Baaghi TV

Tag: نیوم سٹی

  • سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہو گیا

    سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہو گیا

    سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نیوم شہر سعودی عرب کے اربوں ڈالرز کے منصوبے نیوم کا حصہ ہے جو بحیرہ احمر کے قریب شمال مغربی حصے میں تعمیر کیا جائے گا فضائی فوٹوگرافی کمپنی اوٹ اسکائی کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں دی لائن میگاسٹی پر کام شروع ہوتا دکھایا گیا ہے ڈرون فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ صحرا میں اس شہر کے لیے کھدائی کی جارہی ہے۔


    ویڈیو میں، متعدد کھدائی کرنے والوں کو صحرا میں ایک وسیع لکیری خندق کھودتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ خندق کے اندر، شہر کی بنیادیں، جو 170 کلومیٹر طویل ہونے کا منصوبہ ہے، کی تعمیر متوقع ہے۔

    صوبہ تبوک میں تعمیر کیے جانے والا یہ شہر 200 میٹر چوڑی، 500 میٹر اونچی اور 170 کلومیٹر رقبے پر پھیلی ایک عمارت پر مشتمل ہوگاعمارت ایک ورٹیکل سٹی کے طور پر تعمیر کی جائے گی جس میں 90 لاکھ افراد رہائش پذیر ہوسکیں گے-

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جولائی 2022 میں اس شہر کے ڈیزائن کو جاری کیا تھا یہ دنیا کا پہلا شہر ہوگا جس میں توانائی کی ضروریات ماحول دوست ذرائع بشمول سولر اور ہائیڈروجن پاور سے پوری کی جائیں گی۔

    یہاں کوئی سڑک، گاڑی یا دھویں کا اخراج نہیں ہوگا، جبکہ تیز رفتار ٹرین سے لوگ ایک سے دوسری جگہ 20 منٹ کے اندر سفر کرسکیں گے روبوٹ ملازم ہوں گے، اڑنے والی ٹیکسیاں اور مصنوعی چاند بھی اس پراجیکٹ کا حصہ ہوں گے۔

    ڈیزائن کو متعارف کراتے ہوئے سعودی ولی عہد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ ڈیزائن روایتی طرز تعمیر کو چیلنج کرتا ہے، دی لائن میں ان چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا جن کا سامنا آج کی شہری زندگی میں انسانوں کو ہوتا ہے اور متبادل ذرائع سے زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔
    500 ارب ڈالرز کے نیوم منصوبے میں شامل اس شہر کو صوبہ تبوک کے صحرائی علاقے میں تعمیر کیا جارہا ہے۔

    سعودی عرب کو توقع ہے کہ نیوم منصوبے کی تعمیر کے بعد ہر سال 10 کروڑ سیاح اس کے مختلف حصوں کو دیکھنے کے لیے آئیں گے جس سے اربوں ڈالرز کی آمدنی ہوگی دی لائن کی تعمیر کا اعلان 2021 میں ہوا تھا مگر اب اس کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے۔

    خیال رہے کہ نیوم میں تعمیر کیے جانے والے شہروں کو اے آئی سسٹمز پر چلایا جائے گا، روبوٹ ملازم ہوں گے، اڑنے والی ٹیکسیاں اور مصنوعی چاند بھی اس پراجیکٹ کا حصہ ہوں گے۔

    عالمی خبررساں ادارے ڈیزین سے ایک خصوصی انٹرویو میں بات کرتے ہوئے، نیوم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے شہری منصوبہ بندی طارق قدومی نے کہا کہ دی لائن میگا سٹی "ہمارے موجودہ طرز زندگی میں انقلاب برپا کرے گی” اور اپنی زندگی بھر میں خالص صفر رہے گی۔

    تاہم، ماہرین نے اس منصوبے کی پائیداری اور زندہ رہنے کے دعووں کی تردید کی۔

    میگا سٹی متنازعہ نیوم پروجیکٹ کا حصہ ہے جس میں ملک کے شمال مغرب میں 10 علاقوں کو ترقی دی جائے گی۔ دی لائن کے ساتھ، جسے یو ایس اسٹوڈیو مورفوسس ڈیزائن کر رہا ہے، زہا حدید آرکیٹیکٹس، یو این اسٹوڈیو، ایڈاس، لاوا اور بیورو پروبرٹس کی طرف سے ڈیزائن کردہ سکی ریزورٹ کا منصوبہ ہے۔

    اس ہفتے کے شروع میں انسانی حقوق کی تنظیم ALQST نے اطلاع دی تھی کہ نیوم سائٹ سے زبردستی بے دخل کیے گئے تین افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

  • نیوم سٹی:دوسال تک اس عالمی شہر کی پبلسٹی شروع کردی جائے گی:سعود ی عرب

    نیوم سٹی:دوسال تک اس عالمی شہر کی پبلسٹی شروع کردی جائے گی:سعود ی عرب

    نیوم:نیوم سٹی:دو سال تک اس کی پبلسٹی شروع کردی جائے گی:اس سلسلے میں خوشخبری سناتے ہوئے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اعلان کیا کہ نیوم کاروباری زون 2024 تک پبلکلی لسٹڈ ہو گا۔اورمعاشی سرگرمیاں شروع کردی جائیں گی

    سعودی حکام کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو کہا کہ نیوم، جس کی تعمیر شروع ہوگئی ہے، سعودی سٹاک مارکیٹ کی قدر میں ایک کھرب ریال (266 ارب ڈالر) شامل کرے گا۔

    ولی عہد نے اس امر کا اظہار صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں اس وقت کیا جب ‘دا لائن’ سٹی کے ڈیزائن کا اعلان کر رہے تھے۔ اس پراجیکٹ پر 500 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔

    ولی عہد نے کہا ‘ نیوم سٹی کے حوالے سے پیش رفت پر مبنی منصوبوں کی وجہ سے سعودی سٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں ابتدائی طور پر کم از کم 320 ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا جبکہ مجموعی طور پر 1،3 ٹریلین ڈالر تک جائے گی۔ جو کہ پانچ ٹریلینز سعودی ریال کے برابر ہو گی۔

    انہوں نے ‘دا لائن ‘ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ‘دا لائن ‘ کے تحت 2030 تک 320 ارب ڈالر تک سٹاک مارکیٹ جائے گی اور سعودی حکومت کی یہ سپورٹ 53 ارب ڈالر سے 80 ارب ڈالر تک جائے گی۔ سعودی حکومت مختلف فنڈز سے یہ سپورٹ دے گی جو حتمی طور پر 133 ارب ڈالر تک جائے گی۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ، ایک خود مختار ویلتھ فنڈ ہے ۔ نیوم سٹی میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی سٹریٹجک اہمیت ہے۔

    نیوم کا ایریا اے 26500 مربعہ کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ یہ ہائی ٹیک نوعیت کا ایک ساحلی شہر ہو گا، جس کے ساتھ متعدد زون ہوں گے۔ ان ایریاز میں صنعتی اور لاجسٹک ایریا ہو گا، جسے 2025 تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

    سعودی عرب میں ولی عہد کے وژن 2030 کے تحت نیوم کی تعمیر کا آغاز 2017 میں ہوا تھا۔ یہ شہر مملکت میں تجارت اور سیاحت کے حوالے سے فلیگ شپ کی حیثیت کا حامل ہو گا۔

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ‘ دا لائن سٹی نیوم میں مستقبل میں نوے لاکھ شہریوں کو رہائش فراہم کر سکے گا۔’

    اس شہر کے ڈیزائن میں انسانی آبادی کو اولیں ترجیح کے طور ماحول دوست ماحول فراہم کیا جائے گا۔ اس لیے اس شہر کے ارد گرد بھی قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے کی کوشش ہو گی۔