Baaghi TV

Tag: وائرس

  • دس سال بعد امریکا میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آ گیا

    دس سال بعد امریکا میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آ گیا

    امریکا میں دس سال بعد پولیو کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے "روئٹرز” کے مطابق امریکا کی ریاست نیویارک کے نواحی علاقے میں رہنے والے ایک نوجوان شخص میں پولیو کی تشخیص ہوئی ہے ریاست نیو یارک کی راک لینڈ کاؤنٹی میں رہنے والے مذکورہ شخص کو تقریباً ایک ماہ قبل فالج ہوا تھا۔

    نیویارک کے محکمہ صحت نے جاری بیان میں کہا ہے کہ پولیو کا یہ کیس انتہائی متعدی ہے جو امریکہ سے باہر کہیں اور پیدا ہوا تھا۔

    ہیلتھ کمشنر ڈاکٹر پیٹریسیا روپرٹ کا کہنا ہے کہ کمیونٹی کو درپیش کسی بھی خطرے کے پیش نظر مذکورہ شخص کے اہل خانہ اور ان تمام افراد کا سروے کیا جا رہا ہے جن کے ساتھ قریبی رابطے تھے مریض اب پولیو کے جراثیم پھیلانے کے قابل نہیں رہا نوجوان شخص کو پولیو کی ویکسین نہیں لگی ہوئی تھی اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ راک لینڈ کا یہ رہائشی اس وائرس سے کب اور کہاں متاثر ہوا۔

    ہیلتھ کمشنر کے مطابق پولیو کا یہ کیس وائرس کی ایک کمزور قسم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو دراصل بیرون ممالک میں استعمال ہونے والی ویکسین میں موجود ہوتا ہے جو کبھی کبھی انفیکشن بھی پیدا کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں اس ویکسین کا استعمال سال 2000 میں بند کر دیا گیا تھا۔

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق متعلقہ شخص آرتھوڈوکس یہودی کمیونٹی کا رکن ہے جس میں سال 2018 اور 2019 کے درمیان خسرے کی وبا بھیلی تھی۔ اس وبا کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انتہائی کم افراد نے ویکسین لگوائی ہوئی تھی۔

  • امریکی صدرجوبائیڈن پہلی بار کورونا میں مبتلا ہوگئے ہیں:وائٹ ہاوس

    امریکی صدرجوبائیڈن پہلی بار کورونا میں مبتلا ہوگئے ہیں:وائٹ ہاوس

    واشنگٹن :جہاں کورونا نے دنیا میں پھر سے سراٹھا لیا ہے وہاں کورونا نے 79 سالہ عمر رسیدہ امریکی صدر جو بائیڈن کو بھی شکارکرلیاہے ، اطلاعات ہیں کہ جوبائیڈن پہلی بار کورونا میں مبتلا ہوگئے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرین جین پیئر کے مطابق جو بائیڈن میں کورونا کی علامات محسوس ہوئی تھیں جس کے بعد انکا ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل مسلم لیگ ن کو بڑا دھچکا

    پریس سیکریٹری کے مطابق 79 سالہ امریکی صدر بائیڈن کو کورونا ویکسین کی دونوں ڈوز کے علاوہ دو بوسٹر ڈوز بھی لگ چکی ہیں۔ ترجمان کے مطابق جو بائیڈن وائٹ ہاؤس میں ہی آئیسولیٹ ہوچکے ہیں اور وہیں سے معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دینگے۔

    کورونا وائرس: تین افراد انتقال کرگئے

    وائٹ ہاؤس کے کورونا وائرس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر آشیش نے سی این این کو بتایا کہ صدر بائیڈن کو جمعرات کی صبح بخار نہیں تھا، انکی زکام اور خشک کھانسی کی شکایت ہے اور وہ کچھ تھکاوٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔

    جو بائیڈن نے جنوری 2021 میں فائزر/بائیو ٹیک کوویڈ 19 ویکسین کی پہلی دو خوراکیں حاصل کی تھیں، ستمبر میں ان کو پہلی بوسٹر ڈوز اور 30 ​​مارچ کو دوسری بوسٹر ڈوز دی گئی تھی۔

    عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے جو بائیڈن کو کورونا سے زیادہ خطرہ لاحق ہے اگرچہ کہ امریکی مرکز برائے ڈیزیز کنٹرول کہہ چکا ہے کہ بڑی عمر کے بالغ افراد کو مکمل طور پر ویکسین اور بوسٹر ڈوز لگانے کے بعد موت کے خطرے میں نمایاں کمی آجاتی ہے۔

