Baaghi TV

Tag: وائرس

  • بھارت میں کرونا سے بھی خطرناک وائرس،تعلیمی ادارے،دفاتر بند

    بھارت میں کرونا سے بھی خطرناک وائرس،تعلیمی ادارے،دفاتر بند

    بھارت میں نیا وائرس، خوف و ہراس پھیل گیا، تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے

    بھارت میں نیا وائرس "نپاہ” کا پھیلاؤ شروع ہو گیا ہے، بھارتی ریاست کیرالہ میں نپاہ کے چھ مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد وائرس سے بچاؤ کے اقدامات سخت کر دیئے گئے ہیں، تعلیمی اداروں میں 24 ستمبر تک چھٹیاں کر دی گئی ہیں، بھارتی کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے کیرالہ میں موبائل لیبارٹری روانہ کی ہے تا کہ متاثرہ کے ٹیسٹ کئے جا سکیں،کیرالہ میں بینک، دفاتر بھی بند رکھنے کا حکم دے دیا گیا ہے، شہریوں کو کہا گیا ہے کہ وہ ماسک پہنیں اور احتیاط کریں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارتی کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ڈی جی کا کہنا تھا کہ نپاہ وائرس میں شرح اموات کرونا سے بڑھ کر ہے، مریضوں کے ٹیسٹ کئے گئے،چھ مریض سامنے آئے ہیں، ماہرین پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو وائرس سے شہریوں کو بچانے کے لئے ایس او پی پر کام کر رہی ہے،

    بھارت میں نپاہ وائرس کی وجہ سے دو افراد کی موت بھی ہوئی ہے ،نپاہ وائرس دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے ،بھارتی حکومت کے پاس نپاہ وائرس کے علاج کے لیے واحد آپشن مونوکلونل اینٹی باڈی ہے تاہم اس کی تاثیر ابھی تک طبی طور پر ثابت نہیں ہوئی

    نیپاہ وائرس کی بھارتی وبا جس کا کوئی علاج نہیں ہے اور یہ متاثر ہونے والے 75 فیصد لوگوں کو ہلاک کر سکتا ہے پر برطانیہ کے صحت کے رہنما گہری نظر رکھے ہوئے ہیں،

    ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ نپاہ وائرس پہلی بار 1998 میں ملائیشیا کے گاؤں سنگائی نپاہ میں پایا گیا تھا ، گاؤں کے نام پر اس کا نام نپاہ رکھا گیا ، یہ وائرس چمگادڑوں اور خنزیروں سے پھیلتا ہے ،اگر وائرس سے متاثرہ چمگادڑ کوئی پھل کھاتا ہے اور انسان یا جانور وہی پھل یا سبزی کھاتا ہے تو وہ بھی اس کا شکار ہو جاتا ہے

    پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے الائزا ڈینگی ٹیسٹ کی قیمت 1,500روپے مقررکر دی

    ڈینگی کا ڈنگ تیز، ہسپتال بھر گئے

    لاہور میں ڈینگی کیسز کی شرح میں کمی

    انیل مسرت منموہن سنگھ کے ہمراہ سیلفی بنانے لگے تو کیا ہوا؟

    سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا کرونا ٹیسٹ، کیا آئی رپورٹ؟

    ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی جاری، 68 افراد گرفتار،639 مقدمات درج

  • منکی پاکس کے بعد کانگو وائرس، پاکستان میں ایک موت

    منکی پاکس کے بعد کانگو وائرس، پاکستان میں ایک موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کانگو وائرس کے مریض کی موت ہو گئی ہے، مریض فاطمہ جناح اسپتال میں زیر علاج تھا

    ہسپتال انتظامیہ کے مطابق کانگو وائرس سے مرنے والے متاثرہ مریض کا تعلق بلوچستان کے ضلع چمن سے تھا اور مریض فاطمہ جناح اسپتال میں تشویشناک حالت میں زیر علاج تھا ،انتظامیہ کے مطابق فاطمہ جناح ہسپتال میں کانگو وائرس کا ایک متاثرہ مریض زیر علاج ہے

