Baaghi TV

Tag: نیب

  • ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

    190 ملین اسکینڈل کیس ،ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس عدالتی حکم پر ضبط کرلیے گئے۔
    ملک ریاض اور علی ریاض کے منجمند اثاثہ جات اور بنک اکاونٹس کی دستاویزات جاری کر دی گئی ہیں،ملک ریاض کی منجمند گاڑیوں میں لینڈ کروزر، بی ایم ڈبلیو گاڑیاں شامل ہیں،اشتہاری ہونے پر ملک ریاض اور علی ریاض کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا گیا تھا،ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے نام پر 9قیمتی ترین پلاٹ،52 بیش قیمت کاریں اور 78 بینک اکاؤنٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے،

    عدالت نے حکم میں نیب کو کہا ہے کہ بحریہ ٹاون اور ملک ریاض حسین کے تمام خاندان کی تمام جائیدادیں ایک ہفتے میں منجمد کردی جائیں، تمام بڑے دفاتر کی جائیدادیں بھی منجمد کردی جائیں،جائیدادوں میں بحریہ ٹاون دفاتر، بحریہ سینما، بحریہ سکول بلڈنگ، بحریہ مرکی اوربحریہ میڈیا ہاوس بھی شامل ہیں، عدالت نے ملک ریاض، علی ریاض ملک، فیصل سرور، ملک حبیب اور سیلمان خان کی تمام جائیدادیں اوربینک اکاونٹس منجمد کیے جارہے ہیں۔ بحریہ ٹاون کی تمام گاڑیاں، بینک اکاونٹس اور دفاتر کی جائیدادیں بھی منجمد کی جائیں گی

    عدالت نے ملک بھر کے ریونیو افسران کو ملزمان کی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسران کو ان کے ناموں پر رجسٹرڈ گاڑیاں ضبط کرنے کا حکم دیا گیاعدالت نے کمرشل بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ ان کے کھاتوں کو منجمد کریں اور لین دین یا سرمایہ نکالنے کی اجازت نہ دیں، عدالت نے ان ملزمان کی ملکیتی جائیدادوں سے کرائے کی آمدنی حاصل کرنے کے لیے نیب کے ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر کو بطور ”رسیور“ بھی مقرر کیا۔

    قبل ازیں 190 ملین پائونڈ کیس میں چھ ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا گیا۔ اشتہاری قرار دینے والوں میں ملک ریاض اور علی ریاض بھی شامل ہیں.عدالت میں شریک ملزمان سے متعلق تفتیشی آفیسر نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا،شریک ملزمان میں ملک ریاض، علی ریاض ملک، فرحت شہزادی، ضیاء السلام نسیم، شہزاد اکبر اور ذلفی بخاری شامل ہیں

    ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج
    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں ملک ریاض کی جانب سے انکے وکیل فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں تین درخواستیں دائر کیں۔ایک درخواست وڈیو لنک کے ذریعے پیشی دوسری درخواست حاضری سے استثنیٰ کی تھی۔تیسری درخواست ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی تھی۔عدالت نے ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج کردی۔وڈیو لنک اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں فاروق ایچ نائیک نے واپس لے لیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ملزم عدالت میں خود پیش نہیں ہوتا استثنیٰ نہیں دے سکتے،

    واضح رہے کہ سات دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں شریک ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغازہو ا تھا،احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ ریفرنس کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم عدالت میں پیش ہوئے، رپورٹ جمع کرائی، ریفرنس میں شریک 6 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، ملزم ملک ریاض، مرزا شہزاد اکبر، ضیاء المصطفی نسیم کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی،ملزم ذلفی بخاری، احمد علی ریاض، فرحت شہزادی کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، رپورٹ کے مطابق ملزمان جان بوجھ کر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں ہونے دے رہے، خود کو چھپا رکھا، ملزمان کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے دینے کا مقصد قانونی نظام کو خراب کرنا ہے، عدالت اس حوالے سے مطمئن ہے کہ ملزمان مفرور ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپے ہوئے، احتساب عدالت سیکشن 87 کے تحت مفرور ملزمان کےخلاف اشتہاری کے نوٹسز جاری کرتی ہے،ملزمان کے حوالے سے ان کی رہائش گاہوں کے باہر اشتہارات چسپاں کیے جائیں، ملزمان کے آبائی، رہائشی علاقوں میں بھی اشتہارات کو اونچی اواز میں پڑھا جائے.

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کر رکھا ہے،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں، ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔

    2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

    نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

    اسلام آباد: نیب نے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹی گیشن بند کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : "دی نیوز” کے مطابق نیب کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعلان کے مطابق، یکم جنوری 2024 کو ہونے والی بیورو کی ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ (ای بی ایم) کے فیصلے کے بعد نواز شریف اور ان کی فیملی کے ارکان کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انوسٹیگیشن بند کر دی گئی ہے۔

    شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹی گیشن کی منظوری 31؍ مارچ 2000 کو دی گئی تھی شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ شریف فیملی نے خفیہ طور پر شریف ٹرسٹ میں کروڑوں روپے وصول کیے ہیں، یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ٹرسٹ کے کھاتوں کا آڈٹ نہیں کرایا گیا اور رقوم میں خرد برد کی گئی ہے۔

    یہ بھی الزام لگایا گیا کہ شریف خاندان نے اثاثے بنا رکھے ہیں جو ٹرسٹ کے نام پر بے نامی جائیدادوں کے طور پر رکھے گئے تھے۔ پانامہ پیپرز میں تشکیل دی گئی متنازع جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا تھا کہ 2000ء میں منظوری کے بعد سے شریف ٹرسٹ کیس میں انوسٹی گیشن کو نیب نے بلا جواز تاخیر کا شکار کر رکھا ہے۔

    بیٹی نے گھر پر قبضہ کر کے بیوہ ماں‌کو نکال دیا،بیوہ خاتون کا تحفظ کا …

    پانامہ جے آئی ٹی نے تجویز دی تھی کہ نیب کو ہدایت کی جائے کہ وہ قلیل مدت میں انویسٹی گیشن مکمل کرنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے اب، نیب نے شہباز شریف حکومت کی جانب سے ترمیم شدہ نیب ایکٹ 2022ء کے سیکشن 31 بی کے تحت انوسٹی گیشن بند کر دی ہے۔

    اس قانون کے سیکشن 31؍ بی ذیل میں پیش کیا جا رہا ہےکہ ’زیر التواء کارروائی کو واپس لینا اور ختم کرنا:۔ (1) کسی ریفرنس کی پیروی سے قبل، چیئرمین، نیب پراسیکیوٹر جنرل کے ساتھ مشاورت سے، حقائق، حالات اور شواہد کی مجموعی حیثیت کو دیکھتے ہوئے، جزوی طور پر اس ایکٹ کے تحت کسی بھی کارروائی کو مکمل طور پر، مشروط یا غیر مشروط طور پر واپس لے سکتے ہیں یا ختم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ غیر منصفانہ ہو۔

    میڈیا انتخابات سے متعلق خبروں پر الیکشن کمیشن کا موقف لے، مرتضی سولنگی

    (2) ریفرنس دائر کرنے کے بعد، اگر چیئرمین نیب پراسیکیوٹر جنرل کی مشاورت سے، حقائق، حالات اور شواہد کی کُلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ خیال کرے کہ ریفرنس جزوی یا مکمل طور پر ناجائز ہے، تو وہ سفارش کر سکتا ہے کہ جس عدالت میں یہ معاملہ زیر التوا ہے کہ وہاں ریفرنس جزوی طور پر یا مکمل طور پر واپس لیا جا سکتا ہے یا ختم کیا جا سکتا ہے۔

    (i) اگر یہ ریفرنس الزام عائد کیے جانے سے پہلے بنایا گیا ہو، تو ملزم کو اس معاملے میں ڈسچارج کر دیا جائے گا، اور (ii) اگر یہ ریفرنس الزام عائد کیے جانے کے بعد دائر کیا گیا ہے، تو وہ ایسے جرم یا جرائم کے سلسلے میں بری ہو جائے گا۔ نواز شریف کیس کے علاوہ، پانچ انکوائریز کو بھی بند کیا گیا ہے۔

    میرے خلاف لطیف کھوسہ کی فرم کے وکلا پیش ہوئے،خواجہ سرانایاب علی

    ان میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے سابق چیف آپریٹنگ افسر اکبر ناصر خان، دیگر افسران، اہلکاروں اور دیگر کیخلاف انکوائری،1998 میں سوشل ایکشن پروگرام (ایس اے پی) کے تحت کاؤنٹر فنڈ کے قیام کیلئے پاکستان اور جاپان کی حکومتوں کے درمیان ڈھائی سو ملین ڈالرز (11؍ ارب روپے یا 32.032؍ ملین ین) کے قرضے کے حصول کیلئے کیے گئے معاہدے کے حوالے سے سرکاری عہدیداروں اور دیگر کیخلاف شروع کی جانے والی انکوائری شامل ہے۔

    پارک انکلیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالے سے سی ڈی اے کے افسران اور اہلکاروں کیخلاف انکوائری، اسلام آباد کی پبلک لمیٹڈ کمپنیوں میں من پسند افراد کی غیر قانونی بھرتی اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اربوں روپے کے فنڈز کے اجراء کے حوالے سے وفاقی حکومت کے ملازمین اور افسران کیخلاف انکوائری اور شاہد ملک، شہباز یاسین ملک، صائمہ شہباز ملک اور دیگر کیخلاف انکوائری شامل ہے۔

    اوچ شریف:اسلام آباد سے کراچی جانےوالی بس نہرمیں گرگئی،3 مسافرجاں بحق،متعددزخمی

  • پی ٹی آئی حکومت نے میرے کیس سے فائدہ اٹھا کر اپنے نیب کیسز ختم کرائے،طیبہ گل

    پی ٹی آئی حکومت نے میرے کیس سے فائدہ اٹھا کر اپنے نیب کیسز ختم کرائے،طیبہ گل

    اسلام آباد: طیبہ گل نے الزام عائد کیا ہے کہ میرا کیس سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ہوا او ر پی ٹی آئی حکومت نے فائدہ اٹھا کر اپنے نیب کیسز ختم کرائے۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے "جیو”سے گفتگو میں طیبہ گل کا کہنا تھاکہ 2022 میں ادارہ ہراسانی محتسب میں جاوید اقبال اور دیگر کے خلاف شکایت دی،2022 میں چیئرپرسن ادارہ کشمالہ طارق نےمیرا کیس سنجیدہ نہیں لیاانہوں نےالزام عائد کیا کہ میرا کیس سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ہوا اور پی ٹی آئی نے فائدہ اٹھایا،بانی پی ٹی آئی وزیراعظم تھے تو وزیراعظم ہاؤس سے کال آئی کہ وہ ملنا چاہتے ہیں، 45 دن مرضی کے بغیر مجھےشوہر سمیت وزیراعظم ہاؤس میں حبس بے جا میں رکھا گیاپی ٹی آئی کو ڈرتھا کہ باہرگئی تو حقائق سب کو معلوم ہوجائیں گے، کوئی مدینہ کی ریاست نہیں تھی، لوگوں کو بیوقوف بنایا گیا۔

    اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے بیورو چیف کا بڑا بیٹا بھی شہید

    نجی خبررساں ادارے کے ساتھ گفتگو میں طیبہ گل نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا جاوید اقبال کے خلاف کارروائی کریں گے اور میں نے بھروسہ کیا سارے ثبوت دئیے لیکن انہوں نے سیاسی فائدہ اٹھایا، پی ٹی آئی نے اپنے نیب کے کیسز ختم کروائے اور جاویداقبال نے سمجھوتا کیا، پی ٹی آئی کے مخالفین کی گرفتاریاں کیں مجھ سے پی ٹی آئی حکومت نے بلینک بیان حلفی لیا تھا، بانی پی ٹی آئی کے نوٹس میں سب معاملہ تھا،مجھے انصاف کہیں نظر نہیں آیا، اعظم خان نے میرے دروازے پرپہرہ دینے کیلئے سیکیورٹی کھڑی کی تھی، مجھے وزیراعظم ہاؤس میں ہراساں کیا گیا، میرے پاس ثبوت ہیں، پی ٹی آئی حکومت نے ثبوتوں کو مٹانے کی کوشش کی۔

    جے یو آئی رہنما مسلم لیگ ن میں شامل

    منگل سے شہر میں سردی کی نئی لہر متوقع

  • نیب سزا یافتہ کی 10سال نااہلی کی مدت بحال کریں،نیب نے عدالت سے رجوع کر لیا

    نیب سزا یافتہ کی 10سال نااہلی کی مدت بحال کریں،نیب نے عدالت سے رجوع کر لیا

    اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے سزا یافتہ افراد کے الیکشن لڑنے کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نیب نے عدالت سے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی ہے اور کہا ہے کہ الیکشن لڑنے کے لیے نیب سزا یافتہ کی 10سال نااہلی کی مدت بحال کریں نیب کا مؤقف ہے کہ نیب کے سزا یافتہ افراد الیکشن لڑنے کے لیے ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں۔

    نیب کا کہنا ہے کہ جون میں سنگل بینچ نے نیب نااہلی کی مدت 10کے بجائے 5 سال کر دی تھی، سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی، الیکشن لڑنے کے لیے سنگل بینچ کے فیصلے کا حوالہ دیا جا رہا ہےنیب نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت انٹرا کورٹ اپیل میں سنگل بینچ کا فیصلہ فوری معطل کرے۔

    نوبیل انعام یافتہ بنگلادیشی ماہراقتصادیات محمدیونس کو6ماہ قیدکی سزا

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے14سیاسی جماعتوں کو انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق نوٹس جاری کردیاالیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کاز لسٹ کے مطابق 14 سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق کیس کی سماعت 4 جنوری کو ہوگی 14 سیاسی جماعتوں میں جمیعت علمائے پاکستان اور پاکستان منارٹیز الائنس بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ 22 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے پارٹی آئین کے مطابق انٹراپارٹی انتخابات نہ کروانے پر پاکستان تحریک انصاف سے بلےکا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔

    ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ

  • نیب نے اسد قیصر سمیت کے پی کے سابق وزرا کو طلب کرلیا

    نیب نے اسد قیصر سمیت کے پی کے سابق وزرا کو طلب کرلیا

    پشاور: قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا نے اسد قیصر سمیت کے پی کے سابق وزرا کو طلب کرلیا،تینوں افراد کے خلاف مردان صوابی روڈ کی تعمیر میں بےضابطگیوں کی شکایات ہیں-نیب نے

    باغی ٹی وی: نیب اعلامیے کے مطابق سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو 10 جنوری کو طلب کیا گیا ہے، سابق وزراء شہرام ترکئی اور عاطف خان کو بھی 10 جنوری کو طلب کیا گیا ہے نیب خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ تینوں افراد کے خلاف مردان صوابی روڈ کی تعمیر میں بےضابطگیوں کی شکایات ہیں،عاطف خان کے خلاف سپورٹس اینڈ ٹورازم پروجیکٹس میں کرپشن کی شکایات ہیں چیئرمین نیب نے شکایات پر باقاعدہ تحقیقات کی ہدایت کردی۔

    شدید دھند کے باعث موٹروے ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    ترک صدر نے سرائیلی وزیراعظم کو ہٹلر قرار دیا

  • نواز شریف، آصف زرداری کیخلاف توشہ خانہ کیس،  نیب سے رپورٹ طلب

    نواز شریف، آصف زرداری کیخلاف توشہ خانہ کیس، نیب سے رپورٹ طلب

    اسلام آباد : احتساب عدالت میں توشہ خانہ گاڑیوں کے ریفرنس پر عدالت نے چار جنوری تک نیب سے رپورٹ طلب کرلی۔

    باغی ٹی وی : بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کی،سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی-

    دورانِ سماعت نواز شریف کے وکیل قاضی مصباح ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ برآمدگی کا نوٹس کردیں اور آئندہ سماعت پر دیکھ لیں، چھ متفرق درخواستیں ہیں ان کو بھی سن لیں، وکیل قاضی مصباح نے بتایا کہ نواز شریف شامل تفتیش ہوگئے ہیں، تفتیش کی روشنی میں نیب نے آج رپورٹ جمع کروانی تھی۔

    عام انتخابات: کاغذات نامزدگی کی وصولی کا آغاز کر دیا گیا

    جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ابھی تفتیشی افسر کو رپورٹ جمع کروانے کے لیے وقت درکار ہے، تفتیشی افسر کا تبادلہ ہوگیا تھا ڈائریکٹر بھی تبدیل ہوئے ہیں آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر آجائیں گے، آئندہ سماعت پر رپورٹ بھی جمع کروادیں گے۔

    جس پر عدالت نے کہا کہ آپ چار دن میں جواب جمع کروا دیں نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ چار دن رپورٹ جمع کروانے کے لیے کافی نہیں ہیں بعد ازاں عدالت نے چار جنوری تک نیب سے رپورٹ طلب کرلی۔

    دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی انتخابی مہم میں ہونے کی وجہ سے پیش نہ ہوئے، انہوں نے آج کی حاضری سے استثنیٰ مانگ لیا –

    ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ، اسٹاک ایکسچینج میں بھی …

  • عمران خان اور بشری بی بی  کیخلاف توشہ خانہ کیس میں بھی ریفرنس دائر

    عمران خان اور بشری بی بی کیخلاف توشہ خانہ کیس میں بھی ریفرنس دائر

    اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : نیب نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس دائر کیا ہے جس میں نیب راولپنڈی کی جانب سے صرف ان دونوں ملزمان کے نام دئیے گئے ہیں، نیب پراسیکیوٹر سہیل عارف نے تفتیشی افسر محسن ہارون اور کیس افسر وقار الحسن کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا جس کے بعد احتساب عدالت کے رجسٹرار آفس نے ریفرنس کی جانچ پڑتال شروع کردی۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل نیب نے عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور دیگر کیخلاف القادر ٹرسٹ کیس میں کرپشن ریفرنس دائر کیا تھا۔ نیب کی مداخلت سے قبل، عمران خان 2 مرتبہ پہلے بھی توشہ خانہ سکینڈل کی وجہ سے متاثر ہو چکے ہیں۔ 21 اکتوبر 2022 کو عمران خان کو قومی اسمبلی سے5 سال کیلئے الیکشن کمیشن نے نا اہل قرار دیا تھا کیونکہ وہ مہنگے تحائف فروخت کرنے کے معاملے میں سچ چھپانے کے مرتکب قرار دیئے گئے تھے۔

    چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان کی سربراہی میں5 رکنی بینچ نےیہ فیصلہ سنایا تھا اور سچ سامنے نہ لانے کی وجہ سے عمران خان کیخلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ سنایا گیا تھا، عمران خان کیخلاف فیصلے کے بعد، الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں عمران خان کیخلاف کیس بھجوا دیا، عدالت نے رواں سال اگست میں عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 3 سال کی سزا سنائی۔

    توشہ خانہ کیس کا تنازع اس وقت سامنے آیا تھا جب ایک صحافی کی جانب سے معلومات کے حصول کے قانون (رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ) کے تحت پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم یہ بتانے سے انکار کر دیا تھا کہ انہیں عہدے پر رہتے ہوئے کتنے تحائف ملے تھے۔ حکومت کی جانب سے یہ کہتے ہوئے جواب دینے سے انکار کیا گیا تھا کہ جواب دینے کی صورت میں دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے۔

  • کرپشن کیس، فواد چودھری کو نیب نے جیل سے گرفتار کر لیا

    کرپشن کیس، فواد چودھری کو نیب نے جیل سے گرفتار کر لیا

    سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو اڈیالہ جیل سے نیب نے گرفتار کر لیا

    فواد چوہدری کو کرپشن کیس میں گرفتار کیا گیا ،نیب اب فواد چودھری کو عدالت میں پیش کرے گی، چیئرمین نیب نے فواد چودھری کے وارنٹ جاری کئے تھے، فواد چودھری پہلے ہی اڈیالہ جیل میں ہیں اور گرفتار ہیں، گزشتہ روز راولپنڈی کی عدالت نے فواد چودھری کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجا تھا

    قبل ازیں نیب نے سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ۔نیب نے کرپشن کے الزام میں فواد چودھری کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں، نیب کے مطابق فواد چودھری پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا الزام ہے، نیب سیکشن 24 اے کے تحت فواد چودھری کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق انکوائری میں فواد چودھری سے تحقیقات کی ضرورت ہے، چیئرمین نیب نے سیکشن 24 اے کے تحت فوادچودھری کے وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے ہیں۔

    نیب نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو وارنٹ کی تعمیل کرانے اور شامل تفتیش کرنے کی اجازت لے لی، جوڈیشل مجسٹریٹ یاسرمحمود کی عدالت نے سماعت کی،نیب حکام اور تفتیشی افسر عدالت پیش ہوئے،عدالت نے نیب حکام کو فوادچودھری سے وارنٹ کی تعمیل کرانے کی اجازت دے دی،عدالت نے ہدایت کی کہ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل فواد چودھری سے نیب وارنٹ پرتعمیل کرائے،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عمران خان، فواد چودھری اور اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا گیا

  • اقتدار کی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتا، شاہد خاقان عباسی

    اقتدار کی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتا، شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کیسز بنتے ہیں لیکن گواہان نہیں آتے،ہم تو پہلے کہتے تھے کہ عدالتوں میں کیمرے لگوائیں،جس ملک میں عدالتی نظام غیر محفوظ ہو وہ آگے نہیں بڑھ سکتا،

    کراچی میں عدالت پیشی کے موقع پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سابق چیئر مین نیب عوام سے معافی مانگیں،شاید بچت ہوجائے،انصاف کی کرسی پر بیٹھنا بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے،جھوٹےکیس بنائے گئے، تماشے لگائے گئے، جسٹس ر جاوید اقبال سے آج کوئی ہے جو سوال کرے کہ جعلی کیس کیوں بنائے، جعلی فیصلے کیوں کئےیہ ناانصافی کا نظام ہے، کسی دن ہم نے ہاتھ ڈالنا ہے جاوید اقبال پر، میں آج بھی کہتا ہوں کہ ناانصافی چھوڑیں، جس ملک کا نظام ناانصافی پر مبنی ہو وہ ملک نہیں چل سکتا،عدالتیں بھری ہوئی ہیں لیکن صرف تاریخ ملتی ہے، گواہ نہیں آتے، اگر سابق وزیراعظم کو انصاف نہیں مل سکتا تو غریب آدمی کو کیسے ملے گا،ان ممالک کو دیکھیں جو ترقی کر رہے ہیں وہان بنیادی چیز انصاف کا نظام ہے

    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ اگر انصاف نہیں ملتا تو نظام بدلیں،جو عرصہ جیل میں گزرا اسکا حساب کون دے گا ، جسٹس ر جاوید اقبال معافی مانگ لے تو شاید بچت ہو جائے، جو آدمی سپریم کورٹ کا جج رہا ہو اور کرسی پر بیٹھ کر جھوٹ بولے، جعلی مقدمے بنائے، کیا اسکا احتساب نہیں ہو گا؟ آئین میں کہاں‌لکھا ہے کہ کسی کو تاحیات نااہل کر دیں، ناانصافی نہ کیا کریں ،بھٹو صاحب کو اب کیا انصاف دیں گے، پھانسی تو لگا دیا، جعلی فیصلے دینے سے پہلے سوچا کریں،

    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے جو سیاسی حالات ہیں اس میں الیکشن کچھ نہیں دے گا، ایک بڑی خرابی پیدا ہو گی، جب مجھ جیسا آدمی بات کر رہا ہے تو سمجھنے کی کوشش کریں، حالات سے خوفزدہ نہیں ہوں، اس بار جتنا الیکشن آسان ہے زندگی میں کبھی نہیں تھا،اس اقتدار کی سیاست کا حصہ نہیں بنوں گا،میں نے جو فیصلہ کر لیا، اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، اگر نواز شریف نے بلایا تو چلا جاؤں گا لیکن فیصلہ یہی ہے،جو آج ملک کی سیاست ہے اس سے میرا اتفاق نہیں ، سیاست کا مقصد اقتدار رہ جائے تو یہ سیاست نہیں رہتی،سب کو اقتدار چاہئے،اقتدار کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا، عوام کے مسائل کی کوئی بات نہیں کر رہا ،

    دوسری جانب سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی سے کراچی کی احتساب عدالت میں ملاقات کی ،آغا سراج درانی نے شاہد خاقان عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو سندھ آنے پر خوش آمدید کہتے ہیں،شاہد خاقان عباسی نے آغا سراج درانی کی طبیعت دریافت کی

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • 190 ملین پاؤنڈز  کیس ،عمران‌خان کے خلاف  3 سابق وفاقی وزرا نیب کے گواہ بن گئے

    190 ملین پاؤنڈز کیس ،عمران‌خان کے خلاف 3 سابق وفاقی وزرا نیب کے گواہ بن گئے

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز اسکینڈل کیس میں گواہان میں پرویز خٹک، ندیم افضل چن، زبیدہ جلال اور اعظم خان شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی : عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں 59 گواہان کے نام سامنے آگئےسابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں پی ٹی آئی کی وفاقی کابینہ کے تین ارکان پرویز خٹک، زبیدہ جلال اور ندیم افضل چن بھی گواہان کی فہرست میں شامل ہیں۔

    گواہان کی فہرست میں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، بینک و ایس ای سی پی افسران، پٹواری ایسٹ ریکوری یونٹ کے سیکرٹری اور ڈپٹی سیکرٹری کے نام بھی شامل ہیں ایم کیو ایم کا کوئی سابق وفاقی وزیر بانی پی ٹی آئی کےخلاف گواہ نہیں بنا، پرویز خٹک، ندیم افضل چن، زبیدہ جلال اور اعظم خان کا ایک ایک صفحے پر مشتمل بیان ہے،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان بھی وعدہ معاف نہیں بنے بلکہ بطور گواہ شامل ہوئے اس کے علاوہ سپرنٹنڈنٹ وزیراعظم آفس ندیم بٹ بھی گواہ کے طور پر سامنے آگئے، القادر ٹرسٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیف فنانشل افسر بھی نیب کے گواہ بن گئے۔