Baaghi TV

Tag: نیویارک

  • امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے

    امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے

    نیویارک: امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے-

    باغی ٹی وی: 11 ستمبر2001 کو امریکا میں دہشت گردی کی بڑی کارروائی ہوئی تھی ہائی جیکنگ کے بعد دو طیارے ٹکرائے جانے پر ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹوئن ٹاور زمین بوس ہوئے جس کے سبب تین ہزار افراد سے زائد افراد ہلاک ہوئے دہشت گردوں نے تیسرا طیارہ واشنگٹن میں پینٹاگان سے ٹکرایااس کے بعد چوتھا طیارہ ہدف پر پہنچنے سے قبل گر کر تباہ ہوا ہوگیا،نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ نے دنیا کا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا۔

    اسامہ بن لادن اور القاعدہ نے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی اور اس کے بعد افغانستان میں امریکی قیادت میں جنگ شروع ہوئی تھی اس انسانیت سوز سانحے میں تین ہزارامریکی اورغیر ملکی باشندے مارے گئے جبکہ چھ ہزارسے زائد افراد زخمی ہوئے اورمالی نقصان کا تخمینہ دس ارب ڈالر لگایا گیا، واقعے پر اس وقت کے صدر جارج واکر بُش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور اُسامہ بن لادن کو پکڑنے کے لیے افغانستان پر حملہ کردیا۔

    نیوزی لینڈ نے ورلڈ کپ کیلئے اپنے اسکواڈ کا اعلان کردیا

    جس کے بعد پوری دُنیا کی بدلتی حالت سب نے دیکھی امریکہ نے افغانستان کے بعد عراق پرحملہ کیا اور پھر یکے بعد دیگرے پوری دُنیا ہی اس آگ کی لپیٹ میں آگئی سانحہ نائن الیون کی وجہ سےدنیا بھر میں وار آن ٹیرر کی عالمی مہم شروع کی گئی جس میں اب تک لاکھوں افراد اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

    مراکش میں زلزلے سے قبل آسمان پر چمکنے والی پراسرار نیلی روشنی کیا تھی؟

  • خاتون سکول ٹیچر پر 14 سالہ طالب علم کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام

    خاتون سکول ٹیچر پر 14 سالہ طالب علم کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام

    خاتون سکول ٹیچر چودہ سالہ طالب علم کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم میں گرفتار کر لی گئی ہے

    واقعہ نیویارک کا ہے جہاں ایک مڈل سکول کی خاتون ٹیچر پر الزام عائد کیا گیا ہے اس نے اپنے ہی سکول کے 14 سالہ طالب علم کو کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا، خاتون ٹیچر کی عمر 32 برس ہے، وہ شادی شدہ اور تین بچوں کی ماں بھی ہے، 32 سالہ میلیسا پر جنسی زیادری، 17 سال سے کم عمر بچے کو نقصان پہنچانے ، 14 سالہ بچے کے ساتھ جنسی عمل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    پولیس کے مطابق خاتون ٹیچر پر الزام ہے کہ وہ اکتوبر 2022 سے گزشتہ مہینے تک ہفتے میں کم از کم ایک بار اپنے طالب علم کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتی تھی، استغاثہ کے مطابق سکول ٹیچر کے انسٹا گرام پیغٍامات کے سکرین شاٹ لئے گئے ہیں، جن میں مبینہ طور پر جنسی تعلقات کا خاکہ تھا،

    محکمہ تعلیم کے ترجمان نے استاد کی برطرفی کے حوالے سے بیان جاری کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ رویہ قابل قبول نہیں، ایسے ملام کو دوبارہ ملازمت نہیں دی جائے گی، ہمارے لئے طلبا کی حفاظت سب سے اہم ہے،خاتون ٹیچر کے شوہر کا کہنا ہے کہ انکی اہلیہ بے قصور ہے، وہ تین بچوں کی ماں ہے اور ان سے بہت پیار کرتی ہے،

    خاتون ٹیچر کو 24 نومبر کو دوبارہ عدالت پیش کیا جائے گا، اور جرم ثابت ہونے پر اسے سات برس تک قید کی سزا سنائی جائے گی،

    ایک ایسے ہی واقعہ میں خاتون ٹیچر کو سزا سنائی گئی تھی،ٹیکساس میں سابق خاتون ٹیچر کو عدالت نے طالب علم کے ساتھ جنسی تعلقات ثابت ہونے پرصرف ساٹھ روز قید کی سزا سنائی ہے جس پر شہریوں کا کہنا ہے کہ جج بہت نرم ہے، سزا زیادہ ہونی چاہئے تھی،شہریوں نے زیادہ سزا کے خلاف دوبارہ عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے

    رات بھر زیادتی کے بعد برہنہ حالت میں نرس کو سڑک پر ملزمان پھینک گئے

    دو کمسن لڑکیوں کو برہنہ کر کے گھمانے والے کیس میں اہم پیشرفت

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    کالج میں مجرا، لڑکی ہوش برقرار نہ رکھ سکی پرنسپل سے لپٹ گئی ،ویڈیو وائرل،کالج سیل

  • بیرون ملک چین کے خفیہ  "تھانے”

    بیرون ملک چین کے خفیہ "تھانے”

    امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے رواں ہفتے چینی حکام کی جانب سے نیویارک میں خفیہ پولیس تھانہ چلانے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا تھا دنیا بھر میں اس طرح کی کارروائیوں کا پردہ فاش ہو رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے ”دی گارڈین“ کے مطابق ایف بی آئی نے رواں ہفتے چینی حکام کی جانب سے نیویارک میں خفیہ سمندر پار پولیس آپریشن چلانے کے الزام میں دو افراد کوگرفتارکیایہ الزامات اکتوبر 2022 میں چائنا ٹاؤن میں فوجیان کےایک کمیونٹی سنٹر پر چھاپے کے بعد لگائے گئے لو جیان وانگ اور چن جن پنگ دونوں امریکی شہری ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ”غیر سرکاری پولیس اسٹیشن“ چلانے کے لیے احاطے کا استعمال کیا۔

    اب برطانیہ، جرمنی، ہالینڈ اور کینیڈا کی پولیس نے بھی اپنے ممالک میں اسی طرح کے الزامات کی تحقیقات شروع کردی ہیں بدھ کو برطانیہ کے ہوم آفس کے وزیر کرس فلپ نے کہا کہ یہ پولیس چوکیاں ”بہت تشویشناک“ ہیں۔

    اسکول پر دہشت گردوں کا حملہ،بچوں سمیت 40 افراد ہلاک

    ایسے کتنے تھانے ہیں؟
    دی گارڈین کے مطابق انسانی حقوق کے گروپ سیف گارڈ ڈیفنڈرز نے پہلی بار 2022 میں اس معاملے کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی اس گروپ کے مطابق اٹلی، فرانس، کینیڈا، برطانیہ اور ہالینڈ سمیت 53 ممالک میں ایسے 102 غیرقانونی پولیس اسٹیشنز ہیں چینی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ تھانے تقریباً تمام ہی براعظموں میں موجود ہیں۔

    چینی تھانے سامنے آنا کب شروع ہوئے؟

    سب سے پہلے 2016 میں، نانٹونگ اور وینزو کے پبلک سیکیورٹی بیورو نے بیرون ملک ایجنٹس کو لانچ کرنا شروع کیا ان کے بعد 2018 میں چنگٹیان حکام کی جانب سے اسی طرح کے اقدامات کیے گئے، اور حال ہی میں فوزو پبلک سیکیورٹی بیورو کے ذریعے چلایا جانے والا سامنے آیا جس کے لیے لو اور چن پر الزام ہے۔

    نانٹونگ، وینزو، چنگتیان اور فوزو چین کے جنوب مشرقی ساحل پر یا اس کے آس پاس کے شہر ہیں، یہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں سے بڑی تعداد میں چینی تارکین وطن نے بیرون ملک سفر کیا ہے یورپ کے 1.7 ملین چینی تارکین وطن میں سے زیادہ تر وینزو یا چنگتیان سے آتے ہیں۔

    ٹور ڈی سوئس سائیکل ریس میں سائیکلیسٹ خطرناک حادثے کا شکار

    ان تھانوں کا چینی کمیونسٹ پارٹی سے کیا تعلق ہے؟

    لو اور چن کے خلاف فرد جرم میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ”چینی حکومت کے ایجنٹ“ کے طور پر کام کیا تاہم، ایسا لگتا ہے کہ اس کا تعلق بنیادی طور پر ان الزامات سے ہے کہ انہوں نے 2015 سے چینی مخالفین کے خلاف واشنگٹن میں مظاہروں کو منظم کرنے میں مدد کی ہے۔

    اوورسیز پولیس اسٹیشنز جو حال ہی میں سامنے آئے ہیں، مرکزی حکومت یا پارٹی کے بجائے چین کے علاقائی پبلک سیکیورٹی بیورو کے دماغ کی اختراع ہیں ییل یونیورسٹی میں پال تسائی چائنا سینٹر کے ایک سینئر فیلو جیریمی ڈاؤم نے نوٹ کیا کہ چین میں، ’مقامی حکومتوں کو اوپر سے مینڈیٹ کو نافذ کرنے میں یکسر تجربہ کرنے کی جگہ دی جاتی ہے-

    منگل کو وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے کہا کہ ’اوورسیز پولیس اسٹیشن جیسی کوئی چیز نہیں-

    کوچنگ سنٹر میں آگ،طلبا نے تیسری منزل سے لگائی چھلانگ

    یہ تھانے اصل میں کرتے کیا ہیں؟

    گارڈین کے مطابق غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے ان چینی تھانوں میں اصل پولیس افسران کا عملہ نظر نہیں آتا ان کا واضح مقصد بیرون ملک مقیم چینی شہریوں کو انتظامی مسائل، جیسےڈرائیونگ لائسنس کی تجدید میں مدد کرنا ہےتاہم، ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اسٹیشنزواپسی کے لیے آپریشنز میں ملوث ہیں۔

    گارڈین کے مطابق اس سے مراد چینی حکام کی طرف سے، براہ راست یا پراکسیز کے ذریعے، مجرمانہ مشتبہ افراد یا مخالفوں کو چین واپس بھیجنے کی کوششوں کی طرف اشارہ ہے چین میں مطلوب افراد کے رشتہ داروں پر بعض اوقات ان مہمات میں دباؤ ڈالا جاتا ہے2022 میں چین کی پبلک سیکیورٹی کی وزارت کے ایک وزیر نے کہا کہ 2021 میں 210,000 لوگوں کو واپس آنے پر آمادہ کیا گیا تھا۔

    ساف چیمپئن شپ میں شرکت،پاکستانی فٹبال ٹیم کو بھارت میں کلیئرنس مل گئی

    لیکن سیف گارڈ ڈیفنڈرز کی مہمات کی ڈائریکٹر لورا ہارتھ کہتی ہیں کہ ”وسیع تر بین الاقوامی جبر کی مہموں میں اسٹیشنز چھوٹی چیزیں ہیں چینی کمیونسٹ پارٹی کے پاس بیرون ملک مقیم مخالفین کو ہراساں کرنے کے لیے بہت سے اوزار ہیں چینی حکومت کو مطلوب افراد صرف چینی تحویل میں جانے کے لیے بیرون ملک مقیم مقامات سے غائب ہو گئے ہیں اس طرح کی کارروائیوں میں اکثر تیسرے ممالک کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔

    پیر کے روز، امریکی محکمہ انصاف نے چین کی وزارتِ عوامی سلامتی کے 40 افسران اور چار دیگر اہلکاروں کے خلاف مبینہ طور پر منتشر افراد کے خلاف انٹرنیٹ ٹرول آپریشن چلانے کے الزام میں الزامات کا اعلان کیا۔

    دیگر معاملات میں چینی حکومت کو مطلوب افراد صرف چینی تحویل میں آنے کے لیے بیرون ملک مقیم مقامات سے غائب ہو گئے ہیں۔ اس طرح کی کارروائیوں میں اکثر تیسرے ممالک کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ہارتھ نے نتیجہ اخذ کیا: "پولیس اسٹیشن ہوں یا کوئی تھانے نہیں، یہ ہر جگہ ہو رہا ہے۔

    سری لنکن کر کٹ ٹیم کے سابق کپتان سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے …

  • کینیڈا کے جنگلات میں آگ،امریکا میں بھی شدید فضائی آلودگی کا انتباہ جاری

    کینیڈا کے جنگلات میں آگ،امریکا میں بھی شدید فضائی آلودگی کا انتباہ جاری

    نیویارک : کینیڈا کے جنگلات میں آگ لگنے سے امریکا میں بھی شدید فضائی آلودگی کا انتباہ جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: کینیڈین حکام کے مطابق کینیڈا میں 400 سے زیادہ مقامات پر جنگلات میں آگ لگی ہوئی ہے،250 مقامات پر آگ قابو سے باہر ہےاب تک 65 لاکھ ایکڑ رقبہ جل چکا ہے آگ لگنے سے کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا اور سب سے بڑے شہر ٹورانٹو میں بھی ہوا کا معیار شدید متاثر ہوا ہے موسمیاتی تبدیلیوں سے گرم اور خشک موسم کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

    سری لنکا،گزشتہ سال گرفتار مظاہرین کی رہائی کیلئے طلبہ سڑکوں پر

    دوسری جانب کینیڈا کے جنگلات میں آگ سے امریکا کو شدید فضائی آلودگی کا سامنا ہے، اس حوالے سے حکام نے انتباہ بھی جاری کر دیا ہے نیو یارک میں ہوا کا معیار ریکارڈ بدترین سطح پر پہنچ گیا، گورنر نیویارک نے فضائی آلودگی کو ہنگامی بحران قرار دے دیانیویارک کی فضا میں آلودگی جمعرات کی صبح تک جاری رہنے کا امکان ہے، نیویارک شہر میں پروازیں بند کر دی ہیں-

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث 10 کروڑ سے زائد امریکی متاثر ہیں ماہرین کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ بدھ کے روز سب سے زیادہ دھواں شمال مشرق میں وسط بحر اوقیانوس اور نیچےکیرولیناس تک پہنچ جائے گاان علاقوں میں دھوئیں کے حالات کم از کم جمعرات تک جاری رہ سکتے ہیں۔

    بابا وانگا کی 2023 میں ایک تباہ کن ایٹمی تباہی کی پیشگوئی

    میئر نے خبردار کیا کہ اگرچہ جمعہ کی صبح تک حالات میں نمایاں بہتری کا امکان ہو سکتا ہےلیکن دھوئیں کی پیشگوئی بہت کم ہے دھوئیں کی نقل و حرکت کا اندازہ لگانا مشکل ہے یہ واقعات کا ایک غیر متوقع سلسلہ ہے اور ہم اس مقام پر ایک دن سے زیادہ پہلے رہنمائی فراہم نہیں کر سکتے۔

    اسکول ڈسٹرکٹ نے بتایا کہ سینکڑوں میل دور، میری لینڈ میں مونٹگمری کاؤنٹی پبلک اسکولوں نے بدھ اور جمعرات کے لیے چھٹی اور تمام بیرونی سرگرمیاں منسوخ کر دی ہیں کیونکہ دھوئیں کی وجہ سے صحت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    پیشہ ورانہ کھیلوں کی ٹیموں نے بدھ کے روز دھوئیں سے متاثر ہونے والے شہروں میں نیویارک اور فلاڈیلفیا میں شیڈول دو میجر لیگ بیس بال گیمز سمیت کئی گیمز ملتوی کر دیئے اور دھویں کی وجہ سے مشرقی ساحل پر کم از کم تین ہارس ریسنگ ٹریکس کو بند کیا گیا-

    بھارتی کرکٹ بورڈ تنظیمی لحاظ سے ایک ناکام ادارہ ہے،جو سمجھ سے باہر …

  • نیو یارک میں موجود بلند و بالا عمارتیں شہر کے ڈوبنے کی وجہ بن رہی ہیں،تحقیق

    نیو یارک میں موجود بلند و بالا عمارتیں شہر کے ڈوبنے کی وجہ بن رہی ہیں،تحقیق

    ایک حالیہ تحقیق کے مطابق نیو یارک شہر میں موجود بلند و بالا عمارتیں اپنے وزن سے یہاں کے سمندر کی سطح بڑھا رہی ہے جس کے باعث نیو یارک کے ڈوبنے کا خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے دی گارڈین کے مطابق یو ایس جیولوجیکل سروے اور یونیورسٹی آف روڈ آئی لینڈ کی ٹیم کی ایک حالیہ تحقیق سامنے آئی ہے۔ بگ ایپل وہ شہر ہو سکتا ہے جو کبھی نہیں سوتا لیکن یہ ایک ایسا شہر ہے جو یقینی طور پر ڈوب رہاہے،تحقیق کے مطابق شہر کی بلند عمارتوں کے وزن کی وجہ سے شہر ہرسال 2.75 ملی میٹر کی رفتار سے 1 سے 2 ملی میٹر ڈوب رہا ہے محققین کے مطابق نیویارک شہر کے کچھ علاقے اس شرح سے دوگنا ڈوبتے ہیں۔

    ایل سلواڈورمیں فٹبال اسٹیڈیم میں میچ کے دوران بھگدڑ،12 افراد ہلاک

    نیو یارک شہر کی تمام عمارتوں کا وزن تقریباً 842 ملین ٹن ہے۔ نیو یارک کے ساحل، دریا یا جھیل کے کنارے پر تعمیر کی جانے والی ہر عمارت آنے والے دنوں میں سیلاب کے خطرے میں اضافہ کرسکتی ہے۔

    یہ ڈوبنا سمندر کی سطح میں اضافے کے اثرات کو بڑھا رہا ہے جو عالمی اوسط سے تقریباً دوگنا تیز ہو رہا ہے کیونکہ دنیا کےگلیشیئر پگھل رہے ہیں اور عالمی حرارت کی وجہ سے سمندری پانی پھیل رہا ہے۔ 1950 کے بعد سے نیویارک شہر کے اطراف میں موجود پانی میں تقریباً 9 انچ یا 22 سینٹی میٹر کا اضافہ ہوا ہے اور سمندر کی سطح میں اضافے اور سمندری طوفانوں کے امتزاج کی وجہ سے اس صدی کے آخر تک طوفانوں سے آنے والے سیلاب کے بڑے واقعات اب کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔

    محققین نے نئی تحقیق جو ارتھز فیوچر جرنل میں شائع ہوئی میں لکھا کہ 8.4 ملین لوگوں کی گہری توجہ والی آبادی کو نیو یارک شہر میں سیلاب سے مختلف درجے کے خطرات کا سامنا ہے نیو یارک شہر کو درپیش خطرات کو دنیا بھر کے بہت سے دوسرے ساحلی شہروں میں بھی شریک کیا جائے گا کیونکہ موسمیاتی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

    سوئٹزرلینڈمیں سیاحوں کا طیارہ پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ،متعدد افراد ہلاک

    انہوں نے لکھا، "ٹیکٹونک اور انتھروپوجنک کم ہونے، سطح سمندر میں اضافہ، اور سمندری طوفان کی بڑھتی ہوئی شدت کا امتزاج ساحلی اور دریا کے کنارے والے علاقوں کے ساتھ ایک تیز رفتار مسئلہ کی نشاندہی کرتا ہے۔”

    نیو یارک سٹی کے تعمیر شدہ بنیادی ڈھانچے کے بڑے پیمانے پر اس رجحان کو بڑھایا جا رہا ہے۔ محققین نے حساب لگایا کہ شہر کے ڈھانچے، جن میں مشہور ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ اور کرسلر بلڈنگ شامل ہیں، کا وزن کل 1.68tn lbs ہے، جو تقریباً 140 ملین ہاتھیوں کے وزن کے برابر ہے-

    یو ایس جیولیوجکل سروے نے خبردار کیا ہے کہ اگلی بار سمندری طوفان جب بحراوقیانوس کےساحل کا رخ کرے گا تو نیو یارک کو سیلابی پانی میں ڈوب جانے کے زیادہ خطرے میں ڈال دے گا اس حوالے سے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا گیاکہ شہر میں نئی ​​عمارتیں بنانے سے متعلق حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

    بھارتی فضائیہ نے مگ 21 لڑاکا طیاروں کے پورے فلیٹ کو گراؤنڈ کر دیا

  • گورنرسندھ کی نیویارک اور سندھ کو جڑواں اسٹیٹ قرار دینے کی تجویز

    گورنرسندھ کی نیویارک اور سندھ کو جڑواں اسٹیٹ قرار دینے کی تجویز

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سندھ اور نیویارک کو جڑواں اسٹیٹ قرار دینے کی تجویزپر نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سے گفتگو کی-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق گورنرسندھ کامران ٹیسوری اور نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی ہےکامران ٹیسوری کےاعزاز میں امریکی پاکستانی پبلک افیئرزکمیٹی کےچیئرمین ڈاکٹر اعجاز احمد نے استقبالیہ دیا جس میں نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر فِل راموس نے بھی شرکت کی۔

    سابق گورنر پنجاب کیخلاف اغوا کا مقدمہ درج


    کامران ٹیسوری اور فِل راموس نے گفتگو کے دوران سندھ اور نیویارک کو جڑواں اسٹیٹ قرار دینے کی تجویز پر مزید بات کرنے پراتفاق بھی کیانیو یارک اسٹیٹ اسمبلی کا وفد اس ضمن میں جلد صوبۂ سندھ کادورہ کرے گاجڑواں اسٹیٹس بننے سےسندھ اور نیو یارک کی جامعات ، اسپتالوں اور تحقیقی اداروں میں تعاون بڑھے گا۔

    مقابلے کے دوران کبوتر بازوں میں جھگڑا ،4 افراد ہلاک

    دونوں اسمبلیوں میں سندھ اور نیویارک کو سسٹراسٹیٹس بنانے کی قرارداد پیش کی جائے گی۔طلبہ کے وفود کے تبادلوں اور ذہین طلبہ کے لیے اسکالر شپس کا راستہ بھی ہموار ہو گا-


    واضح رہے کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری ان دنوں امریکا کا دورہ کر رہے ہیں،ساحلی شہر اور تجارتی مراکز ہونا کراچی اور نیویارک میں مشترک ہے۔

    پاکستان کیخلاف بھارتی میڈیا کا من گھڑت پروپیگنڈا بے نقاب

  • نیویارک:قیمتی ایپل ہیڈ فون چھیننے والا گروہ سرگرم

    نیویارک:قیمتی ایپل ہیڈ فون چھیننے والا گروہ سرگرم

    نیویارک : پارک، یا ریستورانوں میں بیٹھے افراد کےسرسے قیمتی ایپل ہیڈ فون چھین کرفرارہونے والا چوروں کا گروہ منظم ہو گیا ، جنوری سے لے کر، نیویارک سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ نے 21 واقعات درج کیے ہیں

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ وارداتیں 28 جنوری سے شروع ہو ئیں اور اب تک 21 افراد اپنے قیمتی ایپل ہیڈفون سے محروم ہوچکے ہیں ہیڈفون ڈکیتوں میں کم سے کم چار افراد شامل ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق دو افراد ایئربڈز پہنے شخص کے پیچھے جاکر ہیڈفون چھین لیتے ہیں اور فوراً فرار ہوجاتے ہیں اور خاص طور پر ایپل میکس ہیڈفونز چھینتے ہیں پولیس نے بتایا کہ کسی بھی چوری میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

    ایپل میکس ہیڈفونزکی قیمت 549 ڈالر تک ہے پاکستانی روپوں میں اس کی قدر 140000 روپے ہے کیونکہ یہ شور کو کم کرتے ہیں اور نوائز کینسل کرنے کی خاصیت بھی رکھتے ہیں اس طرح ہیڈفون لگا کر آپ اطراف کا شور سننے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    پولیس کے مطابق اگرچہ یہ واقعات ہر جگہ ہوئے ہیں لیکن سب سے زیادہ وارداتیں نیویارک کے مشہور سینٹرل پارک میں ہوئی ہیں اور 18 سے 41 برس کے افراد اس کا نشانہ بنے ہیں عموماً یہ ڈکیت دوپہر میں واردات کرتے ہیں۔

    ریکارڈ کے مطابق 8 فروری کو 5 اور 18 فرروی کو 8 ہیڈفون چھینے گئے ہیں تمام چور اب تک پولیس کی گرفت سے آزاد ہیں۔

    نیویارک یونیورسٹی، جس میں کچھ چوری کے مقامات کے قریب کیمپس کی عمارتیں ہیں، نے 10 فروری کو طلباء کو ان واقعات کے بارے میں الرٹ بھیجا۔

    ای میل میں، یونیورسٹی نے کہا کہ دو طالب علم ہیڈ فون چوری کرنے کی کوشش کا نشانہ بنے تھے اور ایک طالب علم کا ایئر پوڈ میکس ہیڈ فون چوری ہو گیا تھا۔ یونیورسٹی نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے باخبر رہیں اور اپنے فون اور دیگر قیمتی اشیاء کو اپنی جیبوں میں رکھیں۔

  • نیویارک ٹائمز کے 1100 سے زائد صحافیوں نے ہڑتال کا اعلان کردیا

    نیویارک ٹائمز کے 1100 سے زائد صحافیوں نے ہڑتال کا اعلان کردیا

    نیویارک ٹائمز کے 1,100 سے زیادہ صحافی اور دیگر ملازمین 24 گھنٹے کی ہڑتال کرنے کااعلان کیا ہے ، چار دہائیوں سے زیادہ عرصے میں اخبار میں اس طرح کا پہلا اقدام کیا ہوگا۔نیویارک کی نیوز روم یونین کے مطابق، اخبار کے عملے نے جمعرات کو ایک دن کام نہ کرنے کے عہد پر دستخط کیے جب تک کہ یونین اور آجروں کے درمیان معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔

     

    سندھ میں عادی مجرموں کو برقی کڑا لگانے کا فیصلہ

     

    دی ٹائمز اور نیویارک ٹائمز گلڈ کے درمیان معاہدہ مارچ 2021 میں ختم ہو گیا تھا، اور تب سے تقریباً 40 سودے بازی کے سیشنز ہو چکے ہیں۔

    اس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ یہ بات چیت منگل کے آخر تک 12 گھنٹے سے زیادہ جاری رہی اور بدھ کو بھی جاری رہی، لیکن دونوں فریق تنخواہوں، دور دراز سے کام کی پالیسیوں، اور صحت اور ریٹائرمنٹ کے فوائد سمیت مسائل پر بہت دور رہے۔جس پر یونین نے بالآخر بدھ کی شام ٹویٹر کے ذریعے اعلان کیا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے اور واک آؤٹ کیا جائے گا۔

    صرف کراچی میں ایک ماہ میں مزید 9 ہزار سے زائد شہری موٹرسائیکلوں سے محروم

     

    اس میں کہا گیا ہے، "ہم اس وقت تک کام کرنے کے لیے تیار تھے جب تک کہ ایک منصفانہ معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگے،” لیکن انتظامیہ پانچ گھنٹے باقی رہ کر میز سے ہٹ گئی۔ "ہم جانتے ہیں کہ ہماری کیا قیمت ہے،” یونین نے ٹائمز پر بد نیتی سے سودے بازی کا الزام لگایا۔ یونین نے کہا کہ "ان کی اجرت کی تجویز اب بھی معاشی لمحے کو پورا کرنے میں ناکام ہے، جو کہ مہنگائی اور امریکہ میں اجرت میں اضافے کی اوسط شرح دونوں سے بہت پیچھے ہے۔”

     

     

    معاہدے پر بات چیت کرنے والی یونین نیو یارک ٹائمز کمپنی کے نیوز روم، اشتہارات اور دیگر شعبوں میں تقریباً 1,450 ملازمین کی نمائندگی کرتی ہے۔ ٹائمز کے نیوز روم میں 1,800 سے زیادہ لوگ کام کرتے ہیں۔

     

    ٹائمز کے ایگزیکٹو ایڈیٹر جو کاہن نے کہا، "ہم جمعرات کو ایک مضبوط رپورٹ پیش کریں گے۔” "لیکن یہ معمول سے زیادہ مشکل ہو گا،” انہوں نے نیوز روم کو ایک نوٹ میں کہا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ یونین کے فیصلے سے مایوس ہیں۔

  • دنانیر کی نیوریاک میں مستیاں

    دنانیر کی نیوریاک میں مستیاں

    سوشل میڈیا سے راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والی دنانیر مبین آج کل نیویارک میں ہیں انہوں نے حال ہی میں اپنے انسٹاگرام اکائونٹ سے ایک وڈیو جاری کی ہے جس میں وہ نیویارک کے مختلف شہروں میں مختلف مقامات پر دیکھی جا سکتی ہیں . وہ اس وڈیو میں سیر سپاٹے اور مستیاں‌ کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں. دنانیر وڈیو میں خاصی خوبصورت لگ رہی ہیں. انکی یہ وڈیو ان کے مداح خاصی پسند کررہے ہیں. دنانیر مبین اکثر سوشل میڈیا پر ایسی وڈیوز ڈالتی رہتی ہیں جن کو عوامی سطح پر کافی پذیرائی ملتی ہے ان کی ھالیہ اس وڈیو کو بھی خاصی پذیرائی مل رہی ہے. یاد رہے کہ دنانیر مبین نے سوشل میڈیا سے شہرت حاصل کی انہوں نے اپنی سہیلیوں کے ساتھ ایک وڈیو

    سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جس میں یہ کہہ رہی ہیں کہ یہ میں ہوں یہ میری فرینڈز ہیں اور ہماری پارٹی ہو رہی ہے. اس وڈیو نے پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت سمیت پوری دنیا میں‌مقبولیت حاصل کی اور دنانیر کے دیوانے بالی وڈ کے نامور ستارے بھی بن گئے. آج دنانیر پاکستان شوبز انڈسٹری کا ایک اہم نام ہیں وہ ڈراموں میں کام کررہی ہیں وہ مختلف ایونٹس میں بطور مہمان خصوصی بھی شرکت کرتی ہیں. یوں سوشل میڈیا نے ان کی قسمت کا ستارہ بلند کر دیا .

  • وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا دورہ نیویارک:ملاقاتیں ہی ملاقاتیں:تحریر:-نعمان سلطان

    وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا دورہ نیویارک:ملاقاتیں ہی ملاقاتیں:تحریر:-نعمان سلطان

    وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف صاحب نے منصب وزارت سنبھالنے کے بعد 19 ستمبر سے 23 ستمبر تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے نیویارک کا ایک انتہائی اہم دورہ کیا، اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے انفرادی طور پر اور اپنے وفد کے ساتھ دیگر ممالک کے اپنے ہم منصب وزراء اعظم، صدور اور اہمیت کے حامل دیگر افراد اور وفود کے ساتھ ملاقاتیں کیں جبکہ آپ نے 23 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران اقوام عالم کو متاثرین سیلاب اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے علاوہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے فضائی آلودگی کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دیگر ممالک کو ہونے والے نقصانات اور مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستانی موقف سے آگاہ کیا ۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے دورہ نیویارک کی ابتداء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے دئیے جانے والے استقبالیے میں شرکت کر کے کی اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سے بھی ملاقات کی ۔اس دوران وزیراعظم نے گلوبل فوڈ سکیورٹی سمٹ میں بھی شرکت کی ، گلوبل فوڈ سکیورٹی سمٹ کا اہتمام سینیگال اور افریقی یونین کے صدر نے کیا ہے۔

    21 ستمبر کو وزیراعظم کی عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) اور ورلڈ بینک کے صدرسے ملاقات ہوئی اس کے علاوہ انہوں نے ترک صدر، ایرانی صدر اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے بھی ملاقاتیں کیں ۔21 ستمبر کو شہباز شریف نے امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے منعقدہ عشائیہ میں شرکت کی ۔ ترک صدر اور ان کی اہلیہ کے اعزاز میں ظہرانہ دیا ، فن لینڈ کے صدر سعالی نوسیتو سے بھی ملاقات کی ۔

    22 ستمبر کو مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس سے بھی ملاقات کی اور شہباز شریف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیرس سے دفتر میں ملے،چینی وزیراعظم، جاپانی وزیراعظم، لگسمبرگ کے وزیراعظم، ملائیشین وزیراعظم اسماعیل صابری یعقوب سے بھی شیڈول ملاقاتیں کیں ۔23 ستمبر کو وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا، اسی دن نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی سے بھی ملاقات کی ۔

    امریکا کے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ممتاز امریکی اخبارات اور ذرائع ابلاغ کو انٹرویوز بھی دئیے ۔

    وزیراعظم نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے انتہائی اہمیت کی حامل ملاقات کی ہے۔ملاقات کے دوران وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر بھی موجود تھیں اس ملاقات کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ جاتی ہے کہ گستاخانہ خاکوں والے معاملے کی وجہ سے پاکستان اور فرانس کے تعلقات نہایت کشیدہ ہو گئے تھے لیکن وزیراعظم نے تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپس کی غلط فہمیوں کو دور کیا اور فرانس میں دوبارہ پاکستان کا سفیر لگانے کا اعلان کیا تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود برف پگھلے اور اس کا فائدہ فرانس میں موجود پاکستانی تارکین وطن کو ہو۔

    ملک کے موجودہ معاشی بحران اور حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت انتہائی دباؤ میں تھی اور ایسے میں آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر حاصل کردہ قرضہ بھی حکومت کے لئے سردرد بنا ہوا تھا شہباز شریف صاحب نے صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے نیویارک میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی اور انہیں قائل کیا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان ایک آفت زدہ ملک ہے اور اس کے لئے آئی ایم ایف کی مشکل شرائط کو پورا کرنا نہایت مشکل ہے اس لئے براہ کرم پاکستان کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قرضے کی شرائط میں نرمی کی جائے اور پاکستان نے قرضے کی جو قسط ادا کرنی ہے اسے موخر کیا جائے اور انہوں نے شہباز شریف صاحب کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

    وزیراعظم نے ورلڈ بینک کے صدر جناب ڈیوڈ مالپاس سے اپنے وفد کے ہمراہ ملاقات کی اور متاثرین سیلاب کے لئے ورلڈ بینک کی جانب سے 320 ملین ڈالر کی امداد کے لئے شکریہ ادا کیا اس کے علاوہ انہوں نے ورلڈ بینک کے صدر کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا ورلڈ بینک کے صدر نے وزیراعظم کی متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے کوششوں کو سراہا اور متاثرین کے لئے مزید 850 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ بھی کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی کوششوں کی وجہ سے ترکیہ کے صدر جناب طیب اردگان نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کو اٹھایا اور ابھی تک مسئلہ کشمیر کا کوئی پائیدار حل نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اس کے علاوہ انہوں نے ممبر ممالک پر زور دیا کہ وہ متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں ۔

    ایرانی صدر جناب سید ابراہیم رئیسی سے اپنی ملاقات کے دوران شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون بڑھانے کا اعادہ کیا اس کے علاوہ متاثرین سیلاب کی امداد اور مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔
    جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر شہباز شریف صاحب کی سب سے اہم ملاقات امریکی صدر جناب جوبائیڈن سے ہوئی انہوں نے اس ملاقات کے دوران سیلاب زدگان کے لئے امریکہ کی طرف سے دی جانے والی امداد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں آگاہ کیا کہ سیلاب آنے کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جبکہ ان تبدیلیوں کی وجہ ہم نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے شہباز شریف صاحب کے موقف کی حمایت کی اور اپنے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران خصوصی طور پر سیلاب متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا ذکر کیا اور موسیماتی تبدیلیوں کی وجہ سے غیر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک کو ہونے والے نقصانات کا ذکر کیا ۔

    وزیراعظم نے بل گیٹس سے ملاقات کی اور انہیں سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا اور ان سے متاثرین سیلاب کے لئے آواز بلند کرنے کی درخواست کی ۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں، موسمیاتی تبدیلی، مسئلہ کشمیر، بھارت سے تعلقات، افغانستان کی صورتحال اور دہشتگردی کے معاملات پر بات کی، انہوں نے کہا کہ میرا دل اور دماغ اس وقت بھی پاکستان میں ہیں اور مجھے اس وقت وہیں ہونا چاہیے تھا لیکن میں آپ کو صرف یہ بتانے کے لئے یہاں آیا ہوں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جس صورتحال کا آج ہم شکار ہوئے ہیں کل کو آپ بھی ہو سکتے ہیں اس لئے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور اس کی پیش بندی کریں ۔
    انہوں نے سیلاب زدگان کی امداد کے لئے اقوام عالم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم نے اپنے پاس موجود تمام وسائل متاثرین سیلاب کی امداد کے لئے وقف کر دئیے ہیں اور اصل مسئلہ آنے والی سردیوں سے پہلے متاثرین کی بحالی کا ہے جو کہ آپ تمام ممالک کے تعاون سے ہی ممکن ہے اس لئے مصیبت کی اس گھڑی میں پاکستان کو تنہا نہ چھوڑیں اور ہمارے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں ۔

    اس کے علاوہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور کہا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں لیکن کسی کی شرافت اس کی بزدلی نہیں ہوتی ہم ہمسایوں کے ساتھ برابری کی سطح پر اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن اس کی قیمت کشمیر کی صورت میں ادا نہیں کر سکتے اس لئے مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب نے بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران انتہائی اہم ملاقات چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے کی اور اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا اور سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا، اس کے علاوہ انہوں نے ناروے کی وزیر خارجہ اور امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل ٹام ویسٹ سے بھی ملاقاتیں کیں، اوآئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب میں بلاول بھٹو نے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب کے تقررکا مطالبہ کیا۔

    مجموعی طور پر وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ نیویارک انتہائی کامیاب رہا اس دورے کے دوران جہاں انہوں نے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات کو دوبارہ سے بحال کیا وہیں انہوں نے تمام دوست ممالک کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات اور ان سے متاثر ہونے والے ممالک کے نقصانات کے ازالے کے لئے آواز اٹھائی، ان کی کامیاب سفارت کاری کی وجہ سے ترکیہ کے صدر جناب طیب اردگان نے اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کو اٹھایا، امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کا ذکر کیا اور متاثرین سیلاب کی امداد کے لئے اپنے خطاب میں خصوصی درخواست کی اس کے علاوہ ان کی سفارتی کوششوں کی وجہ سے دوست ممالک نے متاثرین سیلاب کی بحالی تک ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی یہ سب صرف شہباز شریف صاحب کی ذاتی کوششوں اور ملاقاتوں کی وجہ سے ممکن ہو سکا جس کے لئے وہ انتہائی مبارک باد کے مستحق ہیں ۔