    بھارت: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 25 افراد ہلاک

  • منکی پاکس کاخطرہ موجود،احتیاط سب پرلازم:لیکن گھبرانا نہیں:عالمی ادارہ صحت

    منکی پاکس کاخطرہ موجود،احتیاط سب پرلازم:لیکن گھبرانا نہیں:عالمی ادارہ صحت

    نیویارک:منکی پاکس کےخطرے سےنمٹنےکےلئےاس وقت کوششوں کی ضرورت ہے:لیکن گھبرانا نہیں:اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے برائے بین الاقوامی صحت کے ضوابط (آئی ایچ آر) کی ہنگامی کمیٹی نے کہا ہے کہ موجودہ منکی پاکس کے خطرے سے نمٹنے کے لئے اس وقت کوششوں کی ضرورت ہے لیکن عالمی صحت کی ہنگامی حالت کے اعلان کی ضرورت نہیں ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کی طرف سے جاری بیان کے مطابق کچھ اراکین نے الگ الگ خیالات کا اظہار کیا تھا اور آئی ایچ آر کی ہنگامی میٹنگ میں کچھ اراکین نے وسیع آبادی میں منکی پاکس وائرس کے اور پھیلنے کے خطرے کی وارننگ دی تھی۔

    جاری کئے جانے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں منکی پاکس سے آلودہ لوگوں کی سب سے بڑی تعداد برطانیہ میں پائی جاتی ہے۔ برطانیہ میں منکی پاکس کے سات سو ترانوے معاملات سامنے آچکے ہیں جبکہ برطانیہ کے بعد اسپین، جرمنی، پرتگال، فرانس، کینڈا، امریکہ اور ہالینڈ میں منکی پاکس کے زیادہ مریض پائے جاتے ہیں۔

    برطانیہ کا دارالحکومت لندن، دنیا کا سب سے زیادہ منکی پاکس سے آلودہ شہر ہے۔برطانیہ کے بعض طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ہمجنس پرستی کے نتیجے میں منکی پاکس سے آلودہ لوگوں کی تعداد اس تعداد سے کہیں زیادہ ہے کہ جس کا اعلان کیا گیا ہے۔

  • کئی دہائیوں بعد برطانیہ میں پولیووائرس کی موجودگی:وارننگ جاری کردی گئی

    کئی دہائیوں بعد برطانیہ میں پولیووائرس کی موجودگی:وارننگ جاری کردی گئی

    لندن:کئی دہائیوں بعد برطانیہ میں پولیووائرس کی موجودگی:وارننگ جاری کردی گئی ،اطلاعات کے مطابق کئی دہائیوں میں پہلی بار ملک میں وائرس کا پتہ چلنے کے بعد برطانیہ میں پولیو ویکسین کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ادھر اس وارننگ کے جاری ہونے کے بعد محکمہ صحت بھی کورونا کی وبا کے دباو کے دوران پریشان دکھائی دے رہا ہے

    اس سلسلے میں برطانوی نظام صحت سے متعلقہ ادارے یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (UKHSA) نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ معمول کی نگرانی کے دوران مشرقی اور شمالی لندن میں جمع کیے گئے سیوریج کے نمونوں میں وائرس کا پتہ چلا۔

    پاکستان میں پولیو کیسز کا خطرہ بدستورموجود ہے:یونیسیف

    اس ادارے نے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اس وائرس کی موجودگی پائے جانے کے بعد ملک میں صحت کے حوالے سے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا جاتا ہے ، نظام صحت سے متعلقہ یہ برطانوی ایجنسی شہریوں کو خبردار کرتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ویکسین کے ساتھ تازہ ترین ہیں۔

    اس ادارے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا، "عوام کے تحفظ کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جن پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پولیو ویکسین اپ ٹو ڈیٹ ہیں، خاص طور پر چھوٹے بچوں کے والدین جنہوں نے حفاظتی ٹیکے لگوانے میں سُستی کا مظاہرہ کیا ہے

     

    پاکستان کوپولیوسے پاک ملک دیکھناچاہتے ہیں،سلمان رفیق

    برطانوی نظام صحت سے متعلقہ ادارے یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بیماری کے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوئے ہیں اور وسیع تر عوام کے لیے خطرہ کم سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ وائرس آلودہ خوراک، پانی اور ہاتھوں کی ناقص صفائی سے پھیل سکتا ہے۔ نے کہا کہ اس وقت تحقیقات جاری ہیں، اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا یہ وائرس کمیونٹی میں منتقل ہو رہا ہے۔