    دوسری جانب شہر قائد کراچی میں منکی پاکس کے تین مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں ،میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی میں منکی پاکس کے تین کیس سامنے آئے، دوران اسکریننگ مسافروں میں علامات پائی گئیں، مسافروں کی مزید جانچ پڑتال آئسولیشن سینٹرز میں جاری ہے اور تصدیق ہونے پر مسافروں کو ایک سے دو ہفتے تک آئسولیشن سینٹر میں رکھا جائےگا

    کانگو وائرس جس کا سائنسی نام کریمین ہیمریجک کانگو فیور یا کریمین ہیمریجک کانگو بخار ہے۔ یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا مرض ہے ،کانگو وائرس مختلف جانوروں مثلاً بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ کی جلد میں پایا جاتا ہے کانگو وائرس سے متاثرہ جانور ذبح کرنے کے دوران کسی شخص کے ہاتھ میں کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔

    عللامات:
    کانگووائرس کامریض تیزبخارمیں مبتلا ہو جاتا ہےاسےسردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اورغنودگی، منہ میں چھالے ،اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہےتیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعدادانتہائی کم ہوجاتی ہےجس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

     ممکنہ منکی پاکس کیسز اور بارڈر ہیلتھ سروسز ہدایات کی روشنی میں ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات

     پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آگیا،

     اسلام آباد میں منکی پاکس کے 20 مشتبہ کیسز رپورٹ 

  • نیا وائرس، سعودی عرب، یو اے ای، کویت نے شہریوں پر لگائی پابندی

    نیا وائرس، سعودی عرب، یو اے ای، کویت نے شہریوں پر لگائی پابندی

    سعودی عرب نے اپنے شہریوں کو افریقہ کے 2 ممالک کا سفر کرنے سے روک دیا ہے

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے اپنے شہریوں کو افریقی ملک گنی اور تنزانیہ کے سفر سے روکا ہے جہاں ماربرگ وائرس کی وبا کے تیزی سے پھیل رہی ہے ، سعودی عرب کے ساتھ عرب امارات، کویت اور بحرن نے بھی اپنے شہریوں کو تنزانیہ، اور گنی کا سفر کرنے سے روکا ہے،سعودی پبلک ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق شہریوں کو کہا گیا ہے کہ سعودی شہری ان دو ممالک کا سفر کرنے سے گریز کریں کیونکہ وہاں ماربرگ وائرس پھیل گیا ہے،

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی ایسا ہی حکمنامہ شہریوں کے لئے جاری کیا گیا ہے، عرب امارات کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم ان دو افریقی ممالک میں موجود اماراتی شہریوں کو کہتے ہیں کہ وہ احتیاط کریں، حفاظتی تدابیر پر عمل کریں، اور اب کوئی شہری ان دو ممالک کی طرف سفر نہ کرے،

    کویتی وزارت خارجہ نے بھی اپنے شہریوں سے تنزانیہ اور استوائی گنی کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی اپیل کردی۔ بحرین کا بھی کہنا ہے کہ ہم تمام شہریوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فی الحال تنزانیہ اور استوائی گنی کی وفاقی جمہوریہ کا سفر نہ کریں۔ عمانی وزارت صحت نے بھی سفارش کی کہ اس کے شہری انتہائی ضرورت کے علاوہ ان دونوں ممالک کا سفر نہ کریں۔

    ماربرگ وائرس کی بیماری انتہائی متعدی بیماری ہے اور اس بیماری میں اموات کی شرح 60 سے لیکر 80 فیصد تک ہے ,ماربرگ وائرس جانوروں بشمول چمگادڑ سے انسانوں میں پھیلتا ہے اور اب تک افریقا میں انگولا، کینیا، جنوبی افریقا، جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں اس کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے یہ بیماری وائرس کے اسی خاندان سے تعلق رکھتی ہے جس کا وائرس ایبولا کا سبب بنتا ہے اور یہ ایک مہلک اور انتہائی متعدی بیماری ہے-

    مغربی افریقہ : کورونا کے بعد ایک اورمہلک ماربرگ وائرس کی تصدیق، عالمی ادارہ صحت
    موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت
  • ڈینگی مکاؤ پروگرام میں گھوسٹ ورکرزکی بھرتیوں اور خلاف قانون ادائیگیوں کا انکشاف

    ڈینگی مکاؤ پروگرام میں گھوسٹ ورکرزکی بھرتیوں اور خلاف قانون ادائیگیوں کا انکشاف

    لاہور ڈینگی مکاؤ پروگرام میں مبینہ کرپشن، بوگس بھرتیوں، فرضی مہم، بے ضابطگیوں اور مبینہ ہزاروں گھوسٹ ورکرز کو ادائیگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 3 سال میں17 ہزار 57 ڈینگی ورکرز بھرتی کیے گئے۔ مذکورہ ورکرز کو ایک ارب کی خلاف قانون ادائیگیاں کی گئیں جبکہ مجموعی طورپرایک ارب 70کروڑ کی ادائیگیاں کی گئی۔

    بینظیربھٹو کی استاد اورکانونٹ جیسز اینڈ میری اسکول کی سابق پرنسپل انتقال کرگئیں

    رپورٹ کے مطابق ورکرز کی بھرتیوں میں قانون پرعمل نہیں کیا گیا جبکہ 70 فیصد ورکرز کو کیش پیمنٹ کی گئی۔ کروڑوں کے کیش کی تقسیم کا ریکارڈ بھی نہ ملنے کا انکشاف ہوا ہے,دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ 10 زون زون کے سیمپل سروے میں متعدد ورکرزڈینگی مہم سے بالکل لاعلم نکلے۔ کئی علاقوں میں جعلی ڈینگی مہم دکھائی گئی۔

    ننکانہ:ریسکیو1122کا حالیہ موسمِ سرما اور شدید دھند کی وجہ سے بڑھتے ہوئے حادثا ت کے…

    راوی زون میں 50لاکھ کے 60چیک بوگس نکلے، علامہ اقبال زون میں 30سال میں 29 کروڑ کی خلاف ضابطہ ادائیگیاں کیش میں کی گئیں۔

    اسلام آباد میں سی ٹی ڈی کا آپریشن،ایک ملزم گرفتار،بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد

    پاکستان میں ہر سال ڈینگی وائرس کی شدت اور پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اب نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ ڈینگی ان علاقوں میں بھی پھیل سکتا ہے جہاں یہ وائرس پہلے نہیں تھا۔ ایک تحقیق کے مطابق گلوبل وارمنگ کے سامنے آنے والے خوفناک اثرات، ماحولیاتی آلودگی میں اضافے اور مستقبل میں مون سون موسم میں تبدیلی کی پیش گوئی کے پیش نظر پاکستان کے ان علاقوں میں بھی ڈینگی وائرس پھیلنے کے خطرات اور خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے جن علاقوں میں یہ وائرس پہلے کبھی نہیں پھیلا تھاوہاں بھی اب اس کا پھیلاو جاری ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یہ وائرس مزید علاقوں میں پھیل رہا ہے

  • چین میں کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج، شی جن پنگ استعفیٰ دو کے نعرے

    چین میں کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج، شی جن پنگ استعفیٰ دو کے نعرے

    چین میں کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، چینی صدر شی جن پنگ سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق اتوار کی صبح مشتعل ہجوم نے بیجنگ اور شنگھائی کی سڑکوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا، اس سے قبل شمال مغربی چینی صوبے سنکیانگ سے بھی شدید احتجاج کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

    امام خمینی ایئرپورٹ سٹی کی تعمیر:چینی کمپنی کو3 ارب یورو کا ٹھیکہ دے دیا گیا

    بیجنگ کی سنگھوا یونیورسٹی کے سینکڑوں طلباء نے اتوار کو اپنے کیمپس میں ریلی نکالی، ”آزادی غالب آئے گی“ کے نعرے لگائے اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بعض مظاہرین کی جانب سے شی جن پنگ استعفیٰ دو کے نعرے بھی لگائے گئے۔یہ مظاہرے کووڈ کے حوالے سے چینی حکومت کے زیرو ٹالرنس اپروچ پر بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔

    چین میں کورونا وبا کی نئی لہر؛ مزید 31 ہزار کیسز رپورٹ

    حال ہی میں چین کے شہر ارومکی میں ایک ٹاور آتشزدگی سے 10 افراد کی ہلاکت پر لاک ڈاؤن کے قوانین کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا، جب کہ چینی حکام اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ کووڈ کی پابندیوں کی وجہ سے اموات ہوئیں۔ارومکی میں حکام نے جمعہ کو ایک غیر معمولی معافی نامہ جاری کیا جس میں پابندیوں کو ختم کرکے ”امن بحال“ کرنے کا عہد کیا۔

    چین: فیکٹری میں آتشزدگی،38 افراد ہلاک

    خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل چین میں چھ ماہ بعد کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت واقع ہوئی تھی جس کے بعد بیجنگ سمیت ملک بھر میں سخت اقدامات نافذ کر دیے گئے تھے۔چین کے دارالحکومت بیجنگ میں رہائیشیوں کو شہر کے مختلف اضلاع کے درمیان سفر کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ ریستوران، دکانیں، شاپنگ مالز اور اپارٹمنٹ بلڈنگز کی ایک کثیر تعداد کو بند کیا ہوا ہے۔

  • کراچی:نیگلیریا سے ایک اور نوجوان زندگی کی بازی ہارگیا

    کراچی:نیگلیریا سے ایک اور نوجوان زندگی کی بازی ہارگیا

    کراچی:نیگلیریا سے ایک اور نوجوان زندگی کی بازی ہارگیا ،اطلاعات کے مطابق کراچی میں دماغ خور جرثومے سے 28 سالہ نوجوان انتقال کرگیا، ڈیفنس فیز 4 کا رہائشی مزمل علی چند روز قبل سوئمنگ پول میں نہایا تھا۔ رواں برس شہر قائد میں نیگلیریا امیبا سے یہ پانچویں ہلاکت ہے۔

    جناح اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شاہد رسول کے مطابق چند روز قبل کراچی ڈیفنس فیز 4 کے رہائشی نوجوان کو تیز بخار اور غنودگی کی حالت میں جناح اسپتال لایا گیا تھا، جس کی حالت کو دیکھتے ہوئے نیورولوجی وارڈ میں داخل کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کے نتیجے میں نوجوان میں نیگلیریا امیبا کی تشخیص ہوئی تھی، متاثرہ نوجوان کے گھر والوں کے مطابق چند روز قبل وہ نجی سوئمنگ پول میں نہایا تھا، جس کے بعد مزمل کو بخار ہوا، الٹی، شدید سر درد اور غنودگی کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔

    اسپتال حکام کے مطابق نوجوان چند روز جناح اسپتال میں زیر علاج رہا اور انتقال کرگیا۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق نیگلیریا سے رواں برس کراچی میں ہونے والی یہ پانچویں ہلاکت ہے۔

    سندھ میں 2011ء میں نیگلیریا سے ایک، 2012ء میں 9، 2013ء میں 3، 2014ء میں 14، 2015ء میں 12، 2016ء میں 3، 2017ء میں 6، 2018ء میں 7، 2019ء میں 15، 2020ء میں 8، 2021ء میں 7 اور 2022ء میں اب تک 5 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

    سندھ میں نیگلیریا کا مرض منظر عام پر آنے کے بعد سے اب تک 90 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں، جن میں سے 86 متوفین کا تعلق کراچی سے تھا۔

    طبی ماہرین کے مطابق نیگلیریا کو برین ایٹنگ امیبا یعنی دماغ خور جرثومہ بھی کہتے ہیں اور اس کا شکار ہونیوالے 98 فیصد افراد انتقال کرجاتے ہیں۔

    نیگلیریا فاؤلیری عام طور پر سوئمنگ پولز، ندیوں اور جھیلوں میں موجود ہوتا ہے اور انسانوں میں Primary Amebic Meningoencephalitis (PAM) نام کے ایک مہلک دماغی انفیکشن کا سبب بنتا ہے، سندھ میں ہونیوالی زیادہ تر اموات کی وجہ پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار کا شامل نہ ہونا ہے۔

    دماغی و اعصابی بیماریوں کے ماہر پروفیسر عبدالمالک کے مطابق اگر بغیر کلورین ملے پانی میں موجود جرثومہ انسان کی ناک کے ذریعے دماغ تک پہنچ جائے تو یہ تیزی سے دماغ کو کھانا شروع کردیتا ہے، اس کی علامات ایک ہفتے بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں اور دو یا تین ہفتے میں متاثرہ شخص انتقال کرجاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ عموماً انسان کے انتقال کے بعد اس بیماری کی تشخیص ہوپاتی ہے یا اس وقت تشخیص ہوتی ہے جب انسان کے بچنے کے امکانات بالکل ختم ہوجاتے ہیں۔

    اس بیماری کی علامات میں سر درد، بخار، متلی، الٹی، گردن میں اکڑن، تبدیل شدہ ذہنی کیفیت، فریب نظر، کوما، الجھن، لوگوں اور اردگرد کے ماحول پر توجہ نہ دینا، توازن کا کھو جانا، دورے پڑنا اور بعض اوقات بھری ہوئی ناک شامل ہیں۔اس جرثومے سے متاثر 98 فیصد افراد انتقال کرجاتے ہیں۔

  • بھارت میں کورونا پھر سر اُٹھانے لگا؛ ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا

    بھارت میں کورونا پھر سر اُٹھانے لگا؛ ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا

    نئی دہلی: بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 23 ہوگئی جب کہ 4 ہزار 777 نئے کیسز سامنے آئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک میں کورونا پر قابو پالیا گیا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی اسے اپنی بڑی کامیابی بھی قرار دیتے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ کورونا ایک بار پھر سر اُٹھا رہا ہے۔ اور صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا نے مزید 23 افراد کی جان لے لی۔

    کورونا سے ایک دن میں ہونے والی 23 ہلاکتوں میں سے 11 ہلاکتیں صرف ریاست کیرالہ میں ہوئیں۔ اس طرح ملک بھر میں اس مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 5 لاکھ 28 ہزار 510 ہوگئی۔

     

     

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 ہزار 777 نئے کیسز بھی سامنے آئے جس کے بعد ایک بار پھر کورونا پابندیوں کو سخت کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاہم گزشتہ فیصلوں کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے شاید ہی مودی حکومت کوئی بڑا فیصلہ کرپائے۔

    کورونا کا پہلا کیس چین کے صوبے ووہان میں دسمبر 2019 میں سامنے آیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ وبا پوری دنیا میں پھیل گئی تھی جس میں تاحال 65 لاکھ سے زیاد افراد ہلاک ہوئے جب کہ 61 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے۔

    اُس وقت بھی امریکا کے بعد بھارت اس وبا سے متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ملک تھا تاہم دنیا بھر میں کورونا ویکسینیشن کے بعد صورت حال قابو میں آئی۔ دنیا بھر میں تمام سفری پابندیوں کا خاتمہ ہوا، کاروباری سرگرمیاں شروع ہوئیں اور اب معمول کی زندگی کی رواں دواں ہے۔

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • ڈبلیو ایچ او نے ’منکی پاکس‘ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا

    ڈبلیو ایچ او نے ’منکی پاکس‘ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ’منکی پاکس‘ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق متعدد ماہرین اور ممالک کی جانب سے’منکی پاکس‘ کے نام کو توہین آمیز اور نسل پرستانہ قرار دیئےجانے کے بعد عالمی ادارے نے اس کا نام تبدیل کرنے کے لیے دنیا بھر کے افراد سے مدد مانگ لی۔

    عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ادارے کو ایسے ناموں کی تجاویز دی جائیں، جس سے کسی علاقے، جنس، قوم، خطے، مذہب، نسل، گروہ یا ثقافت پر منفی اثرات نہ پڑیں۔

    ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ساتھ ہی ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا ہے کہ اس نے منکی پاکس کے دونوں پرانی قسموں کے وائرسز کے نام تبدیل کرکے اس میں رومن ہندسے بھی شامل کرلیے ہیں، تاکہ اس سے وائرسز کو بھی کسی ثقافت، خطے یا علاقے سے نہ جوڑا جا سکے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب سے وسطی افریقہ میں پائے جانے والے ’کانگو بیسن‘ وائرس کو ’کلیڈ I‘ جب کہ مغربی افریقی خطے میں پائے جانے والے وائرس کو ’کلیڈ II‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    اسی طرح بعد میں یورپ سمیت دیگر خطوں میں میں پائے گئے ’منکی پاکس‘ کے وائرسز کو ’کلیڈ I اے‘ اور ’کلیڈ II بی‘ کا نام دیا گیا ہے جبکہ جلد ہی عالمی ادارہ بیماری کا نام بھی تبدیل کردے گا ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ یہ فیصلہ اس ہفتے سائنسدانوں کی میٹنگ کے بعد کیا گیا ہے-

    کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا،امریکی پروفیسر کا انکشاف

    عالمی ادارے کی جانب سے منکی پاکس کے مختلف قسموں کو الگ الگ نام دیئے جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بیماری کی بھی کورونا کی طرح متعدد قسمیں ہیں۔

    اس بیماری پر ’منکی پاکس‘ نام 1958 میں اس وقت رکھا گیا تھا جب اسے پہلی بار یورپی ملک ڈنمارک میں پایا گیا تھا، جس کے بعد یہ بیماری 1970 کے بعد بڑے پیمانے پر افریقہ میں پائے گئی۔

    مئی 2022 سے اب تک منکی پاکس کے افریقہ کے باہر 31 ہزار کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور یہ بیماری دنیا کے 80 کے قریب ممالک تک پہنچ چکی ہے۔

    موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت

  • کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح میں کمی ریکارڈ

    کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح میں کمی ریکارڈ

    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہونے کا امکان

    قومی ادارہ برائے صحت کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا مثبت کیسز کی شرح 2.91 فیصد ریکارڈ کی گئی جب کہ گزشتہ دو دنوں سے ملک میں کورونا سے کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی۔

    این آئی ایچ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 22 ہزار 126 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے644 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے شکار 170 افراد کی حالت اس وقت تشویش ناک ہے جب کہ 24 گھنٹوں میں کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی۔

     

    اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، سیلاب متاثرین کیلئے5 ارب روپےکی منظوری

  • لکی مروت سے پولیو کا ایک اور کیس رپورٹ، تعداد13ہوگئی

    لکی مروت سے پولیو کا ایک اور کیس رپورٹ، تعداد13ہوگئی

    لکی مروت:صوبہ خیبرپختونخوا کے جنوبی ڈویژن بنوں کے دوسرے ضلع لکی مروت میں بھی ایک ڈیڑھ سالہ بچہ میں پولیو وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد رواں سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ کر13 ہوگئی جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پولیو سے اب تک12 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی ، جبکہ جنوبی ضلع لکی مروت میں رواں سال یہ پولیو کا پہلا کیس ہے جو ایک ڈیڑھ ماہ کے بچہ میں رپورٹ ہوا ہے۔

     

     

    واضح رہے کہ گزشتہ سال 2021کے دوران پولیو کا صرف ایک کیس بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہواتھا جبکہ سال 2020 میں ملک بھر میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 84 اور سال 2019 میں پولیو کی موذی مرض سے سب سے زیادہ 147 بچے متاثر ہوئے تھے۔

    سال 2020 کے دوران پولیو سے کل 84 متاثرہ بچوں میں سب سے زیادہ 25 کا تعلق بلوچستان سے تھا جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں متاثرہ بچوں کی تعداد23 ‘ صوبہ سند ھ میں 22 اور صوبہ پنجاب میں متاثرہ بچوں کی تعداد 14تھی۔

    سال 2019 میں ملک بھر میں کل 147 بچے پولیو سے متاثرہوچکے تھے جن میں سب سے زیادہ 93 کا تعلق صوبہ خیبرپختونخوا سے تھا جن میں صوبہ کے جنوبی اضلاع لکی مروت اور بنوں سے بالترتیب 32 اور26 بچے پولیو سے متاثرہوئے تھے۔ رواں سال اپریل میں قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پولیو کا پہلا کیس رپورٹ ہواجس کے تین ماہ کے اندر اندر وہاں 12 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔اس تشویشناک صورتحال کے باعث حکومت نے رواں سال کے دوران چھ جنوبی اضلاع بنوں- لکی مروت‘ شمالی وزیرستان‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ ٹانک اور جنوبی وزیرستان میں خصوصی انسداد پولیو مہمات بھی چلائیں تاہم خاطرخواہ کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آسکے اور روزبروز پولیو کے نئے کیس سامنے آرہے ہیں۔