Baaghi TV

Tag: نیب

  • احتساب کا منہ زور گھوڑا بے لگام ہوچکا ہے، جاوید ہاشمی بھی میدان میں آگئے

    احتساب کا منہ زور گھوڑا بے لگام ہوچکا ہے، جاوید ہاشمی بھی میدان میں آگئے

    (نعمان بھٹہ نمائندہ باغی ٹی وی) جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ نیب کے یکطرفہ احتساب کا منہ زرو گھوڑا بے لگام ہوچکا ہے یہ سلیکٹڈ احتساب کا طریقہ کار ہےسب کاروائیوں کا مقصد ن لیگ کو ختم کرنا اور نئی پارٹی بنانا تھی۔سنیئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے ملتان میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ ایسی پارٹی بنانا چاہتے تھے جو انکی ساری باتوں کو عملی جامہ پہنائے اس لئےمشرف کے ساتھ رہنے والی ساری قوتیں اکٹھی کر دی گئی ہیں۔ پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہتا ہوں یہ تجربہ پہلے ہی ناکام ہوچکا باربار کیوں دہرا رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کو ایک وعدہ معاف کے کہنے پر گرفتار کیا گیاایک نہیں اور کئی گرفتاریاں ہونگی۔آج پیپلز پارٹی کے لوگوں کو بھی ویسے ہی ہراساں کیا جارہا ہے جیسے مشرف دور میں کیا گیا۔

    احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے ویڈیو سیکنڈل کے حوالے سے جاوید ہاشمی کا کہناتھا کہ جج کی ویڈیو جس نے بھی بنائی اس میں جج موجود تو ہےجب شہباز شریف نے جج سے بات کی تھی تو جج بھی گیا تھا اور زرداری صاحب کی سزا بھی ختم ہوئی تھی ۔اب جب ویڈیو پکڑی گئی جج کی پاور واپس لے لی گئی تو سب سے پہلے نواز شریف کی سزا ختم ہونی چاہیئے تھی سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی شخص کی آزادی کو سلب نہ ہونے دے سپریم کورٹ کو نواز شریف کی سزا ختم کردینی چاہیے۔مخدوم جاوید ہاشمی کا مزجد کہناتھا کہ نیب نے اتنے لوگوں کو گرفتار کیا برآمد کچھ نہیں ہواگرفتاریاں کی ہیں تو کچھ برآمد کریں تاکہ اس سے ملک میں مہنگائی میں کمی آئے۔

  • کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں اور ایماندار لوگوں کے لیے احتساب کے عمل سے گزرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک تنگ گلی ہو اور وہ کانٹوں سے بھری ہوئی ہو اور وہ عبور کرکے آپ کو منزل مقصود کی طرف گامزن ہونا ہو اور یہ ایسے ہی ممکن نہیں ہے اس کے لیے یا تو کپڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروا کر زخمی حالت میں عبور کیا جا سکے گا یا پھر اس گلی یا رستے کو ہی صاف کروا لیا جاۓ گا.

    اب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو گلی کو طویل محنت و کاوش سے صاف کروا کے گزر جائیں گے اور کئی ہوں گے جو وہاں پہ کھڑے شور ہی مچاتے رہ جائیں گے اور الزام تراشی کا سہارا لے کے دوسروں کو کوستے رہیں گے.

    کچھ ایسی ہی مثال ان کرپٹ سیاستدانوں کی بھی ہے جو برسوں سے اس ملک کو لوٹ کے کھا چکے ہیں اور اپنی من مرضی کے قوانین بنا کے ان قوانین کی آڑ میں بدمعاشیاں کرتے پھرتے ہیں اور اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر گرداننا شروع کر دیتے ہیں.

    جب بھی احتساب کی بات شروع ہوتی ہے تو یہ کرپٹ ٹولہ اکٹھا ہو جاتا ہے اور اپنی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیتا ہے تاکہ وہ اس کانٹوں بھری گلی میں پھنسنے کی بجاۓ کسی چور رستے سے فرار ہو جائیں اس کے لیے کبھی وہ نیب کے چیئرمین کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں اور کبھی فوج پہ تنقید شروع ہو جاتی ہے.

    مریم صاحبہ کی کل والی پریس کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو سواۓ پروپیگنڈے اور سازش کے کچھ نہیں ہے اس میں انہوں نے ایک جج صاحب کی ویڈیو جاری کی ہے اور بقول مریم صاحبہ کے ارشد ملک صاحب بتانا چاہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو سزا دینے کے لیے زبردستی فیصلہ لیا گیا ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ محض جھوٹ اور سازش کا پلندہ ہے کیونکہ آج جج صاحب نے اس کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں وہ عدالت بھی پیش ہوۓ ہیں.

    آئیے آپ کی خدمت میں اس ویڈیو کی کچھ جھلکیاں پیش کرتے ہیں ویڈیو کے پہلے حصہ میں یہ کہا گیا ہے کہ استغاثہ لندن پراپرٹیز کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا یہ بات تو اس نے دسمبر 2018 والے فیصلے میں بھی کہی تھی اس میں سرپرائز یا دھماکے دار بریکنگ نیوز والی بات تو نہیں ہے.

    دوسرے حصے میں وہ کہہ رہے ہیں سازندے سرنگی بجاتے وقت مطلوبہ میوزک حاصل کرنے کے لیے کہیں سے تار ٹائٹ کر دیتے ہیں اور کہیں سے ڈھیلے کر دیتے ہیں. اب یہاں پہ مریم صاحبہ اس کی تعبیر لے رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے زبردستی میاں صاحب کو سزا دلوائی حالانکہ اس کی تعبیر کچھ یوں بنتی ہے کہ میاں صاحب کو سزا تو تینوں کیسز میں ملنی چاہئے تھی لیکن اوپر سے شاید ایک کیس پہ سزا کا حکم تھا.

    مریم صاحبہ کے اپنے الفاظ کے پیش نظر کہ آڈیو اور ویڈیو ساؤنڈ علیحدہ علیحدہ ریکارڈ کیے گئے ہیں اس لیے ان میں مطابقت نہیں پائی جا رہی اب یہ مان بھی لیا جاۓ تو جس طرح ویڈیوز کے ٹوٹے ملا کے یہ بنائی گئی ہے یہ فرانزک رپورٹ میں ہی ایکسپوز ہو جاۓ گی اور یہ کورٹ میں بطور ثبوت ناکافی ہو گی.

    دوسری اہم بات جو یہاں محسوس کی گئی ہے اگر یہ آواز ارشد ملک کی ہے تو قوی امکان ہے کہ اسے نشہ آور چیز پلا کے اسے نشے میں دھت کر کے اس کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں ناصر بٹ جس طرح اسے ورغلا رہا ہے اور اس سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن نشے کی حالت میں بھی وہ العزیزیہ اسٹیل مل میں آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا کیس غلط تھا یا اسے غلط سزا دی گئی ہو. یاد رہے کہ ناصر بٹ خود ماضی میں کئی کیسوں میں اشتہاری بھی رہ چکا ہے اور یہ ارشد ملک کا بہت قریبی دوست بھی ہے جو اسے نشہ آور چیز دے کے اس سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیان دلوانا چاہ رہا تھا لیکن ایسا کچھ تھا ہی نہیں جو وہ اگل دیتا.

    یہ پروپیگنڈہ صرف اور صرف احتساب کے عمل کو شک میں ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ کوئی بھی اس پہ یقین نہ کرے اور حکومت و فوج پہ تنقید کرکے ان کو بدنام کیا جا سکے اور چوروں اور لٹیروں کے بیانیے کو تقویت ملے اور عوام ان چوروں کا ساتھ دیتے ہوۓ سڑکوں پہ نکلیں لیکن ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اب عوام کسی بھی سازش میں نہیں آۓ گی اور اس ملک کو کھانے والے اس کے دشمنوں کا کھل کے مقابلہ کرے گی اور احتساب کے عمل میں حکومت پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گی.
    اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو
    پاکستان پائندہ باد

  • میں نے نوازشریف اور زرداری کوکہا تھا کہ نیب کو ختم کردو ورنہ؟مولانا فضل الرحمن کے شکوے

    میں نے نوازشریف اور زرداری کوکہا تھا کہ نیب کو ختم کردو ورنہ؟مولانا فضل الرحمن کے شکوے

    اسلام آباد:میں نے نواز شریف اور زرداری کو مشورہ دیا تھا کہ نیب کو ختم کردو ابھی موقع ہے ورنہ ہمیں سب کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا.ان خیالات کا اظہار میدان سیاست کے معروف پلیئر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں کیا .مولان فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ نیب ڈمی ادارہ ہے جو مشرف کے وقت سے استعمال ہو رہا ہے،انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا قوم کے لیے بڑی خبر ہے جس میں تمام فیصلے متفقہ ہوئے۔مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ اے پی سی میں چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی پر سب کا اتفاق تھا، یقین ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی نظر ہو گی کہ چیئرمین سینیٹ کو کیسے تبدیل کیا جائے، عدم اعتماد کی تحریک کے لیے ارکان کو منظم کرنا ہو گا۔

    مولانا فضل الرحمن کی باتون سے اے پی سی میں اختلافات کی بو بھی آرہی تھی جب ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی رائے ہے کہ اے پی سی کی سربراہی کرنے والا ہی رہبر کمیٹی کی سربراہی کرے لیکن اگر یوسف رضا گیلانی سربراہی کریں تو مجھے اعتراض نہیں ہے۔حکومت نے آئی ایم ایف کا آدمی اسٹیٹ بینک میں بٹھا دیا، حکومت نے باہر کا آدمی ایف بی آر میں بٹھا دیا، ملک کے حالات ایسے ہیں کہ نواز شریف جیسے آدمی کے لیے بھی ملک کی معیشت کو ٹھیک کرنا مشکل ہو گا۔

    رانا ثناء اللہ کی گرفتاری سے متعلق مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں سے تحریکیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ انہیں جلا ملتی ہے، رانا ثناء اللہ کو گرفتار کر کے ڈراما رچایا گیا ہے، جسے علم ہو کہ اسے گرفتار کیا جانا ہے تو کیا وہ اس طرح کرے گا؟ چیئرمین نیب سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے پاس آئے اور کہا میرا بہت احترام کرتے ہیں۔ چیئرمین نیب مجھے ملنے آئے تو میں نے انہیں نہیں پہچانا، میں نے انہیں وہی احترام دیا جو ملنے آئے شخص کو دیا جاتا ہے لیکن بعد میں مجھے بتایا گیا کہ جو آپ سے ملنے آئے وہ چیئرمین نیب تھے جس پر میں نے ان لوگوں سے کہا مجھے بتانا تو چاہیے تھا کہ یہ چیئرمین نیب تھے۔

  • عمران خان ظلم  اتنارکریں جتناکل برداشت کرسکیں،بلاول بھٹوعمران خان پربرس پڑے

    عمران خان ظلم اتنارکریں جتناکل برداشت کرسکیں،بلاول بھٹوعمران خان پربرس پڑے

    نواب شاہ:سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی تاریخ پیدائش کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہیں دبے دبے لفظوں میں خبردار کیا اور کہا کہ عمران خان ظلم اتناکریں جتناکل کو وہ برداشت کرپائیں.عوامی اجتماع سے بڑا جزباتی خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا حکومت احتساب کے نام پر انتقام لے رہی ہے مجھے جمہوریت کا سورج ڈوبتا ہوا نظر آرہا ہے.ملک میں نیب گردی اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے .احتساب کے نام پر جھوٹ بولا جارہا ہے. اس وقت ایک پاکستان عمران خان کا ہے اور ایک پاکستان عوام کا ہے .عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہاں لوگ چندہ مانگ کر ہپستال بناتے ہیں اور پھر اس کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں.

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت صوبوں کے حقوق ختم کرنا چاہتی ہے. اس وقت پیپلز پارٹی حکومت کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے.بلاول نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ وہ دعا کریں کہ آصف علی زرداری کی حکومت آئے .آصف علی زرداری کی حکومت آئی تو وہ عمران خان سے بدلہ نہیں لے گا.اور اگر مولانا فضل الرحمن کی حکومت آئی تو مولانا صاحب خان صاحب کو سنگسار کیا جائے گا.مریم نواز سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اور خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ن لیگ کی حکومت آئی تو یاد رکھو کہ آپ کے گھر میں خواتین ہیں.بلاول نے عمران خان کو خبردار کرتے ہوئے کہا یاد رکھو کہ شہید بے نظیر کی بیٹی کو آپ رلا رہے ہیں آپ سے ایک ایک آنسو کا حساب لیا جائے گا. بزدل لوگ ہی خواتین اوربزرگوں کونشانہ بناتےہیں.ہم جانتےہیں آصف زرداری کوانتقام کانشانہ کیوں بنایاجارہاہے.

    عمران خان کو بار بار تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا خان صاحب آپ 70 سال کےبوڑھےاورمیں نوجوان ہوں.میں حساب لوں گاان مزدوروں کاجن کی آپ نےکمرتوڑی .میں حساب لوں گاان غریبوں کاجن کوآپ نےبےگھرکیا.بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ آصف علی زرداری کے خلاف کسی قسم کے اقدامات سے باز رہے.

  • احتساب ۔۔۔ اسد عباس خان

    احتساب ۔۔۔ اسد عباس خان

    وہ ایک جاگیردار اور جاگیردار کا بیٹا تھا۔ شنید ہے بچپن میں کبھی کسی فلم یا ڈرامے کا کردار بھی بنا اور لڑکپن میں سینما ہال کے باہر ٹکٹیں بھی بلیک میں فروخت کیں۔ جوانی میں قدم رکھا تو اس وقت کے سب سے بڑے پاکستانی سیاستدان (ذوالفقار علی بھٹو) کی بیٹی (محترمہ بینظیر بھٹو) کو اُچک لیا۔ کچھ لوگ اسے ڈاکو بھی کہتے ہیں اس بات میں تو سچائی کا علم نہیں البتہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اپنی ہی اہلیہ کے دور حکومت میں ایام زندگی جیل کی کال کوٹھری میں گزارے۔ جس کا دو مرتبہ کی منتخب وزیراعظم (بینظیر بھٹو) اور ملک کی اہم سیاسی جماعت کی سربراہ کا شوہر ہونے کے باوجود کوئی سیاسی کردار نہیں تھا۔ مرحومہ جب جلاوطنی کی زندگی گزار کر واپس آ رہی تھی اور کراچی میں آمد کے ساتھ ہی محترمہ پر خود کش حملہ ہوا جس میں سینکڑوں قیمتی جانیں گئیں۔ اور پھر خطرے کو دیکھنے کے باوجود مرحومہ نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھی یہاں تک کہ راولپنڈی میں ایک اور مہلک حملہ ہوا اور محترمہ اس حملہ میں جاں بحق ہو گئیں تو یہ شخص باہر بیٹھ کر سب کچھ (پلاننگ) دیکھ رہا تھا۔ لوگ جس شخص کو قاتل سمجھ رہے تھے وہ شخص محترمہ بینظیر بھٹو کے دنیا سے رخصت ہونے کے ساتھ ہی ٹسوے بہاتے ہوئے وطن واپس آ پہنچا اور ساتھ ہی ایک خفیہ خط نکال لایا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ میرے بعد آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے سربراہ ہوں گے۔ 2007 کے عام انتخابات میں بینظیر بھٹو کے نام پر پڑنے والے ووٹ کا خوب فائدہ اٹھایا گیا ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد محترمہ کے قاتلوں کو پکڑنے کے بجائے کمال چالاکی سے محترمہ کے معتمد ساتھیوں کو بطور خاص ٹھکانے لگا دیا گیا۔ شدید مخالف حزب اختلاف کو بھی خوب مہارت سے ڈیل کیا۔ جو جس پر خوش ہوا اسے اس ضمانت پر دے دیا گیا کہ میری کرسی کو کوئی گرزند نہ پہنچ پاۓ۔ اس تمام عرصہ میں کرپشن اور بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے، ملکی شرح نمو زوال پذیر ہوئی، برآمدات و درآمدات میں وسیع خلیج پیدا ہونے کے باعث ڈالر کو پر لگ گئے، قومی اداروں کو خوب نقصان پہنچایا گیا ریلوے، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل مل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئیں، عدلیہ سے پنگے بازی اور فیصلوں پر عملدرآمد کرنے میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے، حسین حقانی جیسے غدار کو امریکہ میں سفیر مقرر کیا اور میمو گیٹ اسکینڈل سامنے آیا، سیاست پوری طرح کاروبار کی شکل اختیار کر گئی مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے بچہ بچہ واقف ہوا اور یوں ملکی تاریخ میں پہلی بار جمہوری حکومت نے اپنی مدت مکمل کی اور زرداری صاحب کا مشہور زمانہ قول "جمہوریت بہترین انتقام ہے” واقعی ریاست اور عوام سے انتقام لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگلی حکومت "ن” لیگ کی آئی تو مسٹر ٹین پرسنٹ نے بظاہر اپنے حریف کے ہر مشکل وقت میں (اندر خانے) خوب یاری نبھائی۔ ہر بار میثاق جمہوریت کا راگ الاپا، وقتاً فوقتاً سندھ کارڈ بھی کھیلا۔ ایان علی، منی لانڈرنگ، فالودے اور سبزی والوں کے ناموں پر کروڑوں اربوں روپوں کی ٹرانزکشن سمیت سینکڑوں بے نامی اور فیک بینک اکاؤنٹ ظاہر ہونے کے بعد جب متعلقہ حکام نے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کیا تو یہی صاحب دھمکیاں دینے پر آ گئے۔ کبھی فوج اور عدالتوں کو بڑھکیں لگائی کہ "وہ تین سال کے لیے آتے ہیں ہمیں ہمیشہ رہنا ہے” اور کبھی "میں ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا” جیسے جملے کسے۔ وفاقی احتساب کے ادارے نیب کے چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا! "چیرمین نیب کی کیا حیثیت ہے اسکی کیا مجال ہے جو میرے اوپر کیسس بنواۓ”
    پھر یوں گویا ہوئے کہ نیب کو میں تھکا دوں گا۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
    بار بار ضمانتیں ہوتی رہی اور آج جب ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نے گرفتار کیا تو پھر پوری دنیا نے زرداری کو بھیگی بلی بنا دیکھا۔ گرفتاری کی ویڈیو دیکھ کر بلاول کی ہنسی بتا رہی تھی کہ وہ بہت خوش ہے۔ شائد اپنی والدہ کے قاتل پکڑے جانے کی خوشی ہو واللہ اعلم
    نواز شریف اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہے اب زرداری صاحب بھی جیل روانہ ہو چکے ہیں جو شاید میاں صاحب کی تنہائی کے ساتھی بنیں گے۔ بار بار کمینی مسکراہٹ کے ساتھ گیارہ سال جیل میں گزارنے کو بطور فخریہ بتانے اور پھر اس بات پر اترانے والوں کے جیالوں کو سوچنا چاہئے کہ جیلوں سے عزت دار لوگ ڈرتے ہیں چوروں ڈاکوؤں کو اس کی عادت ہوتی ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ اصل امتحان اب عوام کا بھی ہے کہ وہ ان چوروں ڈاکوؤں کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہ بنیں۔ احتسابی اداروں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بلا تفریق احتساب کا عمل اب رکنا نہیں چاہیے۔