    شمالی وزیرستان میں پولیو کا ایک اورکیس سامنے آگیا

    اب تک، سائنسدانوں نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ یہ وائرس "ماخوذ کردہ ویکسین”، پولیو وائرس کی قسم 2 میں تیار ہوا ہے۔وائرس کا یہ تناؤ کبھی کبھار فالج سمیت سنگین ضمنی اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم، ویکسین خطرے کو کم کر سکتی ہیں۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ ممکنہ طور پر علاقے میں "قریبی طور پر جڑے افراد” کے ذریعے پھیل گیا ہے، جو اب وائرس کو اپنے پاخانوں میں بہا رہے ہیں۔

  • موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت

    موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت

    واشنگٹن :موڈرنا کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین سے دل کے ورم  جیسے مضر اثر کا خطرہ فائرر۔ بائیو این ٹیک ویکسین کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہوتا ہے۔یہ بات امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) نے حالیہ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتائی۔مگر امریکی ادارے کا کہنا تھا کہ دونوں ویکسینز کے استعمال کے بعد جوان افراد میں دل کے ورم کی مختف اقسام پیری کارڈائی ٹس (دل کی جھلی کے ورم) اور مائیو کار ڈائی ٹس (دل کے پٹھوں کا ورم) کی شرح امریکا بھر میں زیادہ دریافت نہیں ہوئی اور بہت کم افراد میں یہ مضر اثر دیکھنے میں آیا۔

     

    امریکا میں 5 سے 11 سال کے بچوں کو کورونا ویکسین لگانے کا آغاز

    سی ڈی سی کا یہ تجزیہ اور رپورٹ اس وقت سامنے آئی  ہے جب یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے 6 سے 17 سال کی عمر کے گروپ کے لیے موڈرنا ویکسین کے استعمال کی منظوری پر غور کیا جارہا ہے۔سی ڈی سی کا تجزیہ ویکسین سیفٹی ڈیٹا لنک سسٹم کے ڈیٹا پر مبنی تھا۔

    جعلی ویکسین کارڈزفروخت کرنے کیلئے 90 بار کورونا ویکسین لگوانے والا شخص

    اس ڈیٹا میں 18 سے 39 سال کی عمر کے مردوں میں موڈرنا کی ہر 10 لاکھ خوراکوں کے استعمال سے اوسطاً دل کے ورم کے 97.3 کیسز کو دریافت کیا گیا جبکہ یہ شرح فائرر ویکسین کی ہر 10 لاکھ خوراکوں میں 81.7 کیسز رہی۔سی ڈی سی نے بتایا کہ دستیاب ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ ایم آر این اے ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا سامنے کرنے والے افراد وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔

    حمل کے دوران کورونا ویکسین لگوانا محفوظ ہے یا نہیں؟،نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

  • منکی پاکس میں مبتلا امریکی شہری ہسپتال سے فرار

    منکی پاکس میں مبتلا امریکی شہری ہسپتال سے فرار

    میکسیکو:منکی پاکس میں مبتلا ایک امریکی شہری میکسیکو کے ایک ریزورٹ میں واقع ہسپتال سے فرار ہو گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ روز میکسیکو کے محکمہ صحت کے عہدیداروں نے اس واقعے کے بارے میں اطلاع دی ہے۔ محکمہ صحت کے بیان کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس کا رہائشی 48 سالہ شخص گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بحر الکاہل کے میکسیکو کے ساحلی علاقے پورٹو والارٹا کے ہسپتال سے فرار ہو گیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کے پانچ نئے کیسوں کی تصدیق

    یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ اس شخص کو طبی عملے کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ منکی پاکس کا ٹیسٹ کرائے اور دیگر لوگوں سے دوری اختیار کرے کیونکہ اس میں کھانسی، سردی، پٹھوں میں درد جبکہ چہرے اور گردن پر آبلوں جیسی علامات تھیں۔ ہسپتال سے فرار ہونے کے بعد وہ اس ہوٹل میں گیا جہاں وہ اپنے ساتھی کے ساتھ مقیم رہا تھا۔ بعد ازاں وہ 4 جون کو پورٹو والارٹا سے ایک پرواز کے ذریعے فرار ہو گیا۔امریکا کے ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن سنٹرز نے پیر کے روز میکسیکو کے حکام کو تصدیق کی کہ مشتبہ مریض امریکا واپس آ گیا ہے جہاں اس کے ٹیسٹ سے تصدیق ہوئی ہے کہ اسے منکی پاکس ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کےمزید 3 کیسز رپورٹ،21 دن کا قرنطینہ لازمی قرار

