اسلام آباد: نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک:اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں صدرمملکت کریں گے فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی کے بعد اب نئے چیئرمین نیب کے لیے بھی ناموں پر ڈیڈلاک کا سامنا ہے، اپوزیشن اور حکومت تاحال نئے چیئرمین نیب کے ناموں کا فیصلہ نہ کر سکی ہے۔
اسی حوالے سے فکر مند ن لیگ کے سینئر رہنما رانا ثنااللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس سلسلے میں کہا کہ نئے ناموں سے متعلق حکومت نے الٹا طریقہ شروع کر دیا ہے، نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کے لیے صدر کا اختیار ہی نہیں بنتا۔
راناثنا اللہ نے کہا ہونا یہ چاہیے تھا کہ لیڈر آف دی ہاؤس، اور اپوزیشن لیڈر مشاورت کرتے، لیکن جو کام وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کا تھا وہ حکومت نے صدر کو سونپ دیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اب صدر مملکت دونوں لیڈرز کو خط لکھ رہا ہے اور نام مانگ رہا ہے۔
یاد رہے کہ پیر کو ذرائع نے خبر دی تھی کہ حکومت کی جانب سے نئے چیئرمین نیب کے لیے سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکر کا نام تجویز کیا گیا ہے، تاہم وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کے عہدے کے لیے پی ٹی آئی نے کوئی نام تجویز نہیں کیا، نام تجویز کرنے سے متعلق خبریں درست نہیں۔
دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے اگرکوئی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا توپھرحتمی اوربہترفیصلے کے لیے صدرمملکت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کوئی تقرر کریںگے
اس صورت میں یہ امکان بھی ہوسکتا ہے کہ ن لیگ صدر کے اختیارات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردے اور کسی متفقہ فیصلے کوقبول کرنے سے بھی انکار کردے ، تاہم یہ امکان زیادہ ہے کہ اس کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور معاملات درست سمت میں چل جائیں گے
ڈیل یا ڈھیل، نواز شریف کے خلاف اہم کیس ختم کرنے کا فیصلہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈیل یا ڈھیل، نواز شریف کے خلاف نیب نے اہم کیس بند کرنے کا فیصلہ کر لیا
ایل ڈی اے پلاٹوں کی تقسیم کا معاملہ، سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف انویسٹی گیشن بندکرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،سابق ڈی جی نیب لاہورسلیم شہزاد نے انویسٹی گیشن بندکرنےکی منظوری دی نیب لاہور نے حتمی فیصلے کیلئے فائل چیئرمین قومی احتساب بیورو کو بھجوا رکھی ہے تحقیقاتی ٹیم نے انکوائری رپورٹ میں انویسٹی گیشن بند کرنے کی سفارش کی تھی،نواز شریف کیخلاف 3 اپریل 2000 کوشکایت موصول ہوئی، نواز شریف پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے قریبی لوگوں میں پلاٹ بانٹنےکا الزام تھا
ن لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا ہے کہ نواز شریف پرسیاسی بنیادوں پرکیسز بنائے گئے، نواز شریف کے خلاف کی جانے والی انتقامی کاروائیاں سب سامنے آئیں گی اور سب کو پتہ چلے گا کہ غلط کیسز بنائے گا
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کے لئے لندن گئے تھے اور تاحال واپس نہیں آئے ,نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان ماضی میں میاں نواز شریف کی صحت بارے مسلسل آگاہ کرتے اب ان کے ٹوئٹر پر شاعری،احادیث یا کورونا وائرس بارے معلومات ہی ملتی ہیں،میاں نواز شریف کی صحت بارے پارٹی رہنما ،کارکنان اور قوم پریشان مگر تمام ذرائع خاموش ہیں. نواز شریف جلسوں سے خطاب کرتے نظر آتے ہیں اور ساتھ ریسٹورینٹ میں بھی نظر آتے ہیں لیکن ہسپتال میں گئے ایک دن بھی نظر نہیں آئے
قومی ادارہ برائے احتساب(نیب) کے نئے چیئرمین نیب کے لیے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے تجویز کردہ نام سامنے آگئے-
باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق نیب کے نئے چیئرمین کی تعیناتی کے لیے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے متعدد نام تجویر کئے گئے ہیں،تاہم ابھی کسی نام پر اتفاق نہ ہوسکا ہے اپوزیشن نے 4 جبکہ حکومت نے 3 نام تجویز کیے ہیں۔
حکومت کی جانب سے سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، سیکریٹری مذہبی امور اعجاز جعفر اور سابق ڈی جی ایف آئی اے عملیش چوہدری کے نام چیئرمین نیب کے لئے تجویز کیے گئے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) نے ناصر محمود کھوسہ اور سلمان صدیق ،پاکستان پیپلز پارٹی نے سابق سفارتکار جلیل عباس جیلانی اورجمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) نے جسٹس (ر)دوست محمد خان کا نام تجویز کیا ہےسٹیئرنگ کمیٹی چاروں ناموں میں سے ایک نام تجویز کرکے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بھیجے گی اور وہ یہ نام حکومت کو بھجوائیں گے۔
دوسری جانب لیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس 4 جنوری کو سماعت کیلئے مقرر کر دیا چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں گزشتہ روزالیکشن کمیشن کا اجلاس ہواجس میں الیکشن کمیشن نے فریقین پی ٹی آئی اور اکبر ایس بابر کو نوٹس جاری کر دیئےگئے الیکشن کمیشن سماعت کے دوران سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ فریقین کے سامنے رکھے گا۔
واضح رہے کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے خلاف مبینہ طور ممنوعہ ذرائع سے غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے کا کیس 6 سال سے زیرالتوا ہے مذکورہ کیس تحریک انصاف کے بانی اراکین میں سے ایک اکبر ایس بابر سنہ 2014 میں الیکشن کمیشن کے میں لے کر گئے تھے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کا تبادلہ کر دیا گیا ہے
گریڈ اکیس کے نئے افسر جمیل احمد کو نیا ڈی جی نیب لاہور تعینات کر دیا گیا۔ڈی جی نیب سکھر عرفان بیگ بھی تبدیل کر دیئے گئے ہیں.مرزا سلطان سلیم نئے ڈی جی نیب سکھر تعینات کئے گئے ہیں،ڈائریکٹر ایچ آر ایم نیب نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا شہزاد سلیم کو نیب ہیڈکوارٹرز میں آگاہی و تدارک سیل میں تعینات کیا گیا ہے
قبل ازیں دو روز قبل لاہور ہائیکورٹ میں ڈائریکٹر جنرل نیب جمیل احمد کی تعیناتی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی نے سیکریٹری لاہور ہائی کورٹ بار خواجہ محسن عباس کی درخواست پر سماعت کی۔عدالت نے بطور ڈی جی نیب جمیل احمد کی تعیناتی پر وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین سے 25 جنوری تک جواب طلب کرلیا
درخواست میں وفاقی حکومت، چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ڈی جی نیب کی تقرری میرٹ سے ہٹ کر کی گئی، تقرری کے وقت قانون کو نظر انداز کیا گیا ہے درخواست میں استدعا کی گئی کہ ڈی جی نیب جمیل احمد کی تقرری کالعدم قرار دی جائے لاہور ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری خواجہ محسن عباس نے ڈی جی نیب اسلام آباد جمیل احمد کی تعیناتی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا
ایف آئی اے نے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے 45 اکاونٹس کی تفصیلات جمع کروا دیں ،ایف آئی اے کے مطابق بے نامی اکاونٹس کے ذریعے شہباز فیملی کے اکاونٹس میں 16 ارب 34 کروڑ جمع ہوئے شہباز شریف، حمزہ شہباز، سلمان شہباز کو متعدد مواقع فراہم کیے گیے،تمام ملزمان الزمات سے متعلق تفتیشی ٹیم کو مطمئن نہ کر سکے، شہباز شریف خاندان کے 45 اکاونٹس میں منی لانڈرنگ کی رقوم جمع ہوئیں، شہباز شریف کے نام پر 14 بنک اکاونٹس رجسٹرڈ ہیں، شہباز شریف کے نام پر 2008 سے 18 تک ایک ہی برانچ میں 10 اکاونٹس کھولے گئے حمزہ شہباز کے نام پر 13 بینک اکاونٹس کھولے گئے،حمزہ شہباز کے نام پر 2005 سے 18 کے دوران بینک اکاونٹس کھولے گئے، سلمان شہباز کے نام پر 2004 سے 18 تک 18 بینک اکاونٹس کھولے گئے، کوئی بھی سرکاری افسر یا پبلک آفس ہولڈر منقولہ، غیر منقولہ جائیداد اور اثاثہ جات پر جواب دہ ہے،
احتساب عدالت لاہور میں منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت 10جنوری تک ملتوی کر دی گئی ،احتساب عدالت لاہو نے شہباز شریف کے شریک ملزم احمد علی پر فرد جرم عائد کردی احتساب عدالت لاہور نے شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف نیب گواہوں کو طلب کرلیا احتساب عدالت لاہور نے حمزہ شہباز کی ایک روزہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی
احتساب عدالت لاہور میں شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف آشیانہ اقبال ریفرنس پر سماعت ہوئی ،نیب نے شہباز شریف کے شریک ملزمان کی بریت کی درخواست پر جواب جمع کرادیا نیب نے دونوں شریک ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا کردی عدالت نے وکلا کو بحث کے لیے طلب کرتے ہوئے کارروائی 10جنوری تک ملتوی کردی
قبل ازیں احتسا ب عدالت لاہورمیں نیب نے حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست پر جواب جمع کرادیا نیب نے احتسا ب عدالت لاہور میں حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کردی احتساب عدالت لاہور نے 10جنوری کو وکلا کو بحث کے لیے طلب کر لیا
قبل ازیں مسلم لیگ ن کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حمزہ شہباز نے بریت کی درخواست نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت دائر نہیں کی ،حمزہ شہبازنے کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 کے سیکشن 265 کے تحت درخواست دی حمزہ شہباز نے رمضان شوگر ملزکے جھوٹے ریفرنس میں بریت کی درخواست دائر کی حمزہ شہبازنے سیاسی انتقام کے خلاف قانون کے تحت اپنے حق کا استعمال کیا حمزہ شہباز نے ضابط فوجداری کے سیکشن 265 کے کے تحت درخواست دائر کی اس کانیب کے نئے ترمیمی آرڈیننس سے کوئی تعلق نہیں ہے،بری کرنے کی درخواست میں گراونڈز وہی ہیں جو وہ پہلے بھی بیان کر چکے ہیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں ن لیگ کے رہنما ،سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سینیٹ رکنیت نوٹیفکیشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نئے آرڈیننس کے بعد اسحاق ڈار کی سیٹ خالی قرار دینے کی درخواست پر دلائل دیئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے آرڈیننس کے خلاف درخواست مسترد کر دی نئے آرڈیننس کے بعد رکن پارلیمان ساٹھ روز میں حلف نہ اٹھائے تو سیٹ خالی قرار پائے گی آرڈیننس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ، درخواست مسترد ہونے کے بعد معاملہ انٹر اکورٹ اپیل میں زیر التوا ہے ، سپریم کورٹ کے بلانے پر اسحاق ڈار غیر حاضر رہے اسحاق ڈار نے نوٹس کے باوجود پیش نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آج تو اسحاق ڈار کے وکیل نہیں ہیں، آئندہ ہفتے کیس پر سماعت ہو گی ۔
واضح رہے کہ ن لیگ کے سینیٹر اسحاق ڈار بھی سینیٹر ہیں لیکن اجلاس میں نہیں آتے ، اسحاق ڈار لندن میں مقیم ہیں ،گزشتہ دنوں سینیٹ الیکشن میں ووٹ نہ دینے پر سابق صدر آصف زرداری نے شکوہ کیا تھا کہ اسحاق ڈار بھی ووٹ نہیں دینے آئے تاہم اب الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کر دی گئی ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن حلف نہ اٹھانے والے اراکین کی رکنیت معطل کر دے گا اور اس حلقے میں دوبارہ الیکشن ہوں گے
حمزہ شہباز نے بریت کی درخواست کیوں دی؟ ن لیگ کا بڑا دعویٰ
مسلم لیگ ن کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حمزہ شہباز نے بریت کی درخواست نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت دائر نہیں کی ،حمزہ شہبازنے کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 کے سیکشن 265 کے تحت درخواست دی حمزہ شہباز نے رمضان شوگر ملزکے جھوٹے ریفرنس میں بریت کی درخواست دائر کی حمزہ شہبازنے سیاسی انتقام کے خلاف قانون کے تحت اپنے حق کا استعمال کیا حمزہ شہباز نے ضابط فوجداری کے سیکشن 265 کے کے تحت درخواست دائر کی اس کانیب کے نئے ترمیمی آرڈیننس سے کوئی تعلق نہیں ہے،بری کرنے کی درخواست میں گراونڈز وہی ہیں جو وہ پہلے بھی بیان کر چکے ہیں
پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے بھی ریلیف مانگ لیا ،حمزہ شہباز کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں نیب کے نئے آرڈیننس کے تحت عدالت سے ریلیف مانگا گیا ہے، حمزہ شہباز کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ رمضان شوگر ملز ریفرنس میں جس نالہ کی تعمیر کا ذکر ہو رہا ہے وہ رمضان شوگر ملز یا کسی نجی ادارے کی ملکیت نہیں رمضان شوگر ملز کیلئے نالہ بنانے کے الزام میں دائر کردہ ریفرنس بے بنیاد ہے رمضان شوگر ملز کا میں اکیلا مالک نہیں ہوں چیف ایگزیکٹو آفیسر ہونے کی بنیاد پر مجھے ملزم نامزد کیا گیا ہے ریفرنس صرف بد نیتی اور سیاسی بنیاد پر مبنی ہے
حمزہ شہباز نے دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ جرم ثابت ہونے کا کوئی امکان نہیں لہٰذا عدالت بری کرنے کا حکم جاری کرے ،عدالت نے نیب حکام کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب مانگ لیا عدالت نے کیس کی سماعت 20 دسمبر تک ملتوی کر دی،
قبل ازیں احتساب عدالت لاہور میں منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت ہوئی، اپوزیشن رہنماشہباز شریف احتساب عدالت لاہور میں پیش ہوئے، حمزہ شہباز پیش نہ ہوئے، وکیل نے عدالت میں کہا کہ حمزہ شہباز رشتے دار کی شادی کی تقریب کےلیے اسلام آباد میں ہیں،موٹروے بند ہونے کے باعث حمزہ شہباز پیش نہیں ہوسکتے، نیب نےشہباز شریف کے شریک ملزم کی بریت کی درخواست پر جواب جمع نہ کرایا ،نیب نے عدالت میں جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگ لی،حمزہ شہباز کی حاضری سےاستثنی معافی کی درخواست منظور کر لی گئی، عدالت نے آئندہ سماعت پر شریک ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی ،کیس کی سماعت بیس دسمبر تک ملتوی کردی گئی
کرپشن ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے ،نیب کے مطابق شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے2015 میں شوگر ملز کیلئے نالہ تعمیر کرکے خزانے کو نقصان پہنچایا،
وزیراعظم کے خطاب کے ایک ہی روز بعد عوام پر بجلی بم گرا دیا گیا،سلیم مانڈوی والا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کومسترد کردیا
پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت میں 4 روپے 74 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی گئی،وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان سستا ترین ملک بن گیا ہے،وزیراعظم کے خطاب کے ایک ہی روز بعد عوام پر بجلی بم گرادیا گیا، حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن واپس لے،
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی نااہلی کی وجہ سے بجلی صارفین کو60 ارب روپے اضافی ادا کرنے ہوں گے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیپرا کا بھی کہنا ہے کہ موثر پاور پلانٹس کو استعمال نہیں کیا جارہا،مہنگے ایچ ایس ڈی اورآر ایف اوپر مبنی پاور پلانٹس استعمال کیے جا تے ہیں، ظالم حکومت بے حسی کے ریکارڈ توڑ چکی ہے آئی ایم ایف کے حکم پر بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ کیا گیا ہے عمران خان کہتے تھے کہ بجلی کی قیمت بڑھانے والا وزیراعظم چور ہوتا ہے پاکستان میں سستی ترین حکومت عوام کے لیے تاریخ کی مہنگی ترین حکومت ثابت ہوئی ہے مافیاز کی جیبیں بھرنے والی حکومت کے خلاف ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا سروے چارج شیٹ ہے
ن لیگی رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حماد اظہر اورشوکت ترین کے درمیان مباحثہ کی ضرورت ہے،حماد اظہر اورشوکت ترین کہتے ہیں ہم نے ضرورت کے مطابق گیس درآمد نہیں کی حکومت چوتھے موسم سرما میں مناسب گیس فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے،حکومت کو کم از کم ہمیں تفریح فراہم کرنا چاہیے،ایک بحث آپ اور نیب کے درمیان بھی ہونی چاہیے،
قبل ازیں پنجاب اسمبلی میں مہنگائی کے خلاف قرارداد پیش کر دی گئی ہے ،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کے نتیجہ عوام فاقوں اورخودکشیوں پر مجبور ہیں۔انرجی کا بحرا ن بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے،ڈالر،بجلی گیس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، مہنگائی, بے روزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے،حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی اور نہ ہی کوئی مستقبل کی منصوبہ بندی ہے ہر روز بگڑتے حالات تقاضا کررہے ہیں کہ آنکھیں کھول کر دیکھا جائے، ملک اور عوام کا سوچا جائے ۔وقت نے ثابت کیا کہ نوازشریف کے بجلی و گیس کے طویل المدتی معاہدے درست فیصلہ تھا ۔حکومت صرف عوام کو لوٹ رہی ہے، یہ سلسلہ یوںہی جاری رہا تو تباہ حال معیشت میں قوم پیٹ پر پتھرباندھ کر روئے گی،توانائی کی قیمت میں بتدریج اضافہ مہنگائی سے مرتی عوام پر ایک ناقابل برداشت بوجھ ثابت ہوگا،قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ابجلی کی قیمتوں اورشیا خوردونوش کی قیمتوں میں کمی اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں
مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب ڈیلی ویجز پر کام کررہے ہیں،شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کیا ملک میں کوئی غیر متنازعہ آدمی نہیں ؟احتساب کا ادارہ خود حساب نہیں دے رہا،چیئرمین نیب کمیٹی میں کہتے ہیں سیشن ان کیمرا ہو،انصاف کا نظام سب کو نظر آنا چاہیے،اپوزیشن کو دبانے کے لیے بے بنیاد کیسز بنائے جارہے ہیں 6 اکتوبر کو چیئرمین نیب ریٹائرڈ ہوئے کسی سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی،عدالتوں میں کیمرے لگاکرعوام کو کارروائی براہ راست دکھائی جائے،سب عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں،اس کاذمہ دار کون ہے؟ آج وزیراعظم گرین لائن منصوبے کا افتتاح کررہے ہیں نام نہاد احتساب کرنیوالوں کا بھی احتساب دیکھیں گے،ایک نہ ایک دن انصاف ضرور ہوگا
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ 200 ممالک میں سے مہنگائی میں پاکستان کا تیسرا نمبر ہے،غریب کو تباہ کردیا گیا ہے، مہنگائی کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا گیا، حکومت نے 18 ترجمان رکھے ہوئے ہیں، جنہیں پاکستان کے عوام بھی نہیں جانتے وہ حکومتی ترجمان ہیں،حکومتی ترجمان گالی گلوچ کے پیسے لیتے ہیں ، سلیکٹڈ حکمران عوام کی پروا نہیں کرتے،گھی کی قیمت میں 58فیصد اضافہ ہوچکاہے، کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں دیگر ممالک میں اضافہ کیوں نہیں ہوا؟ عوام کے ساتھ کیا ہورہاہے ، حکمرانوں کو کوئی پروا نہیں، چیئرمین نیب کی آنکھیں اور کان بند ہیں،
دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کے خلاف نیب ریفرنسز پرعدالتی ریمارکس ہمارے موقف کی تائید ہے ،آصف علی زرداری پر بغیر ثبوت کے ریفرنس بنائے گئے،یہی سوال کرتے ہیں جب ثبوت نہیں تو ریفرنس کس کے کہنے پر بنائے جاتے ہیں؟تعجب کی بات ہے کہ عدالت ثبوت مانگ رہی، نیب کے پاس آصف زرداری کے خلاف ثبوت ہے تو پیش کیوں نہیں کیے جاتے؟آصف علی زرداری 12 سال جیل کاٹ چکے،نیب اور حکومت گٹھ جوڑ اب بے نقاب ہو چکا ہے،
غلطی ہوئی تو ہم اس وقت کے چیئرمین نیب کو بھی ذمہ دار ٹھہرائیں گے،عدالت
سابق صدر آصف علی زرداری کی نیب ریفرنسز سے بریت کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب پر شدید اظہار برہمی کیا، نیب نے عدالت سے وقت مانگ لیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ،پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ آصف علی زرداری کو پہلے احتساب عدالت نے ریفرنس میں سزا سنائی، سپریم کورٹ نے سزا کالعدم قرار دیکر کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیج دیا،بدقسمتی سے آصف زرداری کے خلاف ریفرنسز کا ریکارڈ ہی غائب ہو گیا، احتساب عدالت نے نیب کو ریکارڈ فراہم کرنے کیلئے مواقع دیے،
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے کس گراؤنڈ پر آصف علی زرداری کا کیس ریمانڈ کیا، پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ بدقسمتی سے وہ ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسارکیا کہ سپریم کورٹ کا ریکارڈ بھی غائب ہو گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ نیب ہیں پہلے یہ بتائیں کہ ریکارڈ کدھر سے غائب ہوا، پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ریکارڈ لاہور ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ کو بھیجا گیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ریکارڈ سپریم کورٹ سے غائب ہوا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ، ہائیکورٹ اور احتساب عدالتوں کو دیکھنا ہو گا کہ ریکارڈ کہاں ہے، پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ کوئی پتہ نہیں چل رہا کہ ریکارڈ کہاں سے غائب ہو گیا،
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایسا نہیں ہوتا، ریکارڈ جہاں جاتا ہے وہ رجسٹر پر نوٹ کیا جاتا ہے،سپریم کورٹ نے سزا کالعدم قرار دیا، اپیل تب ہی سنی جب ریکارڈ وہاں موجود تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ایک چیز تو طے ہے کہ ریکارڈ مسنگ ہے، پھر احتساب عدالت کیا کرتی، ارسس ٹریکٹر ریفرنس تو میرٹ پر خارج کیا گیا جس میں کک بیکس کا الزام تھا، ارسس ٹریکٹر ریفرنس میں آصف علی زرداری کو خصوصی طور پر میرٹ پر بری کیا گیا، احتساب عدالت نے قرار دیا کہ نیب کچھ بھی ثابت نہیں کر سکا،جو گراؤنڈ احتساب عدالت نے لکھیں ان میں سے بتائیں کونسی غلط ہے، پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ 2006 میں آصف علی زرداری کے خلاف اس ریفرنس کی کارروائی روک دی گئی،بعد میں پھر فوری طور پر ریفرنس پر سماعت شروع ہوئی اور بریت کی درخواست دائر ہوئی،ہماری استدعا ہے کہ نیب کی یہ اپیل نمٹا دی جائے،
آصف رداری کے خلاف بغیر شواہد ریفرنس بنانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی اہم ترین آبزرویشنزسامنے آئی ہے جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ 7سال ہو گئے، نیب یہ بتائے کہ اپیل چلانا چاہتا ہے یا نہیں، نیب پر اسی لیے پولیٹکل انجینئرنگ کا الزام ہے کہ اس کے پاس کوئی کیس ہوتا ہی نہیں کیوں نہ نیب کو عدالتی وقت ضائع کرنے پر ذمہ دار قرار دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب یہ مان لے کہ تب ریفرنسز بناتے ہوئے ہم سے غلطی ہوئی تھی،اگر غلطی ہوئی تھی تو ہم اس وقت کے چیئرمین نیب کو بھی ذمہ دار ٹھہرائیں گے،نیب سب کا احتساب کرتا ہے، نیب کا بھی احتساب ہونا چاہیے، پھر اس بات کو درست مان لیا جائے کہ نیب سیاست کیلئے استعمال ہوتا ہے،کیا آپکو معلوم ہے کہ نیب کے اقدامات کا معیشت پر کتنا اثر ہوتا ہے، اگر ہمیں لگا کہ نیب کی نیت درست نہیں ہے تو پھر عدالت معاملے کو چھوڑے گی نہیں، فیصلے کے مطابق نیب احتساب عدالت میں کوئی ثبوت اور شواہد پیش نہیں کر سکا تھا،قانون کے مطابق غلط ریفرنس بنانے پر نیب کے خلاف کارروائی ہوتی ہے،اگر نیب اپنی اپیل پر عدالت کو مطمئن نہ کر سکا تو ہم نیب کے خلاف کارروائی کرینگے،
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیب نے کس کے کہنے پر آصف زرداری کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب ایک شخص کی ہتک عزت کر رہا ہے تو اس پر نیب کا احتساب ہونا چاہیے،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بھروانہ صاحب، مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آیا آپ کہہ کیا رہے ہیں اور چاہتے کیا ہیں، پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ نیب اس اپیل کو آگے نہیں چلانا چاہتا، عدالت اپیل نمٹا دے،بصورت دیگر عدالت ہمیں ریکارڈ تلاش کرنے کا موقع دے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب عوام کا وقت ضائع کر رہا ہے، سات سال ہو چکے اور نیب کوئی چیز نہیں لا سکے، ہم اگلے سال تک ملتوی کر دیں، جسٹس نور الحق قریشی صاحب بھی نیب سے کہتے تھے کوئی دستاویز تو دیدیں، آج سالوں بعد بھی آپ سے عدالت وہی مطالبہ کر رہی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نیب سب کا احتساب کرتا ہے نیب کا احتساب کون کریگا، نیب کے پاس کچھ ہوتا نہیں ہے اور پھر سب عدالتوں پر ڈال دیتے ہیں، پراسیکیوٹر جنرل نیب اپیلوں کا جائزہ لیں اور آئندہ سماعت پر عدالت کو مطمئن کریں،
ان لوگوں کی نشاندہی کرنی ہوگی جنہوں نے نسلہ ٹاور کی منظوری دی،وزیراعلیٰ سندھ
احتساب عدالت اسلام آبادمیں جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی
احتساب عدالت اسلام آباد میں نوری آباد پاورکمپنی کرپشن کیس کی سماعت ہوئی،وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش ہوئے .شریک ملزم نیاز علی شیخ کی درخواست پر نیب کا جواب جمع کروا دیا گیا کیس کا ریکارڈ اسلام آباد ہائی کورٹ جانے کے باعث سماعت ملتوی کر دی گئی،جج احتساب عدالت نے نیب کو محمد علی کے اثاثوں سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،احتساب عدالت اسلام آباد نے کیس کی سماعت 11جنوری تک ملتوی کر دی
عدالت پیشی کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ احتسا ب عدالت اسلام آباد میں پیشی تھی ،گورنرسندھ سے گزشتہ روز ملاقات ہوئی گورنر سے ملکی معاملات پر بات ہوئی کراچی میں نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق آپریشن جاری ہے سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کیس میں کسی کانام نہیں لیا صرف کہا غیرقانونی عمارت ہے،ہمیں ان لوگوں کی نشاندہی کرنی ہوگی جنہوں نے نسلہ ٹاور کی منظوری دی،غیرقانونی عمارتیں تعمیر کرانے کی منظوری دینے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے نسلہ ٹاورگرانے کے بجائے کوئی اور راستہ ہوسکتا تھا،گورن رسندھ سے لوکل گورنمنٹ بل پر کوئی بات نہیں ہوئی،عمارتوں کو ریگولرائزکرنے کیلئے ریٹائرڈجج کی سربراہی میں کمیشن بنائیں گے ،