Baaghi TV

Tag: وائرس

  • چین:کورونا وائرس کا دوبارہ پھیلاو تیزی سے جاری،2500 سے زائد نئے کیسز

    چین:کورونا وائرس کا دوبارہ پھیلاو تیزی سے جاری،2500 سے زائد نئے کیسز

    بیجنگ: چین:کورونا وائرس کا دوبارہ پھیلاو تیزی سے جاری،2500 سے زائد نئے کیسز،اطلاعات کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس کی جائے پیدائش چین میں مہلک وائرس کے 2500 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

    چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔ اس سے ایک دن پہلے یہاں اس مہلک وائرس سے متاثرہ 1,787 نئے لوگ پائے گئے تھے۔جمعہ کو سامنے آنے والے نئے کیسز میں سے شمال مشرقی صوبے جیلن میں، شنگھائی میں اور شمال مشرقی صوبے ہیلونگ جیانگ میں یہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے 43 نئے لوگ بھی کووڈ-19 سے متاثر پائے گئے ہیں۔ اس سے ایک دن پہلے بیرون ملک سے یہاں آنے والے 40 افراد کورونا سے متاثر پائے گئے تھے۔

    یہاں جمعہ کو اس وبا سے 4,307 مریض شفایاب ہو ئے ہیں ۔ اس وقت مختلف اسپتالوں میں زیر علاج کووڈ-19 مریضوں کی تعداد 27,128 ہے، جن میں سے 58 کی حالت نازک ہے۔جمعہ کو یہاں کووڈ-19 سے کسی کی موت کی اطلاع نہیں ہے۔ مرنے والوں کی تعداد 4,638 پر مستحکم ہے

    ادھر ذرائع کے مطابق چینی حکومت نے پاکستانی طرز کا سمارٹ لاک شروع کررکھا ہے اورحکومت کا کہنا ہے کہ سمجھ سے باہر ہےکہ بہت زیادہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے کے باوجود بھی کرونا تیزی سے پھیل رہا ہے ،

    ادھر عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگریہ معاملہ قابو میں نہ آیا تودنیا ایک بارپھربحرانوں کا شکارہوجائے گی اورپھریہ کورونا ایک نئی شکل میں تباہی مچاسکتا ہے جس کی روک تھام کےلیے مل بیٹھ کرکوششیں ضروری ہیں‌

  • کراچی:کورونا کی شرح 40 فیصد سے بڑھ گئی، ضلع وسطی میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

    کراچی:کورونا کی شرح 40 فیصد سے بڑھ گئی، ضلع وسطی میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

    کراچی میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 40 فیصد سے بڑھ گئی۔ شہر قائد میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر ضلع وسطی کے چار ٹاؤنز میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیاگیا ،اسلام آباد میں ہیلتھ حکام نے 13 علاقوں کی مزید 28 گلیوں میں نقل و حرکت پر پابندی لگانے کی تجویز دیدی ہے۔

    کورونا کیسز میں اضافہ، کراچی میں مثبت کیسز کی شرح 41اعشاریہ تین دو تک پہنچ گئی ۔ سندھ بھر سے 3ہزار 359جبکہ کراچی سے 2ہزار 831کیسز رپورٹ ہوئے۔ شہر قائد میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر ضلع وسطی کے چار ٹاؤنز میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیاگیا۔

    نوٹی فیکیشن کے مطابق مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ گلبرگ ، لیاقت آباد ،نارتھ کراچی ،نارتھ ناظم آباد میں ہوگا، مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن مختلف یوسیز، بلاکس اور گلیوں میں لگایا گیا ہے جس کا نفاذ آج رات سے ہوگا۔

