Baaghi TV

Tag: نیلسن منڈیلا

  • ملالہ یوسفزئی  21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی

    ملالہ یوسفزئی 21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی

    نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ پاکستانی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی دسمبر میں 21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی جس سے وہ اس پروقار فورم پر خطاب کرنے والی اب تک کی سب سے کم عمر ترین شخصیت بن جائیں گی جبکہ واضح رہے کہ نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جسے منڈیلا نے 1999 میں سب کے لیے آزادی اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا تھا۔ سالانہ لیکچر کے سابقہ مقررین میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس، مائیکروسافٹ کے بانی اور عطیہ دہندہ بل گیٹس، آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو اور اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان سمیت دیگر شامل ہیں۔


    علاوہ ازیں فاؤنڈیشن نے اپنی ویب سائٹ پر بھی اس بات کا اعلان کیا کہ نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی 5 دسمبر 2023 کو جوہانسبرگ میں 21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی جبکہ عالمی ادارہ کی خبر کے مطابق نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن کے قائم مقام سی ای ورن ہیرس نے واضح کیا کہ ملالہ یوسف زئی اس قسم کی قیادت کو مجسم کرتی ہیں جس کا ہمیں یقین ہے کہ دنیا کو معاشرے کی تمام سطحوں پر ضرورت ہے۔ موجودہ عالمی چیلنجوں کے پیشِ نظر جو نہایت مشکل لگ سکتے ہیں، وہ ایک منصفانہ اور مساوی مستقبل کے لیے امید کی ایک متأثرکن علامت کے طور پر کھڑی ہیں۔

    تاہم اس سال کے سالانہ لیکچر میں اہم سوالات حل کرنے کی کوشش کی جائے گی بشمول یہ کہ مقامی اور عالمی سطح پر کس قسم کی قیادت کی ضرورت ہے، زیادہ منصفانہ مستقبل کے حصول کے لیے جس طرح کی قیادت کی ضرورت ہے اسے کیسے عملی شکل دی جائے اور زیادہ منصفانہ مستقبل کے لیے وژن کیا ہے۔ جبکہ خیال رہے کہ ملالہ نے دس سال کی عمر میں شمال مغربی پاکستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں زندگی کے موضوع پر بی بی سی کے لیے ایک گمنام ڈائری لکھنا شروع کی تھی۔ 2012 میں لڑکیوں کی تعلیم کی وکالت کرنے پر عسکریت پسندوں نے انہیں سر میں گولی مار دی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انتخابات میں عالمی مبصرین کو بلانے بارے الیکشن کمیشن کا اجلاس
    امریکی کرنسی کے مقابلے روپیہ مزید تگڑا
    جبکہ 2014 میں وہ نوبل امن انعام جیتنے والی اب تک کی کم عمر ترین شخصیت بن گئیں ہیں اور ان کی غیر منافع بخش تنظیم ملالہ فنڈ متعدد ممالک میں تعلیمی منصوبوں کو فنڈ دیتی ہے اور بین الاقوامی رہنماؤں اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر زمین پر اختراعی حل میں سرمایہ کاری کرتی ہے اور عالمی سطح پر تمام لڑکیوں کے لیے معیاری تعلیم کی وکالت کرتی ہے۔

  • نیلسن منڈیلا، حقوق انسانی اور کشمیر

    نیلسن منڈیلا، حقوق انسانی اور کشمیر

    نیلسن روہیلا منڈیلا، (پیدائش: 18 جولائی 1918ءترانسکی، جنوبی افریقا) جنوبی افریقا کے سابق اور پہلے جمہوری منتخب صدر ہیں جو 99-1994 تک منتخب رہے۔ صدر منتخب ہونے سے پہلے تک نیلسن منڈیلا جنوبی افریقامیں نسلی امتیاز کے کٹر مخالف اور افریقی نیشنل کانگریس کی فوجی ٹکڑی کے سربراہ بھی رہے۔ جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں سے برتے جانے والے نسلی امتیاز کے خلاف انھوں نے تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے ان کو مختلف جرائم جیسے توڑ پھوڑ، سول نافرمانی، نقض امن اور دوسرے جرائم کی پاداش میں قید با مشقت کی سزا سنائی۔ نیلسن منڈیلا اسی تحریک کے دوران لگائے جانے والے الزامات کی پاداش میں تقریباً 27 سال پابند سلاسل رہے، انھیں جزیرہ رابن پر قید رکھا گیا۔ 11 فروری 1990ء کو جب وہ رہا ہوئے تو انھوں نے پر تشدد تحریک کو خیر باد کہہ کہ مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا جس کی بنیاد پر جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کو سمجھنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد حاصل ہوئی۔
    نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کے خاتمے کے بعد نیلسن منڈیلا کی تمام دنیا میں پزیرائی ہوئی جس میں ان کے مخالفین بھی شامل تھے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کو “ماڈیبا“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو منڈیلا خاندانکے لیے اعزازی خطاب ہے۔ 
    جیل کا وہ کمرہ جہاں نیلسن منڈیلا 27 سال قید رہے آج نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ اور تمام دنیا میں ایک تحریک کا نام ہے جو اپنے طور پر بہتری کی آواز اٹھانے میں مشہور ہے۔ نیلسن منڈیلا کو ان کی چار دہائیوں پر مشتمل تحریک و خدمات کی بنیاد پر 250 سے زائد انعامات سے نوازا گیا جن میں سب سے قابلذکر 1993ءکا نوبل انعام برائے امن ہے۔ نومبر 2009ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 18 جولائی (نیلسن منڈیلا کا تاریخ پیدائش) کو نیلسن منڈیلا کی دنیا میں امن و آزادی کے پرچار کے صلے میں “یوم منڈیلا“ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔نیلسن منڈیلا کی خدمات میں سے ایک اہم ترین کام آزادی کا حصول ہے ۔نیلسن منڈیلا نسلی امتیاز سے پاک تھے اور انہوں نے اسی آواز کو بلند کرنے کے جرم میں 27 سال جیل کے کمرے میں گزارے۔جس طرح نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں آزادی، نسلی تعصب سے پاک اور برابری کی آواز بلند کی ۔اسی طرح اگر دیکھا جائے تو مسلمان کشمیر کے ہو تو ان پر بھارت اپنی طاقت کی وجہ سے مسلط ہے۔ماوں کی عزتیں لوٹ رہا ہے۔معصوم بچوں کی بینائی چھین رہا ہے ۔مسلمانوں کو وہاں عبادت کرنے کی اجازت نہی ہے۔جیسا کہ 22 نوجوان ایک اذان کو مکمل کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں نے شہید کر دئیے۔اسی طرح کشمیر جو کہ گلشن تھا اس میں اپنی کم و بیش 8 لاکھ آرمی داخل کر کے اسے فوجی چھاونی میں بدل دیا۔اگر کوئی پرامن احتجاج کرے تو ان پر شیلنگ کی جاتی ہے۔یہ کہاں کا انصاف ہے ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کدھر گئی ۔جیسا کہ نیلسن منڈیلا کا ہی ایک قول ہے:-
    *I am fundamentally an optimist. Whether that comes from nature or nurture, I cannot say. Part of being optimistic is keeping one’s head pointed toward the sun, one’s feet moving forward. There were many dark moments when my faith in humanity was sorely tested, but I would not and could not give myself up to despair. That way lays defeat and death* .
    اقوام متحدہ کو چاہیے کہ کشمیر مسلمانوں کی آہیں سنے ،اس کے علاوہ فلسطین کو دیکھ لے جس پر اسرائیل نے قبضہ کیا ہوا۔اسرائیل کے پاس طاقت ہے اسلحہ ہے ٹینک ہے اس لیے اس نے طاقت کی بنا پر فلسطین پر قبضہ کر رکھا ہے۔اسرائیلی فوج نے فلسطینی عوام کا بے پناہ خون بہایا ہے۔وہ فلسطینی بچے، کشمیری بچے ،برما کی عوام اقوام متحدہ کی طرف دیکھتے ہیں لیکن اقوام متحدہ کوئی قدم ہی نہی اٹھاتی۔کیا یہ اقوام متحدہ کے قوانین جو ہے یہ بھارت پر ،اسرائیل پر ،امریکہ پر ،روس پر لاگو نہی ہوتے صرف و صرف مسلمانوں پر ہی ہوتے ہیں ۔
    اللہ تمام مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے نوازے