Baaghi TV

Tag: نیگلیریا

  • پنجاب بھر میں وائرل بیماریاں پھیلنے کا خدشہ، الرٹ جاری

    پنجاب بھر میں وائرل بیماریاں پھیلنے کا خدشہ، الرٹ جاری

    ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ آف ہیلتھ سروسز نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب بھر میں وائرل بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ آف ہیلتھ سروسز پنجاب نے پھپلنے والی مہلک بیماریوں کا مراسلہ جاری کر دیا۔ جس کے مطابق حالیہ دنوں میں ڈینگی، نمونیہ ،انفلوئنزا، خسرہ کالی کھانسی، نیگلیریا کے مریض رپورٹ ہو سکتے ہیں۔جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر کے تمام اسپتالوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اور بیماریوں کے علاج معالجے کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔

    مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ اسپتالوں میں آگاہی بینرز اور کاؤنٹرز بنائے جاہیں۔ اور تمام ضروری ادویات اسپتالوں میں موجود ہونی چاہیے۔ اسپتالوں میں آنے والے تمام مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ڈائریکٹر سی ڈی سی نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں 8 بیماریوں کے پھیلنے سے پہلے روک تھام ضروری ہے۔ اور لاہور سمیت پنجاب بھر میں ہر سال اس موسم میں انہی بیماریوں سے بہت سے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیماریوں کی روک تھام کے لیے آگاہی بہت ضروری ہے۔ اور لاہور سمیت پنجاب بھر کے تمام انتظامی افسران کو اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

    نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ترمیم، سولرپینلز کی قیمتیں گر گئیں

    پیپلز پارٹی نے بھتہ، بوری بند لاشیں اور ہڑتالیں بند کروا دیں،شرجیل میمن

    نوشکی میں فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ،3 دہشتگرد ہلاک، 5 افراد شہید

    مصطفی کمال کا صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو کراچی کا دورہ

  • کراچی  میں نیگلیریا سے موت کا پہلا کیس رپورٹ

    کراچی میں نیگلیریا سے موت کا پہلا کیس رپورٹ

    کراچی میں رواں سال نیگلیریا سے ہلاکت کا پہلا کیس سامنے آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق دماغ خور جرثومہ نیگلیریا فاؤلری رواں سال کراچی میں پہلی جان نگل گیا ہے۔ گلشنِ اقبال کی 36 سالہ خاتون اس جان لیوا جرثومے کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار گئیں۔محکمہ صحت سندھ کے مطابق متاثرہ خاتون میں 18 فروری 2025 کو علامات ظاہر ہوئیں۔ خاتون کو 19 فروری کو ایک نجی اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں وہ 23 فروری کو انتقال کر گئیں۔24 فروری کو لیبارٹری رپورٹ میں نیگلیریا فاؤلری کی تصدیق ہوئی تھی۔ تحقیقات کے مطابق مریضہ نے کسی بھی قسم کی پانی سے متعلق سرگرمی میں حصہ نہیں لیا تھا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ممکنہ وجہ وضو ہوسکتی ہے۔ یہ جان لیوا جرثومہ عام طور پر گرم پانی میں پایا جاتا ہے اور ناک کی نالی کے ذریعے دماغ میں داخل ہو کر شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ ابتدائی علامات میں شدید سر درد، بخار، متلی، گردن کا اکڑاؤ، ذہنی الجھن اور بے ہوشی شامل ہیں جو چند دن میں موت کا سبب بن سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نیگلیریا فاؤلری سے بچاؤ کے لیے پانی میں مناسب مقدار میں کلورین کی گولیاں ڈالنی چاہئیں تاکہ جراثیم کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

    ڈیویلیئرز کی کرکٹ میں واپسی، 28 گیندوں پر سنچری

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، داڑھی چھوٹی ہونے پر امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے پر تفصیلی فیصلہ

    ایف 9 پارک میں تشدد کا واقعہ، خواتین اور ملزم جمال کے درمیان صلح

  • پانی میں نیگلیریا کی موجودگی نے لاہور کے باسیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی

    پانی میں نیگلیریا کی موجودگی نے لاہور کے باسیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی

    پانی میں نیگلیریا کی موجودگی نے لاہور کے باسیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے جبکہ لاہور میں نیگلیریا کا پہلا کیس 4 روز میں ہی جان کی بازی ہارگیا 30 سالہ شخص پیشے کے اعتبار سے باڈی بلڈنگ کا ٹرینر تھا سوئمنگ پول میں نہانے سے نگلیریا جرثومہ سے متاثر ہوا مریض سر میں شدید درد کے باعث 4 روز میں درد کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں حق ہوگیا –

    نجی لیبارٹری سے 30 سالہ شخص مصطفی شفیق کا نیگلیریا ٹیسٹ کرایا گیا تھا جو مثبت آیا جس سے نیگلیریا کی تشخیص ہوئی تھی طبی ماہرین کے مطابق پاکستان نیگلیریا سے متاثر ہونے والے ممالک میں امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے جس کی افزائش کی روک تھام کے لئے محکمہ صحت اوراداروں کی عدم دلچسپی اور نااہلی کے باعث جرثومہ کی افزائش بڑھ چکی ہے نیگلیریا ناک کے ذریعے انسانی دماغ کھا جاتا ہے ۔نگلیریا صاف پانی میں افزائش پاتا ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    صفائی کی مد میں کروڑوں روپے خورد برد کر لیے گئے، میر صادق عمرانی
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہےمسجد نبوی میں 4.2 ملین نمازی اور زائرین کی آمد ریکارڈ
    اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان
    گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس طلب
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    نیگلیریا کے دماغ میں جانے سے انسان کی موت بھی واقع ہوجاتی نگلیریا سے بچاؤ کیلئے پانی میں کلورین کا50 فیصد ہونا ضروری ہےگھروں میں موجود ٹینکوں کو سال میں کم سے کم دو بار صاف کیا جائے اور کلورین کی گولیوں کا استعمال کیا جائے،پینے اور وضو کیلئے پانی کو 100 ڈگری سینٹی گریڈ پر ابالنا نگلیریا

  • لاہور میں نیگلیریا کے پہلے کیس کا انکشاف

    لاہور میں نیگلیریا کے پہلے کیس کا انکشاف

    لاہور میں نیگلیریا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے جبکہ نجی لیبارٹری نے اس کی تصدیق بھی کردی ہے، لاہور میں تیس سالہ مریض میں نیگلیریا کی تصدیق ہوئی ہے، مریض کو سروسزاسپتال داخل کرلیا گیا،مریض کو چار روز سے سردرد، بخار سمیت مختلف علامات تھیں۔ ایم ایس سروسزاسپتال کے مطابق نیگلیریا کے کیس پرہسٹری معلوم کی جارہی ہے،کیس پرماہر ڈاکٹرز کی ٹیم مامور کردی گئی ہے،اورمریض کے علاج کیلئے بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔

    طبی ماہرین نے کہا ہے کہ نیگلیریا صاف پانی میں افزائش پاتا ہے،اورناک کے ذریعے انسان میں داخل ہوتا ہے، نگلیریا انسان کے دماغ کو کھانے والی حیاتیات ہے، جس سے انسان کی ممکنہ موت واقع ہوجاتی ہے۔ دوسری جانب نیگلیریا کا پہلا کیس رپورٹ ہونے پر محکمہ صحت پنجاب نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے ایڈوائزری جاری کردی ۔ ڈائریکٹر متعددی امراض ڈاکٹر یداللہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کلورینیشن کے بغیر پانی کے استعمال سے گریز کریں ۔نگلیریا سوئمنگ پولز، نہر، جھیلوں، تالابوں، ندیوں، گرم چشموں میں پایا جاتا ہے،شہری سوئمنگ پول میں نہاتے وقت پانی ناک میں لیکر نہ جائیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انسانی اسمگلرز کے بینک اکاؤنٹس منجمد
    معروف پروفیسر بلقیس ملک سپردخاک
    زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ
    پاکستان کو آئی ایم ایف سے نو ماہ میں 3 ارب ڈالر ملیں گے. وزیر اعظم
    امریکا کے شہر ہیوسٹن میں پہلی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد
    کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پشاور پولیس کا موک ایکسر سائز جاری
    ڈائریکٹر سی ڈی سی کہا کہ کلورینیشن کے بغیرپانی کےاستعمال سےگریزکیاجائے،سوئمنگ پولز کو روزانہ صاف کیاجائے، کلورنیشن کے بعداستعمال کیاجائے،پانی کی ٹینکیوں، پائپ سمیت دیگر سٹوریج کی صفائی یقینی بنائی جائے۔ ڈائریکٹر متعددی امراض نےبتایا کہ تمام نجی و سرکاری اسپتالوں کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کردی گئی،مریضوں کی آئسولیشن کیلئےاقدامات، علامات سےمتعلق آگاہی پھیلائی جائےگی،نجی لیبارٹریزبھی نیگلیریاکیسزسےمتعلق فوری رپورٹ کریں۔

  • کراچی:نیگلیریا سے ایک اور نوجوان زندگی کی بازی ہارگیا

    کراچی:نیگلیریا سے ایک اور نوجوان زندگی کی بازی ہارگیا

    کراچی:نیگلیریا سے ایک اور نوجوان زندگی کی بازی ہارگیا ،اطلاعات کے مطابق کراچی میں دماغ خور جرثومے سے 28 سالہ نوجوان انتقال کرگیا، ڈیفنس فیز 4 کا رہائشی مزمل علی چند روز قبل سوئمنگ پول میں نہایا تھا۔ رواں برس شہر قائد میں نیگلیریا امیبا سے یہ پانچویں ہلاکت ہے۔

    جناح اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شاہد رسول کے مطابق چند روز قبل کراچی ڈیفنس فیز 4 کے رہائشی نوجوان کو تیز بخار اور غنودگی کی حالت میں جناح اسپتال لایا گیا تھا، جس کی حالت کو دیکھتے ہوئے نیورولوجی وارڈ میں داخل کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کے نتیجے میں نوجوان میں نیگلیریا امیبا کی تشخیص ہوئی تھی، متاثرہ نوجوان کے گھر والوں کے مطابق چند روز قبل وہ نجی سوئمنگ پول میں نہایا تھا، جس کے بعد مزمل کو بخار ہوا، الٹی، شدید سر درد اور غنودگی کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔

    اسپتال حکام کے مطابق نوجوان چند روز جناح اسپتال میں زیر علاج رہا اور انتقال کرگیا۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق نیگلیریا سے رواں برس کراچی میں ہونے والی یہ پانچویں ہلاکت ہے۔

    سندھ میں 2011ء میں نیگلیریا سے ایک، 2012ء میں 9، 2013ء میں 3، 2014ء میں 14، 2015ء میں 12، 2016ء میں 3، 2017ء میں 6، 2018ء میں 7، 2019ء میں 15، 2020ء میں 8، 2021ء میں 7 اور 2022ء میں اب تک 5 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

    سندھ میں نیگلیریا کا مرض منظر عام پر آنے کے بعد سے اب تک 90 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں، جن میں سے 86 متوفین کا تعلق کراچی سے تھا۔

    طبی ماہرین کے مطابق نیگلیریا کو برین ایٹنگ امیبا یعنی دماغ خور جرثومہ بھی کہتے ہیں اور اس کا شکار ہونیوالے 98 فیصد افراد انتقال کرجاتے ہیں۔

    نیگلیریا فاؤلیری عام طور پر سوئمنگ پولز، ندیوں اور جھیلوں میں موجود ہوتا ہے اور انسانوں میں Primary Amebic Meningoencephalitis (PAM) نام کے ایک مہلک دماغی انفیکشن کا سبب بنتا ہے، سندھ میں ہونیوالی زیادہ تر اموات کی وجہ پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار کا شامل نہ ہونا ہے۔

    دماغی و اعصابی بیماریوں کے ماہر پروفیسر عبدالمالک کے مطابق اگر بغیر کلورین ملے پانی میں موجود جرثومہ انسان کی ناک کے ذریعے دماغ تک پہنچ جائے تو یہ تیزی سے دماغ کو کھانا شروع کردیتا ہے، اس کی علامات ایک ہفتے بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں اور دو یا تین ہفتے میں متاثرہ شخص انتقال کرجاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ عموماً انسان کے انتقال کے بعد اس بیماری کی تشخیص ہوپاتی ہے یا اس وقت تشخیص ہوتی ہے جب انسان کے بچنے کے امکانات بالکل ختم ہوجاتے ہیں۔

    اس بیماری کی علامات میں سر درد، بخار، متلی، الٹی، گردن میں اکڑن، تبدیل شدہ ذہنی کیفیت، فریب نظر، کوما، الجھن، لوگوں اور اردگرد کے ماحول پر توجہ نہ دینا، توازن کا کھو جانا، دورے پڑنا اور بعض اوقات بھری ہوئی ناک شامل ہیں۔اس جرثومے سے متاثر 98 فیصد افراد انتقال کرجاتے ہیں۔