    ضلعی انتظامیہ سینٹرل کے مطابق ضلع وسطی میں 106لوگوں میں اومیکرون کی تشخیص ہوئی، گلبرگ میں اومی کرون کے 52کیسز، لیاقت آباد اور نارتھ کراچی کے علاقوں میں 10،10کیسز رپورٹ ہوئے اسی طرح نارتھ ناظم آباد میں اومیکرون کیسز کی تعداد 40ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاؤن 5 فروری تک متاثرہ علاقوں اوریوسیز میں نافذ رہےگا، متاثرہ علاقوں میں بلاوجہ نقل و حرکت، ماسک کے بغیر داخلہ ممنوع ہوگا، لاک ڈاؤن والے علاقوں میں ضروری اشیا، میڈیکل اسٹور کےعلاوہ کاروبار بند رہےگا، متاثرہ علاقوں میں اجتماعات ، تقریبات ، ڈبل سواری پربھی پابندی ہوگی۔

  • پاکستان میں کورونا سے اموات 29 ہزار سے تجاوز کر گئیں:نئی لہرکے پھرخطرات منڈلانے لگے

    پاکستان میں کورونا سے اموات 29 ہزار سے تجاوز کر گئیں:نئی لہرکے پھرخطرات منڈلانے لگے

    اسلام آباد :پاکستان میں کورونا سے اموات 29 ہزار سے تجاوز کر گئیں:نئی لہرکے پھرخطرات منڈلانے لگےاطلاعات کے مطابق پاکستان میں عالمی وبا کورونا کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 4 افراد انتقال کر گئے اور 4286 نئے مریض بھی سامنے آئے۔

    پاکستان میں کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ (covid.gov.pk) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 52522 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 4286 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے مزید 4 افراد انتقال کر گئے۔

    سرکاری پورٹل کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 8.16 فیصد رہی۔

    ادھر این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 29003 ہو چکی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 13 لاکھ 20 ہزار 120 تک پہنچ چکی ہے۔

    اس کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2598 افراد کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد ملک میں وبا سے شفایاب ہونے والے افراد کی تعداد 12 لاکھ 63 ہزار 5 ہو گئی ہے۔

    ادھر کراچی میں کورونا مثبت کیسز کی مثبت شرح 35 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔وفاقی حکام کے مطابق کراچی میں گزشتہ روز 8063 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 2846 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔

    حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر قائد میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 35.30 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں کورونا کی تشویشناک صورتحال پر صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں مجموعی طور پر کورونا سے 4 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 4286 افراد میں وبا کی تصدیق ہوئی جبکہ کورونا مثبت کیسز کی شرح 8.16 فیصد رہی۔

  • اومیکرون کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث ڈیووس اجلاس ملتوی:مزید عالمی اجلاس ملتوی ہونے کا امکان

    اومیکرون کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث ڈیووس اجلاس ملتوی:مزید عالمی اجلاس ملتوی ہونے کا امکان

    ڈیووس:اومیکرون کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث ڈیووس اجلاس ملتوی:مزید عالمی اجلاس ملتوی ہونے کا امکان،اطلاعات کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی رہنماؤں، دولت مندوں ، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کا سالانہ اجلاس جسے ’’ ورلڈ اکنامک فورم‘ کہا جاتا ہے، اس سال کورونا کے نئے ویریئنٹ کے پھیلاؤ کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    ورلڈ اکنامک فورم کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ” ڈیووس عالمی اقتصادی فورم ، سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا اپنا سالانہ اجلاس اومیکرون کے پھیلاؤ کے سلسلے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے سبب ملتوی کر رہا ہے۔عالمی اقتصادی فورم نے اس اجلاس کو موسم گرما میں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اجلاس سترہ جنوری سے اکیس جنوری تک ہونے والا تھا جس کا مقصد اقتصادی، سیاسی، ماحولیاتی اور دیگر کئی مسائل وموضوعات کا جائزہ لینا تھا۔ سوئٹزرلینڈ کی جانب سے اس اجلاس کوکورونا کے نئے ویریئنٹ کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد عائد کی جانے والی جدید پابندیوں کے بعد ملتوی کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے بعد امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے میئر نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ ہنگامی حالت کا اعلان ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں کورونا کا پھیلاؤ شروع ہونے کے بعد سے پیر کو کورونا کے نئے مریضوں کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد درج کی گئی ہے ۔اومیکرون کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے امریکی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کو کورونا سے متعلق پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

    ہارورڈ یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ یونیورسٹی میں اومیکرون کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش میں جنوری کے پہلے تین ہفتوں کے لیے آنلائن کلاسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی نے تین جنوری سے شروع ہونے والے نئے سمسٹر کے پہلے دو ہفتوں کے لیے آن لائن کلاسز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پرنسٹن، کارنیل اور مڈل بیری یونیورسٹیاں اپنے امتحانات آنلائن منعقد کریں گی ۔ نیویارک یونیورسٹی نے تمام غیر ضروری اجتماعات کو منسوخ کر دیا ہے اوراساتذہ کو فاصلاتی امتحان لینے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ نئے سال کی تعطیلات کے موقع پرامریکہ میں اومی کرون کے پھیلاؤ کے باعث اس ملک کے شہریوں میں نئے سال کی تقریبات کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں ۔اسی کے ساتھ ای بی سی نے رپورٹ دی ہے کہ امریکا کے اکثر علاقوں میں کورونا کے نئے مریضوں میں نوے فیصد اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں ۔

    امریکا میں بیماریوں کے کنٹرول کے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں زیادہ تیزی آسکتی ہے۔اب تک جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں پانچ کروڑ سترہ لاکھ پینسٹھ ہزار سے زائد افراد کورونا میں مبتلاء ہوئے ہیں اوران میں سے آٹھ لاکھ ستائیس ہزار سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اسی کے ساتھ صحت کی عالمی تنظیم ڈبلو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں کورونا کے اومیکرون ویریئنٹ سے متاثرین کی تعداد چھتیس سے بہتر گھنٹے کے اندر دوگنی ہورہی ہے۔

  • اب پنجاب میں بھی  کورونا وائرس کی قسموں کی تشخیصی کی جا سکے گی۔

    اب پنجاب میں بھی کورونا وائرس کی قسموں کی تشخیصی کی جا سکے گی۔

    لاہور: (حمزہ رحمن ) پنجاب جین سیکونسنگ مشین خریدنے والا پہلا صوبہ بن گیا۔
    وزیر اعلیٰ کی خصوصی کاوش،کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا نے 5 کروڑ کے فنڈز منظور کیے
    محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے جین سیکونسنگ مشین کی خریداری کا عمل شروع کر دیا۔
    سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کا کہنا ہے کہ جین سیکونسنگ مشین آئندہ ہفتے کے اختتام تک کام شروع کر دے گی۔مشین کی مدد سے پنجاب میں کورونا وائرس کی قسموں کی تشخیصی کی جا سکے گی.
    پنجاب کورونا وائرس کی جین سیکونسنگ کی سہولت والا پہلا صوبہ ہو گا. اس سے پہلے جین سیکونسنگ کی مشین صرف وفاقی ادارہ صحت کے پاس تھی۔
    اس ٹیکنالوجی سے تحقیق وتشخیص کی جاسکے گی کہ کورونا کی دوسری لہر میں اموات وائرس کی کس قسم سے ہو رہی ہیں، تحقیق ہو سکے گی۔
    وائرس کس حد تک مہلک ہے اس کی بھی تحقیق ہوسکے گی.

  • قصور میں بھی کرونا کا وار تیز

    قصور میں بھی کرونا کا وار تیز

    قصور میں کرونا کا وار تیز ہو گیا
    تفصیلات کے مطابق ضلع قصور میں ایک ڈاکٹر ،کمیونیٹی مدوائف اور لیسکو ملازمین سمیت پانچ افراد کورونا کا شکر ہو گئے ہیں لیسکو واپڈا کے اسسٹنٹ لائن میں محمد افضل سمیت تین ملازمین کا چند دن قبل لئے گئے کورونا کے ٹیسٹ مثبت آگئے ہیں تینوں ملازمین کو فوری طور پر قرنطینہ سینٹر منتقل کر دیا گیا اور سب ڈویژن کے دفتر کو دو دن کے لئے سیل کر دیا گیا اور دفتر کو ڈی انفیکشن سپرے کیا گیا ہے جبکہ رورل ہیلتھ سنٹر چھانگا مانگا کے انچارج ڈاکٹر امجد کے مطابق چھانگا مانگا رورل ہیلتھ سنٹر کے ڈاکٹر امجد علی اور کورونا کے مریضوں پر نائٹ ڈیوٹی دینے والی کمیونٹی مڈوائف مختاراں بی بی کے کورونا ٹیسٹ پوزیٹیو آگئے ہیں جس پر دیگر عملہ کے ٹیسٹ بھی لیباٹریری میں بھیج دیئے گئے ہیں

  • اوکاڑہ کرونا وائرس کی لپیٹ میں، انتظامیہ کی جانب سے عوام کو احتیاط کرنیکی اپیل

    اوکاڑہ کرونا وائرس کی لپیٹ میں، انتظامیہ کی جانب سے عوام کو احتیاط کرنیکی اپیل

    اوکاڑہ(علی حسین) ضلع اوکاڑہ میں کرونا وائرس کے 52 کیسز سامنے آئے ہیں۔ کرونا وائرس میں مبتلا 16 افراد مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں۔ 36 افراد میں سے 25 افراد کو ہاوس آئسولیٹ جبکہ 11 افراد کو سرکاری قرنطینہ سنٹرز میں رکھا گیا ہے۔ 35 افراد کے کرونا سیمپلز ٹیسٹ کے لیے بھجوائے جاچکے ہیں۔ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر اعجاز اعوان اور ڈی ایس پی سٹی اوکاڑہ مہر ندیم کے کرونا ٹیسٹ بھی بھجوائے گئے ہیں۔ لوکل سطح پر کرونا کے کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ کرونا وائرس سے دو ڈاکٹرز جن میں ڈاکٹر اعجاز اور ڈاکٹر ظہیر شامل ہیں بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور حفظان صحت کے مراکز کے ذمہ داران طبقے نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے نیز کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونیکی تلقین کی ہے۔

  • کرونا وائرس سے متعلق آگاہی

    کرونا وائرس سے متعلق آگاہی

    قصور
    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور کی جانب سے کرونا وائرس کے متعلق آگاہی مہم شروع
    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں کرونا وائرس کے متعلق آگاہی مہم شروع کر دی گئی ہیں جس میں ہر مریض اور اس کے لواحقین کو کرونا وائرس سے متعلق آگاہی دینے کیساتھ پورے ہسپتال میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے طریقے پر مبنی بینرز پر چھپوا کر پورے ہسپتال میں لگائے گئے ہیں
    ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ قصور میں کرونا وائرس سے متاثرہ کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا تاہم احتیطاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا لازمی ہے

  • کرونا وائرس ایک آفت یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟

    کرونا وائرس ایک آفت یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟

    کرونا وائرس یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟
    تحریر: محمد عبداللہ
    اس وقت دنیا بھر میں چین میں پھیلنے والا کورونا وائرس موضوع بحث ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ کی اس پر رپورٹنگ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ دنیا کو اس وقت ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرہ اگر کسی چیز سے ہے تو وہ کورونا وائرس ہے . کورونا وائرس نے چین کے ایک بڑے شہر ووہان سے جنم لیا ہے. تفصیلات کے مطابق ساؤتھ چائنہ کی سی فوڈ مارکیٹ اس وائرس کی برتھ پلیس بتائی جا رہی ہے کہ یہ وائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے اور چونکہ چین میں چمگادڑ، چوہے اور خرگوش وغیرہ ہر چیز ہی کھائی جاتی ہے اور عین ممکن ہے کہ جانوروں سے ہی یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہوا ہے. اس سے قبل ماضی میں بھی چین کے اندر کرونا سے ملتے جلتے سارس نامی وائرس سے 2002 اور 2003 میں تقریباً آٹھ ہزار لوگ متاثر ہوئے تھے جن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 800 تھی. اس وقت کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 17 ہزار سے تجاوز کرچکی اور جبکہ کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 361 ہوچکی ہے. دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ پل پل کو کوریج دے رہے ہیں اورصحت کے سبھی عالمی ادارے اس جو انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں. سبھی ممالک میں بیرون ملک سے آنے والوں کی اسکریننگ کی جا رہی ہے اور دیگر ممالک میں موجود چینی شہریوں کو کرونا وائرس کا منبع سمجھ کر ان کے ساتھ میل جول سے احتیاط برتی جا رہی ہے. چین کے بڑے شہروں میں ہو کا عالم ہے اور ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی والے شہر ووہان میں لوگ گھروں دبک کر بیٹھے ہیں.
    بظاہر تو یہ وائرس ایک آفت اور بیماری نظر آرہا ہے مگر دنیا میں کچھ حلقے اس کو صرف وبائی مرض یا خود ساختہ وائرس ماننے کو تیار نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ باقاعدہ ایک بائیولوجیکل ویپن ہے جو چائنہ جیسی معاشی سپر پاور کو کنٹرول کرنے اور اس کو بھاری نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے. کیونکہ اس طرح کے بائیولوجیکل ویپن یا وائرس کو استعمال کرکے مطلوبہ ملک کو تنہائی کا شکار کیا جاسکتا ہے اور اس کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے. کرونا وائرس کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات بھی اس خدشے کو تقویت دیتے نظر آ رہے ہیں کہ ماضی میں ایبولا، زیکا، نیپا، ایم آئی آر ایس، ڈینگی وغیرہ بیسیوں وائرسز آتے رہے جن سے دنیا بھر میں ہزاروں اموات واقع ہوئیں لیکن عالمی ذرائع ابلاغ میں اس قدر ڈنکا نہیں بجا اور نہ ہی کسی ملک کو عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا جیسے چین کے ساتھ کیا جا رہا ہے کہ ووہان سمیت چین کے بڑے شہروں میں بالکل سناٹا ہے کہیں کوئی انسان نظر نہیں آتا یہ منظر بالکل دو ہزار اٹھارہ میں نیٹ فلکس کی امریکی مووی Bird Box کی طرح کا نظر آرہا ہے. اس طرح دیگر کئی پرانی انگلش موویز میں ایسے مناظر فلمائے جاتے رہے ہیں جو آجکل چین میں نظر آرہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان موویز میں بھی یہ حالات مختلف وائرسز وغیرہ سے ہی پیدا ہوتے رہے ہیں. اسی طرح چین کو معاشی حوالے سے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کئی بین الاقوامی ٹیکنالوجی اور کار کمپنیز نے اپنے آپریشنز اور کاروبار عارضی طور پر بند کردیے ہیں جس کی وجہ سے ایک محتاط اندازے کے مطابق چین کو پندرہ ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے اور یہ نقصان 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے کیونکہ چین کی برآمدات وغیرہ سبھی ہوائی اور بحری اڈوں پر رک چکی ہیں.ساری دنیا جانتی ہے کہ چین کے اس شدید معاشی نقصان کا فائدہ کن کو ہوگا اور سنجیدہ حلقے اسی بنیاد پر کرونا کو چین کے حریفوں کا چین پر حیاتیاتی حملہ یا بائیولوجیکل وار قرار دے رہے ہیں اس موقف کو امریکی سیکرٹری برائے تجارت ولبر روس کا عجیب و غریب انٹرویو بھی تقویت دے رہا ہے ولبر روس نے کہا ہے کہ چین میں پھیلنے والا مہلک کورونا وائرس امریکہ کی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا ’میرے خیال میں اس سے شمالی امریکہ میں ملازمتوں کی واپسی میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔ اس انٹرویو پر ان کے مخالفین کو کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے.
    کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے چین کی معیشت اور عالمی ترقی پر اس کے اثرات کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے.