Baaghi TV

Tag: وائرس

  • تھائی لینڈ : ایک نجی پارک میں وائرس سے 72 چیتے ہلاک

    تھائی لینڈ : ایک نجی پارک میں وائرس سے 72 چیتے ہلاک

    تھائی لینڈ کے شمالی علاقے میں واقع ایک نجی پارک میں کم از کم 72 چیتے ہلاک ہوگئے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق یہ ہلاکتیں ٹائیگر کنگڈم نامی پارک میں ہوئی ہیں جہاں موجودہ انتظامیہ سے ہفتے کے روز رابطہ نہیں ہو سکا چیانگ مائی میں صوبائی لائیو سٹاک آفس نے جمعہ کو بتایا کہ جانچ میں چیتوں میں انتہائی متعدی کینائن ڈسٹیمپر وائرس کے ساتھ ساتھ نظامِ تنفس پر اثر ڈالنے والے بیکٹیریا کی موجودگی بھی پائی گئی۔

    قومی لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ جب چیتے بیمار پڑتے ہیں تو بلیوں یا کتوں جیسے جانوروں کی نسبت ان کا پتہ لگانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ جب تک ہمیں احساس ہوا کہ وہ بیمار ہو گئے تھے تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

    جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پیٹا ایشیا نے اے ایف پی کو بتایا کہ چیتے اسی طریقے سے ہلاک ہوئے جیسے وہ زندہ تھے ان کی ہلاکت بہت تکلیف، قید اور خوف کے ماحول میں ہوئی ماہرین نے اس واقعے پر تشویش ظاہر کی کہ نجی جانوروں کے پارکوں میں بیماریوں کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات میں اضافہ ناگزیر ہے۔

  • اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    سائنسدانوں نے اے آئی کی مدد سے ایسا نیا وائرس تیار کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی موجود نہیں تھا۔

    تفصیلات کے مطابق اس وائرس کو Evo–Φ2147 کا نام دیا گیا ہے اور اسے مکمل طور پر نئے سرے سے تخلیق کیا گیا ہے صرف 11 جینز پر مشتمل یہ وائرس زندگی کی انتہائی سادہ شکلوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ انسانی جینوم میں تقریباً 200,000 جینز پائے جاتے ہیں، یہ وائرس خاص طور پر ای کولی (E. Coli) بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    تحقیق کے دوران اے آئی ٹول Evo2 کی مدد سے 285 نئے وائرس بنائے گئے، جن میں سے 16 وائرس مؤثر ثابت ہوئے، جبکہ سب سے کامیاب وائرس قدرتی اقسام کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ تیز تھےتاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے تیار کیے گئے ایسے وائرس مستقبل میں ممکنہ خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

    پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری

    یہ تحقیق برطانوی سائنسدان ڈاکٹر ایڈریان وولفسن کی قیادت میں اسٹارٹ اپ جینیرو نے کی ہے ڈاکٹر وولفسن کے مطابق اب قدرتی ارتقا کے ساتھ ساتھ اے آئی پر مبنی جینوم ڈیزائن بھی زندگی کے ارتقائی عمل کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کا نیا ہیڈ کوچ کون؟

  • پیوٹن کا اقتدار برقرار رکھنے کیلئے نیا وائرس بنائے جانے کا انکشاف

    پیوٹن کا اقتدار برقرار رکھنے کیلئے نیا وائرس بنائے جانے کا انکشاف

    روس نے مبینہ طور پر ایک نیا عالمی وبائی وائرس تیار کر لیا ہے، جسے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یا ان کے ہم شکل کو اقتدار میں برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے-

    ڈیلی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ حیران کن دعویٰ روسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر موجود ایک چینل ”جنرل ایس وی آر“ (General SVR) نے کیا ہےجو ماضی میں بھی کریملن اور پیوٹن سےمتعلق کئی متنازع بیانات دے چکا ہےچینل جو خود کو ”کریملن کا ذرائع“ بتاتا ہے، نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ ولادیمیر پیوٹن دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے، اور ان کی لاش ان کے والدای پیلس میں ایک فریزر میں محفوظ ہے۔

    روسی ایپ پر موجود چینل کا دعویٰ ہے کہ اس وقت روس کو پیوٹن کا ہمشکل چلا رہا ہے جو ”پولیٹ بیورو“ نامی ایک گروپ کا سربراہ ہے۔

    حافظ آباد تا گجرات 8 ارب کی سڑک پر کارپٹنگ کا آغاز، ڈپٹی کمشنر کا کام کا جائزہ

    جنرل ایس وی آر کے حالیہ دعوے کے مطابق، روسی حکومت میں شامل ”فوجی سوچ رکھنے والے عناصر“ (hawks) ایک ممکنہ سیاسی بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف منصوبے بنا رہے ہیں، جن میں ایک نیا وائرس بھی شامل ہے اس وائرس کو عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ذریعے نئی عالمی وبا قرار دلوایا جائے گا تاکہ دنیا کی توجہ ہٹائی جا سکے اور روس کے اندرونی بحران پر قابو پایا جا سکے۔

    یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ وائرس روسی سائنسدانوں نے تیار کیا ہے اور کورونا وبا کے پھیلاؤ اور تیاری میں کی گئی غلطیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس کی تفصیلی جانچ بھی مکمل کی گئی ہےاس وائرس کی ویکسین بھی تیار ہو چکی ہے اور وہ تمام مراحل میں کامیاب رہی ہے۔ ویکسین کی پیداوار کے لیے تیاریاں مکمل ہیں اور کسی بھی وقت اس کی تیاری شروع کی جا سکتی ہے۔

    کینیڈا میں سکھوں کا احتجاج:ہندوؤں کو ڈی پورٹ کرنے کا مطالبہ

    یہ دعویٰ آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں ہے، اور روسی حکومت کی جانب سے بھی اس پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • واٹس ایپ میں نیا اسرائیلی وائرس پھیلنے کا انکشاف

    واٹس ایپ میں نیا اسرائیلی وائرس پھیلنے کا انکشاف

    واٹس ایپ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پیراگون سلوشنز نامی ایک اسرائیلی کمپنی نے واٹس ایپ استعمال کرنے والے تقریباً 100 صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے فون ہیک کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ مالکان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہیکرز نے گریفائٹ نامی ایک طاقتور ٹول کا استعمال کیا جو صارف کے کسی بھی چیز پر کلک کیے بغیر ڈیوائسز میں داخل ہو سکتا ہے۔

    واٹس ایپ نے دعویٰ کیا کہ صحافیوں اور کارکنوں سمیت تقریباً 90 افراد کے فونز کو ممکنہ طور پر ہیک کیا گیااگرچہ واٹس ایپ نے یہ واضح کہ متاثر ہونے والے افراد کا تعلق کہاں سے ہے، حکام نے صرف اتنا بتایا کہ اسرائیل کمپنی کا ہدف سول سوسائٹی اور میڈیا کے ارکا ن تھے، واٹس ایپ نے ذمہ دار کمپنی پیراگون کے خلاف بھی ایک انتباہی خط بھیج کر اور انہیں جوابدہ ٹھہرانے کے لیے قانونی آپشنز کی تلاش میں کارروائی کی۔

    میرپورماتھیلو: رونتی کچے میں پولیس آپریشن، جوابی کارروائی میں ڈاکوؤں کا حملہ ناکام

    پیراگون سلوشنز، ایک کمپنی جس کا دفتر ورجینیا، امریکہ میں ہے، گریفائٹ نامی ایک طاقتور جاسوسی ٹول بنانے کے لیے مقبول ہے یہ ٹول پیگاسس نامی ایک اور معروف جاسوسی سافٹ ویئر سے ملتا جلتا ہے ایک بار جب گریفائٹ کسی ڈیوائس پر انسٹال ہو جاتا ہے، تو اسے کنٹرول کرنے والا ہر چیز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، جن میں واٹس ایپ اور سگنل جیسی نجی ایپس کے ذریعے بھیجے گئے پیغاما ت بھی شامل ہیں۔

    واٹس ایپ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ کمپنی متاثرہ صارفین کی مدد کرنے اور مستقبل میں اسی طرح کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اپنی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

    کراچی،شادی ودیگر تقریبات کے دوران ہوائی فائرنگ پر پابندی عائد

    خبررساں ایجنسی کے مطابق اس معاملے پر پیراگون نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

  • ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    برطانیہ کے ماہرین نے چین سے درخواست کی ہے کہ وہ ہومپیو وائرس ایچ ایم پی وی کے پھیلاؤ کی اہم تفصیلات فراہم کرے، جس کی وجہ سے چینی اسپتالوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں اس وائرس کی موجودہ قسم کے بارے میں مزید معلومات کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس کی برطانوی عوام کے لیے ممکنہ خطرات کا صحیح طور پر اندازہ لگا سکیں۔

    برطانوی ماہر وائرس ڈاکٹر اینڈریو کیچ پول نے کہا، "ہمیں وائرس کے اس مخصوص اسٹین کی تفصیلات کی ضرورت ہے جو چین میں گردش کر رہا ہے تاکہ ہم صحیح طور پر اس کے اثرات کا تجزیہ کر سکیں۔” ڈاکٹر کیچ پول نے مزید کہا کہ "چین میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی شدت معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔”برطانوی صحت کے حکام نے اس وائرس کے پھیلاؤ کو اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں گزشتہ ماہ کے دوران ہومپیو وائرس کے کیسز میں دوگنا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ حالیہ برطانوی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق، ایک اندازے کے مطابق ہر 20 سانس کی بیماریوں میں سے ایک کی وجہ ایچ ایم پی وی ہو سکتی ہے۔

    ڈاکٹر کیچ پول نے مزید کہا کہ "ہومپیو وائرس عام طور پر سردیوں کے موسم میں پایا جاتا ہے، لیکن یہ لگتا ہے کہ چین میں اس وائرس کے سنجیدہ کیسز کی شرح معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہمیں یہ سمجھنے کے لیے مزید معلومات کی ضرورت ہے کہ آیا یہ وائرس معمول کے گردش کرنے والے اسٹینز ہیں یا چین میں جو وائرس پھیل رہا ہے وہ کچھ مختلف ہے۔”اس وائرس کے عام علامات نزلہ اور کھانسی ہیں، لیکن کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد جیسے بچے، بزرگ اور بیمار لوگ اس سے زیادہ سنگین بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

    چین نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اسپتالوں کی بھرپور تصاویر اور ویڈیوز کو کم اہمیت دی ہے اور کہا ہے کہ یہ وائرس گزشتہ سال کے مقابلے میں کم سنگین ہے۔ تاہم، کچھ ماہرین نے چین میں جاری صورتحال کو 2019 میں کووڈ-19 کے آغاز کے ساتھ مماثلت قرار دیا ہے، جب چین نے ابتدائی طور پر وائرس کی شدت کو کم کر کے پیش کیا تھا۔برطانوی ماہرین نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ چینی اسپتالوں میں جو منظر دکھائی دے رہے ہیں، وہ برطانیہ کے اسپتالوں سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔

    ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایچ ایم پی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، خاص طور پر ان لوگوں کو جو کمزور مدافعتی نظام رکھتے ہیں۔ پروفیسر جایا ڈنٹس نے کہا، "ہمیں اس وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے محتاط اور متوازن طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔”انہوں نے مزید کہا، "ہمیں ٹیسٹ کرانا، گھر پر رہنا اور دوسروں سے دور رہنا چاہیے، عوامی مقامات پر ماسک پہننا چاہیے اور اپنے کمزور افراد کی حفاظت کرنی چاہیے۔”

    چین سے مزید شفاف معلومات کی درخواست عالمی ماہرین کی جانب سے کی گئی ہے۔ ڈاکٹر سنجیہ سنانییکے نے کہا، "چین کے لیے اس پھیلاؤ پر جلدی معلومات فراہم کرنا بہت ضروری ہے، بشمول اس بات کے کہ کس گروہ میں اس کا زیادہ اثر ہو رہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "ہمیں جینیاتی ڈیٹا کی بھی ضرورت ہے تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ ایچ ایم پی وی ہی اس کا سبب ہے اور آیا اس میں کوئی اہم تغیرات تو نہیں ہوئے ہیں۔”

    امریکہ میں بھی ایچ ایم پی وی کے کیسز میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جہاں دسمبر کے آخر میں مثبت ٹیسٹ کی شرح دگنا ہو گئی۔ تاہم، امریکی سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ وہ چین میں ہونے والی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، لیکن انہیں فی الحال امریکہ میں اس کے پھیلاؤ کے بارے میں زیادہ تشویش نہیں ہے۔

    ہومپیو وائرس پہلی بار 2001 میں سامنے آیا تھا اور عام طور پر نزلہ یا سردی کے جیسے علامات پیدا کرتا ہے۔ تاہم، اس کے شدید کیسز میں برونکائٹس، برونکائیولائٹس اور نمونیا جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں سانس کی تکلیف، شدید کھانسی اور سانس کا مسئلہ شامل ہیں۔ بچے، بزرگ اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد اس کے شدید اثرات کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ایچ ایم پی وی عموماً ہلکا وائرس ہے، اس لیے اس کا عین موت کا شرح معلوم نہیں، لیکن اندازہ ہے کہ ہسپتال میں داخل ہونے والے 10 سے 30 فیصد مریض اس وائرس کی وجہ سے موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر سنانییکے نے خبردار کیا کہ چین میں ایچ ایم پی وی کے کیسز میں اضافہ ایک "خراب فلو سیزن” کے مترادف ہے اور اس کے عالمی سطح پر پھیلنے کا امکان کم ہے۔

    اگرچہ ایچ ایم پی وی ایک عام وائرس سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے پھیلاؤ اور چین میں بڑھتی ہوئی شدت نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین نے چین سے مزید معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ وائرس کی نوعیت اور اس کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور اس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس کا پہلا کیس رپورٹ

    چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

    چین : کورونا جیسا وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ پھیلنے کی اطلاعات

    بھارت میں منکی پاکس وائرس کی تشخیص ،علاج کی نئی تکنیک دریافت

  • بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس  کا پہلا کیس رپورٹ

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس کا پہلا کیس رپورٹ

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس (HMPV) کا پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے جس سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    بھارتی ریاست بنگلورو سے تعلق رکھنے والے 8 ماہ کے بچے میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس وائرس کے مزید دو کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے ایک بچہ 8 ماہ کا ہے اور دوسرا 3 ماہ کا۔ ایچ ایم پی وی، جس کا مطلب ہیومن میٹا نیومو وائرس ہے، ایک وائرس ہے جو سانس کی نالیوں کو متاثر کرتا ہے اور برونکوپنیومونیا جیسے سنگین مرض کا سبب بن سکتا ہے۔ اس وائرس کی موجودگی میں شدید بخار، کھانسی، سانس میں تکلیف، اور جسمانی تھکاوٹ جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس خاص طور پر بچوں اور بزرگ افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔

    ان بچوں کو اسپتال لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹرز نے ان میں برونکوپنیومونیا کی علامات پائیں۔ برونکوپنیومونیا ایک قسم کا نمونیا ہوتا ہے جس میں پھیپھڑوں کے برونچی اور چھوٹے ہوا کے تھیلے (الیوولی) میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کی علامات میں بخار، کھانسی، سانس میں دقت، تیز سانس، جسم میں درد، تھکاوٹ اور بھوک میں کمی شامل ہو سکتی ہیں۔

    چین میں تیزی سے پھیلنے والا ہیومن میٹا نیومو وائرس گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان میں بھی موجود ہے۔ قومی ادارہ صحت پاکستان کے مطابق، اس وائرس کی موجودگی پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

    بھارتی میڈیا "انڈیا ٹوڈے” کے مطابق، دونوں بچوں کی کوئی سفری تاریخ سامنے نہیں آئی ہے، یعنی ان دونوں بچوں نے کسی بھی ایسے علاقے کا سفر نہیں کیا جہاں یہ وائرس پہلے سے پھیل چکا ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ وائرس مقامی سطح پر بھی پھیل سکتا ہے، جس سے مزید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے، جیسے کہ ہاتھ دھونا، ماسک کا استعمال، اور کمزور قوت مدافعت والے افراد کو وائرس کے اثرات سے بچانا۔ اس کے علاوہ، اگر کسی میں برونکوپنیومونیا کی علامات ظاہر ہوں، تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے تاکہ بیماری کی شدت سے بچا جا سکے۔

    اداکارہ ریما خان پر دھوکا دہی کا الزام

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

  • چین : کورونا جیسا وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ پھیلنے کی اطلاعات

    چین : کورونا جیسا وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ پھیلنے کی اطلاعات

    چین میں کورونا کے 5 سال بعد کووڈ 19 جیسا نیا وائرس تیزی سے پھیلنے کی اطلاعات ہیں.جس کا نام ہیومن میٹا پینو وائرس (ایچ ایم پی وی) ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارےکی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نئے وائرس سے متاثرہ لوگوں میں نزلہ اور کورونا جیسی علامات کی شکایات پائی گئی ہیں. ایچ ایم پی وی سمیت سانس کی بیماریوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا، سوشل میڈیا کی رپورٹس اور پوسٹس سے پتا چلتا ہے کہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے. کچھ نے دعویٰ کیا کہ مریضوں سے اسپتال بھرے پڑے ہیں. کئی لوگ جانیں کھو چکے ہیں۔چین میں آن لائن ویڈیوز میں مریضوں سے بھرے ہوئے اسپتالوں کو دکھایا گیا ہے.سوشل میڈیا صارفین انفلوئنزا اے، ایچ ایم پی وی، مائیکوپلازما نمونیا اور کووڈ 19 سمیت متعدد وائرسوں کی موجودگی کو اجاگر کر رہے ہیں۔چین میں ہنگامی حالت کے غیر مصدقہ دعوے بھی موجود ہیں۔ایکس پر سارس کوو-2 (کووڈ-19) ہینڈل کی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کو انفلوئنزا اے، ایچ ایم پی وی، مائیکوپلازما نمونیا، اور کوویڈ-19 سمیت متعدد وائرسز میں اضافے کا سامنا ہے. بچوں کے اسپتال خاص طور پر نمونیا اور ’پھیپھڑوں‘ کی بیماری کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہیں۔چائنا ڈزیز کنٹرول اتھارٹی نے نامعلوم نسل کے نمونیا کے لیے پائلٹ مانیٹرنگ سسٹم کا اعلان کیا ہے. برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے گزشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ موسم سرما کے دوران سانس کی بیماریوں میں اضافے کا خدشہ ہے. جس کی وجہ سے حکام نے نامعلوم جراثیموں سے نمٹنے کے لیے ’پروٹو کول‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ہیومن میٹا پینو وائرس ایک سانس کا وائرس ہے، جو بنیادی طور پر بچوں ، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو متاثر کرتا ہے۔یہ اکثر عام زکام یا فلو کی علامات ظاہر کرتا ہے، جیسے بخار ، کھانسی ، اور ناک بند ہونا، اس سے صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ابتدائی طور پر اس وائرس سے متعلق زیادہ آگاہی نہیں ہے. تاہم چین میں عوام کو کچھ ہدایات دی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ صابن اور پانی سے ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں، اکثر چھوئی جانے والی سطحوں کو جراثیم سے پاک رکھیں. متاثرہ افراد کے ساتھ قریبی رابطے سے گریز کریں۔ہجوم والی جگہوں پر خاص طور پر ماسک پہننے سے کسی حد تک احتیاط کی جاسکتی ہے۔نئی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے دستیاب ویکسین کے بارے میں اپ ڈیٹ رہیں، صحت مند غذا، قوت مدافعت کو مضبوط بنانے کے لیے وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور غذائیں شامل کریں۔تمباکو نوشی سے گریز کریں، کیوں کہ تمباکو نوشی نظام تنفس کو نقصان پہنچاتی ہے.جس سے انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔مناسب ہائیڈریشن مجموعی صحت اور بحالی کے لیے اہم ہے. ان وائرسوں کو سمجھنا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا خطرے کو نمایاں طور پر کم کرسکتا ہے۔

    صائم ایوب جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر

    کراچی :پولیس موبائل میں شہری اغوا ، 9 کروڑ روپے لوٹ لیے

    پاراچنار میں امن معاہدے کے باوجود مظاہرین کا دھرنا جاری

    اسلام آباد: تھانہ آئی 9 کے باہر دھماکے کے بعد راکٹ برآمد

  • چینی محققین نے لیبارٹری میں دنیا کا خطرناک ترین وائرس تیار کر لیا

    چینی محققین نے لیبارٹری میں دنیا کا خطرناک ترین وائرس تیار کر لیا

    بیجنگ: چینی محققین نے لیبارٹری میں دنیا کا خطرناک ترین وائرس تیار کر لیا-

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی محققین نے GX_P2V سے متعلق ایک تحقیق شائع کی ہے ، بیجنگ میں چینی محققین نے وائرس GX_P2V سے انسانی جینیات کے حامل چوہوں پر تجربہ کیا جس کے نتیجے میں ان تمام چوہوں میں موت کی شرح 100 فیصد پائی گئی۔

    کورونا وائرس کا درست ماخذ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا ہے لیکن چین کی لیبارٹری میں GX_P2V وائرس کے تجربات نے عالمی سطح پر ایک بار پھر خدشات کو تقویت دی ہے GX_P2V ایک منقلب (mutant) وائرس ہے جو کورونا وائرس کے ’خاندان‘ سے تعلق رکھتا ہے، اسے 2017 میں ملائیشیا کے پینگولن (جانور) میں دریافت کیا گیا تھا اس وائرس کو لے کر کیا جانے والا تجربہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے جس میں GX_P2V سے متاثرہ چوہوں میں شرح اموات 100 فیصد دیکھی گئی ہے، یہ شرح اموات پچھلے نتائج سے کہیں زیادہ ہے۔

    جس کا بھی مینڈیٹ ہے اس کو حکومت دینا چاہیئے،شاہ اویس نوارنی

    ماہرین نے نوٹ کیا کہ GX_P2V سے متاثرہ تمام چوہے8 دنوں کے اندر اندر مر گئے جو کہ حیرت انگیز طور پر موت کی تیز شرح ہے پہلے پہل وائرس نے چوہوں کو کمزور کرنا شروع کیا جس میں وزن میں کمی، سست رفتار اور جسمانی جھکاؤ میں زیادتی دیکھی گئی بعدازاں وائرس نے چوہوں کے پھیپھڑوں، ہڈیوں، آنکھوں، حلق کی نالی اور دماغ کو متاثر کیا اور مرنے سے ایک دن پہلے ان کی آنکھیں مکمل طور پر سفید ہو گئیں۔

    پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے درمیان معاملات طے پا گئے

  • نیپا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے. قومی ادارہ صحت

    نیپا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے. قومی ادارہ صحت

    قومی ادارہ صحت نے ملک میں نیپا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہرکردیا ہے اور قومی ادارہ صحت نے وفاقی اور صوبائی ہیلتھ اتھارٹیوں کو نیپا وائرس کا انتباہی مراسلہ ارسال کردیا ہے جبکہ قومی ادارہ صحت کا کہنا ہےکہ بھارتی سرحدی علاقوں میں موجود چمگادڑ سے نیپا وائرس پاکستان منتقل ہوسکتا ہے، متاثرہ چمگادڑ کے کھائے پھل سے نیپا وائرس انسان میں منتقل ہوسکتا ہے۔

    علاوہ ازیں قومی ادارہ صحت کے مطابق نیپا وائرس متاثرہ چمگادڑ اور سور سے انسان میں منتقل ہوتا ہے اور قومی ادارہ صحت کا کہنا ہےکہ نیپا وائرس کی علامات 5 تا 14 دن تک رہ سکتی ہیں،سر درد، بخار اور سانس لینے میں دشواری نیپا وائرس کی علامات ہیں، جی متلانا، قے، پٹھوں میں درد اور غنودگی بھی نیپا وائرس کی علامات ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ‎‎مارینا ایوانوونا تسوتایوا م کو بیسویں صدی کے روسی ادب میں نمایاں مقام حاصل

    نیب کا انٹیلی جنس ماہرین بھرتی کرنے کا فیصلہ
    سولرپینلز کی مزید 6 فرضی کمپنیاں بے نقاب،13 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف
    آسٹریلیا کی بھارت کے خلاف بیٹنگ جاری،8 کھلاڑی آؤٹ
    تاہم خیال رہے کہ قومی ادارہ صحت نےکہا ہےکہ ائیرپورٹ اور سرحدی مقامات پر مؤثرسرویلینس یقینی بنائی جائے، نیپا وائرس کے علاج کے لیے اینٹی وائرل یا ویکسین دستیاب نہیں ہے، واضح رہےکہ بھارت میں نیپا وائرس کے متعدد کیس سامنے آئے ہیں، یہ کیس جنوبی ریاست کیرالہ میں سامنے آئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کیرالا میں مہلک وبائی وائرس نیپا سے اب تک متعدد افراد ہلاک جب کہ 700 سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔

  • پنجاب بھر میں ایک اور خطرناک وائرس کا انکشاف،ممکنہ خطرے اور پھیلاؤ کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری

    پنجاب بھر میں ایک اور خطرناک وائرس کا انکشاف،ممکنہ خطرے اور پھیلاؤ کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری

    باغی ٹی وی : پنجاب بھر میں ایک اور خطرناک وائرس کا انکشاف، محکمہ صحت پنجاب نےہمسایہ ممالک سے پھیلنے والے نپاہ (nipah) نامی وائرس کے ممکنہ خطرے اور پھیلاؤ کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی: محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے نپاہ نامی وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے اور اس سے بچنے کے لیےجاری کیے جانے والے ہدایات نامے میں کہا گیا ہےکہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں اور ایک شخص سے دوسرے شخص میں بہت جلد پھیلتا ہے اس خطرناک وائرس کی کوئی ویکسین نہیں، لہذا بروقت تشخیص سے علاج کرکے ہی بچا ؤ ممکن ہے، اگر کسی بھی شخص میں یہ علامات پائی جائیں تو فوراً قریبی اسپتال کا رخ کریں اگر بروقت علاج نہ کیا تو مریض 3 سے 4 دن میں کومہ میں جاسکتا ہے اور اس وائرس سے اموات کی شرح 74 فیصد ہے، وائرس کی ابتدائی علامات میں کھانسی، سانس لینے میں دشواری، تیز بخار، جھٹکے لگنا اور دماغی حالات خراب ہونا شامل ہیں۔

    بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کیس: تمام فریقین اسلام آباد میں آکر دلائل دیں،سپریم …

    ابتدائی تحقیق سے یہ وائرس چمگادڑوں اور خنزیروں سمیت دیگر جانوروں میں پایا گیا اور وہاں سے انسانوں میں منتقل ہوا محکمہ صحت کے مراسلہ کے مطابق وائرس چمگادڑوں کے درخت پر لگے پھل کھانے سے اور وہی پھل بعد میں کوئی انسانی کھائے تو اس میں منتقل ہوسکتا ہے لہذا تمام شہری پھلوں کو اچھی طرح دھو کر کھائیں۔

    گائید لائنز میں نپاہ سے متاثرہ تمام مشتبہ مریضوں کا ڈیٹا بروقت ڈیش بورڈ پر اپلوڈ کرنے، مریضوں کو الگ رکھنے، بروقت تحقیقات کیلئے سیمپلز پی سی آر کیلئے لیبارٹری بھجوانے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں۔

    عدت میں نکاح ثابت ہو بھی جائے تو سزا نہیں ہو سکتی،وکیل عمران خان