    27 مئی کو میکسیکو کے شہر پورٹو والارٹا پہنچنے سے پہلے یہ شخص جرمنی کے شہر برلن اور اس کے بعد امریکی شہر ڈیلاس میں تھا۔ میکسیکو میں اپنے قیام کے دوران مذکورہ شخص نے جلیسکو کے ریزورٹ ٹاؤن میں مانتامار بیچ کلب میں مختلف پارٹیوں میں بھی شرکت کی۔ میکسیکو کے محکمہ صحت کے حکام نے 27 مئی سے 4 جون کے درمیان کلب میں آنے والے ہر شخص سے اپنا ٹیسٹ کرانے کو کہا ہے۔خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ روز کہا ہے کہ مختلف ممالک میں منکی پاکس کے ایک ہزار سے زیادہ کیسز پائے گئے ہیں۔

    پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

  • بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    نئی دہلی :بھارت میں کورونا مزید جان لینے کے درپے، ریکارڈ کیسز سامنے آگئے،اطلاعات کے مطابق بھارت میں عالمی وبائی مرض کورونا ایک بار پھر جان لینے کے درپے ہو گیا ہے، آج گزشتہ تین ماہ کے دوران ریکارڈ کیسز درج کئے گئے۔

    بھارتی محکمہ صحت نے آج ملک کی پانچ ریاستوں مہاراشٹر، کیرالہ، تلنگانہ، کرناٹک اور تامل ناڈو کی ریاستی حکومتوں کو خط لکھا ہے جس میں کورونا کے سدباب کا حکم دیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آج 4,041 نئے کورونا کیسز کی اطلاع ملی ہے، جو 11 مارچ کے بعد سے سب سے زیادہ کیسز ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے کچھ حصوں میں ایک اور لہر کے پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس نے تقریبا تمام پابندیوں کو کم کردیا ہے۔

    بھارتی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں وبائی مرض کے آغاز سے اب تک 43.17 ملین کوویڈ انفیکشن اور 524,651 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں.

    حالانکہ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اموات کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یومیہ مثبت کیسز کی شرح، یا مجموعی ٹیسٹوں کے فیصد کے طور پر تصدیق شدہ کورونا کیسز، ہندوستان کے لیے 0.95% ہیں.جبکہ ڈیٹا کے مطابق ہفتہ وار مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔

    مہاراشٹر، جو بھارت میں پچھلی وائرس کی لہروں کا ابتدائی مرکز تھا، کووڈ انفیکشنز میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، اس ہفتے مثبتیت کی شرح 8 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ریاست کے دارالحکومت ممبئی میں پچھلے مہینے کے مقابلے مئی میں ہسپتالوں میں داخل ہونے والوں میں 231 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ جبکہ مئی میں ہسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد صرف 215 تھی.

    کورونا کیسز میں اضافے کی اس رفتار نے ریاستی حکام کو پریشان کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ پچھلے موسم گرما میں بھارت میں جان لیوا ڈیلٹا کی لہر نے روزانہ کیسز کو 400,000 سے اوپر دھکیل دیا تھا۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں

    کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں

    بیجنگ :کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں،اطلاعات کے مطابق دنیا میں کورونا وائرس کی وبا سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں دسمبر 2019 میں پھیلنا شروع ہوئی تھی اور اب انکشاف ہوا ہے کہ آغاز میں کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے والے 50 فیصد سے زیادہ افراد کو 2 سال بعد بھی بیماری کی کم از کم ایک علامت کا سامنا ہے۔

    یہ انکشاف کووڈ کی اب تک کی سب سے طویل ترین فالو اپ تحقیق میں سامنے آیا۔یہ طبی جریدے دی لانیسٹ ریسیپیٹری میڈیسین میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے 2 سال بعد بھی کورونا وائرس کے متعدد مریضوں کی صحت خراب اور معیار زندگی عام آبادی کے مقابلے میں بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    چائنا جاپان فرینڈ ہاسپٹل کی اس تحقیق میں شامل پروفیسر بن کاؤ نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مخصوص افراد 2 سال بعد بھی مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ابھی تک کووڈ 19 کے طویل المعیاد طبی اثرات کے بارے میں کافی کچھ معلوم نہیں ہوسکا اورمختلف تحقیقی ٹیموں کے کام کا دورانیہ ایک سال تک رہا تھا۔

    اس نئی تحقیق کے لیے محققین نے کووڈ کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں پر مرتب ہونے والے طویل المعیاد نتائج کی جانچ پڑتال کی اور پھر اس کا موازنہ بیماری سے محفوظ رہنے والے افراد کے ڈیٹا سے کیا۔اس مقصد کے لیے انہوں نے 7 جنوری سے 29 مئی 2020 کے دوران ووہان کے ہسپتال جن ین ٹان میں کووڈ کے باعث زیرعلاج رہنے والے 1192 مریضوں کی صحت کی جانچ پڑتال کی۔

    ان افراد کی صحت کا معائنہ پہلے 6 ماہ بعد، دوسری بار 12 ماہ بعد اور پھر 2 سال بعد کیا گیا ، جس کے دوران ان کے 6 منٹ کے چہل قدمی کے ٹیسٹ، لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے اور علامات کو جاننے کے لیے سوالنامے بھروائے گئے۔ابتدائی بیماری کے 6 ماہ بعد 68 فیصد مریضوں نے لانگ کووڈ کی کم از کم ایک علامت کو رپورٹ کیا ، جبکہ 2 سال بعد بھی 55 فیصد سے زیادہ نے کسی ایک علامت سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا۔

    تھکاوٹ یا مسلز کی کمزوری سب سے عام علامات رپورٹ ہوئیں جبکہ یہ بھی دریافت ہوا کہ 2 سال بعد بھی 11 فیصد مریض اپنے کام پر واپس نہیں لوٹ سکے تھے۔تحقیق کے مطابق 31 فیصد مریضوں نے تھکاوٹ یا مسلز میں کمزوری اور 31 فیصد نے نیند کے مسائل کو رپورٹ کیا جبکہ کووڈ سے محفوظ رہنے والے افراد میں یہ شرح بالترتیب 5 اور 14 فیصد دریافت ہوئی۔

    کووڈ کے مریضوں کی جانب سے متعدد دیگر علامات بشمول جوڑوں میں تکلیف، دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہونا، سر چکرانا اور سر درد وغیرہ کو بھی رپورٹ کیا گیا۔محققین نے تسلیم کیا کہ ان کی تحقیق محدود ہے اور کسی ایک جگہ کے نتائج کا اطلاق وائرس کی دیگر اقسام سے متاثر مریضوں پر نہیں کیا جاسکتا۔

  • سفید لوبیا کا وائرس، سرطان کے علاج میں انتہائی مفید ثابت

    سفید لوبیا کا وائرس، سرطان کے علاج میں انتہائی مفید ثابت

    نیویارک: تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سفید لوبیا پر حملہ کرکے اسے نقصان پہنچانے والا وائرس سرطان کے علاج میں انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : سائنسی جریدے مالیکیولر فارماسیوٹکس میں شائع کی گئی تحقیق کے مطابق جب اس وائرس کو سرطانی رسولیوں میں داخل کیا گیا تو اس نے اندر کا امنیاتی نظام سرگرم کردیا اور کینسر کا پھیلاؤ رکنے لگااسے انگریزی میں کاؤپی وائرس کہا جاتا ہے –

    آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    عام حالات میں یہ سفید لوبیا کے پتوں کو نشانہ بناتا ہے لیکن ایک پودے کا وائرس اب جانوروں اور انسانوں کے لیے شفا بن سکتا ہے اور عام حالات میں بھی انسانوں کے لیےبےضرر ہوتا ہے تاہم اس کام میں کئی سائنسداں شریک ہیں جن میں خردحیاتیات، نینوٹیکنالوجی، سرطان اور بایوٹیکنالوجی کے ماہرین قابلِ ذکر ہیں۔

    جین تھراپی،تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کے علاج کی نئی امید

    جامعہ کلیفورنیا، سان ڈیا گو اورڈارٹ ماؤتھ کالج کےساتھیوں نے سات سالہ تحقیق کے بعد وائرس کو نینوذرات میں تقسیم کیا اسے کینسر امیونوتھراپی سے گزارا تو چوہوں اور کتوں پر حیرت انگیز مثبت اثرات مرتب ہوئے نہ صرف یہ سرطانی رسولی میں داخل ہوکر اس کا علاج کرتا ہے بلکہ جسم کے اندر اپنا اثر بڑھا کر مستقبل کے سرطانی حملوں کو بھی پسپا کرسکتا ہے۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    یہ تحقیق کاؤپی وائرس نینوذرات کو مستقبل کی بہترین امینوتھراپی بناتی ہیں جیسے ہی اس کے نینوذرات کینسر ذدہ خلیات میں جاتے ہیں بدن کا دفاعی نظام خود کینسر کا دشمن بن جاتا ہے اسے مختلف اقسام کے سرطان پر آزمایا گیا ہے چوہوں کو جب جب جلد کے کینسر، بیضہ دانی، چھاتی، آنت اور دماغی کینسر میں مبتلا کیا گیا وائرس ان سب کے لیے یکساں طور پر مؤثر ثابت ہوا صرف یہی نہیں بلکہ یہ وائرس پورے بدن میں ہرطرح کی سرطان کے خلاف ایک دفاعی لہر پیدا کرتا ہے جو بہت خوش آئند بات بھی ہے۔

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

  • کورونا وائرس کےساتھ ساتھ امریکا اور یورپ میں بچوں میں پراسرار وائرس کا پھیلاؤ

    کورونا وائرس کےساتھ ساتھ امریکا اور یورپ میں بچوں میں پراسرار وائرس کا پھیلاؤ

    واشنگٹن :ایک طرف کورونا وائرس کی تباہ کاریاں تو دوسری طرف امریکا اور یورپ میں بچوں میں پراسرار وائرس کا پھیلاؤ،اطلاعات کے مطابق امریکا اور یورپ میں بچوں میں پراسرار قسم کا ہیپاٹائٹس پھیل رہا ہے جس نے ماہرین کو تشویش زدہ کردیا ہے۔

    بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق یورپ کے چند ممالک اور امریکا میں بچوں میں ہیپاٹائٹس کی پراسرار قسم کی تشخیص کے بعد ماہرین نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے بیماری کا سراغ لگانے پر کام شروع کردیا ہے۔

    ابتدائی طور پر کچھ ہفتے قبل برطانیہ کے درجنوں بچوں میں ہیپاٹائٹس کی پراسرار قسم کی تشخیص ہوئی تھی، جس سے ملک میں پریشانی کا عالم پیدا ہوگیا تھا۔

    تاہم اب امریکا سمیت یورپ کے دیگر پانچ ممالک کے بچوں میں بھی اسی طرح کی ہیپاٹائٹس کی پراسرار قسم کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے بعد کئی بچوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہیپاٹائٹس کی پراسرار قسم سے بچوں کے جگر میں تیزابیت کی مقدار زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مذکورہ وائرس پھیلنے کے کیا اسباب ہیں؟

    تقریباً ایک ہی طرح کی ہیپاٹائٹس کی پراسرار قسم کے کیسز برطانیہ، امریکا کے علاوہ ڈنمارک، آئرلینڈ اور نیدرلینڈ میں بھی ریکارڈ کیے گئے۔ مذکورہ قسم کے حوالے سے برطانوی ماہرین نے بتایا تھا کہ یہ روایتی ہیپاٹائٹس سے مختلف ہے۔

    یورپین سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (ای سی ڈی سی) کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مذکورہ پراسرار قسم نے کتنے بچوں کو متاثر کیا ہے، تاہم فوری طور پر یہ قسم چار یورپی ممالک میں ریکارڈ ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی کہا ہے کہ ابھی تک ہیپاٹائٹس کی مذکورہ قسم سے آئرلینڈ میں 5 سے بھی کم کیسز جب کہ اسپین میں 3 کیسز سامنے آ چکے ہیں مگر خیال کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔

    امریکی ریاست الاباما کے ماہرین کے مطابق اب تک ایک سے 6 سال کی عمر کے 9 بچوں میں مذکورہ پراسرار قسم کی تشخیص ہو چکی ہے، جس میں سے دو بچوں کا ہنگامی بنیادوں پر جگر کا ٹرانسپلانٹ بھی کرنا پڑا۔

    یاد رہے کہ ہیپاٹائٹس کا وائرس جگر کو متاثر کرتا ہے اور مرض بڑھ جانے سے ہیپاٹائٹس کینسر میں تبدیل ہوجاتا ہے، مذکورہ پراسرار وائرس بھی بچوں کے جگر کو سخت متاثر کر رہا ہے، تاہم اس وائرس پھیلنے کی وجوہات کا فوری طور پر علم نہیں ہو سکا۔

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی