Baaghi TV

Tag: نیب

  • ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    پاکستان کے معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کی خورد برد کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سے باضابطہ طور پر رابطہ کر لیا ہے، جس کے بعد انٹرپول کے ذریعے انہیں پاکستان لانے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔نیب ذرائع کے مطابق، ملک ریاض پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر 190 ملین پاؤنڈ کی رقم حاصل کی اور اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ یہ رقم مختلف کاروباری اور پراپرٹی معاہدوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے طور پر چھپائی گئی تھی۔ایف آئی اے نے اس کیس کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ملک ریاض کے خلاف موجود تمام شواہد کو انٹرپول کے حوالے کیا ہے تاکہ وہ انہیں عالمی سطح پر مطلوب قرار دلوائیں اور پاکستان واپس لایا جا سکے۔

    ملک ریاض کا نام اس وقت مختلف قانونی تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور اس پیشرفت کو اہمیت دی جارہی ہے۔ نیب کی جانب سے ان کی حوالگی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا مقصد انہیں پاکستانی عدالتوں میں پیش کرکے کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کرانا ہے۔

    ملک ریاض، جو پاکستان کے امیر ترین اور بااثر کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، پر القادر ٹرسٹ کیس میں مبینہ بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی شریک ملزم ہیں اور ان دونوں کو اس کیس میں سزا ہو چکی ہے، نیب (قومی احتساب بیورو) کے ترجمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ نیب نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو خط لکھا ہے، اور نیب کی منظوری کے بعد ایف آئی اے اس کیس کو بین الاقوامی سطح پر، بشمول انٹرپول کے ذریعے آگے بڑھائے گی۔

    ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ نیب ملک ریاض کی حوالگی کا مطالبہ القادر ٹرسٹ کیس کے سلسلے میں کر رہا ہے، جس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ شریک ملزم ہیں۔ اس سے پہلے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی یہ تصدیق کی تھی کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کے معاہدے کے تحت ملک ریاض کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

    رواں ماہ کے آغاز میں نیب نے عوام کو خبردار کیا تھا کہ وہ دبئی میں ملک ریاض کے نئے لگژری اپارٹمنٹ منصوبے میں سرمایہ کاری نہ کریں، کیونکہ یہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ نیب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر عوام اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ مجرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    ملک ریاض نے نیب کے اس اقدام پر ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’جعلی مقدمات، بلیک میلنگ اور افسران کی لالچ نے مجھے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا کیونکہ میں سیاسی مہرہ بننے کے لیے تیار نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرا فیصلہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ چاہے جتنا بھی دباؤ ڈالا جائے، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا! پاکستان میں کاروبار کرنا آسان نہیں، ہر قدم پر رکاوٹوں کے باوجود، 40 سال کی محنت اور اللہ کے فضل سے پہلا عالمی معیار کا ہاؤسنگ پروجیکٹ پروان چڑھا۔‘‘

    القادر ٹرسٹ کیس کا پس منظر
    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ملک ریاض سے رشوت کے طور پر زمین حاصل کی اور اس کے بدلے میں غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔ اس مقدمے میں عمران خان کا موقف ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ صرف اس زمین کے ٹرسٹی تھے اور انہیں اس لین دین سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوا۔

    ملک ریاض نے اس مقدمے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی سے انکار کیا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے مزید اہم تفصیلات یہ ہیں کہ 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے اعلان کیا تھا کہ ملک ریاض نے 190 ملین پاؤنڈ حکومت پاکستان کو واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا، جو برطانیہ میں منجمد کیے گئے تھے اور یہ رقم غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھی۔ پاکستان میں ملک ریاض اور عمران خان کے درمیان اس کیس کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کو پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ملک ریاض پر عائد غیر قانونی جرمانے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا۔ ان جرمانوں کا تعلق کراچی میں زمینوں کی خریداری سے تھا، جو کم قیمتوں پر حاصل کی گئی تھیں۔اس کیس میں ملک ریاض اور عمران خان دونوں ہی اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی نہیں ہوئی۔ تاہم، نیب اور دیگر اداروں کی تحقیقات جاری ہیں اور ملک ریاض کی حوالگی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کیس میں عمران، بشریٰ کو سزا ہو چکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، دونوں نےسزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت اب ملک ریاض پر ہاتھ ڈالے گی، حکومت ملک ریاض کو عرب امارات سے واپس لائے گی اور ان پر تمام مقدمات چلائے جائیں گے، ریاست نے بالاخر تین دہائیوں کی چھوٹ کے بعد ان کے گریبان پر ہاتھ ڈال لیا ہے، اب سب کا احتساب ہو گا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نیب نے سب سے بڑی زیادتی کرنے والے شخص کے گریبان پر ہاتھ ڈالا ہے، نیب اب صحیح نیب بنا ہے پہلے سب 2 نمبر کام تھا، ملک ریاض صاحب کہتے تھے میں باہر کاروبار کرنے کو حرام سمجھتا ہوں، اب وہ کہتے ہیں میں دبئی میں چھا گیا ہوں لوگ کیسے اپنی زبان سے پھرتے ہیں،میں نے کئی بڑے اینکرز کے سامنے ملک ریاض پر سوالوں کے جواب دئیے جو بعد پروگراموں سے کاٹے گئے، ہم سیاست دان تو آپ کا سافٹ ٹارگٹ ہیں،میڈیا جن کا نام نہیں لے سکتا مقدس گائے سمھتا ہے، احتساب کا عمل اب وہاں تک پہنچ گیا ہے،ملک ریاض نے ان لوگوں کو بھی پیسے دیےجنہوں نےدہشتگردی کی بنیاد رکھی۔

    بحریہ ٹاؤن میں جو بھی زمینیں ہیں سب بیواؤں اور یتیموں کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے، خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میں دیکھتا ہوں مجھے آج کتنی کوریج ملتی ہے ملک ریاض کا نام آجائے تو اسکرینز پر خاموشی چھا جاتی ہے،میڈیا مالکان اپنے اسٹوڈیو پر ایک پیسہ خرچ نہیں کرتے ان کے دفتروں میں انٹرویو دینے جائیں تو اسٹوڈیو ایسے ہیں جیسے فلموں کے آخر میں کوئی اسٹور دکھایا جاتا ہے جہاں ہیرو اور ولن کی لڑائی ہوتی ہے، اگر ملک ریاض سمجھتے ہیں کہ ان کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا تو وہ وقت اب چلا گیا۔ اب ریاست ان پر ہاتھ ڈالے گی، ان کو ہم دبئی سے واپس لائیں گے۔ اس مافیا کو ریاست کے اندر ریاست چلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، بحریہ ٹاؤن میں جو بھی زمینیں ہیں سب بیواؤں اور یتیموں کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے، اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔ انصاف ہو گا اور احتساب ہوگا، ریاست پاکستانیوں کو خبر دار کرتی ہے کہ اگر آپ ان کے کاروبار میں پیسہ لگاتے ہیں تو آپ کا پیسہ ڈوب سکتا ہے،

    پاکستان میں صحافت آزاد نہیں، بحریہ ٹاؤن کی قومی سطح پر تحقیقات کی ضرورت ہے، خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ کوئی یہ بتا دے کہ ریاست کا پیسہ ملک ریاض کے اکاؤنٹ میں کیسے چلا گیا؟ القادر یونیورسٹی کو کالج کا درجہ دینا بھی کالج کی توہین ہے،پاکستان میں صحافت آزاد نہیں، بحریہ ٹاؤن کی قومی سطح پر تحقیقات کی ضرورت ہے، جب ادارے حرکت میں نہ آئیں تو اللہ کی پکڑ آ جاتی ہے، میں جب بات کرتا ہوں تو میری بات کو روکنے کے لئے میڈیا پر دولت کی دیوار کھڑی کی جاتی ہے ،حکومت ملک ریاض کو عرب امارات سے واپس لائے گی، اس حوالے سے معاہدہ موجود ہے، القادر ٹرسٹ کو حسن نواز کے کیس سے جوڑا جا رہا ہے ، حسن نواز کی پراپرٹی کی بھی این سی اے نے تحقیقات کیں ، حسن نواز والے معاملے کی تحقیقات میں کچھ نہیں چھپایا گیا،

    میڈیا جن کے احتساب کا نام لینے کی جرات نہیں کر سکتا ان کا احتساب ہو گا ، خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا جن کے احتساب کا نام لینے کی جرات نہیں کر سکتا ان کا احتساب ہو گا ، پاکستان میں دوغلا پن جاری رہے گا تو جمہوریت کا سلسلہ اصل روح کے مطابق نہیں آسکتا، صحافت، سیاست اور عدلیہ میں دوغلے پن کا خاتمہ ہونا چاہیے، آج کی پریس کانفرنس میں صحافی اور ان کے کیمرے بھی کم ہیں، معلوم نہیں میری بات سنائی بھی جائے گی، یا نہیں، میری بات چیت کہیں سیلف سینسر شپ کی نذر نہ ہوجائے۔

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض مفرور، بحریہ ٹاؤن دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، نیب

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    بحریہ ٹاؤن کراچی میں دھوکہ،ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض کے وارنٹ جاری

    بحریہ ٹاؤن کراچی،ملک ریاض نے ملازمین کو نکال دیا،احتجاج کرنے پر گرفتار

    جتنا مرضی ظلم کرو، میں ظالم کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا۔ملک ریاض

  • ملک ریاض مفرور، بحریہ ٹاؤن دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، نیب

    ملک ریاض مفرور، بحریہ ٹاؤن دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، نیب

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے کہا ہے کہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں، عوام بحریہ ٹاؤن کے دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، حکومت قانونی طریقے سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب کے پاس بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔نیب نے دعویٰ کیا کہ ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر پشاور اور جام شورو میں زمینوں پر قبضے کیے، انہوں نے بغیر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) زمینوں پر ناجائز قبضے کر کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کی ہیں۔نیب کے مطابق ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں زمینوں پر قبضے کیے.

    ملک ریاض نے سرکاری اور نجی اراضی پر ناجائز قبضہ کر کے بغیر اجازت نامے کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کرتے ہوئے لوگوں سے اربوں روپے کا فراڈ کیا ہے۔ ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں لوگوں سے دھوکا دہی کے ذریعے بھاری رقوم وصول کر رہے ہیں، وہ اس وقت این سی اے کے مقدمے میں ایک عدالتی مفرور ہے۔نیب کا دعویٰ ہے کہ ملک ریاض نیب اور عدالت دونوں کو مطلوب ہیں، نیب نے بحریہ ٹاؤن کے پاکستان کے اندر بے شمار اثاثے ضبط کر چکا ہے، بحریہ ٹاؤن کے مزید اثاثہ جات کو ضبط کرنے کے لیے بلا توقف قانونی کارروائی کرنے جا رہا ہے۔

    ترجمان کے مطابق ملک ریاض اس وقت عدالتی مفرور کی حیثیت سے دبئی میں مقیم ہے، بحریہ ٹاؤن کے مالک نے دبئی میں لگژری اپارٹمنٹ کی تعمیرات کے حوالے سے ایک نیا پروجیکٹ شروع کیا ہے، عوام الناس اس حوالے سے مذکورہ پروجیکٹ کے اندر کسی قسم کی سرمایہ کاری سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ سرمایہ کاری کرنے والے منی لانڈرنگ کے زمرے میں آئیں گے، سرمایہ کاری کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔نیب کے مطابق حکومت پاکستان قانونی طریقے سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے، نیب قومی احتساب ادارے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ دھوکا دہی اور جعلسازی کے ذریعے لوگوں سے ناجائز ہاؤسنگ سوسائٹیز کے پر نیب آگاہی دیتا ہے۔واضح رہے کہ 6 جنوری 2024 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز کے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں ملک ریاض سمیت ریفرنس کے 6 شریک ملزمان کو اشتہاری اور مفرور مجرم قرار دے دیا تھا۔چند روز قبل (17 جنوری 2025) راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید اور ان کی اہلیہ مجرمہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنا دی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

    سندھ اسمبلی میں طلبا یونین بحالی کی قرارداد مسترد

    حماس کی قید سے رہا اسرائیلی قیدیوں کے ابتدائی بیانات سامنے آگئے

  • سابق ڈی جی شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں  توسیع

    سابق ڈی جی شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کو سابق ڈی جی شہزاد سلیم کے خلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں 29 جنوری تک توسیع کر دی ہے

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہزاد سلیم کی نیب انکوائری کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے بتایا کہ نیب کی جانب سے رپورٹ جمع کروا دی گئی ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ نیب نے کوئی انکوائری شروع کی ہے؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ جی انکوائری شروع کی گئی ہے۔ جسٹس ارباب طاہر نے استفسار کیا کہ چارج شیٹ کیا ہے کہ شہزاد سلیم غلط طریقے سے نیب میں بھرتی ہوئے،اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ وہ آرمڈ فورسز میں سرونگ افسر تھے اور ڈیپوٹیشن پر نیب میں آئے، شہزاد سلیم نیب میں ڈیپوٹیشن پر آئے اور مستقل ملازمت کر لی جبکہ شہزاد سلیم کا تجربہ ناکافی تھا،جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ تجربے کی کمی نیب کے علم میں کب آئی؟ نیب کو اب احساس ہوا ہے کہ شہزاد سلیم کا تجربہ پورا نہیں ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سابق ڈی جی شہزاد سلیم 25 سال سے نیب میں تھے۔

  • نیب کا دھوکہ دہی اور جعلسازی سے بچنے کے لیے محتاط رہنے کا انتباہ

    نیب کا دھوکہ دہی اور جعلسازی سے بچنے کے لیے محتاط رہنے کا انتباہ

    اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے عوام کو دھوکہ دہی اور جعلسازی سے بچنے کے لیے محتاط رہنے کا انتباہ جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی:نیب کی جانب سے عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ اسکیموں کی فائلوں کی خریدوفروخت سے اجتناب کریں اور اے ٹی ایم بلاک ہونے کے جعلی پیغامات پر کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہ کریں، قومی احتساب بیورو نے کرپٹو کرنسی کی آن لائن ٹریڈنگ، غیر قانونی ڈپازٹس اور پرائیویٹ لون ایپس کے ذریعے ہونے والی دھوکہ دہی سے بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔

    نیب نے عوام کو زیادہ منافع یا غیر حقیقی انعامات کے وعدوں پر یقین نہ کرنے کی ہدایت کی، عوام کو ملٹی لیول مارکیٹنگ، آن لائن لاٹری اور بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے جعلی پیغامات سے بھی ہوشیار رہنے کی تاکید کی گئی،کہا کہ غیرملکی کرنسی کی آن لائن ٹریڈنگ، جعلی آن لائن ملازمت اور ویزوں کی پیشکش یہ سب نوسربازوں کے حربے ہیں اور شہری اپنی ذاتی یا بینک اکاؤنٹ کی معلومات، پاس ورڈ یا پن کوڈ کسی کو نہ دیں۔

    حکام کی جانب سے کہا گیا کہ عوام زیادہ منافع کی لالچ میں آنے کے بجائے احتیاط برتیں۔ کیونکہ احتیاط پچھتاوے سے بہتر ہے۔

  • شرجیل میمن کیخلاف ریفرنس چیئرمین نیب کو واپس

    شرجیل میمن کیخلاف ریفرنس چیئرمین نیب کو واپس

    سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن اور سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی احتساب عدالت کراچی میں پیش ہوئے

    عدالت میں آغا سراج درانی و دیگر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ریفرنس کے دائرہ اختیار سے متعلق درخواست پر فیصلہ مؤخر کر دیا اور سماعت بغیر کارروائی کے 7 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    دوسری جانب احتساب عدالت نے سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن و دیگر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ریفرنس کے دائرہ اختیار سے متعلق درخواست پر بھی فیصلہ سنا دیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شرجیل میمن و دیگر کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا،عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے آمدن سے زائد اثاثہ جات کا ریفرنس چیئرمین نیب کو واپس بھیج دیا، نیب نے شرجیل میمن و دیگر کے خلاف ریفرنس 2019ء میں بنایا تھا

    عمران خان کا دماغ ڈکٹیٹر والا ہے،شرجیل میمن
    عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عدالتوں سے لڑنا نہیں چاہئے، عدالتوں کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے،ہمیشہ حق اور سچ، انصاف کے لئے کوشش کرنی چاہئے،ایک ڈکٹوریل مائنڈ سیٹ ہوتا ہے کہ ہر چیز آپ کے کہنے پر چلے، کل عمران خان عدالت سے اٹھ کر چلے گئے، اس طرح عدالتوں کو نہیں جھکا سکتے، ہم عدالتوں میں حاضر ہوئے، نو نو برس عدالت میں آتے رہے، پارٹی پر سختی تھی،ہم عدالتوں میں آتے رہے، ہم نے عدالتوں پر اعتماد کی،عمران خان کا یہ مائنڈ سیٹ ہے کہ جج بھی ، اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدان، الیکشن کمیشن بھی انکے کہنے پر چلے تو کیا کیا جا سکتا ہے، چیف الیکشن کمشنر کو مقرر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ اس سے بہتر آدمی کوئی نہیں لیکن جب سکندر سلطان نے بات نہ مانی تو اسے متنازعہ بنا دیا، عمران خان کا دماغ ڈکٹیٹر والا ہے، کل گورنر خیبر پختونخوا نے امن و امان کے حوالہ سے اے پی سی بلائی اس میں پی ٹی آئی نے شرکت نہیں کی حالانکہ وہاں انکی صوبائی حکومت ہے، امن و امان وہاں مخدوش ہے، مغرب کے بعد پولیس نظر نہیں آتی، پی ٹی آئی نے اے پی سی نہیں‌بلائی، پیپلز پارٹی نے بلائی لیکن پی ٹی آئی والے شریک نہ ہوئے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی ملک میں انارکی ،افراتفری چاہتی ہے،

  • 190 ملین پاؤنڈکیس: نیب کا بشریٰ بی بی کی گرفتار ی کا فیصلہ،ٹیم خیبر پختونخواہ بھجوا دی

    190 ملین پاؤنڈکیس: نیب کا بشریٰ بی بی کی گرفتار ی کا فیصلہ،ٹیم خیبر پختونخواہ بھجوا دی

    اسلام آباد: نیب نےسابق خاتون اول بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: نیب راولپنڈی کی ٹیم خیبر پختونخواہ بھجوا دی گئی،بشری بی بی کو 190ملین پاؤنڈ کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کی بنا پر گرفتار کیا جائے گا-

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 22 نومبر کو 8 سماعتوں سے مسلسل عدم پیشی پر بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے،بشریٰ بی بی کے وکیل نے طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی جس پر نیب کے وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ بشریٰ بی بی کا میڈیکل لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کا ہے جب کہ تصدیق اسلام آباد سے ہوئی، ملزمان نے آج بھی 342 کا بیان جمع نہیں کرایا۔

    جس پر عدالت نے بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے نیب کو بشریٰ بی بی کو گرفتار کرکے 26 نومبر کو پیش کرنے کی ہدایت کی تھی اور بشریٰ بی بی کے ضامن کو بھی شوکاز جاری کیا تھا-

    ذرائع کے مطابق نیب کی ٹیم 3 روز قبل بھی خیبر پختونخوا میں بشریٰ بی بی کی گرفتاری کی کوشش کرتی رہی، آج دوبارہ سے نیب کی ٹیم گرفتاری کے لیے تشکیل دی گئی ہے نیب خیبر پختونخوا کو بھی ٹیم سے مکمل تعاون کی ہدایت جاری کی گئی ہے، بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کی بھی مدد لی جائےگی۔

  • گنڈاپور کے خلاف نیب طلبی نوٹس کیس،عدالت نے درخواست نمٹا دی

    گنڈاپور کے خلاف نیب طلبی نوٹس کیس،عدالت نے درخواست نمٹا دی

    پشاور:وزیراعلی خیبر پختونخوا اعلی امین گنڈاپور کے خلاف نیب طلبی نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ نیب نے بطور سابق وفاقی وزیر علی امین کے خلاف انکوئری شروع کی ہوئی ہے،نئے ترمیمی قانون کے تحت تو نیب 500 ملین کے کیس میں انکوائری کر سکتا ہے،علی امین کے خلاف 304 ملین کا کیس ہے، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اس کا مطلب ہے آپ بھی نیب ترامیم سے مطمئن ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی ہم مطمین ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان کے خلاف ابھی انکوائری چل رہی ہے ان کو نوٹس بھیجا تھا،جو نوٹس بھیجا تھا وہ زائدالمیعاد ہوگیا ہے،ابھی انکوائری چل رہی ہے اس سٹیچ پر تو ہم نہیں بتا سکتے کہ کتنی رقم ہے ہوسکتی ہے، عدالت نے کہا کہ کوئی نیا نوٹس نہیں ہے تو پھر ہم اس کیس کو نمٹا دیتے ہیں، عدالت نے علی امین گنڈاپور کی درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹا دی

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

  • 190ملین پاؤنڈ ریفرنس،کاروائی آج بھی آگے نہ بڑھ سکی

    190ملین پاؤنڈ ریفرنس،کاروائی آج بھی آگے نہ بڑھ سکی

    اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی،

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے ریفرنس پر سماعت کی، بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی جو عدالت نے منظور کر لی ،عمران خان کو عدالت پیش کیا گیا، دوران سماعت وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پہلے ملزمان کی بریت پر ٹرائل کورٹ فیصلہ کرے۔ احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے ابھی تک کوئی حکم نامہ موصول نہیں ہوا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تحریری طور پر کہہ رہے ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے حکم دیا گیا تھا،نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ جن وکلاء نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دلائل دیے انہی کی جانب سے تحریری طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے تھا، اگر وکلاء تحریری طور پر عدالت کو دے رہے ہیں تو عدالت اس معاملے کو دیکھ لے، عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت 18 نومبر تک ملتوی کردی۔

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

  • وومن ڈیولپمنٹ ،کروڑوں کی کرپشن کا ریفرنس نیب کو واپس

    وومن ڈیولپمنٹ ،کروڑوں کی کرپشن کا ریفرنس نیب کو واپس

    احتساب عدالت نے وومن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا ریفرنس چیئرمین نیب کو واپس بھیج دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی کی احتساب عدالت میں وومن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ میں کروڑوں روپے کی کرپشن کے ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے سابق سیکریٹری بدر جمیل میندرو اور دیگر کے خلاف ریفرنس چیئرمین نیب کو واپس بھیج دیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ ریفرنس نیب قوانین میں تبدیلی کے بعد نیب کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ پراسیکیوٹر نیب کے مطابق نیب حکام اس کیس کو سماعت کے لیے صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ میں بھیجیں گے۔بدرجمیل میندرو، شہباز سومرو، محمد فاروق، فہیم الدین اور اختر عنایت بھرگڑی کے خلاف 2016 میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔ ملزمان پر 5 کروڑ 69 لاکھ 37 ہزار 751 روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔ نیب ترامیم کے بعد نیب حکام نے ریفرنس کی بحالی کی درخواست دائر کی تھی۔

    تین سال میں 4ہزار بھکاریوں کو پاکستان واپس بھیجا گیا، ڈی جی ایف آئی اے

    سہ ملکی انڈر 19 ٹورنامنٹ 13 نومبر سے دبئی میں شروع ہوگا