کیسز ختم کرنے آئے ہیں،شیخ رشید

    یہ لوگ صرف اپنے کیسز ختم کرنے آئے ہیں،شیخ رشید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عوامی مسلم لیگ کے سربراہ ، سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ پروسیکیوٹر نے عدالت نے میں کہا ہمیں کیس میں دلچسپی نہیں

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ یہ لوگ صرف اپنے کیسز ختم کرنے آئے ہیں،انہوں نے مقتدر حلقوں سے ڈیڑھ سال کی گارنٹی مانگی ہے انہوں نے حکو مت میں آکراپنا وکیل مقرر کر دیا، انہوں نے ثنااللہ عباسی کو ہٹا دیا تھا، خود رانا ثنااللہ نے گزشتہ پیشی پر فرد جرم عائد نہ ہونے دیا،

    تحریک انصاف کے رہنما، سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایل این جی مہنگی خریدی، معیشت کو روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے،دیہات میں 17سے 20گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے، مسلم لیگ ن نے پاور پلانٹس کے لئے امپورٹڈ ایندھن خریدا تھا، سابق وزیراعظم گزشتہ روز کہہ رہے تھے کہ لوڈ شیڈنگ سے ڈالر پچتے ہیں ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات نہیں دینے چاہئے لوڈ شیڈنگ سنگین مسئلہ ہے، یہ ان کی بد انتظامی ہے، معیشت دو ماہ پہلے ایسی نہیں تھی جیسی آج ہے،ٹیکس کے پیئر کے پیسے سے انہوں نے جھوٹے اشتہار چلائے،

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کیلئے یہ سپریم کورٹ کا سب سے قدم ہے اقتدار میں آکر سب سے پہلے تفتیشی ٹیم تبدیل کی ریکارڈ بدلا،انہوں نے حکومت میں آکر پراسیکیوشن کا وکیل بھی اپنا لگا دیا،ان کے اپنے خلاف مقدمات میں دونو ں طرف ان کے اپنے ہی وکیل ہیں سپریم کورٹ نوٹس نہ لیتی تو یہ مقدمات تو ختم ہو گئے تھے،امید ہے اب ان کیسز کوکوئی نقصان نہیں پہنچے گا تاثر یہ نہیں شواہد اور شہادتوں پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا، حکومت کے پاس سپریم کورٹ کے سوال کا جواب نہیں تھا،

    تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا ہے کہ شہباز شریف، زرداری ، فضل الرحمان کی اندھیر نگری چوپٹ راج،سپریم کورٹ از خود نوٹس کے بعدین آر او کو بریک لگ گئی، سپریم کورٹ کا طاقت ور کو قانون کے نیچے لانے کیلئے اہم حکمنامہ ہے،لوٹ مار کرنے والوں کی اداروں پر دھونس کا خاتمہ ہوگا،

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    ہم نے الیکشن کمیشن کو کاروائی سے نہیں روکا،قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،عدالت

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

  • ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    حکومتی عہدیداروں کی مداخلت سے متعلق سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کی سماعت،تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ5صفحات پر مشتمل ہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی تھی تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ تمام افسران تحریری طور پر اپنے جواب عدالت میں جمع کرائیں، سیکریٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے ، چیئرمین اور ریجنل ڈائریکٹرز نیب کو نوٹس جاری کئے گئے،چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز اور پراسکیوٹر جنرلز اورایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری کئے گئے،نیب اور ایف آئی اے کے پراسیکیوشن سربراہوں کو بھی نوٹس جاری کئے گئے نیب اور ایف آئی اے میں ہائی پروفائل مقدمات میں گزشتہ6ہفتوں میں تبادلوں کی تفصیل جمع کرانے کا حکم دیا گیا تقرریوں اور افسران کے ہٹائے جانے سے متعلق بھی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا گیا عدالت نے گزشتہ 6ہفتوں میں ای سی ایل سے نکالے گئے ناموں کی تفصیلات طلب کرلی ای سی ایل پر اسٹیسٹس کو آئندہ سماعت تک برقرار رہے گا نیب عدالتوں، اسپیشل کورٹس میں استغاثہ اور تحقیقات کا ریکارڈ محفوظ کرنے کا طریقہ کار طلب کر لیا گیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں حکومتی شخصیات کے کیسز میں مداخلت کے تاثر پر از خود نوٹس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے ازخودنوٹس کی سماعت کی سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل اشترواوصاف پیش ہوئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پیپر بک پڑھا ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی میں نے پیپر بک پڑھا ہے پیپر بک جج کی جانب سے مداخلت کے بارے میں ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ نوٹس لینے کی جو وجوہات ہیں، وہ صفحہ نمبر 2 پر موجود ہیں،

    پیپر بک نمبر 2 میں ڈی جی ایف آئی اے ثنا اللہ عباسی اور ڈاکٹر رضوان کی موت کا ذکر موجود ہے ازخود نوٹس کیس میں تیارکی گئی پیپر بک میں مختلف اخبارات کے تراشے شامل تھے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ایک کیس کے دوران ایف آئی اے کے استغاثہ کو پیش نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہم آپ سے گارنٹی چاہتے ہیں کہ استغاثہ کا ادارہ مکمل آزاد ہونا چاہیے، ایسا کیوں ہوا، ڈی جی ایف آئی اے جوخیبرپختونخوا کے آئی جی تھے کاتبادلہ کیوں کیا گیا؟ ڈاکٹر رضوان قابل افسر تھے،ان کو کیوں ہٹایا گیا ،یہ سب پیش رفت بظاہر کریمنل جسٹس سسٹم میں مداخلت کے مترادف ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ آپ اس ساری صورتحال کا جائزہ لیں،ای سی ایل سے 4 ہزار سے زائد افراد کے نام نکالے گئے، ای سی ایل سے نام نکالنے کا طریقہ کار کیا تھا؟ہمارے ملک میں جوکرمنل جسٹس سسٹم ہے اس کے بارے میں خبریں آئیں، اس وقت ہم کوئی رائے نہیں دے رہے ہم نے لوگوں سے رول آف لا کا وعدہ کیا ہے اس کی حفاظت کرنے والے ہیں، میں امید کرتا ہوں کی وفاقی حکومت پولیس کے ساتھ تعاون کریگی،ان تمام کرمنل کیسز کو سنبھالنے رکھنا استغاثہ کی ذمے داری ہے،اس سماعت کا مقصد کسی کو خفا کرنا نہیں، عدالت نوٹس جاری کرتی ہے،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیپر بک نمبر دو میں ڈاکٹر رضوان کو اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے موت کا ذکر ہے،ازخود نوٹس کیس میں تیارکی گئی پیپر بک میں مختلف اخبارات کے تراشے شامل ہیں، رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کرنے والے افسران تبدیل کیے گئے، ڈی جی ایف آئی اے جیسے قابل افسر کو ہٹا یا گیا بتایا جائے ہائی پروفائل کیسز میں افسران کے تقرر تبادلے کیوں کیے گئے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ تقرریاں اور تبادلے جان بوجھ کر کیے گئے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ ای سی ایل سے نام براہ راست نہیں نکال سکتے،ہم نے دیکھا ہے کہ ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جاتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے ایک طریقہ کار ہوتا ہے تو نکالنے کا بھی ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر کہتا ہوں کہ ازخود نوٹس لینے کا ہمارا مقصد کرمنل جسٹس سسٹم کی مضبوطی ہے،ہم یہاں پوائنٹ اسکور کرنے کے لیے اکٹھے نہیں ہوئے،ہم کسی کی تنقید سے گھبرانے والے نہیں ہیں،عدالت فیصلہ کرتے ہوئے کبھی نہیں گھبرائی،آج کئی سیاسی پارٹیوں کےمضبوط سوشل میڈیا سیکشنز ہیں، ہم سوشل میڈیا کی تمام چیزوں کو نوٹ کرتے ہیں اور آپس میں بات کرتے ہیں چاہتے ہیں آرٹیکل 10فوراے اور 25 پر عمل کیا جائےہم متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کررہے ہیں، یہ کارروائی کسی کو ملزم ٹھہرانے یا کسی کو شرمندہ کرنے کے لیے نہیں ہے یہ کارروائی فوجداری نظام اور قانون کی حکمرانی کو بچانے کے لیے ہے

    عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین نیب ، سیکریٹری داخلہ کو نوٹسزجاری کردیئے عدالت نے حکم دیا کہ سیکریٹری داخلہ بتائیں کہ کیوں استغاثہ کے کام میں مداخلت کرتے ہیں؟ وضاحت کریں مقدمات میں مداخلت کیوں ہورہی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے مداخلت پر بیان دیا ،کراچی اور لاہور میں عدالتوں میں ججز موجود نہیں کیا آپ کواس بارے میں معلوم ہے ، ججز کو بھی جوڈیشل نظام میں محتاط رہنا ہوگا ، اس کا ہم قریب سے جائزہ لیتے ہیں،وہ نام جمع کرائے جائیں جن کے نام ای سی ایل سے اس دوران نکالے گئے،

    عدالت نے حکم دیا کہ ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے چھ ماہ میں استغاثہ اور تفتیشی اداروں میں تقرریوں کے بارے میں تفصیل جمع کرائی جائیں، حکومتی شخصیات کے کیسز میں مداخلت کے تاثر پر از خودنوٹس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی گئی

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید

  • لگتا ہے آپ بھی ملزمان کے ساتھ ملے ہوئے ہو،عدالت کا نیب افسر سے مکالمہ

    لگتا ہے آپ بھی ملزمان کے ساتھ ملے ہوئے ہو،عدالت کا نیب افسر سے مکالمہ

    لگتا ہے آپ بھی ملزمان کے ساتھ ملے ہوئے ہو،عدالت کا نیب افسر سے مکالمہ
    سندھ ہائیکورٹ مکراچی میں جعلی ڈومیسائل کے اجرا کا معاملہ درخواست گزار ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن و دیگر عدالت میں پیش ہوئے

    سرکاری وکیل کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی، اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیاں مذاکرات ہورہے ہیں۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ اس کے لیے کمیٹی میں دونوں جماعتوں کے لوگ شامل ہیں، ڈومیسائل کا معاملہ بھی شامل ہے۔عدالت نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مذاکراتی کمیٹی کا نوٹیفکیشن اور ٹی او آرز طلب کرلئے، سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ اس کمیٹی میں کیا طے ہورہا ہے ؟ ڈومیسائل سے متعلق بھی بتادیں۔سندھ ہائیکورٹ نے ڈومیسائل کی چھان بین کے لیے کمیٹیز کی رپورٹس بھی طلب کرلی

    خوجہ اظہار کی جانب سے مزاکراتی کمیٹی کی ٹی او آرز طلب کرنے کی مخالفت کی گئی ،خواجہ اظہار نے کہاکہ اس کیس سے مذاکراتی کمیٹی کے ٹی او آرز کا تعلق نہیں بنتا۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ حکومت نے جعلی ڈومیسائل کی شکایات پر کمیٹی تشکیل دی ۔ اس کمیٹی نے 4 اضلاع میں 423 ڈومیسائل چیک کیے۔سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 24 مئی تک ملتوی کردی

    قبل ازیں گلشن حسن جامشورو میں عوام سے مبینہ بڑے پیمانے پر فراڈ کرنے کا معاملہ ،سندھ ہائیکورٹ نے متاثرین کو متبادل پلاٹس دینے کا حکم دیا تھا۔ ۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے استفسار کیا کہ کتنے متاثرین کو پلاٹس دیئے گئے ،تفتیشی افسر نے کہا کہ متاثرین میں سے کسی نے رجوع ہی نہیں کیا۔ سندھ ہائیکورٹ برہم ہو گئی اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سال میں کسی ایک کو بھی پلاٹ نہیں دیا گیا ۔عدالت نے نیب تفتیشی افسر صلاح الدین مغل پر سخت غصے کا اظہارکیا، جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آپ بھی ملزمان کے ساتھ ملے ہوئے ہو۔تفتیشی افسر ڈیڑھ سال میں کچھ نہیں کر سکے تو دوسرا تفتیشی افسر لگایا جائے۔تفتیشی افسرڈیڑھ سال میں متاثرین کو نہیں کر سکے؟ کتنی حیرت کی بات ہے۔ انگریزی اخبار میں اشتہار دے دیا ہے کون پڑھے گا؟ عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کس نے آپ کو نیب میں رکھا ہے؟ نیب کے پاس کوئی اور قابل افسر نہیں ہے؟پہلے شہریوں کو دادو اور پھر پلاٹس کو جامشورو کا کرکے فروخت کیا گیا۔ضمانت اسلیئے منظور کی تھی کہ متاثرین کو متبادل پلاٹس دیے جائیں گے۔اب تو ہم تفتیشی افسر کے خلاف بھی حکم جاری کریں گے۔ڈیڑھ سال سے عدالت سے کھیلا جارہا ہے۔چیئرمین نیب کو آپ کے خلاف کارروائی کے لیے لکھیں گے۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نیب کے لیے موزوں نہیں ہیں۔سندھ ہائیکورٹ نے سماعت ملتوی کردی

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا