Baaghi TV

Tag: نیند

  • نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    کیلیفورنیا: ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہےکہ نیند کی کمی مشکل گھڑی میں کسی کے کام آنے کے جذبے کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: نیند کی کمی کا تعلق دل کی بیماری،خراب موڈ اور تنہائی پسندی سے ہوتا ہے لیکن پی ایل او ایس بیالوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والے مطالعے میں محققین نے نیند کی کمی اور سخاوت کے جذبے کے درمیان تعلق کی جانچ کیلئے کئے گئے تجربے میں پایا کہ نیند کی کمی لوگوں میں دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرتی ہے۔

    سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے نیورو سائنسدان ایٹی بین سائمن نے کہا کہ نیند کی کمی ہمارے سماجی تجربات اور جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں اُس کے زاویوں کو نئے طریقے سے تشکیل دے دیتی ہے۔

    تحقیق میں شامل ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے نصف سے زیادہ لوگوں نے رپورٹ کیا کہ وہ کام کے ہفتے کے دوران شاذ و نادر ہی نیند پوری لے پاتے ہیں تاہم محققین کے مطابق نیند کی کمی کے اثرات صرف ایک ہفتے تک ہی محدود نہیں رہتے۔

    فلپائن میں کشتی میں آگ لگنے سے 3 بچوں سمیت31 افراد ہلاک

    تحقیق میں ماہرین نے پایا کہ کام کے ہفتے میں مقامی طور پر قائم ایک غیر منفعتی تنظیم کو جو عطیات کی فراہمی ہوتی تھی، اس میں تقریباً 10 فیصد کمی واقع ہوئی۔

  • موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ایک تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافے سے دنیا بھر میں لوگوں کی نیند کا دورانیہ گھٹ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے ” دی گارجئین” کے مطابق تحقیق کے نتائج جرنل ون ارتھ میں شائع کئے گئے تحقیق کے مطابق اچھی نیند صحت اور شخصیت کے لیے ناگزیر ہوتی ہے مگر موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں رات کے وقت کےد رجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے اوسطاً عالمی سطح پر ایک فرد ہر سال 44 گھنٹے کی نیند سے محروم ہورہا ہے یا 11 راتوں تک وہ 7 گھنٹے سے بھی کم سوتا ہے جو کہ ناکافی نیند کا طے شدہ معیار ہے –

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    نیند کے کمی کا وقت درجہ حرارت میں اضافے سے بڑھ رہا ہے مگر کچھ گروپس دیگر کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوئے ہیں خواتین میں یہ شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جبکہ 65 سال کی عمرکے افراد دگنا زیادہ اور کم ترقی یافتہ ممالک کے رہائشی 3 گنا زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اس تحقیق کے لیے68 ممالک سے تعلق رکھنے والے 47 ہزار افراد کے رسٹ بینڈ سلیپ ٹریکرز کا ڈیٹا استعمال کیا گیا تھا۔

    درجہ حرارت میں اضافہ صحت کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ ہارٹ اٹیک، خودکشیوں اور ذہنی صحت کے بحران میں اضافہ ہورہا ہے نیند کی کمی سے بھی ان اثرات کا خطرہ بڑھتا ہے اور محققین نے بتایا کہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ نیند کی کمی سے جسم کا وہ اہم ترین میکنزم متاثر ہوتا ہے جو درجہ حرارت کے صحت پر مرتب اثرات کے حوالے سے کام کرتا ہے تاہم ڈیٹا سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ لوگ گرم راتوں کے مطابق نیند کو بہتر بنانے کی قابلیت رکھتے ہیں۔

    تحقیقی ٹیم کے قائد اور ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر کیلٹن مائنر نے کہا کہ ہم سب کے لیے نیند روزمرہ کے معمولات کا ایک حصہ ہے اور ہم اپنی زندگیوں کا ایک تہائی حصہ سوتے ہوئے گزارتے ہیں، مگر متعدد ممالک میں ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو مناسب وقت تک سو نہیں پاتے اس تحقیق میں ہم نے پہلی بار ایسے شواہد فراہم کیے ہیں کہ اوسط سے زیادہ درجہ حرارت انسانی نیند کو متاثر کرتا ہے، ہمارے خیال میں تو لوگوں پر اس کے اثرات تحقیق کے نتائج سے زیادہ بدتر ہوں گے۔

    فیٹی لیور ایک اور موذی مرض کی وجہ بن سکتا ہے،تحقیق

    محققین نے پایا کہ گرم راتوں کا نیند پر اثر تمام ممالک میں دیکھا گیا، چاہے وہ قدرتی طور پر ٹھنڈا ہو یا گرم موسم، جب رات کے وقت درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہوتا ہے تو اس کا اثر واضح ہوتا ہے غریب ممالک میں لوگ زیادہ نیند کھو سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کھڑکیوں کے شٹر، پنکھے اور ایئر کنڈیشننگ جیسی ٹھنڈک خصوصیات تک رسائی کم ہے۔

    تشویشناک بات یہ ہے کہ ہمیں یہ ثبوت بھی ملے ہیں کہ پہلے سے ہی گرم آب و ہوا میں رہنے والے لوگوں کو درجہ حرارت میں اضافے کے حساب سے زیادہ نیند کی کمی کا سامنا کرنا پڑا،‘‘ مائنر نے کہا۔ "ہم نے توقع کی تھی کہ ان افراد کو بہتر طریقے سے ڈھال لیا جائے گا۔” مزید برآں، اعداد و شمار کے مطابق، لوگوں نے بعد کے اوقات میں نیند پوری نہیں کی۔

    مائنر نے کہا کہ اس تحقیق کے پالیسی سازوں کے لیے اہم مضمرات ہیں، جنہیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت تھی کہ شہروں، قصبوں اور عمارتوں کو گرمی سے اچھی طرح ڈھال لیا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے صحت کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ یوکے حکومت کے سرکاری مشیروں نے 2021 میں خبردار کیا تھا کہ وہ لوگوں کو موسمیاتی بحران کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات بالخصوص ہیٹ ویوز سے بچانے میں ناکام ہو رہی ہے۔

    خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    مطالعہ میں استعمال ہونے والا ڈیٹا بنیادی طور پر امیر ممالک سے آیا، حالانکہ اس میں بھارت، چین، کولمبیا اور جنوبی افریقہ سے کچھ شامل تھے۔ کلائی پر پٹیاں ایسے لوگ پہنتے ہیں جنہیں گرم درجہ حرارت کی وجہ سے نیند میں خلل کا خطرہ کم ہوتا ہے، جیسے ادھیڑ عمر، امیر مرد۔

    مائنر نے کہا کہ "کم آمدنی والے لوگوں کو اعداد و شمار میں کم دکھایا گیا ہے اور ہم اس کے بارے میں بہت شفاف ہیں۔” انہوں نے کہا کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان جگہوں پر جو پہلے ہی دنیا کے گرم ترین علاقوں میں شامل ہیں، جیسے افریقہ، وسطی امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے۔ تحقیق نیند کے معیار کا اندازہ لگانے سے قاصر تھی، جیسے کہ نیند کے مختلف مراحل، لیکن لوگوں کی رات میں جاگنے کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    مائنر نے کہا کہ دنیا نے جو راستہ اس لحاظ سے چنا ہے کہ سیارہ کتنا گرم ہے اس کے نتائج ہر ایک کی نیند کے لیے ہوں گے۔”ہمارے فیصلوں، اجتماعی طور پر معاشرے کے طور پر، نیند کے لحاظ سے کی گئی تحقیق پر کافی لاگت آئے گی۔”

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

  • بے وقت کی نیند، زندگی کیسے تباہ ہوتی ہے، سونے کا بہترین وقت،تحقیق سامنے آ گئی

    بے وقت کی نیند، زندگی کیسے تباہ ہوتی ہے، سونے کا بہترین وقت،تحقیق سامنے آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نیند کا ہماری عمرکے زیادہ یا کم ہونے، جسمانی صحت کے اچھے یا برے ہونے اور زندگی میں کئے گئے مختلف فیصلوں کی کامیابی یا ناکامی سے کیا تعلق ہے۔۔۔ اور وہ کون سی خطرناک بیماریاں ہیں جن سے بچاو میں ہماری نیند کی روٹین ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے اپنے آس پاس بہت سے لوگوں کو دیکھا ہو گا جو بہت فخر سے یہ بات کہتے ہیں کہ ہم توپورے دن میں صرف چار سے پانچ گھنٹے سوتے ہیں یا پھر یہ کہ ہماری تو نیند بہت کم ہے ہم زیادہ دیر تک سو نہیں سکتے۔ لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی اس عادت کی وجہ سے ان کے دماغ اور جسم کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔ یہ تمام فوائد اور نقصانات تو میں آپ کو آج کی ویڈیو میں آگے چل کر بتاوں گا ہی لیکن اس سے پہلے کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہم سوتے کیوں ہیں؟ اور سونے کے دوران ہمارے جسم کے ساتھ کیا عمل ہوتا ہے؟بھوک لگنے پر کھانا کھانے، پیاس محسوس ہونے پر پانی پینے اور سانس لینے کی طرح نیند بھی ہماری بنیادی ضرورت ہے۔ اگر ہم کسی دن نہ سوئیں تو پہلے پہل ہمارا جسم تھکاوٹ کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم کم سونے کو اپنی روٹین کا حصہ بنا لیں تو ہمارا جسم مختلف بیماریوں کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ دراصل جب ہم سوتے ہیں تو نیند کے دوران ہمارے جسم میں کچھ ایسے خاص مادے پیدا ہوتے ہیں جو پورے دن جسم میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی ایک طرح سے تعمیر شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے کسی آفس میں پورے دن کام ہوتا ہے اور اس کے بعد وہاں صفائی کا عمل کیا جاتا ہے چیزوں کو دوبارہ ترتیب سے لگایا جاتا ہے۔ ہمارے جسم اور نیند کا بھی کچھ ایسا ہی حساب ہے پورے دن کام کاج کے بعد جب ہم رات کو سوتے ہیں تو نیند کا عمل ہمیں آنے والے دن کے لئے تیار کرتا ہے تاکہ ہم اپنا اگلا دن اچھا گزار سکیں۔ اگر نیند اچھی ہوگی تو آنے والا وقت بہت اچھا گزرے گا لیکن اگر نیند پوری نہیں ہوگی تو ظاہری بات ہے کہ آپ کا وقت بھی برا گزرے گا۔ اور اگر کسی انسان کی روٹین بن جائے اور وہ لمبے عرصے تک کم نیند لے تو پھر مختلف بیماریوں کا اس پر حملہ ہونا ایک لازمی بات ہے۔ اور اگر آپ کا جسم اور دماغ صحت مند نہیں ہے تو سوچ لیں کہ آپ کیسے کوئی اچھے فیصلے کر سکتے ہیں۔ دراصل آج کل لوگ بہت مصروف ہو گئے ہیں اور تھوڑے وقت میں بہت کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے نیند ان کی Priorities میں سب سے آخر میں آتی ہے۔ پچھلے سو برس کے دوران ترقی یافتہ ملکوں میں نیند میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت حالات یہ ہیں کہ ہم کام زیادہ کرتے ہیں، پھر سفر میں بھی خاصا وقت گزرتا ہے۔ ہم صبح جلدی گھر سے نکلتے ہیں اور شام کو دیر سے گھر آتے ہیں۔اس کے بعد ہم اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ بھی وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے ٹی وی بھی دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا استعمال الگ ہے اور آخر میں ہمارے پاس نیند کے لئے وقت ہی بہت کم بچتا ہے۔اور آپ کو حیرت کی بات بتاوں کہ مختلف Age groupsکے لئے ہم نے نیند کا Required timeمختلف بنایا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے اگر آپ کسی سے کہیں کہ نو گھنٹے کی نیند ضروری ہے تو وہ آپ کو عجیب نظروں سے دیکھے گا۔کیونکہ عام لوگوں کے خیال میں اتنی دیر تو کوئی کاہل اور سست شخص ہی سوتا ہے۔ زیادہ سونے کی عادت اتنی بدنام ہو گئی ہے کہ لوگ فخریہ بتاتے ہیں کہ وہ کتنا کم سوتے ہیں۔اس کے مقابلے میں جب کوئی بچہ زیادہ سوتا ہے تو اسے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ بچوں میں زیادہ نیند کو نشوونما کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔اب کسی انسان کو کتنی نیند چاہیے تو اس کا مختصر جواب ہے سات سے نو گھنٹےسات گھنٹے سے کم نیند ہماری جسمانی اور ذہنی کارکردگی اور ہمارے Immune systemکو متاثر کرتی ہے۔بیس گھنٹے تک مسلسل جاگتے رہنے کا اثرکسی بھی انسان پر ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ کسی نشہ آور چیز کے قانونی حد سے زیادہ لینے کا۔جبکہ نیند کی کمی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو فوری طور پر اس کے برے اثرات کا علم نہیں ہوتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی نشہ میں دھت انسان خود کو بالکل ٹھیک ٹھاک سمجھتا ہے۔ مگر آس پاس والے جانتے ہیں کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ کونسی بیماریاں ہیں جو نیند کی کمی سے ہوتی ہیں۔ کچھ باتیں تو عام طور پر ہر کوئی جانتا ہے کہ نیند کی کمی کی وجہ سے طبیعت میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے، آنکھوں کے گرد حلقے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں، سر میں درد رہنے لگتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں ہیں جن کا تعلق نیند سے بنتا ہے جس میں موٹاپا، نظر کی کمزوری، کمزور مسلز، انفیکشنز سے جلد متاثر ہونے کا خطرہ، ویکسینینشن کا اثر کم ہونا، بولنے میں مشکلات، نزلہ زکام رہنا، پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہونا، ہر وقت بھوک لگنا، قبل از وقت بڑھاپا، ڈپریشن، ہر وقت بھوک لگنا وہ عام مسائل ہیں جو کہ نیند کی کمی سے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ الزائمر امراض، بانجھ پن، ذیابیطس، کینسر اور فالج جیسی خطرناک بیماریوں کی شروعات ہونے کی بھی ایک وجہ نیند کا پورا نہ ہونا ہی ہے۔ اور خودکشی کے رجحان میں اضافہ کی بھی ایک وجہ یہ ہی بتائی جاتی ہے۔عام الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ نیند کا directlyتعلق ہماری عمر کے ساتھ ہے۔ نیند جتنی کم ہوگی عمر بھی اتنی ہی کم ہوگی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پچاس سال پر مبنی سائنسی تحقیق کے بعد نیند کے ماہرین کہتے ہیں کہ سوال یہ نہیں ہے کہ نیند کے فائدے کیا ہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا ایسی بھی کوئی چیز ہے جس کو نیند سے فائدہ نہیں پہنچتا۔ اب تک کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی جس کے لیے نیند کو مفید نہ پایا گیا ہو۔بلکہ ایک حالیہ تحقیق میں تو یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دل کی صحت کے لیے رات کو دس سے گیارہ بجے کے درمیان کا وقت سونے کے لیے بہترین وقت ہو سکتا ہے۔ اور یہ نتیجہ 88 ہزارلوگوں پر تحقیق کے بعد نکالا گیا ہے۔ یہ ریسرچ Europian Heart Journalمیں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق UK bio bankکے لیے کام کرنے والی ٹیم کا خیال ہے کہ اگر ہم اپنے جسم کی اندرونی گھڑی کے مطابق مکمل نیند لیں تو اس سے دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔اس ریسرچ میں شامل لوگوں کو ایک گھڑی نما ڈیوائس کلائی پر باندھی گئی اور ان کے سونے اور جاگنے کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا۔ اور تقریبا چھ سال تک اس ڈیٹا کو اکھٹا کیا گیا۔ اور اس دوران تین ہزار سے زیادہ لوگوں میں دل کی بیماریاں ظاہر ہوئیں۔اور یہ تمام وہ افراد تھے جو یا تو سونے میں دیر کرتے تھے یا پھر وہ میعاری وقت دس اور گیارہ بجے سے پہلے سو جاتے تھے۔ اور سب سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوئے جو کہ آدھی رات کے بعد سوتے تھے۔یعنی اس ریسرچ کے مطابق ہر انسان کے جسم کے اندر قدرتی طور پر بھی ایک گھڑی فٹ ہوئی ہوئی ہے جس کا نیند سے بہت گہرا تعلق ہے اگر وہ گھڑی ٹھیک چلتی رہے تو سب اچھا ورنہ اس کا ٹائم خراب ہو جائے تو انسان کی صحت اس کا ساتھ چھوڑنا شروع کردیتی ہے۔یعنی نیند خود کو صحت مند رکھنے کا ایسا نسخہ ہے جس پر کچھ خرچ نہیں آتا اور نہ ہی یہ کوئی کڑوی دوا ہے جسے پینے سے انسان ہچکچائے لیکن اس کے فائدے بے شمار ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن اس تمام معاملے میں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ آپ نیند کو سٹور نہیں کر سکتے۔ اس لئے اگر آپ یہ سوچیں کہ پورا ہفتہ آپ خوب کام کریں اور چھٹی والا پورا دن سو کر گزار دیں تو یہ کسی بھی طرح سے ٹھیک نہیں ہے۔ نیند کی نہ تو کوئی قضا ہے اور نہ ہی ایڈوانس ادائیگی۔ اس کا سرکل روزانہ کی بنیاد پر چلتا ہے۔ اگر آپ نے ایک دن نیند پورا کئے بغیر گزار دیا تو اس کو جو نقصان ہے وہ آپ آنے والے دن میں پورا نہیں کر سکتے۔ اور اس کے لئے بہترین یہی ہے کہ جو نیند کا ٹائم ہے اس پر سوئیں اور جاگنے کے وقت پر جاگیں۔اپنی زندگی کا ایک ٹائم ٹیبل بنائیں اور کوشش کریں کہ اس پر پورا عمل بھی کریں۔ کیونکہ کوئی بھی کام آپ تب تک ہی کر سکتے ہیں جب تک کہ آپ کی صحت ہے اور زندگی ہے۔

  • کشمیر کے بارے میں  نیند میں بھی غلطی نہیں کرسکتا,آخر کس عظیم رہنما کے تاریخی الفاظ

    کشمیر کے بارے میں نیند میں بھی غلطی نہیں کرسکتا,آخر کس عظیم رہنما کے تاریخی الفاظ

    پانچ فروری ، کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کا دن، کشمیر بنے گا پاکستان۔ محمد ہمایوں خان
    پشاور( سٹاف رپورٹر ) پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختون خواہ کے صدر محمد ہمایوں خان نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کشمیر ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف کشمیریوں کے لیے زندگی موت کا مسئلہ ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی یہ شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، اس سلسلے میں پانچ فروری کا دن کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر دراصل تقسیم ہند کا ایسا حل طلب مسئلہ ہے، جو بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی و ظلم و ناانصافی کے باعث تاحال حل نہیں کیا جا سکا اس دوران کشمیری مسلمانوں نے آزادی کشمیر اور اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے لاتعداد قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے، جو مسئلے کے حل ہونے و کشمیر کے آزاد ہونے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے عوام کے اپیل پر پاکستان بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا اور اس دن سے ہر سال سے دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور محکوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کیلئے منایا جاتا ہے۔وزیراعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس کے علاوہ جلسہ عام سے خطاب کیا اور کشمیریوں کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے مہاجرین کشمیر کی آباد کاری کا وعدہ کیا، تب سے اس دن کو ہر برس سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر قاٸد عوام شہید ذولفقارعلی بھٹو کا تاریخی الفاظ ۔میں بھی انسان ہو مجھ سے غلطی ہوسکتی ہے لیکن کشمیر کے بارے میں میں نیند میں بھی علطی نہیں کرسکتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بنے گا پاکستان، پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانا اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستانی اور کشمیری عوام یک جان دو قالب ہیں،کشمیر کی آزادی کیلئے پیپلز پارٹی تمام تر وسائل بروئے کار لائی گی.

  • کم یا حد سے زیادہ سونا دونوں ہی نقصان دہ ، اعتدال ہی سب سے بہتر ہے ، ماہرین طب کی ہدایت

    کم یا حد سے زیادہ سونا دونوں ہی نقصان دہ ، اعتدال ہی سب سے بہتر ہے ، ماہرین طب کی ہدایت

    واشنگٹن :انتہائی کم یا انتہائی زیادہ سونا دونوں ہی خطرناک ہوسکتے ہیں، ویسے ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ کم از کم 8 گھنٹوں کی نیند لینا اچھی صحت کے لیے بہت ضروری ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت زیادہ سونا اچھی صحت کی علامت نہیں بلکہ نہایت خطرناک عمل ہے۔

    نیند کے حوالے سے امریکہ میں ایک تحقیق کی گئی ، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ بہت زیادہ نیند فالج کے دورے کا خطرہ ڈرامائی حد تک بڑھا دیتی ہے۔تحقیق کے مطابق کم نیند کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ سونے کو بھی عادت بنا لینا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ 8 گھنٹے سے زائد نیند لینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ اوسط دورانیے کے نیند لینے والے افراد کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔

    امریکی ماہرین طب کی تحقیق کے مطابق اسی طرح جو لوگ رات بھر میں 6 گھنٹے سے کم سونے کو عادت بنالیتے ہیں ان میں اس جان لیوا مرض کے دورے کا خطرہ 4 گنا زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے دماغ کے مختلف حصوں کو خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔

    ماہرین طب کی طرف سے اس بات کا جائزہ لینے کے لیے 10 ہزار افراد پر ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ رات کی اچھی اور مناسب دورانیے کی نیند بہت اہمیت رکھتی ہے مگر بہت زیادہ دیر تک بستر پر رہنا بلڈ پریشر کو بڑھا کر فالج کے خطرے میں 46 فیصد تک اضافہ کردیتا ہے۔امریکی طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی وجوہات ابھی واضح نہیں ہوسکی اور اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آخر کیوں بہت زیادہ نیند جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